میں یہ سمجھتا ہوں کہ عصرِ حاضر میں علامہ خادم حسین رضوی صاحب کو ناموسِ رسالت سے متعلق مکمل شرحِ صدر عطا ہو چکا ہے۔ ورنہ مغربی ایوانوں میں یہ زلزلہ برپا نہ ہوتا۔ جو کام ہیلری کلنٹن کے شاہ محمود قریشی کے تھوکوں سے تر بتر گفتگو سے نہ ہوا وہ حضرت کی للکار سے ممکن ہوا۔ اس وقت عالمی میڈیا میں جہاں بھی یہ معاملہ رپورٹ ہو رہا ہے وہاں پاکستان احتجاجی مظاہرین کا ذکر ہو رہا ہے، کہیں پر حکومت پاکستان کے اقدامات کا ذکر نہیں۔ اور احتجاج کرنے والے تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان ہی ہیں، ان میں نہ ہی ڈیزل پارٹی شامل ہے اور نہ ہی بہنوں کے ساتھ ڈی چوک پر ناچنے والی پارٹی کے کارکنان۔ عشقِ رسول ﷺ انسان کو بے خوف کر دیتا ہے اور ہر قسم سے خطرات سے بے خوف ہر کر باہر نکلنے والے بہادر ماؤں کے بچوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ڈی چوک میں ناچنا اور ہے اور عشق و محبت مصطفٰی ﷺ میں مست ہو کر کلمہ حق بلند کرتے ہوئے سر میدان ڈٹ جانا اور ہے۔

سلامت رہو سنی شیر جوانو، تم اس امت کو فخر ہو۔ کل قیامت کے دن حسنین کریمین رضوان اللہ علیہم اجمعین تمہیں سلام کریں گے۔

از علامہ افتخار الحسن رضوی قبلہ

#TLP

#PAKISTAN

#HOLLAND