حدیث نمبر :11

روایت ہے انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوہماری سی نمازپڑھے،ہمارے قبلہ کو منہ کرے،ہمارا ذبیحہ کھالے تو یہ وہ مسلمان ہے ۱؎جس پر اﷲ رسول کی ذمہ داری ہے لہذا تم اﷲ کا ذمہ نہ توڑو۲؎ (بخاری)

شرح

۱؎ خیال رہے کہ مؤمن کی علامات مختلف زمانوں میں مختلف رہی ہیں،اس لحاظ سے ان کے متعلق مختلف احادیث وارد ہوئیں،ایک وقت صرف کلمہ پڑھنا مؤمن کی علامت تھی،نماز وغیرہ کوئی احکام نہ آئے تھے تب ارشادہوا”من قال لا الہ الا اﷲ دخل الجنۃ”جس نے کلمہ پڑھ لیا جنتی ہوگیا،پھر وہ وقت آیا جب نماز وغیرہ بھی آگئی تو ارشادہوا جو یہاں مذکورہے۔مدینہ منورہ میں منافقین بھی تھے جو کلمہ نماز وغیرہ ادا کرتے ہوئےبھی بے ایمان رہے،تب اﷲ رسول کی محبت علامت ایمان قرار پائی کہ ارشاد ہوا:”لَا یُؤمِنُ اَحَدُکُم حَتّٰی اکون”الخ۔آیندہ کے متعلق خبردی گئی کہ آخر زمانہ میں ایک قوم ہوگی جوتم سے زیادہ عابد و زاہد ہوں گے مگر اسلام سے خارج ہوں گے۔غرضکہ جیسے حالات ویسے علامات،آج مرزائی روافض وغیرہم یہ کام کرتے ہیں مگرمؤمن نہیں۔

۲؎ یعنی یہ مؤمن اﷲ اور رسول کی امن میں ہے تم اسے نہ ستاؤ ورنہ اﷲ رسول کے خائن ٹھہرو گے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور کی پناہ اور ذمہ لینا شرک نہیں ایمان کا رکن ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ متقی مسلمان کو ستانا فاسق کو ستانے سے زیادہ بُر ا ہے کہ اس میں ظلم بھی ہے اور اﷲ اور رسول کی خیانت بھی۔