بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ لَـيۡسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَىۡءٍ وَّقَالَتِ النَّصٰرٰى لَـيۡسَتِ الۡيَهُوۡدُ عَلٰى شَىۡءٍۙ وَّهُمۡ يَتۡلُوۡنَ الۡكِتٰبَؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ مِثۡلَ قَوۡلِهِمۡ‌ۚ فَاللّٰهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ

اور یہود نے کہا کہ نصاری کا دین کچھ نہیں اور نصاری نے کہا کہ یہود کا دین کچھ نہیں ‘ حالانکہ وہ (دونوں آسمانی) کتاب پڑھتے ہیں ‘ اسی طرح بےعلم لوگ (مشرکین) ان کی مثل باتیں کرتے ہیں ‘ سو اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز میں فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے

یہود و نصاری کا فرقوں میں بٹنا :

امام ابن جریر (رح) اپنی سند روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نجران کے عیسائی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یہود آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ان سے بحث کرنا شروع کردی ‘ رافع بن حریملہ یہودی نے کہا : تمہارا دین کچھ نہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کیا اور انجیل کا کفر کیا ‘ اور نجران کے عیسائیوں میں سے ایک شخص نے کہا : تمہارا دین کچھ نہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کیا اور انجیل کا کفر کیا ‘ اور نجران کے عیسائیوں میں سے ایک شخص نے کہا : تمہارا دین کچھ نہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا اور تورات کا کفر کیا ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی۔

قتادہ (رح) نے کہا : متقدمین عیسائی صحیح دین پر تھے ‘ بعد میں انہوں نے دین میں بدعتیں نکالیں اور فرقوں میں بٹ گئے اسی طرح متقدمین یہودی صحیح دین پر تھے ‘ بعد میں انہوں نے دین میں بدعتیں نکالیں اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔

اس آیت میں جن بےعلم لوگوں کا ذکر ہے ان کے متعلق عطاء نے کہا کہ یہ تورات اور انجیل کے نزول سے پہلے کے لوگ ہیں ‘ اور بعض نے کہا : اس سے مراد مشرکین عرب ہیں ‘ چونکہ یہ اھل کتاب نہیں تھے اس لیے ان کو جاہل فرمایا۔

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے اختلاف میں اپنا فیصلہ سنائے گا ‘ اور حق باطل سے ممتاز ہوجائے گا ‘ اھل حق ثواب پائیں گے اور اہل باطل کو عذاب ہوگا۔ (جامع البیان ج ١ ص ٣٩٦۔ ٣٩٤‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

ملت اسلامیہ کا بیان اور اسلامی فرقوں کی تحقیق :

امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے ‘ اسی طرح نصاری ‘ اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹے گی اور حضرت ابن عمر (رض) کی روایت میں ہے : یہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک ملت کے ‘ صحابہ (رض) نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کون سی ملت ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٣٧٩۔ ٣٧٨ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث کو امام ابو داؤد (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٢٧٥ ‘) امام ابن ماجہ (سنن ابن ماجہ ص ٢٨٧) ‘ امام احمد (مسند احمد ج ٢ ص ٣٣٢) ‘ امام دارمی (سنن دارمی ج ٢ ص ١٥٨ ) ‘ امام طبرانی (المجم الصغیر ج ١ ٢٥٦ ) ‘ امام حاکم (المستدرک ج ٣ ص ٥٤٧) اور امام ابن عساکر (تہذب تاریخ دمشق ج ٤ ص ١٢٤) نے بھی روایت کیا ہے۔

حافظ الہیثمی (مجمع الزوائد ج ١ ص ١٨٩) ‘ علامہ علی متقی (کنز العمال ج ١١ ص ١١٥۔ ١١٤) اور علامہ زبیدی (اتحاف السادۃ المتغین ج ٨ ص ١٤١۔ ١٤٠) نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔

علامہ طیبی لکھتے ہیں :

” سنن ابو داؤد “ کی صحیح روایت میں ہے : عنقریب میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے ‘ بہتر فرقے جہنم میں ہوں گے اور ایک فرقے جنت میں ہوگا۔ (شرح الطیبی ج ١ ص ٣٣٧‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ‘ الطبعۃ الاولی ‘ ١٤١٣ ھ)

شیخ ابن القیم الجوزیہ لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان فرقوں کو میری امت فرمایا ہے ‘ اس میں یہ دلیل ہے کہ یہ تمام فرقے دین سے خارج نہیں ہیں ‘ اور اس میں یہ دلیل ہے کہ جو فرقہ کسی تاویل سے کوئی نظریہ رکھے وہ ملت سے خارج نہیں ہوگا ‘ خواہ اس نے تاویل میں خطا کی ہو (تہذیب ابن القیم مع مختصر سنن ابوداؤد ج ٧ ص ٤‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ ‘ بیروت)

علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :

جو لوگ ضروریات دین پر متفق ہوں مثلا حدوث عالم ‘ حشر اجسام ‘ اور ان کے مشابہ امور (روز مرہ کی پانچ نمازیں ‘ ماہ رمضان کے روزے ‘ زکوۃ اور حج بیت اللہ) اور اس کے ماسوا اصول میں مختلف ہوں مثلا اللہ تعالیٰ کی صفات (اشاعرہ اور ماتریدیہ کے درمیان سات صفات پر اتفاق ہے ‘ حیات ‘ علم ‘ قدرت ‘ سمع ‘ بصر ‘ کلام ‘ ارادہ اور ماترید یہ ایک زائد صفت ” تخلیق “ کے بھی قائل ہیں اور معتزلہ صفات کی نفی کرتے ہیں اور حکماء کہتے ہیں کہ صفات اللہ کی ذات کا عین ہیں) اعمال کا مخلوق ہونا (معتزل کہتے ہیں کہ انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے ‘ اور اھل سنت کے نزدیک انسان کے اعمال کو اللہ خلق کرتا ہے) اللہ کے ارادہ کا عموم ‘ اللہ کے کلام کا قدیم ہونا (معتزلہ کے نزدیک اللہ کا کلام حادث ہے) اللہ کے دکھائی دینے کا جواز ‘ (معتزلہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے) اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ ان امور میں حق صرف ایک ہی ہے ‘ اور جو شخص اس حق کے خلاف اعتقاد رکھتا ہو آیا اس کی تکفیر کی جائے گی یا نہیں ؟ اور اس بات میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ اھل قبلہ میں سے جو شخص عالم کے قدیم ہونے کا قائل ہو ‘ حشر اجسام کا نہ مانتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے لیے جزئیات کے علم کا قائل نہ ہو اور اسی طرح کی دیگر ضروریات دین کا قائل نہ ہو خواہ وہ شخص ساری عمر عبادت کرتا رہا ہو وہ قطعا کافر ہے ‘ اور ہم نے جو ذکر کیا ہے کہ باقی اصول میں اختلاف کرنے والا کافر نہیں ہے ‘ یہ امام اشعری اور دیگر اصحاب کا مذہب ہے ‘ امام شافعی نے فرمایا : میں اھل بدعت میں سے کسی کی شہادت کو رد نہیں کرتا ‘ ماسوا خطابیہ کے ‘ کیونکہ وہ جھوٹ کو جائز سمجھتے ہیں ‘ اور ” منتقی “ میں امام ابوحنفیہ (رح) سے منقول ہے کہ انہوں نے اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کی اور اسی پر اکثر فقہاء کا اعتماد ہے (الی قولہ) استاذ ابواسحاق اسفرائنی نے کہا : جو ہماری تکفیر کرے گا ہم اس کی تکفیر کریں گے اور جو ہماری تکفیر نہیں کرے گا ‘ ہم اس کی تکفیر نہیں کریں گے ‘ اور امام رازی (رح) کا مختار یہ ہے کہ وہ اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے ‘ ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر اسلام کا صحیح ہونا ان اصول میں حق کے اعتقاد پر موقوف ہوتا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے بعد خلفاء راشدین ایمان لانے والے سے ان چیزوں (مثلا صفات ‘ رویت ‘ خلق اعمال) پر ایمان لانے کا مطالبہ کرتے ‘ اور اس کے عقائد کے متعلق تفتیش کرتے کہ ان امور کے متعلق اس کا کیا عقیدہ ہے ‘ اور ان اصول میں حق بات پر اس کو تنبیہ کرتے ‘ حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ (شرح المقاصد ج ٥ ص ٢٣٩۔ ٢٢٨‘ مطبوعہ منشورات الشریف ‘ ایران ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ محمد بن علی بن محمد حصکفی لکھتے ہیں :

اھل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کی جائے گی حتی کہ خوارج کی بھی تکفیر نہیں کی جائے گی ‘ جو ہمارے قتل کو اور ہمارے مال کو مباح سمجھتے ہیں اور اصحاب رسول کو برا کہنا جائز سمجھتے ہیں اور اللہ کی صفات اور اس کے دکھائی دینے انکار کرتے ہیں ‘ کیونکہ ان کے یہ عقائد کسی تاویل اور شبہ پر مبنی ہیں ‘ ماسوا خطابیہ کے ان شب کی شہادت مقبول ہے اور ہمارے بعض علماء نے ان کی تکفیر کی ہے (علامہ شامی نے لکھا ہے کہ معتمد مذہب تکفیر کے خلاف ہے) اور اگر اس نے ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار کیا تو اس کی تکفیر کیا جائے گی۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ١ ص ٣٧٧“ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ شامی (رح) لکھتے ہیں :

علامہ ابن ھمام (رح) نے ” التحریر “ کے اواخر میں لکھا ہے کہ معتزلہ جو اللہ تعالیٰ کی صفات عذاب قبر ‘ شفاعت اور اللہ کے دیدار کا انکار کرتے ہیں ‘ ان ان کی تکفیر نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ ان امور میں قرآن ‘ حدیث اور عقل سے استدلال کرتے ہیں ‘ کیونکہ اھل قبلہ کی تکفیر منع ہے ‘ اور ان کی شہادت قبول کرنے پر اجماع ہے ‘ اور جو شخص بغیر دلیل کے محض ہٹ دھرمی سے کسی معصیت قطعیہ کو حلال سمجھے وہ کافر ہے برخلاف اس کے جو دلیل شرعی سے ایسا سمجھے ‘ اور بدعتی کو اس کی دلیل میں خطا لاحق ہوئی ‘ وہ ہٹ دھرمی سے ایسا نہیں کرتا۔ (رد المختار ج ١ ص ٣٧٧“ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

نیز علامہ شامی (رح) لکھتے ہیں :

جو شخص عناد (بغیر دلیل کے) کی وجہ سے ادلل قطعیہ کا انکار کرے گا جن میں کوئی شبہ نہ ہو مثلا جو شخص حشر اور حدوت عالم اور دیگر ضروریات دین کا انکار کرے اس کے کفر میں شک نہیں ہے۔ (رد المختار ج ١ ص ٣٧٧“ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

ملا علی قاری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

اس حدیث اس امت کے تہتر فرقوں کا ذکر ہے ‘ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس سے مراد امت دعوت ہے یا امت اجابت ‘ امت دعوت سے مراد تمام دنیا کے لوگ ہیں جن کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام کی دعوت دی اور امت اجابت سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو قبول کرلیا ‘ اکثر علماء کی رائے یہی ہے کہ اس سے مراد امت اجابت ہے ‘ ترمذی کی روایت میں ہے ‘ صحابہ (رض) نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کون سی ملت ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس (طریقہ) پر میں اور میرے صحابہ ہیں ‘ اور یہ نجات پانے والے اھل سنت و جماعت ہیں اور باقی فرقے بدعتی ہیں۔ ” شرح مواقف “ میں مذکور ہے کہ اصل میں کل آٹھ فرقے ہیں اور باقی ان کی فرع ہیں :

(١) معتزلہ : یہ اس کے قائل ہیں کہ انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے ‘ یہ نیک لوگوں کے لئے ثواب اور بدکاروں کے لئے عذاب کے وجوب کے قائل ہیں اور رؤیت باری اور شفاعت کا انکار کرتے ہیں ‘ پھر ان کے بیس فرقے ہیں۔

(٢) شیعہ : یہ حضرت علی (رض) کی محبت میں افراط کرتے ہیں ‘ خلفاء ثلاثہ کی خلافت کا انکار کرتے ہیں اور صحابہ کرام پر لعنت اور سب و شتم کرتے ہیں ‘ ان کے بائیس فرقے ہیں۔

(٣) خوارج : یہ حضرت علی (رض) اور حضرت معاویہ (رض) کو کافر کہتے ہیں ‘ گناہ کبیرہ بلکہ صغیرہ کے مرتکب کو بھی کافر کہتے ہیں ‘ ان کے بیس فرقے ہیں۔

(٤) مرجۂ : ان کے نزدیک ایمان لانے کے بعد گناہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ان کے پانچ فرقے ہیں۔

(٥) نجاریہ : یہ اللہ کے کلام کو حادث مانتے ہیں اور اس کی صفات کو نہیں مانتے ‘ البتہ انسان کے افعال کو مخلوق مانتے ہیں ‘ ان کے تین فرقے ہیں

(٦) جبریہ : جو انسان کو محبور محض کہتے ہیں ‘ ان کا ایک فرقہ ہے :

(٧) مشبہ : یہ اللہ تعالیٰ کو جسم مانتے ہیں۔

(٨) فرقہ ناجیہ : اور یہ اھل سنت و جماعت ہیں۔

ملا علی قاری نے باطل فرقوں میں شیعہ کے جتنے فرقے ذکر کیے ہیں یہ سب مردہ مذاہب ہیں ‘ اب دنیا میں ان کا کوئی ماننے والا نہیں ہے ‘ البتہ کچھ نئے مذاہب وجود میں آگئے ہیں جیسے شیخ ابو سلیمان بن داؤد علی ظاہری متوفی ٣٠٧ ھ کے پیروکار یہ عرف میں غیر مقلدین کہلاتے ہیں ‘ یہ ائمہ کی تقلید کو شرک کہتے ہیں اور عقائد اور افکار میں شیخ ابوالعباس احمد بن تیمیہ متوفی ٧٦٨ ھ کے متبع ہیں خصوصا انکار توسل میں ‘ اور شیخ محمد بن عبدالوھاب نجدی متوفی ١٢٠٦ ھ کے پیروکار یہ انبیاء (علیہم السلام) کی حیات بعد الوفات ‘ ان سے توسل ‘ استمداد اور شفاعت کے قائل نہیں اور ان کے قائل کو مشرک کہتے ہیں ‘ یہ عرف عام میں وہابیہ کہلاتے ہیں ‘ موجودہ غیر مقلدین کے بھی یہی عقائدل ہیں لیکن وہابیہ حنبلی المذہب ہیں ‘ اور شیخ محمد قاسم نانوتوی متوفی ١٢٩٧ ھ کے پیروکار یہ حنفی المذہب ہیں لیکن عقائد اور نظریات میں شیخ محمد بن عبدالوھاب نجدی متوفی ١٢٠٦ ھ اور شیخ محمد اسماعیل دہلوی متوفی ١٢٤٦ ھ کے تابع ہیں ‘ ان کے عقائد اور نظریات کا مطالعہ ” تقویت الایمان “ اور ” صراط مستقیم “ نامی کتابوں سے کیا جاسکتا ہے اور سید ابو الاعلی مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ کے پیرو کار ‘ ان کے متبعین جماعت اسلامی کے نام سے موسوم ہیں ‘ ان کے عقائد اور افکار بھی شیخ اسماعیل دہلوی کے تابع ہیں ‘ اور عبداللہ چکڑالوی یہ شخص مطلقا احادیث کی حجیت کا منکر تھا ‘ اس کے پیروکار بہت کم ہیں اور غلام احمد پرویز کے پیروکار یہ بھی مطلقا احادیث کی حجیت کا منکر تھا ‘ لیکن بعض احادیث سے استدلال بھی کرتا تھا ‘ اس کے علاوہ قادیانی ‘ بہائی ‘ ذکری ‘ دیندار جماعت وغیرہ بھی ہیں لیکن ہم ان کو اسلام کے فرقوں میں شمار نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے ایک الگ نبی مان کر اپنے آپ کو امت اجابت سے نکال لیا ہے۔

اس حدیث میں ہے : ایک ملت کے سوا سب جہنم میں جائیں گے ‘ اس کی تشریح میں ملا علی قاری لکھتے ہیں :

ان باطل فرقوں میں سے جو حد کفر کو پہنچ گئے وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جو فرقے بدعات سئیہ کے معتقد ہیں اور انہوں نے کسی کفر کا ارتکاب نہیں کیا وہ دوزخ میں داخل ہونے کے مستحق ہیں الا یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دے۔ (مرقات ج ١ ص ٢٤٨‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)

ہماری رائے یہ ہے کہ جن مسائل اعتقادیہ میں ان فرقوں کو شبہات واقع ہوئے اور انہوں نے دلائل سے اپنی رائے کو حق سمجھا ‘ اور ان شبہات کو دور کرنے کے لئے علماء اہل سنت نے جو دلائل پیش کیے ہیں وہ ان تک نہیں پہنچ سکے وہ اس حکم میں داخل نہیں ہیں یا جن لوگوں تک وہ دلائل پہنچ گئے لیکن ان دلائل سے ان کا شرح صدر نہیں ہوسکا اور ہنوز ان کے شہبات باقی رہے ‘ وہ بھی معذور ہیں لیکن جن لوگوں پر حجت تمام ہوگئی اور وہ محض کج بحثی اور ہٹ دھرمی سے اپنے باطل موقف پر ڈٹے رہے تو اگر ان کا موقف کسی کفر کو مستلزم ہے تو وہ دائما دوزخ میں رہیں گے ‘ اور اگر ان کا موقف کسی گمراہی کو مستلزم ہے تو وہ دوزخ میں دخول کے مستحق ہیں الا یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دے ‘ مثلا جو شیعہ حضرت علی (رض) کی الوہیت کے متعقد ہیں ‘ یا جو وحی لانے میں حضرت جبرائیل کی خطاء کے قائل ہیں یا جو حضرت عائشہ (رض) پر قذف (تہمت) لگاتے ہیں یا جو حضرت ابوبکر (رض) کی صحابیت کا انکار کرتے ہیں ‘ یا جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد تین یا چھ صحابہ کے علاوہ سب صحابہ مرتد ہوگئے تھے یہ سب کافر ہیں ‘ اور جو خلفاء ثلاثہ کو مفضول کہتے ہیں یا ان پر سب کرتے ہیں (گالی دیتے ہیں) وہ کافر نہیں ہیں ‘ لیکن وہ بدترین فسق اور گمراہی میں مبتلا ہیں ‘ اسی طرح جن لوگوں نے اپنی کتابوں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں صریح کفریہ عبارات لکھیں وہ کافر ہیں اور جو لوگ ان عبارات پر مطلع ہوگئے اور ان پر وجہ کفر منکشف ہوگئی لیکن وہ مذہبی تعصب اور ہٹ دھرمی سے ان عبارات کو صحیح کہتے ہیں وہ بھی کافر ہیں ‘ لیکن جو لوگ ان عبارات پر مطلع نہیں ہیں یا ان پر وجہ کفر منکشف نہیں ہوئی اس لئے وہ تکفیر نہیں کرتے ‘ تاہم اس قاعدہ سے وہ لوگ مستثنی ہیں جن کی تکفیر پر پوری ملت اسلامیہ کا اجماع ہے ‘ جیسے مرزائیہ کا قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ یا اور کوئی ایسا فرقہ جس کی تکفیر پر پوری ملت اسلامیہ متفق ہو اور اس کی تکفیر واضح اور غیر مشتبہ ہو۔ ١ (امام احمد رضا قادری (رح) لکھتے ہیں :

ان کے کفر میں شک ہی کرے تو خود کافر ‘ جب کہ انکے خبث اقوال پر مطلع ہو۔ (فتاوی رضویہ ج ٣ ص ٢٥٣‘ مطبوعہ سنی درالاشاعت ‘ لائل پور)

علامہ سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ العزیز لکھتے ہیں : ہم کسی دیوبند یا لکھنووالے کو کافر نہیں کہتے ‘ ہمارے نزدیک صرف وہی لوگ کافر ہیں جنہوں نے معاذ اللہ ‘ اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ومحبوبان ایزدی کی شان میں صریح گستاخیاں کیں ‘ اور باوجود تنبیہ شدید کے انہوں نے گستاخیوں سے توبہ نہیں کی ‘ نیز وہ لوگ جو ان کی گستاخیوں کو حق سمجھتے ہیں اور گستاخیاں کرنے والوں کو اھل حق ‘ مومن ‘ اپنا مقتداء اور پیشوا مانتے ہیں اور بس ‘ ان کے علاوہ ہم نے کسی مدعی اسلام کی تکفیر نہیں کی ‘ ایسے لوگ جن کی ہم نے تکفیر کی ہے اگر ان کو ٹٹولا جائے تو وہ بہت قلیل اور معدودافراد ہیں ‘ ان کے علاوہ نہ کوئی دیوبند کا رہنے والا کافر ہے نہ لیگی نہ ندوی ‘ ہم سب مسلمانوں کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ (مقالات کا ظمی ج ٢ ص ٢٥٩۔ ٢٥٨) اور بعض اعتقادی مسائل میں شبہ کی وجہ سے اختلاف کرتے ہیں مثلا علم غیب اور تصرف میں ذاتی اور عطائی کا فرق نہیں کرتے یا بدعت حسنہ کا انکار کرتے ہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نور کا اطلاق نہیں کرتے یا استمداد اور ندائے غیر اللہ کو ناجائز کہتے ہیں لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کی وسعت ‘ آپ کے معجزانہ تصرفات اور آپ کے علمی ‘ روحانی اور بعض مواقع پر حسی نورانیت کے قائل ہیں ‘ آپ کی حیات کے معتقد ہیں اور قبر انور پر آپ سے شفاعت طلب کرنے اور یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہنے کے معتقد ہیں ‘ ان پر کفر کا حکم نہیں ہے ‘ ان مسائل میں اختلاف محض فروعی ہے جیسے بعض امورائمہ ثلاثہ کے نزدیک ناجائز ہیں اور امام ابوحنفیہ کے نزدیک جائز ہیں یا اس کے برعکس۔ (فتاوی رضویہ ج ٣ ص ٢٥٣‘ مطبوعہ سنی درالاشاعت ‘ لائل پور)

شریعت ‘ طریقت اور حقیقت کا بیان :

ملاعلی قاری (رح) لکھتے ہیں :

ملت اسلامیہ کے ظاہر کو شریعت ‘ باطن کو طریقت اور اس کے خلاصہ کو حقیقت کہتے ہیں ‘ شریعت بدن کا حصہ ہے ‘ طریقت قلب کا حصہ ہے اور حقیقت روح کا حصہ ہے ‘ شریعت میں احکام کی اطاعت ہے ‘ طریقت میں علم اور معرفت ہے اور حقیقت میں مشاہدہ ربوبیت ہے ‘ اگر شریعت ‘ حقیقت سے مویدنہ ہو تو وہ غیر مقبول ہے ‘ اور اگر حقیقت شریعت سے مقید نہ ہو تو وہ غیر معتبر ہے ‘ شریعت احکام کی اطاعت ہے اور حقیقت قضاء و قدر کا مشاہدہ ہے۔ (المرقات ج ١ ص ٢٤٨‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)

ایک قول یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال شریعت ہیں آپ کے افعال طریقت ہیں اور آپ کے احوال حقیقت ہیں ‘ اور تحقیق یہ ہے کہ تمام فرائض ‘ واجبات ‘ سنن اور مستحباب پر عمل کرنا ‘ اور تمام محرمات اور مکروھات سے بچنا شریعت ہے ‘ اور شیخ طریقت نے جو ادراد اور وظائف بتائے اور سلوک کے لئے جو ہدایات دیں ان پر عمل کرنا طریقت ہے اور جب دل تجلیات الہیہ کے لئے آئینہ ہوجائے اور نیند اور بیداری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رابطہ ہوجائے تو یہ حقیقت ہے ‘ بعض علماء نے کہا ہے کہ جسم کے اعضاء کو گناہوں سے روکنا شریعت ہے اور دل کو گناہوں کی خواہشوں اور ذہن کو اس کے تصورات سے روکنا طریقت ہے اور جب یہ حالت ہو کہ بغیر کسی کوشش اور کسب کے دل و دماغ میں گناہ کی خواہش اور تصورات نہ آئیں تو یہ حقیقت ہے اور یہ بہت عمدہ قول ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 113