بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ‌ سُبۡحٰنَهٗ ‌ؕ بَل لَّهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ كُلٌّ لَّهٗ قَانِتُوۡنَ

اور انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے ‘ وہ اس سے پاک ہے ‘ بلکہ تمام آسمان اور زمینیں اسی کی ملکیت میں ہیں ‘ سب اسی کے مطیع ہیں

اللہ تعالیٰ کی اولاد نہ ہونے پر دلائل :

یہودیوں نے کہا تھا کہ حضرت عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائیوں نے کہا تھا کہ حضرت مسیح ‘ اللہ کے بیٹے ہیں اور مشرکوں نے کہا تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ‘ اس سے پہلی آیات میں یہود و نصاری اور مشرکوں کے مذموم عقائد ‘ اقوال اور افعال کا بیان کیا گیا ہے ‘ ان کے مذموم اقوال میں سے ایک قول یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کی ملکیت ہے ‘ اور اولاد باپ کی ملکیت نہیں ہوتی ‘ نیز اولاد باپ کی مثل اور اس کی جنس سے ہوتی ہے ‘ اگر الہ کی اولاد ہوتی تو وہ بھی اللہ کی طرح واجب ‘ قدیم اور الہ ہوتی ‘ جب کہ متعدد واجب اور قدیم نہیں ہوسکتے نہ متعدد ہوسکتے ہیں کیونکہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی مملوک اور اس کی مطیع ہے اور واجب ‘ قدیم اور الہ ‘ کسی کا مملوک اور مطیع نہیں ہوسکتا ‘ ہم نے سورة بقرہ کی آیت : ٢٢ میں واجب اور قدیم کے تعدد کے باطل ہونے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ثبوت میں بہت دلائل پیش کیے ہیں۔

میری ایک دفعہ ایک عیسائی پادری سے گفتگو ہوئی ‘ میں نے کہا : تم اللہ کو باپ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا بیٹا کہتے ہو ‘ جب اللہ کی کوئی بیوی نہیں ہے تو اس کا بیٹا کیسے ہوگا ؟ اس نے کہا : ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کو جسمانی طور پر اللہ کا بیٹا نہیں کہتے نہ اللہ کو جسمانی باپ مانتے ہیں ‘ بلکہ باپ میں جو شفقت کا معنی ہے اس لحاظ سے اللہ کو باپ ‘ اور مسیح کو اس کا بیٹا کہتے ہیں ‘ میں نے کہا : پھر تم اللہ کو رحیم اور رحمان کہو ‘ باپ کا لفظ جسم کی صفت ہے ‘ وہ اللہ کی شان کے لائق نہیں ‘ اس سے اللہ کی ذات میں نقص کا وہم ہوتا ہے۔ اس نے کہا : اللہ کے ہاں کہنے والے کے خلوص کو دیکھا جاتا ہے ‘ ان علمی لطائف اور باریکیوں کو نہیں دیکھا جاتا ‘ میں نے کہا : تم علمی باریکیاں اور لطائف کو نہیں جانتے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو عالم تھے ‘ تمہاری کتاب کے مطابق انہوں نے اللہ تعالیٰ کو باپ کیوں کہا ؟ اس پر وہ مبہوت اور لاجواب ہوگیا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وہ) آسمانوں اور زمینوں کو ابتداء پیدا کرنے والا ہے۔ (البقرہ : ١١٧)

ابداع اور بدعت کا معنی :

اللہ تعالیٰ نے ” بدیع “ فرمایا ہے یہ لفظ ” بدع “ سے بنا ہے ‘ علامہ راغب اصفہانی اس کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

کسی صنعت کو کسی کی اقتداء اور پیروی کئے بغیر بنانا ‘ (یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی چیز کو بغیر مثال اور نمونہ کے بنانا) جو نیا کنواں کھودا ہو ‘ اس کو ” رکیتہ بدیع “ کہتے ہیں اور جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو تو اس کا معنی ہے : کسی چیز کو بغیر آلہ ‘ بغیر مادہ اور بغیر نمونہ کے بنانے والا ‘ اور مذہب میں بدعت کا معنی ہے : کسی ایسے قول کو وارد کرنا جس کے قائل اور فاعل نے صاحب شریعت کی اتباع نہ کی ہو ‘ اور نہ اس کو سابقہ شرعی مثالوں اور شرعی قواعد سے مستنبط کیا ہو ‘ اس کے متعلق حدیث میں ہے : (دین میں) ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی دوزخ میں ہے۔ (المفردات ص ٣٩‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

بدعت کی تعریف اور اس کی اقسام :

علامہ جزری (رح) لکھتے ہیں :

حضرت عمر (رض) نے قیام رمضان (تروایح کی جماعت) کے متعلق فرمایا ” نعم البدعۃ ھذہ “ یہ کیا اچھی بدعت ہے “۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٦٩) بدعت کی دو قسمیں ہیں ‘ ایک بدعت ہدایت ہے اور ایک بدعت ضلال ہے ‘ جو چیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے خلاف ہو وہ مذموم اور واجب الانکار ہے ‘ اور جو چیز کسی ایسے عموم کے تحت داخل ہو جس کو اللہ اور اس کے رسول نے پسند فرمایا ہو اور اس کی طرف رغبت دلائی ہو وہ مستحسن ہے اور لائق تعریف ہے ‘ اور جس چیز کا پہلے کوئی نمونہ نہ ہو جیسے جودوسخا کی اقسام اور نیک کاموں کے ایجاد کے لئے ثواب بیان کیا ہے ‘ آپ نے فرمایا : جس نے کسی نیک کام کو ایجاد کیا اس کو خود بھی اس نیکی اجر ملے گا اور اس نیکی پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی ملے گا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٢٧‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٥٧) اور جو کسی برے کام کو ایجاد کرے اس کے لئے عذاب کو بیان کیا ہے ‘ آپ نے فرمایا : جس نے کسی برے کام کو ایجاد کیا اس کو اپنی برائی کا بھی گناہ ہوگا اور اس برائی پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ہوگا اور یہ اس وقت ہوگا جب وہ کام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے خلاف ہو ‘ اور بدعت ہدایت میں سے حضرت عمر (رض) کا (تراویح کی جماعت کے لئے) یہ فرمانا ہے :” نعم البدعۃ ھذہ “ جب کہ تراویح کی جماعت کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کے لئے سنت نہیں قرار دیا ‘ آپ نے تین راتیں تراویح پڑھیں ‘ پھر اس کو ترک کردیا آپ نے اس کی حفاظت نہیں کی اور نہ مسلمانوں کو اس کے لئے جمع کیا اور نہ یہ حضرت ابوبکر (رض) کے زمانہ میں تھی ‘ صرف حضرت عمر (رض) نے تراویح کی جماعت کو قائم کیا اور لوگوں کو اس کی ترغیب دی ‘ اس اعتبار سے حضرت عمر (رض) نے اس کو بدعت فرمایا اور چونکہ یہ نیک کاموں میں سے ہے اور لائق تعریف عمل ہے اس لیے اس کی مدح کی اور فرمایا : کیا ہی اچھی بدعت ہے ! حضرت عمر (رض) نے اس کو بدعت کہا لیکن درحقیقت یہ سنت ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث کے تحت داخل ہے : تم پر میری سنت اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے۔ (جامع ترمذی ص ٣٨٣‘ سنن ابن ماجہ ص ٥‘ سنن دارمی ص ٤٣‘ مسند احمد ج ٤ ص ١٢٧۔ ١٢٦) نیز آپ نے فرمایا : ابوبکر (رض) اور عمر (رض) جو میرے بعد ہیں ان کی اتباع کرو۔ (طبرانی بحوالہ مجمع الزوائد ج ٩ ص ٥٣) اسی تاویل کے مطابق اس حدیث کو محمول کیا جائے گا جس میں ہے : ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٢٨٥) اس سے مراد وہ بدعت ہے جو اصول شریعت کے مخالف ہو اور سنت کے موافق نہ ہو ‘ بدعت کا زیادہ استعمال بدعت مذمومہ میں ہی ہوتا ہے۔ (نہایہ ج ١ ص ١٠٧۔ ١٠٦‘ مطبوعہ موسسۃ مطبوعاتی ‘ ایران ‘ ١٣٦٤ ھ)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی (رح) لکھتے ہیں :

بدعت کی پانچ اقسام ہیں ‘ واجبہ ‘ مستحبہ ‘ محرمہ ’ مکروہ اور مباحہ ‘ بدعت واجبہ کی مثال ہے متکلمین کے وہ دلائل جو انہوں نے ملحدوں اور بدعتیوں کے رد پر قائم کئے ہیں اور اس کی امثال ‘ بدعت مستحبہ کی مثال ہے : علم کی کتابوں کو تصنیف کرنا ‘ دینی مدارس اور سرائے وغیرہ بنانا ‘ بدعت مباحہ کی مثال ہے : لباس اور طعام میں وسعت کو اختیار کرنا ‘ بدعت حرام اور مکروہ ظاہر ہیں ‘ میں نے ” تہذیب الاسماء واللغات “ میں اس کی تفصیل کی ہے۔ (شرح مسلم ج ١ ص ‘ ٢٨٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ نووی نے جس تفصیل کا حوالہ دیا ہے اس کے متعلق انہوں نے ” تہذیب الاسماء واللغات “ میں لکھا ہے :

بدعت واجبہ کی بعض مثالیں یہ ہیں : علم نحو کا پڑھنا جس پر قرآن اور حدیث کا سمجھنا موقوف ہے ‘ قرآن اور حدیث کے معانی جاننے کے لئے علم لغت کو حاصل کرنا ‘ علم فقہ کو مرتب کرنا ‘ سند حدیث میں جرح اور تعدیل کا علم حاصل کرنا ‘ تاکہ صحیح اور صعیف حدیث میں امتیاز حاصل ہو سکے ‘ بدعت محرمہ کی بعض مثالیں یہ ہیں : قدریہ ‘ جبریہ ‘ اور مجسمہ کے نظریات (اسی طرح شعیہ ‘ وہابیہ اور منکرین حدیث کے نظریات) اور ان لوگوں پر رد کرنا بدعت واجبہ میں داخل ہے۔ بدعت مستحبہ کی بعض مثالیں یہ ہیں : سرائے اور مدارس بنانا ‘ ہر وہ اصلاحی اور فلاحی کام جو عہد رسالت میں نہیں تھا ‘ تراویح کی جماعت ‘ تصوف کی دقیق ابحاث ‘ بدعقیدہ فرقوں سے مناظرے کرنا اور جلسے منعقد کرنا (قرآن مجید کے اعراب ‘ مصحف شریف میں سورتوں کے نام ‘ آیات کی تعداد اور رکوعات کا لکھنا ‘ قرآن مجید اور ” صحیح بخاری “ کو پاروں میں تقسیم کرنا اور مسجد میں محراب بنانا وغیرہ) بدعت مکروہہ ‘ مساجد کو مزین کرنا ‘ مصحف کو سجانا (عصر کے بعد التزام سے مصافحہ کرنا ‘ کسی مستحب کام کے ساتھ واجب اور لازم کا معاملہ کرنا ‘ کسی مستحب کام پر ملامت کرنا) بدعت مباحہ کی بعض مثالیں یہ ہیں : کھانے اور لباس میں وسعت کو اختیار کرنا ‘ سبز چادریں اوڑھنا ‘ کھلی آستنوں کی قمیص پہننا وغیرہ۔ (تہذیب الاسماء واللغات ج ١ ص ٢٣۔ ١٢‘ مطبوعہ موسسۃ مطبوعات ‘ ایران ‘ ١٣٦٤ ھ)

علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی (رح) نے بھی بدعت کی پانچ اقسام ذکر کی ہیں۔

(فتح الباری ج ٤ ص ٢٥٣ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

علامہ قرطبی مالکی نے تفصیل سے بدعت کی دو قسمیں ذکر کی ہیں بدعت حسنہ اور بدعت سیۂ جس طرح علامہ جزری (رح) نے ذکر کیا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٨٧۔ ٨٦ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

علامہ ابن عابدین شامی حنفی (رح) نے بھی علامہ نووی کی ” تہذیب الاسماء “ علامہ مناوی کی ” شرح الجامع الصغیر “ اور برکلی کی ” کی ” الطریقۃ المحمدیہ “ کے حوالے سے بدعت کی پانچ قسمیں بیان کی ہیں اور بدعت سیۂ کی یہ تعریف کی ہے : جو نیا عقیدہ یا نیا عمل یا نیا حال کسی شبہ یا کسی استحسان کی وجہ سے اختراع کیا گیا ہو اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کے خلاف ہو اور اس کو صراط مستقیم اور دین قویم بنالیا گیا ہو۔ (رد المختار ج ١ ص ٣٧٧۔ ٣٧٦‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علماء دیوبند کے مشہور عالم شیخ شبیر احمد عثمانی (رح) نے بھی علامہ نووی (رح) کے حوالے سے بدعت کی پانچ مشہور اقسام لکھی ہیں۔ (فتح الملہم ‘ ج ٢ ص ٤٠٦) مطبوعہ مکتبہ الحجاز ‘ کراچی)

مشہور غیر مقلد عالم شیخ وحید الزمان نے چار قسمیں لکھی ہیں ‘ بدعت مباحہ ‘ بدعت مکروہہ ‘ بدعت حسنہ اور بدعت سیۂ ۔ (ہدیۃ المھدی ص ١١٧‘ مطبوعہ میور پریس ‘ دہلی ‘ ١٣٢٥ ھ)

اور مشہور نجدی عالم شیخ محمد بن علی شوکانی نے ” فتح الباری “ سے نقل کرکے بدعت کی پانچ اقسام لکھی ہیں۔ (نیل الاوطارج ٣ ص ٢٢٥‘ مطبوعہ مکتبۃ الکایات الازہریہ ‘ ١٣٩٨ ھ)

بدعت اور سنت باہم متقابل ہیں ‘ ہم نے بدعت کی تعریف اور اقسام لکھی ہیں تو یہاں پر اختصار کے ساتھ سنت کی تعریف اور اس کی اقسام بھی لکھی رہے ہیں۔

سنت کی تعریف ‘ اس کی اقسام اور اس کا شرعی حکم :

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

سنت کا معنی ہے : طریقہ اور سنت النبی کا معنی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ (المفردات ص ٢٤٥‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ ابن اثیر جزری لکھتے ہیں :

سنت کا لغوی معنی ہے : طریقہ اور سیرت ‘ اور اس کا شرعی معنی ہے : جس کام کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہو یا اس سے منع کیا ہو یا اس کو قولا یا فعلا مستحب قرار دیا ہو۔ (نہایہ ج ٢ ص ١٠٤‘ مطبوعہ موسسۃ مطبوعات ‘ ایران ‘ ١٣٦٤ ھ)

علامہ میرسید شریف لکھتے ہیں :

سنت کا شرعی معنی ہے : بغیر فرضیت اور وجوب کے جو طریقہ دین میں رائج کیا گیا ہو ‘ جس کام کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دائما کیا ہو اور کبھی کبھی ترک بھی کیا ہو وہ سنت ہے ‘ اگر یہ دوام بہ طور عبادت ہو تو یہ سنن الھدی ہیں اور اگر یہ دوام بہ طور عادت ہو تو یہ سنن الزوائد ہیں ‘ سنت الھدی وہ ہے جس کو قائم کرنا دین کی تکمیل کے لئے ہو اور اس کا ترک کرنا کراہت یا اساءت ہے اور سنن الزوائد وہ ہیں جن پر عمل کرنا مستحسن ہے اور ان کا ترک کراہت نہیں ہے ‘ اور نہ اساءت ہے جیسے اٹھنے ‘ بیٹھنے ‘ کھانے ‘ پینے ‘ اور لباس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت ‘ سنن ھدی کو سنت مؤکدہ کہتے ہیں جیسے اذان اور اقامت ‘ سنت موکدہ کا مطالبہ واجب کی طرح ہے مگر واجب کے ترک پر سزا کا استحقاق ہے اور اس کے (احیانا) ترک پر عقاب نہیں ہے۔ (کتاب التعریفات ص ٥٤۔ ٥٣‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریۃ مصر ‘ ١٣٠٢ ھ)

علامہ ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں :

بغیر لزوم کے دین میں جو طریقہ دائما رائج کیا گیا ہو وہ سنت ہے ‘ اور اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اس کے کرنے میں ثواب ہے اور اس کے (احیانا) ترک پر عقاب نہیں ہے (کتاب التعریفات ص ٥٤۔ ٥٣‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریۃ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

علامہ ابن نجیم حنفی (رح) لکھتے ہیں :

بغیر لزوم کے دین میں جو طریقہ دائما رائج کیا گیا ہو وہ سنت ہے ‘ اور اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اس کے کرنے میں ثواب ہے اور اس کے (احیانا) ترک کرنے پر عتاب اور ملامت ہے اور سزا نہیں ہے ‘ نیز علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس فعل کو دائما کیا ہو اور کبھی ترک نہ کیا ہو وہ سنت موکدہ کی دلیل اور علامت ہے جیسے رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف ہے ‘ آپ نے اس کو کبھی ترک نہیں فرمایا اور جس فعل کو آپ نے کبھی کبھی ترک فرمایا وہ سنت غیر موکدہ کی دلیل اور علامت ہے ‘ اور جس فعل کا آپ نے دائما کیا ہو ‘ کبھی ترک نہ فرمایا ہو اور اس کے ترک پر انکار فرمایا ہو ‘ وہ وجوب کی دلیل اور علامت ہے، (البحر الرائق ج ١ ص ١٧‘ مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ ‘ کوئٹہ)

ڈاڑھی میں قبضہ کی بحث :

بعض علماء ڈاڑھی میں قبضہ کو واجب کہتے ہیں ‘ لیکن یہ صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ وجوب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امر سے ثابت ہوتا ہے اور کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ آپ نے قبضہ تک ڈاڑھی رکھنے کا امر فرمایا ہو۔ بعض علماء وجوب پر یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دائما قبضہ تک ڈاڑھی رکھی اور کبھی اس کا ترک نہیں کیا اور یہ وجوب کی دلیل ہے ‘ ہم کہتے ہیں کہ صرف دوام سے و جواب ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ نے اس فعل کے ترک پر انکار بھی فرمایا ہو جیسا کہ علامہ ابن نجیم نے فرمایا ہے اور علامہ ابن ھمام کی بھی یہی تحقیق ہے ‘ اور کسی حدیث میں یہ منقول نہیں ہے کہ آپ نے قبضہ سے کم ڈاڑھی رکھنے پر انکار فرمایا ہو ‘ نیز آپ وضوء میں ہمیشہ دائیں جانب سے ابتداء کرتے تھے اور یہ بالاتفاق واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے ہمارا موقف یہ ہے کہ نفس ڈاڑھی رکھنا واجب ہے اور منڈانا حرام ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ڈاڑھی منڈانے والے مجوسی پر انکار فرمایا (المصنف ج ٨ ص ٣٧٩) نیز ڈاڑھی رکھنا اسلام اور مسلمانوں کا شعار ہے ‘ البتہ قبضہ تک ڈاڑھی رکھنا واجب نہیں ہے ‘ لیکن ڈاڑھی کی اتنی مقدار رکھنا ضروری ہے جس پر عرف میں ڈاڑھی کا اطلاق آسکے ‘ کیونکہ احکام میں عرف کا اعتبار ہے ‘ علامہ شامی نے لکھا ہے کہ امام ابوحنفیہ (رح) کا قاعدہ یہ ہے کہ جس چیز کی شرعا مقدار معین نہ ہو اس میں مبتلا بہ کی رائے کا اعتبار ہوتا ہے۔ (رد المختار ج ١ ص ١٢٨‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

خشخشی ڈاڑھی یا فرنچ کٹ ڈاڑھی سے یہ تقاضا پورا نہیں ہوتا ‘ یہ ایک فنی بحث ہے ورنہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ لمبی اور دراز ڈاڑھی رکھی جائے جو سینہ کے بالائی حصہ کو بھر لے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ڈاڑھی لمبی تھی جو سینہ مبارک کو بھر لیتی تھی۔

کیا ترک سنت کی سزا شفاعت سے محرومی ہے ؟

علامہ سید طحطاوی لکھتے ہیں :

” قنیہ “ میں مذکور ہے کہ سنت (موکدہ) کا تارک فاسق ہے (صحیح یہ ہے کہ فرض کا تارک اور حرام کا مرتکب فاسق ہے۔ سعیدی غفرلہ) اور اس کا منکر بدعتی ہے اور ” تلویح “ میں مذکور ہے کہ سنت موکدہ کو ترک کرنا حرام کے قریب ہے اور اس کا تارک شفاعت سے محروم ہونے کا مستحق ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : جس نے میری سنت کو ترک کیا وہ میری شفاعت کو نہیں پائے گا اور شیخ زین نے ” شرح المنار “ میں لکھا ہے کہ سنت موکدہ کے ترک سے گنہ گار ہوگا لیکن یہ گناہ ترک واجب کے گناہ سے کم ہوگا (حاشیۃ الفلاح ص ٣٩‘ مطبوعہ مطبع مصطفیٰ البابی واولادوہ مصر ‘ ١٣٥٦ ھ)

علامہ طحطاوی نے ” تلویح “ کے حوالہ سے اس حدیث کو ذکر کیا ہے : جس نے میری سنت کو ترک کیا وہ میری شفاعت کو نہیں پائے گا ‘ یہ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے ‘ اور یہ حدیث احادیث صحیحہ کے خلاف ہے جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : گناہ کبیرہ کرنے والوں کے لئے میری شفاعت ہے۔ ١ (امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ ‘ جامع ترمذی ص ٣٥١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی )

اور سنت کا ترک گناہ کبیرہ نہیں ہے ‘ فرض کا ترک یا حرام کا ارتکاب گناہ کبیرہ ہے اور واجب کا ترک اور مکروہ تحریمی کا ارتکاب گناہ صغیرہ ہے اور سنت کے ترک کا گناہ ترک واجب کے گناہ سے بھی کم درجہ کا ہے ‘ اگر بالفرض یہ حدیث ہو تو اس کی توجیہ یہ ہے کہ جو سنت موکدہ کو بہ طور تخفیف یا بہ طور انکار ترک کرے ‘

علامہ شامی نے ابن الحاج کی ” شرح تحریر “ کے حوالے سے لکھا ہے : جو شخص بلاعذر سنت موکدہ کو بہ طور اصرار ترک کرے اور وہ ملامت کئے جانے اور عذاب کا مستحق ہوگا لیکن سنت موکدہ کے ترک کا گناہ ترک واجب کے گناہ سے کم ہے (اور اگر کبھی کبھی سنت موکدہ کو ترک کرے تو وہ صرف ملامت کا مستحق ہے) (رد المختار ج ١ ص ‘ ٤٥٢‘ ٧١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

” کن فیکون “ کی تحقیق :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب وہ کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اس کے لئے صرف یہ فرماتا ہے : ” ہوجا “ تو وہ ہوجاتی ہے۔۔ (البقرہ : ١١٧)

اس آیت پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اس چیز کو یہ خطاب (ہو جا) اس چیز کے وجود میں آنے سے پہلے ہے یا اس چیز کے وجود میں آنے کے بعد ہے ‘ اگر اس چیز کے وجود میں آنے سے پہلے اس کو خطاب ہے تو یہ خطاب بالمعدوم ہے اور یہ باطل ہے اور اگر اس کے وجود میں آنے کے بعد اس کو خطاب ہے تو یہ تحصیل حاصل ہے اور یہ بھی باطل ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ ” کن “ سے مراد یہ کہ اللہ تعالیٰ جس چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے اس کو فورا پیدا کردیتا ہے اور جب وہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے وہ اس کے لیے تفکر ‘ تدبر ‘ معائنہ اور تجربہ کا محتاج نہی ہوتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ لفظ ” کن “ سرعت تخلیق سے استعارہ ہے۔

اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ ازل میں اللہ تعالیٰ کو تمام اشیاء کا علم تھا اللہ تعالیٰ جس چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے اس کی صورت علمیہ کیطرف متوجہ ہو کر فرماتا ہے : ” کن “ یعنی خارج میں موجود ہوجا تو وہ چیز ہوجاتی ہے پس تحصیل حاصل لازم آئی نہ خطاب بالمعدوم۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر لفظ ” کن “ سرعت تخلیق سے استعارہ ہے تو پھر زمین اور آسمان کی پیدائش چھ دنوں میں کس طرح ہوئی اور انسان کی پیدائش نوماہ میں کیوں ہوتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس چیز کی پیدائش کے لئے اللہ تعالیٰ نے تدریج مقدر کی ہے اور اس تدریج کے لئے جتنا عرصہ مقرر کیا ہے وہ اس عرصہ کے بعد فورا ہوجاتی ہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ وہ جس چیز کو جب اور جتنے وقت میں پیدا کرنا چاہے وہ اس وقت میں علی الفور پیدا ہوجاتی ہے، بعض چیزوں کو وہ مادہ سے پیدا کرتا ہے اور بعض چیزوں کو وہ بغیر مادہ کے پیدا کرتا ہے جیسے نفس مادہ کو ‘ یا روح کو ‘ لیکن وہ اپنی تخلیق میں مادہ کا محتاج ہے نہ وقت کا محتاج ہے ‘ نہ منصوبہ بندی اور تجربہ کا محتاج ہے ‘ وہ جس چیز کو جب چاہتا ہے جیسے چاہتا ہے جتنے عرصہ میں چاہتا ہے فورا پیدا کردیتا ہے یہی ” کن فیکون “ کا مطلب ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جاہلوں (مشرکوں) نے کہا : اللہ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ اس سے پہلے لوگوں نے بھی اسی طرح کہا تھا۔ (البقرہ : ١١٨)

مشرکین کے فرمائشی معجزات اور مطالبات پورا نہ کرنے کی وجوہ :

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکوں نے کہا : اللہ ہم سے کلام کرکے ہمیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے متعلق کیوں نہیں بتاتاتا کہ ہمیں یقین ہوجائے کہ وہ نبی ہیں اور ہم ان پر ایمان لے آئیں ‘ یا ہمارے پاس کوئی ایسی نشانی کیوں نہیں آتی جو ان کی نبوت پر دلالت کرے ‘ اس سے پہلے یہود اور نصاری یا پچھلی امتوں کے کافروں نے بھی اسی طرح کہا تھا ‘ سرکشی ‘ ہٹ دھرمی بےہودہ مطالبوں اور ایمان نہ لانے میں ان کے دل ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے ہیں ‘ ایمان لانے والوں کے لئے تو ہم نشا نیاں بیان کرچکے ہیں۔

جاہل اور مشرک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح کے مطالبات کرتے تھے :

(آیت) ” وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعا۔ اوتکون لک جنۃ من نخیل وعنب فتفجر الانھر خللھا تفجیرا۔ او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا او تاتی باللہ والمآئکۃ قبیلا۔ او یکون لک بیت من زخرف اوترقی فی السمآء ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقرؤہ قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا “۔۔ (بنواسرائیل : ٩٣۔ ٩٠)

ترجمہ : اور انہوں نے کہا : ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کردیں۔ یا آپ کے لئے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو ‘ پھر آپ اس کے درمیان بہتی ہوئی نہریں جاری کردیں۔ یا جیسے آپ نے کہا ہے آپ ہم پر آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے گرا دیں یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے بےحجاب لے آئیں۔ یا آپ کے لئے سونے (کی دھات) کا گھر ہو ‘ یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں ‘ اور ہم آپ کے چڑھنے پر بھی ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ ہم پر ایک کتاب نازل کریں جس کو ہم پڑھیں ‘ آپ کہہ دیجئے ‘ میرا رب (ایسے لا یعنی مطالبات کو پورا کرنے سے) پاک ہے ‘ میں تو صرف بشر رسول ہوں۔

جس طرح مشرکین مکہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایمان لانے کے لئے بےسروپا مطالبات کئے تھے اسی طرح اس سے پہلے یہودیوں نے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایسے ہی مطالبات کئے تھے انہوں نے میدان تیہ میں کہا : ہم ایک قسم کے کھانے پر صبر نہیں کریں گے ‘ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : ہمارے لئے بھی ایسا خدا بنادو جیسا ان لوگوں کا خدا ہے ‘ اور انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : ہم آپ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم خدا کو بالکل ظاہر نہ دیکھ لیں !

اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے ان مطالبات کو جو پورا نہیں کیا اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) جب اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر ایک نشانی پیش کردی تو وہ ایک مکلف اور انصاف پسند شخص کے ایمان لانے کے لئے کافی ہے اور وہ نشانی قرآن مجید ہے جس کی نظیر لانے سے آج تک ساری دنیا عاجز ہے اور جو شخص کج بحث ‘ کٹ حجت اور ہٹ دھرم ہو اس کے لئے ہزاروں نشانیاں بھی ناکافی ہیں ‘ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بیشک یقین کرنے والے لوگوں کے لئے ہم نے نشانیاں بیان فرما دی ہیں۔

اس کی نظیر یہ آیت ہے :

(آیت) ” وقالوا لولا انزل علیہ ایت من ربہ ‘ قل انما الایت عنداللہ وانما انا نذیر مبین ‘۔ اولم یکفہم انا انزلنا علیک الکتب یتلی علیہم، (العنکبوت : ٥١۔ ٥٠ )

(٢) اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ ہوتا کہ ان فرمائشی معجزات کو نازل کرنے سے ایمان لے آئیں گے تو اللہ تعالیٰ ان معجزات کو نازل فرما دیتا لیکن اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ اگر وہ ان کے مطالبات پورے بھی کر دے تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اور ضد بحث کریں گے ‘ اس کی نظیر یہ آیت ہے :

(آیت) ” ولوعلم اللہ فیہم خیرا لاسمعھم ولو اسمعھم لتولوا وھم معرضون “۔ (الانفال : ٢٣)

ترجمہ : اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خیر جانتا تو ان کو ضرور سنا دیتا اور اگر ان کو (ان کے اس حال میں) سنا دیتا تو وہ ضرور اعراض کرتے ہوئے پیٹھ موڑ لیتے۔

(٣) جس قسم کے معجزات کا انہوں نے مطالبہ کیا تھا ان کو پورا کرنے کے بعد عقل کی آزمائش اور ایمان بالغیب کی کوئی گنجائش نہ رہتی اور یہ چیز اللہ کی حکمت کے خلاف ہے کہ ایمان لانے میں عقل کے امتحان کا کوئی دخل نہ ہو اور غیب پر ایمان نہ ہو ‘ کیونکہ جب سب لوگ فرشتوں کو بھی دیکھ لیتے اور خدا کو بھی دیکھ لیتے تو پھر ایمان بالغیب نہ رہتا۔

(٤) اللہ تعالیٰ کی یہ سنت جاریہ ہے کہ جب کوئی قوم کسی معجزہ کی فرمائش کرے اور پھر اس کے بعد ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو ہلاک اور ملیامیٹ کرنے کے لئے آسمانی عذاب نازل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ یہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے اور اللہ وعدہ کرچکا تھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوتے ہوئے آسمانی عذاب نہیں آئے گا ‘ اب اگر ان کے مطالبات پورے ہونے کے بعد یہ ایمان نہ لاتے اور اللہ تعالیٰ عذاب نازل نہ کرتا تو یہ اس کی سنت کے خلاف تھا اور عذاب نازل کردیتا تو یہ اس کے وعدہ کے خلاف تھا۔

(٥) جس قدر کثرت کے ساتھ یہ معجزات کا مطالبہ کر رہے تھے اگر اتنے کثیر معجزات آجاتے تو پھر معجزہ معجزہ نہ رہتا بلکہ عادت اور معمول کے مطابق ایک کام ہوجاتا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا (بنا کر) بھیجا ہے اور جہنمیوں کے متعلق آپ سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔۔ (البقرہ : ١١٩)

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین کریمین کے ایمان کی بحث :

جب کفار نے ضد اور عناد سے اپنے فرمائشی معجزات کے مطالبہ پر اصرار کیا اور ایمان نہیں لائے ‘ جب کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق پر نشانیاں نازل کردی تھیں ‘ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے ایمان نہ لانے پر رنج اور افسوس ہوا ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ کا کام تو صرف ایمان لانے والوں کو بشارت دینا اور ایمان نہ لانے والوں کو دوزخ سے ڈرانا ہے ‘ پھر بھی اگر کوئی ایمان نہیں لاتا تو آپ سے ان دوزخیوں کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔

علامہ ابن جریر (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

محمد بن کعب قرظی (رح) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میرے ماں باپ کے ساتھ کیا کیا گیا۔ (جامع البیان ج ١ ص ٤٠٩‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ سیوطی (رح) نے لکھا ہے کہ یہ حدیث معضل الاسناد اور ضعیف ہے اور حجت نہیں ہے (درمنثور ‘ ج ١ ص ١١١‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)

علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں کہ ہم نے کتاب (التذکرہ) میں بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ماں باپ کو زندہ کیا اور وہ آپ پر ایمان لے آئے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٩٣ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران)

علامہ سیوطی (رح) لکھتے ہیں :

حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین کے نجات یافتہ ہونے کے متعلق متعدد مسلک ہیں :

مسلک اول :

آپ کے والدین کریمین آپ کی بعثت سے پہلے فوت ہوگئے تھے اور جو بعثت سے پہلے فوت ہوگئے تھے ان کو عذاب نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔۔ (بنی اسرائیل : ١٥)

ترجمہ : اور ہم عذاب دینے والے نہیں جب تک رسول نہ بھیج دیں۔۔

یہ آیت ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جن کو کسی نبی کو دعوت نہیں پہنچی اور ابوین کریمین کو کسی نبی کی دعوت نہیں پہنچی ‘ انبیاء سابقین کا زمانہ اس سے بہت بعید تھا کیونکہ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے اور ان کے اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان زمانہ فترت (انقطاع نبوت) چھ سو سال ہے ‘ پھر وہ زمانہ جاہلیت میں تھے اور اس وقت شرق اور غرب میں جہالت پھیل چکی تھی ‘ دنیا کے چند علاقوں میں گنتی کے علماء اہل کتاب تھے ‘ اس کے علاوہ شریعت کی معرفت کے ذرائع معدوم ہوچکے تھے اور آپ کے والدین شریفین نے کہیں سفر نہیں کیا صرف آپ کے والد گرامی ایک بار مدینہ منورہ گئے اور انہوں نے زیادہ عمر نہیں پائی ‘ جب حضرت آمنہ امید سے ہوئیں تو اس وقت حضرت عبداللہ کی عمر اٹھارہ سال تھی ‘ اس وقت آپ مدینہ گئے اور وہیں وفات پائی اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر چھ سال کی تھی تو حضرت آمنہ غالبا اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کے لیے مدینہ گئیں اور وہیں فوت ہوگئیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان تین ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ تھا۔

مسلک ثانی :

آپ کے ابوین کریمین سے شرک صادر نہیں ہوا ‘ بلکہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر تھے جیسے اور بھی کئی عرب تھے ‘ مثلا زید بن عمر و بن نفیل اور ورقہ بن نوفل وغیرھما ‘ امام فخر الدین رازی نے اپنی کتاب ” اسرار التنزیل “ میں لکھا ہے : آذر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد نہیں چچا تھے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آباء و اجداد کافر نہیں تھے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ :

(آیت) ” الذی یرک حین تقوم۔ وتقلبک فی السجدین۔ (الشعراء : ٢١٩)

ترجمہ : جو آپ کو دیکھتا ہے جب آپ کھڑے ہوتے ہیں :۔ اور دیکھتا ہے سجدہ کرنے والوں میں آپ کے پلٹنے کو۔

یعنی آپ کا نور ہمیشہ سجدہ کرنے والوں میں ایک دوسرے سے منتقل ہوتا رہا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” انما المشرکون نجس “۔ (التوبہ : ٢٨)

ترجمہ : سب مشرکین محض نجس ہیں۔

اور آپ نے فرمایا : میں ہمیشہ طاہرین کی پشتوں سے طاہرات کے رحموں میں منتقل ہوتا رہا ‘ اس لیے واجب ہے کہ آپ کے آباء و اجداد میں سے کوئی مشرک نہ ہو ‘ (امام رازی کا کلام ختم ہوا) نیز احادیث سے ثابت ہے کہ آپ کے تمام آباء اپنے زمانہ میں سب سے افضل اور خیر تھے کیونکہ امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ہر قرن میں بنو آدم کے خیر قرن سے مبعوث ہوا ہوں حتی کہ وہ قرن جس میں میں مبعوث ہوا اور امام بیہقی (رح) نے ” دلائل النبوۃ “ میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب بھی لوگوں کے دو فرقے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مجھے ان میں سے خیر میں رکھا ‘ میں اپنے ماں باپ سے پیدا کیا گیا اور مجھے زمانہ جاہلیت کی کسی چیز نے نہیں چھوا حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر میرے والدین تک میں (ہمیشہ) نکاح سے پیدا ہوا ‘ زنا سے پیدا نہیں ہوا ‘ میں تم سے خیر (افضل) ہوں اور میرے باپ تمہارے باپ سے خیر ہیں ‘ اور امام عبدالرزاق (رح) نے حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ ہر دور میں روئے زمین پر کم از کم سات مسلمان ضرور رہے ہیں ‘ اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین اور زمین والے ہلاک ہوجاتے ‘ اس حدیث کی سند امام بخاری (رح) اور امام مسلم (رح) کی شرط کے مطابق ہے۔

اور مومن اور کافر میں مومن خیر ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ولعبد مؤمن خیر من مشرک : (البقرہ : ٢٢١)

ترجمہ : اور غلام مومن مشرک سے خیر ہے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آباء ہر زمانہ کے لوگوں میں خیر تھے اور خیر مومن ہے ‘ اور ہر زمانہ میں مومن تھے تو ثابت ہوا کہ آپ کے تمام آباء ہر زمانہ میں مومن تھے۔

مسلک ثالث :

یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ابوین کریمین کو زندہ کیا حتی کہ وہ آپ پر ایمان لے آئے ‘ امام ابن شاہین ‘ حافظ ابوبکر خطیب بغدادی ‘ علامہ سہیلی ‘ علامہ قرطبی ‘ محب طبری اور علامہ ناصر الدین وغیرہ کا یہی مسلک ہے ‘ انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جس کو امام ابن شاہین نے ” الناسخ والمنسوخ “ میں ‘ خطیب بغدادی نے ” السابق واللاحق “ میں ‘ امام دارقطنی اور امام ابن عساکر نے ” غرائب “ میں سند ضعیف کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کیا ‘ پھر میرے ساتھ ایک گھاٹی پر حجون میں آئے درآں حالیکہ آپ غمزدہ تھے اور رو رہے تھے ‘ آپ کافی دیر ٹھہرے رہے ‘ پھر میرے پاس لوٹے ‘ اس وقت آپ خوش تھے اور مسکرا رہے تھے ‘ آپ نے فرمایا : میں اپنی والدہ کی قبر پر گیا تھا ‘ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کو زندہ کردے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا ‘ وہ مجھ پر ایمان لائیں ‘ پھر اللہ نے ان کو لوٹا دیا ‘ یہ حدیث محدثین کے اتفاق سے ضعیف ہے ‘ بلکہ ایک قول یہ ہے کہ موضوع ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ ضعیف ہے ‘ یہ موضوع نہیں ہے ‘ میں نے اس پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے ‘ علامہ سہیلی نے ” الروض الانف “ میں ایک سند سے روایت کیا ہے جس میں مجہول راوی ہیں ‘ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ آپ کے والدین کو زندہ کر دے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا وہ آپ پر ایمان لے آئے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر موت طاری کردی ‘ اس کے بعد علامہ سہیلی نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی رحمت اور قدرت اس سے عاجز نہیں ہے ‘ اور اس کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس لائق ہیں کہ وہ ان کو اس خصوصیت کے ساتھ اپنے فضل و کرم سے نوازے۔

علامہ قرطبی (رح) نے لکھا ہے کہ ابوین کریمین کو زندہ کرنے کی حدیث اور اس کے لیے استغفار کی ممانعت میں کوئی تعارض نہیں ہے (کیونکہ غیر معصوم کے لیے استغفار کرنا ان کے حق میں معصیت کا وہم پیدا کرتا ہے) علامہ قرطبی (رح) نے کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل بیشمار ہیں اور ابوین کریمین کو زندہ کرنا عقلا وشرعا محال نہیں ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں بنو اسرائیل کے مقتول کو زندہ کرنے اور اپنے قاتل کی خبر دینے کا ذکر ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ قاضی ابوبکر بن العربی مالکی سے کسی نے پوچھا کہ جو شخص یہ کہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والد دوزخ میں ہیں ‘ اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ ملعون ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ترجمہ) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ‘ اللہ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت فرماتا ہے (الاحزاب : ٥٧) اور آپ کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا ایذا ہوگی کہ آپ کے والد کو جہنمی کہا جائے (صحیح مسلم کی جس حدیث میں ہے : میرا باپ اور تمہارا باپ جہنم میں ہے اس میں باپ کا اطلاق چچا پر ہے اور اس سے مراد ابو طالب ہے) علامہ باجی نے بھی ” المنتقی “ میں اسی طرح لکھا ہے۔ امام بیہقی (رح) نے ” شعب الایمان “ میں حضرت طلق بن علی سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پالیتا ‘ میں عشاء کی نماز میں ہوتا اور وہ مجھے یا محمد کہہ کر پکارتے تو میں لبیک کہتا۔ (الحاوی للفتاوی ج ٢ ص ٢٣٣۔ ٢٠٢ ملخصا ‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ فیصل آباد)

علامہ شامی لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ عزت دی کہ آپ کے والدین کریمین کو زندہ کیا اور وہ آپ پر ایمان لے آئے ‘ جیسا کہ اس حدیث میں ہے جس کو علامہ قرطبی (رح) اور حافظ ناصر الدین (رح) نے صحیح قرار دیا ہے اور انہوں نے خلاف قاعدہ موت کے بعد ایمان کا نفع پایا ‘ اس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عزت دی ہے جیسے بنواسرائیل کے مقتول کو زندہ کیا ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے مردوں کو زندہ کیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر اللہ نے مردوں کی ایک جماعت کو زندہ کیا۔ (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٢٩٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

نیز علامہ شامی لکھتے ہیں : احادیث صحیحہ میں ہے کہ ابوطیبہ اور حضرت ابن الزبیر (رض) نے آپ کے اس خون کو پی لیا جو آپ نے ان کو پھینکے کیلیے دیا تھا ‘ آپ نے فرمایا : میرا خون جس خون کے ساتھ مل گیا اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی تو جس کے شکم میں اس کے خون اور دودھ سے آپ کی پرورش ہوتی رہی اور جو آپ کی خلقت کی اصل ہیں وہ دوزخ سے کیونکر نہ محفوظ ہوں گے۔ (تنقیح الفتاوی الحامدیہ ج ٢ ص ٣٦٥‘ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ ‘ کوئٹہ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 116