حدیث نمبر :13

روایت ہے حضرت سفیان ابن عبداﷲ ثقفی سے ۱؎ کہ میں نے عرض کیایارسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم مجھے اسلام کےمتعلق ایسی بات بتائیں کہ آپ کے بعداس کےمتعلق کسی سے نہ پوچھوں۔دوسری روایت میں ہے(کہ آپ کے سوا)فرمایا کہ کہو کہ مَیں اﷲ پر ایمان لایا پھر اُس پرقائم رہو ۲؎

شرح

۱؎ آپ کا نام سفیان ابن عبداﷲ ابن ربیعہ ہے،کنیت ابو عمرو قبیلہ بنی ثقیف سے ہیں،اہل طائف میں سے ہیں،زمانۂ فاروقی میں طائف کے حاکم رہے،کل پانچ حدیثیں آپ سے مروی ہیں،بڑے متقی عابد تھے۔

۲؎اﷲپرایمان لانےسےمرادسارے عقائد اسلامیہ ماننا ہیں۔لہذا اس میں توحیدورسالت،حشرونشر،ملائکہ،جنت ودوزخ سب پر ایمان لاناداخل ہے۔جیسےکسی کو اپنا باپ مان کر اس کے سارے اہل قرابت کو اپنا عزیر ماننا پڑتاہے کہ اس کا باپ ہمارا دادا ہے،اس کی اولاد ہمارے بھائی بہن،اس کے بھائی ہمارے چچا تائے اور اسقامت سے مراد سارے اعمال اسلامیہ پرسختی وپابندی سے عمل کرنا ہے۔لہذا یہ حدیث ایمان وتقویٰ کی جامع ہے اور اس پر عامل یقینًا جنتی ہے،رب فرماتا ہے:” اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْتَقٰمُوۡا”الخ۔یہ کلمات جامع میں سے ہیں۔