بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَنۡ تَرۡضٰى عَنۡكَ الۡيَهُوۡدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡ‌ؕ قُلۡ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الۡهُدٰى‌ؕ وَلَٮِٕنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ بَعۡدَ الَّذِىۡ جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ‌ۙ مَا لَـكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ

اور یہود و نصاری آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے حتی کہ آپ ان کی ملت کی پیروی کریں ‘ آپ کہیے کہ اللہ کی (دی ہوئی) ہدایت ہی (حقیقت میں) ہدایت ہے ‘ اور (اے مخاطب) جب کہ تیرے پاس علم آچکا ہے اس کے بعد (بھی) تو نے ان کی خواہشوں کی پیرو کی ‘ تو تجھے اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار

یہود و نصاری کی عدم اطاعت کی خبر کا قرب قیامت میں ان کے ایمان لانے کی آیت سے تعارض۔۔۔۔۔ اور اس کا جواب :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتادیا تھا کہ اگر یہود و نصاری آپ کی مسلسل تبلیغ کے باوجود ایمان نہیں لاتے تو آپ پریشان نہ ہوں اور غم نہ کریں ‘ یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں اور نہ آپ سے ان کے متعلق باز پرس ہوگی ‘ مدینہ منورہ میں آنے کے بعد جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں تو اس سے یہود کو یہ امید ہو چلی تھی کہ شاید نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے محرف شدہ دین میں ان کی موافقت کرلیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے اور یہود و نصاری کے ایمان لانے کی توقع کو منقطع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہود و نصاری آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک آپ ان کی ملت یعنی ان کے تحریف شدہ دین کی پیروی نہ کرلیں اور ظاہر ہے کہ یہ محال ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان کو بتادیں کہ حقیقت میں ہدایت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے یعنی ان کا محرف شدہ دین ہدایت نہیں ہے ‘ ملت کا معنی ہم ” مالک یوم الدین “ کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں۔ 

اب اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس آیت میں فرمایا ہے کہ یہود و نصاری ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور سورة نساء میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات سے پہلے تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے اور یہ کھلا ہوا تعارض ہے ‘ وہ آیت یہ ہے : 

(آیت) ” وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “۔ (النساء : ١٥٩) 

ترجمہ : اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی موت سے پہلے اہل کتاب میں سے ہر شخص ان پر ایمان لے آئے گا۔ 

ا سکا جواب یہ ہے کہ سورة بقرہ میں یہود و نصاری کے حسد اور بغض کی وجہ سے ان کے ایمان لانے کی نفی فرمائی ہے اور قرب قیامت میں نزول مسیح کے وقت جب یہود و نصاری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دین اسلام اور حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کی پیروی کرتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کا حسد اور بغض زائل ہوجائے گا اور ان پر آپ کی حقانیت واضح ہوجائے گی اور وہ سب آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ 

بعض آیات میں بہ ظاہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور حقیقت میں مسلمانوں سے خطاب ہونا : 

اس کے بعد فرمایا ہے : اگر آپ نے وحی نازل ہونے کے بعد بھی بہ فرض محال یہود و نصاری کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ کو (معاذ اللہ) اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکے گا ‘ اس آیت میں مسلمانوں سے تعریضا خطاب ہے ‘ تعریض اس کو کہتے ہیں کہ صراحۃ اور بہ ظاہر کسی سے خطاب ہو اور حقیقتا دوسروں سے خطاب ہو ‘ اسی طرح اس آیت میں بھی بظاہر صراحۃ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے اور تعریض عام مسلمانوں سے ہے ‘ یعنی جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان کی اتباع کرنا محال ہے ‘ پھر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ وعید سنائی ہے تو عام مسلمانوں کی طرف یہ وعید بہ طریق اولی متوجہ ہے۔ 

اس کی نظیر یہ آیت ہے :

(آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک “۔ (الزمر : ٦٥) 

ترجمہ : اگر (بہ فرض محال) آپ نے (بھی) شرک کیا تو آپ کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔

اس آیت میں بھی عام مسلمانوں کو تعریض ہے ‘ بظاہر صراحۃ خطاب آپ سے ہے اور مراد عام مسلمان ہیں ‘ یعنی اگرچہ آپ کا شرک کرنا محال ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس محال کی تقدیر پر جب یہ وعید سنائی ہے تو اگر عام مسلمان شرک کریں تو ان کی طرف یہ وعید بطریق اولی متوجہ ہوگی۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جو تلاوت کرنے کا حق ہے ‘ وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ (البقرہ : ١٢١) 

تورات اور انجیل کی تلاوت کا ناجائز ہونا اور قرآن مجید کی تلاوت کے آداب :

اس میں اختلاف ہے کہ اس آیت میں ان لوگوں سے مراد اہل کتاب ہیں یا مسلمان ‘ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کیونکہ اس سے پہلی آیات میں بھی اہل کتاب کا ذکر ہے اور پہلے اہل کتاب میں ان لوگوں کی مذمت کی تھی جنہوں نے تورات میں تحریف کی اور کج بحثی اور ہٹ دھرمی کا اظہار کیا ‘ اور اب ان اہل کتاب کا ذکر ہے جنہوں نے تحریف نہیں کی ‘ تورات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نشانیاں پڑھ کر آپ پر ایمان لے آئے ‘ جیسے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) اور تورات کی تلاوت کرنا جس طرح تلاوت کرنے کا حق ہے ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کو بغیر تحریف کے پڑھنا ‘ یا اس کو پڑھ کر اس کے احکام پر عمل کرنا ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ ان لوگوں سے مراد مسلمان ہیں اور کتاب سے مراد قرآن کریم ہے کیونکہ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ جو کتاب کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جو تلاوت کرنے کا حق ہے ‘ اس آیت میں کتاب کی تلاوت کرنے کی تعریف کی ہے اور اس پر برانگیختہ کیا ہے اور یہ صفت صرف قرآن مجید کی ہے تورات اور انجیل کی نہیں ہے ‘ کیونکہ ان کی تلاوت اب جائز نہیں ہے ‘ حافظ الہیثمی (رح) نے امام بزار کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تورات پڑھ رہے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپ نے فرمایا : اگر اب موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو ان کے لیے میری اتباع کے سوا اور کوئی چارہ کار نہ تھا۔ (مجمع الزوائد ج ١ ص ‘ ١٧٤ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ) 

اس لیے متعین ہوگیا کہ یہاں کتاب سے مراد قرآن مجید ہے اور اس کی تلاوت کا حق یہ ہے کہ : 

(١) قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے معانی میں غور وفکر کرنا۔ 

(٢) اگر جنت یا آیت رحمت کو پڑھے تو اس کو طلب کرے۔ عذاب کی آیت پڑھے تو اس سے پناہ مانگے اگر نیک لوگوں کی صفات پڑھے تو ان کو اپنانے کی دعا کرے ‘ برے کا ذکر پڑھے تو ایسے اعمال سے محفوظ رہنے کی دعا کرے ‘ احکام کی آیات پڑھے تو ان پر عمل کرنے کی توفیق طلب کرے۔ 

(٣) قرآن مجید کی تلاوت اس طرح کرے کہ اس کے تقاضوں پر عمل کرے۔

(٤) قرآن مجید کو خشوع اور خضوع سے پڑھے ‘ آیات غضب کو پڑھ کر اس پر خوف طاری ہو اور اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں اپنے گناہوں پر اشک ندامت بہائے۔ 

(٥) قرآن مجید کی محکم آیات پر عمل کرے ‘ متشابہات پر ایمان لائے اور ان کا معنی اور مراد اللہ تعالیٰ کی طرف مفوض کردے۔ قرآن مجید کی تلاوت کے آداب کا ہم نے اس کتاب کے مقدمہ میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 120