حدیث نمبر :20

روایت سے حضرات ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مجھے انسان ایذا دیتا ہے ۱؎ کہ زمانہ کو گالیاں دیتا ہے۲؎حالانکہ زمانہ(مؤثر)تو میں ہوں۔میں رات و دن کو الٹ پلٹ کر تا ہوں ۳؎(مسلم، بخاری)

شرح

۱؎ ایذا سے مراد ناراض کرنا ہے،یعنی میرے معلقل وہ باتیں کرتا ہے جس سے میں ناراض ہوتا ہوں،ورنہ خدا تعالٰی دکھ درد اور تکلیف سے پاک ہے۔

۲؎ اس طرح کہ کہتا ہے ہائے زمانے تو نے مجھ پر ظلم کردیا،میرے فلاں کو مار دیا،ہائے ظالم زمانہ یا آسمان،جیسے کہ مولوی محمود حسن دیوبندی نے مرثیہ گنگوہی میں زمانہ کو جی بھر کے کوسا،پیٹاہے یہ حرام ہے۔اس حدیث سے معلو م ہوتا ہے کہ اﷲ کی محکوم چیزوں کو برا کہنا رب کی ناراضی کا باعث ہے۔ایسے ہی اﷲ کے پیاروں کی توہین۔

۳؎ اس طرح کہ دن کو لے جاتا ہوں،رات کو لاتا ہوں اور بالعکس،نیز انہیں چھوٹا،بڑا،گرم،سرد،مفید و مضر بناتا ہوں لہذا انہیں برا کہنا مجھ پر طعن ہے۔خیال رہے کہ یہاں دھر(زمانہ)سے مراد مؤثر حقیقی اور مسبب الاسباب ہے۔ورنہ رب تعالٰی کو دھر کہنا درست نہیں اور نہ دھر اﷲ کا نام ہے۔