بی جے پی نیتا پر”گائے“ کا حملہ !!

کیوں ناراض ہیں “گوماتا” ؟

تحریر : غلام مصطفی نعیمی

نزیل حال : ساﺅتھ افریقہ

gmnaimi@gmail.com

گجرات کے پاٹن پارلیمانی حلقے سے بی جے پی رُکنِ پارلیمنٹ [MP] “لِیلادَھر واگھیلا” پر یکم ستمبر کو ایک ”گوماتا“ نے سخت غصے کی حالت میں حملہ کر دیا. جس کی وجہ سے ایم پی صاحب کی دو پسلیاں ٹوٹ گئیں, سر پر چوٹ آئی اور ایم پی مَہودَے کو آئی سی یو (I.C.U) میں بھرتی کرانا پڑا.

اب ہم جیسے تُچھ منش[حقیر انسان] یہ طے نہیں کر پا رہے ہیں کہ ایم پی مہودے کے ساتھ ہوئے اس جان لیوا حادثے پر ہمدردی کا اظہار کریں یا “گوماتا” کو ناراض کرنے کی وجہ پوچھیں.

آخر دنیا کی سب سے سیدھی اور شانتی پریہ[امن پسند] مخلوق گائے نے اپنے ہی بھکت پر ایسا جان لیوا حملہ کیوں کیا؟

اب کوئی اس پر یہ اعتراض نہ کرے کہ جناب! جانور تو جانور ہوتا ہے، وہ کسی پر بھی حملہ کرسکتا ہے.

اس کے جواب میں ہم فقط اتنا عرض کردیں کہ گائے کو عام نظر سے دیکھیں تو وہ ایک جانور نظر آئے گی لیکن “شاستروں” کی دور درشٹی[بصیرت] سے دیکھیں گے تو پتا لگے گا کہ “گائے” میں سارا برہمانڈ[عالم] سمایا ہوا ہے !!!

”گوماتا“ کا مقام :

٭ مشہور گرنتھ “بَھوِشّیَہ پُرَان” میں لکھا ہے کہ گائے کے اندر اعلیٰ درجے پر فائز 33 دیوتا رہائش پذیر ہوتے ہیں. !!!

٭ گائے کی پیٹھ میں ”برہما بھگوان“ براجمان ہوتے ہیں !!

٭ گائے کے گلے میں ”وشنو بھگوان“ واس[رہائش] کرتے ہیں. !!

٭ گائے کے منہ میں ”شنکر جی“ براجمان رہتے ہیں !!

٭ گائے کے درمیانی حصے میں باقی سارے دیوتا محوِ آرام ہیں. !!!

٭ گائے کے جسم کے بقیہ حصوں میں مہارشیوں کا ٹھکانہ ہے!!!

٭ گائے کی پونچھ میں اننت ناگ جی مقیم ہوتے ہیں !!

٭ گائے کے موتر[پیشاب] میں گنگا ندی موجودہے !!!

٭ “گوماتا” کی آنکھوں میں سورج اور چاند بستے ہیں !!

٭ کل ملا کر “گوماتا” کو پرتھوی، برہمانڈ اور دیووں کا پرتیک[علامت] مانا جاتا ہے!!

“گوماتا” سے عقیدت :

آر ایس ایس کے مطابق “گوماتا” انسان کی سگی ماں سے بھی بڑھ کر ہے.

“گوماتا” کا درجہ سگی ماں سے اس لیے بڑا ہے کہ ماں کا پیشاب کوئی نہیں پی سکتا لیکن “گوماتا” کے موتر(پیشاب) میں کئی فوائد پائے جاتے ہیں!! اسی وجہ سے “گوماتا” کے گہرے عقیدت مند اپنے دن کی شروعات “گوماتا” کے موتر سے کرتے ہیں. !!!!

ملک کے سابق وزیر اعظم مُرارجی دیسائی صاحب بھی ناشتہ میں گوموتر پہلے استعمال کرتے تھے. !!!

اسی لیے سَنگھی لوگ “ماں بھکت” بھلے نہ ہوں لیکن “گوبھکت” ضرور ہوتے ہیں.

گوماتا کی خدمت کے لئے جابجا “گوسیوا کیندر”، “گوشالہ” اور “گو دھن” جیسے ‘آشرم’ کھول کر “گوماتا” کی خدمت جیسا “پُنّ کام” کیا جاتا ہے!!

“گوماتا” سے پریم کے نمونے:

بی جے پی، آر ایس ایس کے لوگ “گوماتا” سے اتنا پریم کرتے ہیں کہ اس کی خدمت کے نام پر اب تک 50 سے زائد لوگوں کو سڑکوں پر قتل کر چکے ہیں!!

چوں کہ ان کا دھرم ”اَہِنسا“(عدم تشدد) کا سبق پڑھاتا ہے اس لیے وہ اپنے عدم تشدد کا نمونہ دکھاتے ہوئے تلوار اور بندوق کا استعمال نہیں کرتے بلکہ اپنے ہاتھوں اور اینٹ پتھروں سے ہی مسلمانوں اور دلتوں کو قتل کرکے اپنے شانتی پِریَہ [امن پسند] ہونے کا ثبوت دیتے ہیں. 2014ء میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد سے بھکتوں میں “گوماتا” کا پریم اور بڑھ گیا ہے. جس کی وجہ سے مودی حکومت میں بیف (گائے کے گوشت) کا ایکسپورٹ کانگریس حکومت سے دوگُنا ہوگیا ہے !!!

”گوماتا“ ناراض کیوں؟

کہا جاتا ہے کہ زمانے بھر کے پیار کو ایک پلّے میں رکھا جائے اور ماں کا پیار دوسرے پلّے میں، تو یقینا ماں کا پلّہ بھاری رہے گا.

یہ تو عام ماں کا پیار ہے.

اگر سوال سگی ماں سے بڑھ کر “گوماتا” کا آئے تو اس کے پریم کی انتہا کا کون اندازہ کر سکتا ہے؟ اتنے اتھاہ پریم[انتہائی پیار] اور دنیا کی سب سے بڑی شانتی پِریَہ مخلوق ہونے کے باوجود “گوماتا” کو آخر کس بات پر غصہ آیا؟ جب کہ اس وقت گجرات سمیت مرکز میں بھی “گوماتا” کے بھکتوں کی ہی حکومت ہے. لیکن پھر بھی “گوماتا” کاغصہ اتنے چرم [شباب] پر تھا کہ اپنے بھکت کو آئی سی یو میں پہنچا دیا!!!

جب کہ ماﺅں کو تو اپنے بچوں سے بڑا پریم ہوتا ہے.

آخر” گوماتا“ کیوں ناراض ہیں؟

کس بات سے غصہ ہوکر انہوں نے بھکت کو زخمی کیا؟

جب ان سارے سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہیں تو کئی حیرت انگیز خلاصے سامنے آتے ہیں جن کو پڑھ کر آپ بھی” گوماتا“ کے غصے کو حق بجانب قرار دینے پر مجبور ہوں گے.

“گوشالوں” پر ایک چشم کشا رپورٹ:

آئی بی این 7(IBN7)نیوز چینل کی ایک سروے ٹیم نے 24 اگست 2017ء کو ایک سروے دکھایا تھا. اسی کے کچھ اقتباسات ہم یہاں نقل کرتے ہیں ،پڑھیے اور گوبھکتوں کی بھکتی دیکھئے:

٭دہلی کی پانچ گوشالوں میں پچھلے سولہ مہینوں میں 15 ہزار گائیں مرگئیں.!!!

ان گوشالوں میں آچاریہ سشیل گوسدن، گوشالہ، مانَو گوشالہ اہم ہیں۔

٭پچھلے ہفتے راجستھان کے جے پور کے ہگونیر گوشالہ میں ایک مہینے کے اندر ایک ہزار سے زیادہ گائیں مر گئیں!!

یہاں پندرہ سو گائے رکھنے کی جگہ ہے لیکن فی الوقت یہاں آٹھ ہزار گائیں موجود ہیں۔

٭یہاں موجود ساری گائیں ایک میٹر گہرے کیچڑ میں رہتی ہیں۔

٭چارا پانی دینے کا معقول انتظام بھی نہیں ہے۔

٭بیمار گائے کو دیکھنے کے لئے ڈاکٹر نہیں ہے۔

٭اس گوشالہ میں گایوں کی دیکھ بھال اور خدمت کے نام پر حکومت سالانہ 22 کروڑ روپے کی بڑی رقم دیتی ہے!!

٭دہلی کی گوشالوں کو ایم سی ڈی(MCD)تیس روپے فی گائے اور بیس روپے دہلی حکومت دیتی ہے،یعنی ایک گائے کے لئے پچاس روپے ملتے ہیں!!

(اگتا بھارت ای نیوزپیپر)

اس تحقیقاتی سروے کو پڑھ کر اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں کہ آج کل کُکُر مُتّے کی طرح گلی گلی اتنے گوبھکت کیوں دکھائی دیتے ہیں؟

جے پور کی گوشالہ کو سالانہ 22 کروڑ روپے ملتے ہیں یعنی ماہانہ ایک کروڑ83لاکھ روپے!!

اب اتنی بڑی رقم پانے کے لیے راتوں رات کتنے ہی گوبھکت تیار ہوجائیں گے.

اگر دہلی ہی کااندازہ لگائیں تو ایک گائے کی دیکھ بھال کے نام پر پچاس روپے ملتے ہیں یعنی اگر کسی نے 100گائیں جمع کر لیں تو یومیہ پانچ ہزار روپے حکومت سے مل جاتے ہیں!!!

اور ان گایوں کو رکھنے کے لیے آپ کے پاس اپنی زمین کا ہونا بھی شرط نہیں ہے ،بس کسی بھی سرکاری زمین پر اپنا ٹینٹ گاڑ کر اس پر ”گو سیوا کیندر“ کا بورڈ لگادیں پھر کوئی حکومتی اہلکار آپ سے کچھ پوچھنے کی جرأت نہیں کرے گا۔

گوبھکت بننے کا فارمولہ:

گوبھکتی اس وقت سب سے بڑے فائدے کا سودا ہے. اسی کے سہارے حکومتیں بنتی ہیں!

اسی کے نام پر نیتاگیری سیٹ ہوتی ہے!

گائے کے نام پر ہی سماج میں عزت وشہرت ملتی ہے!

گوبھکتی کی نمائش کرکے علاقے میں رعب ودبدبہ بنتا ہے!

اس لئے کل تک جن مہاپرشوں کو کوئی نہیں پوچھتاتھا وہ آج گوبھکت بنے گھوم رہے ہیں.

گوبھکت بننے کے لیے کسی خاص محنت کی ضرورت نہیں پڑتی ہے بس درج ذیل طریقے اختیار کر گوبھکت بنا جاسکتا ہے:

٭ دو چار بے روزگاراور نِکمّے نوجوانوں کی ٹولی.

٭ گلے میں بھگوا رومال اور ماتھے پر بڑا سا تِلَک.

٭ دوچار اچھے سے بھڑکاﺅ نعرے یاد ہونا.

٭کسی چُھٹ بھیّے ٹائپ نیتا سے ہلکی پھلکی جان پہچان.

بس ان خصوصیات کے حامل بے روزگاروں کی ٹولی بنا کر کسی بھی سرکاری زمین پر قبضہ جمایئے اور راہ چلتے کسی کسان یا مسلمان سے گائے چھین کر اسے وہاں لاکر باندھ دیجیے.

بس آپ پرشاسن (انتظامیہ) کی نگاہ میں گو بھکت بن جائیں گے.!!

اس کے بعد حکومت سے امداد و تعاون کا سلسلہ شروع!

ساتھ میں سماج میں گوبھکت ہونے کے ناطے آﺅ بھگت بھی مفت ملے گی اور اسی بہانے کسی کو بھی بھکتی دکھانے [یعنی دھمکانے] کا لائیسنس بھی مل جاتا ہے !

80فیصد “گوبھکت” فرضی ہیں:

بزرگوں کاکہنا ہے کبھی کبھی انسان ضمیر کی آواز پر سچی بات کہہ دیا کرتا ہے. بھلے ہی وہ بات اپنوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو.

ایسا ہی کچھ نظارہ تلنگانہ میں ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کے ساتھ ہوا کہ انہوں نے بے موسم کی گھاس کی طرح پھیل جانے والے گوبھکتوں کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ 80فیصد سے زیادہ گوبھکت نقلی اور فرضی ہیں. اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں. اس لئے تمام صوبائی حکوتیں ان سارے گو بھکتوں کے ڈوزیئر تیار کریں اور ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کریں!!!

یہ بات کوئی اور لیڈر کہتا تو اسے الزام مانا جاسکتا تھا لیکن وزیر اعظم خود ایسی پارٹی سے وابستہ ہیں جو گایوں کی سیاست کرکے ہی اقتدار میں موجود ہے اس لئے ان کی باتیں “محرم راز درون خانہ” کے قبیل سے ہیں ۔اس لئے ان کی باتوں کو الزام کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا.

اب یہ بات اپنے آپ میں بڑی حیران کن ہے کہ وزیراعظم کے کھلے اعلان کے باوجود کسی صوبائی حکومت نے گوبھکتوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی. آج بھی یہ سارے گوبھکت کھلے سانڈ کی مانند دندناتے گھوم رہے ہیں اور ان کی نگاہ میں قانون وعدلیہ کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم نے وہ اعلان محض بین الاقوامی دنیا میں ہورہی فضیحت سے بچنے کے لیے دیا تھا. حقیقتاً وہ بھی ان گوبھکتوں سے ناراض نہیں ہیں. کیوں کہ یہی وہ بھکت ہیں جو الیکشن کے زمانے میں بی جے پی کے لیے رات دن ایک کرکے پرچار کرتے ہیں. ووٹ دلاتے ہیں. اور جب کوئی ایشو کام نہ کرے تو پھر انہیں بے روزگار نوجوانوں کوفرقہ وارانہ دنگا وفساد کے لیے آگے بڑھا کر کمیونل کارڈ کھیلا جاتا ہے. اس لئے وزیراعظم کے اعلان کے باوجود گوبھکتی پورے زور و شور سے جاری ہے.

پردے کا پیچھے کا کھیل:

گوبھکتی کے نام پر جہاں حکومتی امداد ومراعات حاصل کی جاتی ہے وہیں پردے کے پیچھے ایک لمبا کھیل کھیلا جاتا ہے, جس کا پتا ایک عام آدمی کو بالکل بھی نہیں ہوتا. عام آدمی کو گوبھکتی کی جذباتی باتیں بتاکر استعمال کیا جاتا ہے اور گایوں کو گوشالہ میں جمع کرکے یہ سارے کارمانے انجام دیے جاتے ہیں:

٭گایوں کی دیکھ بھال کے نام پر حکومت سے کروڑوں کا فنڈ حاصل کیا جاتا ہے۔

٭سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضے کئے جاتے ہیں۔

٭پھر کچھ گایوں کی بیماری کی افواہ پھیلائی جاتی ہے.

٭اس افواہ کے بعد ان گایوں کے مرجانے کی خبر میڈیا اخباروں میں چلائی جاتی ہے۔

لیکن نہ تو ساری گائیں بیمار ہوتی ہیں اور نہ مرتی ہیں بلکہ یہ سب باتیں اس لئے عام کی جاتی ہیں تاکہ ان کی بھکتی پر پردہ پڑا رہے. حقیقتاً ان افواہوں کی آڑ میں یہ کھیل کھیلا جاتا ہے:

٭ یہ گوبھکت گایوں کو ذبح کراتے ہیں اور گوشت کو ایکس پورٹ کرتے ہیں۔

٭چمڑے کو اپنے گوداموں میں سپلائی کرتے ہیں۔

٭سینگ اور کھروں کا ایکس پورٹ کیا جاتا ہے۔

٭آنتوں کو چائنا جیسے ممالک میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔

غرضے کہ پوری پلاننگ کے ساتھ یہ سارے کام انجام دیے جاتے ہیں اور اس میں ملوث سبھی افراد کا حصہ مقرر ہوتا ہے اس لئے اگر کبھی شور مچتا بھی ہے تو ”جانچ کرائی جائے گی“جیسے جملے استعمال کر بات دبا دی جاتی ہے۔

اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو غور کریں کہ 16مہینوں میں دہلی میں پانچ ہزار گائیں مرگئیں لیکن ان گایوں کا انتم سنسکار[آخری رسومات] کس گھاٹ پر ادا کی گئیں؟

کس جگہ ان ہزاروں گایوں کو دفن کیا گیا؟

کیا اس کی تفصیل کسی اخبار میں آپ نے پڑھی ؟

چوبیس گھنٹے چلنے والے نیوز چینلز نے کبھی ان گایوں کا انتم سنسکار دکھایا ؟ جبکہ یہ نیوز چینل امیتابھ اور شاہ رخ کے بچوں کے کپڑوں پر بھی بریکنگ نیوز چلاتے ہیں لیکن”گوماتا“کے مرنے پر یہ سارے گوبھکت چینلز گدھے کے سینگ کی طرح غائب ہوجاتے ہیں۔ یہی چینلز اسی “ماتا” کے نام پر زہر پھیلانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں!!!

”گوماتا“ کا غصہ سمجھو:

چونکہ گائے کے اندر مکمل برہمانڈ سمایا ہوا ہے، اونچے درجے پر فائز 33 دیوتا رہائش پذیر ہیں, اس لئے”گوماتا“ کا اپنے “بھکت” کو اتنی بے دردی سے مارنا بلا وجہ نہیں ہوسکتا. کیوں کہ ماں کتنی ہی ناراض کیوں نہ ہو کبھی اپنے بچوں پر جان لیوا حملہ نہیں کرتی. لیکن مذکورہ معاملہ میں ایسا ہوا، تو اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ ”گوماتا اور اس میں براجمان دیوتاﺅں“کو اس بات پر سخت غصہ وناراضگی ہے کہ یہ بی جے پی ،آر ایس ایس کے لوگ ہماری عقیدت کے نام پر ایک طرف انسانوں کو بلا وجہ قتل کرتے ہیں اور دوسری طرف ہمیں ”ماتا“ کہنے کے باوجود جب تک دودھ ملتا ہے گھر میں رکھتے ہیں اور دودھ نہ رہنے پر گھر سے نکال دیتے ہیں اور پھر ناجائز زمین قبضہ کرکے گایوں کو ذبح کرکے اس کے جسم کے سارے اجزا کو ایکس پورٹ کرتے ہیں. اس لئے ”گوماتا“ نے ایک بڑے لیڈر کو زخمی کرکے یہ میسیج دیا ہے کہ بی جے پی والو!! دکھاوا بند کرو. اگر دکھاوا بند نہیں کیا تو پھر دیوتا کرودھ[غصے]میں آجائیں گے اور ان کے پرکوپ[جلال] سے بچنا تم میں سے کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا.!!

غلام مصطفی نعیمی

22 ذوالحجہ 1439ھ

3،ستمبر2018ءبروز پیر