تحقیق و تحریر
از محمد عثمان صدیقی
قادیانی گھس بیٹھیے:
قادیانی گھس بیٹھیے عمران خان کے معاشیات کے نامزد مشیر عاطف میاں کو جانتے ہوئے کہ یہ قادیانی ہے پی ٹی آئی کے پارٹی پرست دین سے نابلد غافل لوگ اسکے حق میں دلائل پہ دلائل دے رہے ہیں۔
کچھ سے سنا کہ پاکستان میں غیر مسلم پاکستانیوں کو کیا کام کرنے کی اجازت نہیں ؟
تو یہ سوال بھی جہالت وکم علمی پرمبنی ہے۔ جناب غیر مسلم و مرتد زندیق ،غیر مسلم پاکستانی اور قادیانی پاکستانی کے بارے بھی زرا فرق کو سمجھیں اسکے متعلق متفق علیہ بر مطابق فقہ و جملہ مسالک، تشریح دیکھ لیں قادیانیوں کی پاکستانی آئنی مذہبی حدود و قیود کو بھی زرا ملاحظہ فرمالیں۔
ان کی طرف سے کہا گیا کہ معاشیات کا مذہب سے کیا تعلق اگر کوئی ماہر معاشیات ملک کی معیشت کو بہتر کرسکتا ہے تو اس سے مذہب کو یا پاکستان کو کیا نقصان؟ اسے عہدہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں،
تو یاد رکھیں ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ برصغیر میں کاروبار کے چکر میں ہی آئی تھی نیت بد کا علم کسی کو نہیں تھا بظاہر مذہب یا خطہ کا اس کمپنی سے کیا تعلق بنتا تھا مگر اسی کے سہارے برصغیر میں پنجے گاڑے گئے مسلمانان برصغیر کو اس چکر سے چکر پہ چکر دیا گیا اور پھر پورے برصغیر پر یونین جیک لہرادیا گیا۔ بہانے بہانے سے مسمانوں پر مظالم اور اس وقت کی اسٹبلشمنٹ پر تسلط کس طرح قائم کر لیا گیا تھا ؟
جناب یہ ایسٹ انڈیا والے سب اسلام کے کھلے دشمن تھے مگر کاروبار کے نام پر آئے تھے اس وقت بھی توقادیانی خفیہ و منافق بن کر اسلام مخالف آستین کے سانپ ثابت ہوئے تھے۔واضح ہو کہ اعلانیہ کافر ظاہری دشمنی سے آشکار ہوتا رہا ہے اسکا تدارک و گرفت آسان رہتی ہے مگر اس اسلام دشمن سے یہ خفی اسلام دشمن(قادیانی) زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا رہا ہے ۔
ستر سالہ تاریخ میں اکثر ثابت ہوا کہ نام نہاد مسلمان یورپ کے تسلط میں پاکستان و اسلام مخالف افعال یا ایسی فضا ہموار کرنے میں زراتعمل برتتے نہیں رہے تو جو اسلام کے پہلے ہی باغی زندیق و غدار ہیں ان سے کیا اسلام و خطہ کے حوالے سے کسی بھی قسم کےافعال سےاخذ مثبت نتائج کی بعید کی جاسکتی ہے ؟
جناب خان صاحب ان اپنے ارد گرد کے نام نہاد مسلمانوں پڑھے لکھے جہلا یا لبرل قادیانیت نواز یوتھیوں کے نرغے سے باہر نکلیں۔
خان صاحب اگر حکومت کے کسی بھی شعبےمیں ایسے قادیانی میرجعفر ومیر صادق کو شامل کریں گے تو آپ کا حال بھی کہیں بہادر شاہ ظفر کا سا نہ ہو۔ ۔
میری اطلاع کے مطابق یہ ایک پہلا قادیانی ہے ایک اور بھی تیار ہے اب یہ ایک اور اورایک دو نہیں گیارہ ثابت ہونگے۔اسکی وجہ انکی لابنگ ہے۔
پاکستان میں ہر کسی کو مذہبی آزادی ہے مگر قادیانیوں کو انکی اپنے عقائد و معمولات کے حوالے سے جا بجا آئنی حدود کی پاسداری کی بغاوت کرتے دیکھا گیا ہے بلکہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔
قادیانی مشیر کیا اپنی قادیانی رسومات اس عہدے پر رہتے ہوئے ادا نہیں کرے گا؟ اور یہاں کیا وہ پاکستانی آئینی حدود و قیود سے تجاوز نہیں کرے گا ؟ تو جناب تاریخ بتاتی ہے کہ قادیانی ایسا پہلے بھی کرتا رہا ہے ایک قادیانی ظفر اللہ خان قائداعظم کےدورحکومت میں بوجوہ وزیرخارجہ بنا۔واضح ہو یہ وہی کھوٹا سکہ تھا جس کا قائد اعظم نے کبھی ذکر کیا تھا، یہ فیصلہ قیام پاکستان کے وقت کی ہماری ایک بڑی غلطی تھا۔
ظفراللہ خاں غدار پاکستان و اسلام ثابت ہوا۔ پاکستان بننے کے بعد ظفر اللہ خان نے قائداعظم کا جنازہ نہ پڑھا جواب بڑی ڈھٹائی سےدیا کہ ہم غیر قادیانی کا جنازہ نہیں پڑھتے ۔جب قادیانیت کے خلاف تحریک چلی تو یہی ظفر اللہ خان قادیانیت کے حق میں راہ ہموار کرنے پاکستان بھر میں بڑے بڑے سرکاری عوامی عہدیداران بیوروکریٹس وغیرہ تک سے ملا۔ انہیں قادیانیت کی تعلیمات پر مبنی کتب دیں۔ یہ قادیانی عہدے کے طور پر وزیر خارجہ تھا اور وزیر خارجہ کا دین یا اس کی ترویج سے بھلا اس وقت کیا تعلق بنتا تھا مگر اس نے اپنے خودساختہ دین کی اسلام کے نام پر ترویج اپنے اثر رسوخ کے تحت عہدے کی آڑ ہی میں کی۔ پاکستان ائرفورس میں تو بڑی تعداد میں پائلٹ تک قادیانی تھے جو منافقت سے اس ادارے میں داخل ہوگئے 1953 میں انکشاف ہوا کہ ربوہ کے سالانہ اجتماعات کو نجی طور پر یہی پائلٹ طیاروں میں سلامی دیتے پائے گئے تھے۔
عدلیہ ہو یا عسکری ادارے یہ لوگ جہاں جہاں تعینات ہوئے انہوں نےاپنے مذہب نامہذب کی ترویج میں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ تو کیا یہ عاطف میاں معیشت سے متعلق کلیدی عہدے پر فائز ہوکر اپنے من گھڑت دین کی ترویج نہیں کرے گا جبکہ وہ اسرائیل و وامریکہ میں ایسا کر بھی چکا ہے۔
چلیں اعلانیہ کفار عیسائیت ہندوازم کے ماننے والے کھلم کھلا اپنی مذہبی رسومات ادا کریں وہ وفاقی وزرا ہوں بیوروکریٹ ہوں یا عسکری اداروں میں ہی کیوں تعینات نہ ہوں۔۔ ۔ ۔ انہیں پاکستانی قوانین اجازت دیتے ہیں مگر قادیانی جن کے نام حلیے مذہبی رسومات سب مسلمانوں جیسے ہیں تو کوئی قادیانی کسی بھی بڑے عہدے پر عسکری اداروں، حکومت، سول انتظامیہ میں ہو یا عوامی نمائندگی کی صورت میں کیا وہ اپنی اس منافقت سے اصل مسلمانوں کو دھوکہ نہ دیتا ہے جسکی واضح مثال ظفراللہ خان ہے
(یہاں واضح ہو یہ ایک قادیانی مشیر ہی نہیں ہم ہر قادیانی عہدیدار کے ناقد سخت مخالف ہیں وہ منافق قادیانی کونسلر ہو یا بیوروکریٹ یا جنرل کرنل)
ایک قادیانی کو حکومت کے حامیان پاکستان میں دعوت عام دے رہے ہیں یہ راستہ کھول رہے ہیں کہ آؤ آؤ مسلمان ماہر معاشیات پاکستان میں ختم ہوگئے ہیں پاکستان کی معیشت ٹھیک کرنے کے لئے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں پاکستان کے آئین کے غداروں تم آجاؤلے لو یہ نیاپاکستان۔ چلاؤ تم اس نئے پاکستان کی معیشت۔
ویسے تو یہ پاکستان تجربوں کے لئے ہی بنا ہے کبھی ون یونٹ کبھی بنیادی جمھوریت نظام کبھی اسلام کےنام پر آمریت تو کبھی دو جماعتی ٹام اینڈ جیری کا کھیل میں آئی جے آئی و پی پی نون لیگ اسمبلی توڑ پھوڑ کبھی روشن پاکستان کےنام پر ماڈرن بے نامی آمریت تو کبھی امریکہ کا زر خرید امپورٹڈ معین قریشی، کبھی آئی ایم ایف کا دلال شوکت عزیز۔ یہ سب کے سب مسلمان تو تھے (بھلے نام نہاد ہی صحیح) مگر اب یہ مرتد وزندیق لوگوں سے پاکستان کی معیشت سدھارنے کا کام لینا رہ گیا تھا ؟ تو اب یہ تجربہ نئے پاکستان میں صحیح ۔ ۔
سابق وزیراعظم اڈیالہ کے قیدی بڑے میاں کے تو قادیانی بھائی رہے ہیں اور موجودہ وزیراعظم جانتے بوجھتے قادیانی کو حکومت میں شامل کر رہے ہیں تو ان سب کو مبارک رشتہ داریاں سیاسی عزیزداریاں۔ ۔ ۔
ہمیں ان سب سے یہی گلہ ہے کہ یہ پاکستانی سیاہ ست دان ہمارے دین سے ملک سے آئین سے مخلص ہوتے تو دین کی محبت میں باغیان ختم نبوت کے حوالے سے قادیانیوں سے بےزاری ونفرت کا اظہار تو کرتے مگر یہ انکے بھائی ہیں جب بھی کبھی کسی بھی سابق و موجودہ حکومتوں کے ایسے افعال کی گرفت کی گئی تو ہمیشہ مفاہمانہ انداز سے ہی وضاحت کی گئی ہے۔ انکی سیاسی مجبوریاں اپنے دین کو چھوڑ چھاڑ اکثر قادیانیت کے حق میں ہی کیوں ظاہر ہوتی رہتی ہیں ؟
یہ صرف حکومت و سیاسی جماعتوں تک ہی معاملہ محدود نہیں میڈیا عدلیہ مقننہ ہمیشہ قادیانیت کے حوالے سے جانبدارانہ عجیب انداز اختیار کرتے دیکھے گئے ہیں۔
اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ پاکستان میں پانامہ سکینڈل میں 438 آف شور کمپنیوں میں 37 کمپنیاں پاکستانی قادیانیوں کی ہیں۔ہیں مگر یہ قادیانی لابی اتنی مضبوط ہے کہ اس کا ذکر نہ عدلیہ میں بطور خاص ہوسکتا ہے نہ میڈیا میں۔اب خان صاحب جب کرپشن کی کی بات کرتے ہیں تو اس حوالے سے ان قادیانیوں کی آف شور کمپنیوں پر کیا ایکشن لے سکتے ہیں یہ آپ مجھ سے بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ جبکہ انکا معاشی اقتصادی مشیر ہی قادیانی ہو۔
سابق ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی و موجودہ صوبائی وزیر شہلا رضا کی جانب سے عاطف میاں کی تعیناتی کے خلاف ایک ٹویٹ نے ٹویٹر بھر میں طوفان بپا ہوگیا حتی کہ شہلا رضا کو وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑ گئی بلکہ باقاعدہ وضاحت کی کہ یہ ٹویٹ میرے سوشل میڈیا ٹیم ممبر نے کی ہے جسکو ٹیم سے نکال دیا گیا ہے۔ اس ٹویٹ کے خلاف ٹویٹر پر غدر مچانے میں کراچی کے قادیانیت نواز سابق امیدوار سندھ اسمبلی ”جبران ناصر“ کا کردار بھی سامنے آیا ہے۔ ویسے جبران ناصر جیسے ہمارے ہی معاشرے کے ناسور تو سامنے آتے رہتے ہیں مگر پس پردہ قادیانیت کی ترویج اور اس فتنے کی اٹھنے والی آوازیں کیسے منظم انداز میں بلند ہیں۔ ہماری ہر حکومت، مقننہ سیاسی سماجی غیر سرکاری بیرونی فنڈ سے چلنے والی تنظیمات،نیچے سے اوپر تک عدلیہ عسکری اداروں پر تسلط کس طرح ہوتا ہے ؟ یہ سب کس کا دباؤ ہوتا ہے؟
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟
پہلے انتخابات اصلاحاتی بل منظوری کے موقع پر ختم نبوت کے حلف نامے کے میں ہیر پھیر پرنون لیگیوں پپلیوں جماعتیوں سب کوٹوکا اور برسرعام روکا احتجاج کیا اب ان اندھے پارٹی پرستوں کے روپ میں قادیانیت نوازوں کے خلاف ہم پھر تیار ہیں برسرپیکار ہیں بلکہ برہنہ تلوار ہیں
جناب عمران خان صاحب 17 معاشی ماہرین تو مسلمان آپ کو مل ہی گئے تھے نہ تو اٹھارواں بھی کیا مسلمان معاشی ماہر نہ مل سکتا تھا ؟
کیا ایسے چلے گانیا پاکستان؟
اب یہ نبی پاک علیہ السلام کے باغی مرتد زندیق قادیانی ہماری معیشت کی اصلاح کے لئے ملک کے مقتدر اداروں میں بطور مشیر(زیریں عہدہ ہو یا بالا کلیدی) گھسائے جائیں گے؟
اس متعصب قادیانی عاطف میاں جسکی ٹویٹر ہینڈل میں اسکا مسلمان و پاکستان میں قادیانیت کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات بارے طنز ڈھکے چھپے لفظوں میں واضح ہے یہ قادیانیت کا کھلا حامی ہے اپنے بڑے گرو گھنٹال ہم مذہب مرتد سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام (کہ جس نےقادیانی باطل مذہب نہ چھوڑا پاکستان چھوڑ دیا) کے حق میں بھی ٹویٹس کرتا رہاہے
یہ بھی کیسا وقت آگیا ہے کہ اس قادیانی عاطف میاں کے حق میں یہ پی ٹی آئی کے غافل یوتھیے فیس بک لکھ لکھ کر کالی کریں گے،
اب زرا قادیانیت کو بالائے طاق رکھ کر میں معاشیات پر عاطف میاں کی ویڈیوز اسکے انٹرویوز پر زرا بات کروں تو میں یہ انٹرویوز لیکچرز کافی دیکھ سن چکا ہوں وللہ مجھے اس کے معاشی خیالات قطعی متاثر نہ کرسکے ہیں بیان بازی لفاظی اسکی کتاب کی اشاعت یا اسکے آفشل ٹویٹر ہینڈل پر قسط وار ٹویٹس کی صورت مجھے تو کیا اسکے ٹویٹر فالوورز کوبھی متاثر نہیں کر سکے ہیں۔ اسکا ثبوت یہ کہ اسکی ٹویٹ لائکس، ری ٹویٹس محض دس بیس کی صورت میں ہیں جبکہ مینشنگنز تھریڈز تو نہ ہونے کےبرابر ہے۔اگر یہ 25 بڑے معاشی ماہرین میں شامل ہے تو پلیز باقی 24 ماہرین کی ٹویٹر ہینڈلز دیکھیں اور اس سے اس کا موازنہ ہی کرلیں۔ عاطف میاں کو پاکستان میں خاص انداز میں پلانٹ کیاجارہا ہے۔ اسکو تعینات کرنےوالوں کے عزائم کچھ ہی عرصہ میں ظاہر ہوجائیں گے۔
وکی پیڈیا یا یورپی میڈیا میں اس کےاعزازات و فضائل میں حد درجہ مبالغہ آرائی کی گئی ہے۔یہاں کے سادہ یوتھی کو یا خود ساختہ فیس بکی جعلی دانشور بابے کوڈوں کے زریعے یا گمنام تحاریر کووٹس ایپ و سوشل میڈیا میں پیسٹ کر کر کے عاطف میاں بارے جھوٹ سچ بول کر سادے پاکستانیوں کو نئے پاکستان و تبدیلی معاشی اصلاحات کےنام پر گمراہ کیا جارہا ہے۔
اندھے پارٹی پرستوں شخصیت کے پجاریوں زرا ایک لمحے اس سب کو بالائے طاق رکھ کر اپنے ایمان کو سنبھالو زرا پارٹی سے ہٹ کر سوچو یہ ایمان کامعاملہ ہے جو جو مرتد زندیق قادیانیوں کی کسی بھی حوالے سے حمایت کر رہے ہو زرا سوچو قادیانی ہمارے نبی پاک کے رتبے کو کم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے خدارا عظمتِ ختم نبوت سلطنت نبوت کے شہشاہ جناب سیدی سرکار علیہ وسلم کو ایذا تو نہیں پہنچا رہے ؟
تجدید ایمان کرو یہ فتویَ نہیں دے رہا دماغ و دل پر دستک دے رہا ہوں دماغ و دل کے ایمانی دریچے کھولو وگرنہ ہم فدایان ختم نبوت تمھیں جنجھوڑیں گے لتاڑیں گے۔ ۔ ۔نہیں چھوڑیں گے۔
تاج دار ختم نبوت زندہ باد
تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد
لبیک لبیک لبیک یارسول اللہ
سپاہی ختم نبوت وناموس رسالت
محمد عثمان صدیقی
فری لانس میڈیا ریسرچ اینالسٹ