بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا لَّا تَجۡزِىۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَيۡـًٔـا وَّلَا يُقۡبَلُ مِنۡهَا عَدۡلٌ وَّلَا تَنۡفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ

اور اس دن سے ڈروجب کوئی شخص کسی شخص کی طرف سے کوئی بدلہ نہیں دے سکے گا اور نہ کسی شخص سے کوئی فدیہ (تاوان) قبول کیا جائے گا اور نہ کسی شخص کو (بلا اذن) کسی کی شفاعت نفع دے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

فاسق کی امامت امت میں فقہاء احناف کا نظریہ : 

علامہ ابوبکر جصاص حنفی (رح) لکھتے ہیں : 

اس آیت ” لاینال عھدی الظلمین “۔ (البقرہ : ١٢٤) سے ثابت ہوتا ہے کہ فاسق کا نبی ہونا جائز ہے نبی کا خلیفہ ہونا جائز ہے ‘ نہ قاضی نہ مفتی ‘ نہ حدیث کی روایت کرنا ‘ نہ کسی معاملہ میں شہادت دینا ‘ اور اس کے لیے ہر وہ منصب ناجائز ہے جس کی رو سے دوسروں پر اس کی کوئی چیز لازم ہو اور یہ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ نماز کے ائمہ نیک اور صالح ہونے چاہئیں نہ کہ فاسق اور ظالم ‘ کیونکہ اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امور دین میں امامت کے منصب کے لیے عادل اور صالح ہونا ضروری ہے ،

بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ امام ابوحنفیہ (رح) کے مذہب میں فاسق کا امام اور خلیفہ ہونا جائز ہے اور یہ کہ امام ابوحنفیہ (رح) کے نزدیک فاسق حاکم اور قاضی تو نہیں بن سکتا ‘ امام اور خلیفہ ہوسکتا ہے ‘ متکلمین میں سے زرقان نے اس کو ذکر کیا اور یہ بالکل جھوٹ اور باطل ہے ‘ امام ابوحنفیہ (رح) کے نزدیک خلیفہ اور قاضی دونوں کے لیے عادل اور صالح ہونا شرط ہے اور فاسق کے لیے دونوں منصب جائز نہیں ہیں ‘ امام ابوحنفیہ (رح) کی طرف اس چیز کی نسبت کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہوگی حالانکہ بنوامیہ کے ایام میں ابن ھبیرہ نے امام ابوحنفیہ (رح) کو قضاء کے عہدہ کے لیے مجبور کیا لیکن آپ نے اس منصب کو قبول نہیں کیا ‘ اس نے آپ کو قید کرلیا اور وہ ہر روز آپ کو کوڑے مارتا تھا لیکن آپ نے اس کو قبول نہیں کیا ‘ حتی کہ جب آپ کی جان کا خوف ہوا تو فقہاء نے یہ کہا : آپ اس کا کوئی اور کام قبول کرلیں تو آپ نے گھاس کے گٹھوں کا گننا قبول کرلیا ‘ تب اس نے آپ کو رہا کیا ‘ پھر بنو عباس کے دور میں خلیفہ منصور نے آپ کو قضا کے عہدہ کو قبول کرنے کا حکم دیا ‘ آپ نے پھر انکار کیا ‘ اس نے بھی آپ کو قید کرلیا ‘ حتی کہ آپ نے مضافات شہر سے بغداد میں آنے والی اینٹوں کے گننے کو قبول کرلیا ‘ ظالم اور فاسق ائمہ کے متعلق امام ابوحنفیہ (رح) کا مذہب مشہور تھا ‘ زید بن علی امامت کے مدعی تھے اور وہ اس منصب کے لیے موزوں تھے ‘ امام ابوحنفیہ (رح) ان کی مالی امداد کرتے تھے اور ان کی نصرت کرنے اور ان کی حمایت میں قتال کرنے کا خفیہ طور پر فتوی دیتے تھے۔ اسی طرح عبداللہ بن حسن (رض) کے دو صاحبزادوں محمد اور ابراہیم کی بھی انہوں نے تائید کی ‘ امام ابوحنفیہ (رح) نے فرمایا کہ جب قاضی فی نفسہ عادل اور صالح ہو تو اس کا ظالم امام کی طرف سے منصب قضا کو قبول کرنا جائز ہے ‘ یہ صحیح مذہب ہے لیکن اس سے لازم نہیں آتا کہ امام ابوحنفیہ (رح) فاسق کی امامت کو جائز کہتے ہیں کیونکہ جب قاضی خود صالح ہوگا اور اس کو اقتدار حاصل ہوگا تو وہ احکام شرعیہ کو نافذ کرسکے گا۔ (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ٧١۔ ٦٩‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

علامہ جصاص کے ذکر کردہ قاعدہ سے تو یہ لازم آتا ہے کہ امام اعظم قضاء کے عہدہ کو قبول کرلیتے۔ 

علامہ ابن ھمام حنفی (رح) لکھتے ہیں : 

امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ مرد ہو ‘ نیک ہو ‘ قادر ہو ‘ صاحب رائے ہو اور بہادر ہو تاکہ قصاص لینے میں ‘ حدود قائم کرنے میں میدان جنگ میں اور لشکر تیار کرنے میں بزدلی نہ کرے اور وہ قریشی ہو ‘ اور اس کا ہاشمی ہونا اور معصوم ہونا شرط نہیں ہے ‘ بعض علماء نے یہ شرط بھی لگائی کہ وہ اصول دین اور فروع میں اجتہاد کرسکتا ہو اور بعض کے نزدیک یہ شرط نہیں ہے ‘ اور ائمہ حنفیہ کے نزدیک امامت کی صحت کے لیے عدالت (نیک ہونا اور فاسق نہ ہونا) شرط نہیں ہے ‘ اس لیے فاسق کو بھی امام بنانا جائز ہے لیکن یہ مکروہ ہے ‘ اور جب نیک شخص کو امام بنایا جائے اور وہ بعد میں فاسق ہوجائے تو وہ معزول نہیں ہوگا لیکن وہ معزول کیے جانے کا مستحق ہوگا ‘ بہ شرطی کہ اس میں فتنہ نہ ہو ‘ اس کو نیکی کی دعوت دی جائے اور اس کے خلاف خروج کرنا واجب نہیں ہے ‘ اسی طرح فقہاء احناف نے امام ابوحنفیہ (رح) سے نقل کیا ہے اور تمام ائمہ احناف نے بالاتفاق اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ حضرات صحابہ (رض) نے بعض بنو امیہ کی اقتداء میں نمازیں پڑھی ہیں اور ان کے دیئے ہوئے عہدے قبول کئے ہیں لیکن اس توجیہ پر یہ اعتراض ہے کہ یہ بنو امیہ امام نہ تھے بلکہ ملوک تھے ‘ بلکہ ملوک تھے ‘ انہوں نے غلبہ سے ملک پر قبضہ کرلیا تھا ‘ اور متغلب کے دیئے ہوئے عہدوں کو ضرورت کی بناء پر قبول کرنا جائز ہے ‘ اور کسی کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ نیک ہو (کیونکہ امام ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ ہر امام کے ماتحت تم پر جہاد کرنا واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد اور ہر مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنا تم پر واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بدکار ‘ اور گناہ کبیرہ کرتا ہو) (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٤٣‘ مسامرہ ص ٢٩٢) (المسائرہ مع المسامرہ ج ١ ص ٢٩٢۔ ٢٨٦‘ مطبوعہ دائرۃ المعارف الاسلامیہ ‘ مکران) علامہ ابن ہمام نے امام کے متعلق جو نیک ہونے کی شرط لگائی ہے اس کے متعلق علامہ کمال بن ابی شریف لکھتے ہیں : 

علامہ ابن ہمام نے امام کے لیے ورع (نیک) کی شرط لگانے میں حجۃ الاسلام امام غزالی (شافعی) کی اتباع کی ہے اور اس سے مقصود فاسق سے احتراز کرنا ہے کیونکہ وہ بسا اوقات خواہش نفس کی پیروی میں بیت المال کا غلط استعمال کرے گا اور مسلمانوں کے حقوق ضائع ہوجائیں گے۔ (المسامرہ ج ١ ص ٢٨٧‘ مطبوعہ دائرۃ المعارف الاسلامیہ ‘ مکران) 

علامہ محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی لکھتے ہیں : 

امام کے لیے یہ شرائط ہیں : مرد ہو ‘ عاقل بالغ ہو ‘ قادر ہو ‘ قرشی ہو ‘ ہاشمی ‘ علوی یا معصوم ہونے کی شرط نہیں ہے ‘ فاسق کو امام بنانا مکروہ ہے ‘ اگر فتنہ نہ ہو تو وہ فسق کی وجہ سے معزول کردیا جائے گا اور اس کو نیکی کی دعوت دینا واجب ہے اور جو طاقت سے غلبہ حاصل کرلے اس کی سلطنت صحیح ہے۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٣٦٩۔ ٣٦٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں : 

علامہ حصکفی نے یہ اشارہ کیا ہے کہ امام کے لیے عدالت (نیک ہونے) کی شرط نہیں ہے اور علامہ ابن ہمام نے ” مسائرہ “ میں امام غزالی کی اتباع میں عدالت کی شرط لگائی ہے۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٣٦٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابو البرکات نسفی حنفی زیر بحث آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

اس آیت سے معتزلہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ فاسق امام بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا ‘ ہم اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں ظالم سے مراد کافر ہے ‘ یعنی کافر مسلمانوں کا امام نہیں بن سکتا۔ (مدارک التنزیل علی ھامش الخازن ج ١ ص ٨٧‘ مطبوعہ دارالکتب العربیہ پشاور) 

علامہ نسفی حنفی کی اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ ائمہ احناف کے نزدیک فاسق امام بن سکتا ہے ‘ علامہ ابن ہمام ‘ علامہ حصکفی علامہ شامی اور صاحب فتاوی تاتارخانیہ نے بھی یہی لکھا ہے اور اس مذہب کو امام ابوحنفیہ (رح) کی طرف منسوب کیا ہے ‘ اس کے برعکس علامہ ابوبکر جصاص نے یہ لکھا ہے کہ یہ جھوٹ اور افتراء ہے ‘ امام ابو حنفیہ (رح) کے نزدیک فاسق کی امامت جائز نہیں ہے ‘ اسی وجہ سے امام ابوحنفیہ (رح) نے اہل بیت میں سے امامت کا دعوی کرنے والوں کی خفیہ طور پر مدد کی اور ابن ہبیرہ اور خلیفہ منصور نے ان کو قضا کی جو پیش کش کی تھی اس کو قبول نہیں کیا ‘ واللہ تعالیٰ اعلم۔ 

فاسق کی امامت نماز میں ائمہ مالکیہ کا نظریہ :

جو شخص علی الاعلان گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہو ( گناہ صغیرہ پر اصرار بھی گناہ کبیرہ ہے مثلا بغیر ندامت اور توبہ کے مسلسل ڈاڑھی منڈانا) مثلا شراب پینا ‘ قتل کرنا ‘ نماز ‘ روزہ ‘ زکوۃ اور دیگر فرائض کو ترک کرنا ‘ فرائض قطعیہ کا ترک اور حرام قطعی کا ارتکاب فسق قطعی ہے اور ڈاڑھی منڈانا فسق ظنی ہے۔ 

فاسق کی امامت کے متعلق فقہاء مالکیہ کے مختلف اقوال ہیں : علامہ خلیل مالکی نے لکھا ہے کہ فاسق کی اقتداء میں نماز باطل ہے۔ (مختصر خلیل مع الخرشی ج ٢ ص ٢٢‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت) 

علامہ خرشی مالکی نے لکھا ہے کہ معتمد قول یہ ہے کہ فاسق کی امامت صحیح اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ (الخرشی علی مختصر خلیل ج ٢ ص ٢٣‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت) 

علامہ عدوی مالکی نے لکھا ہے کہ فاسق کی اقتداء حرام ہے۔ (الخرشی مختصر خلیل مع ج ٢ ص ٢٢‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت) 

فاسق کی امامت نماز میں ائمہ حنبلیہ کا نظریہ : 

فقہاء حنبلیہ کا مذہب یہ ہے کہ فاسق کی امامت ناجائز ہے اور ایک روایت یہ ہے کہ کراہت کے ساتھ اس کی امامت جائز ہے۔ 

علامہ مرداوی حنبلی لکھتے ہیں :

فاسق کی امامت جائز نہیں ہے اور یہی مذہب ہے ‘ خواہ اس کا فسق از روئے اعتقاد ہو یا از روئے افعال ‘ اکثر اصحاب اور مشائخ کا یہی مختار ہے ‘ زرکشی نے کہا : یہی مشہور ہے ‘ ابن ابی موسیٰ ‘ قاضی شیرازی اور ایک جماعت کا یہی مختار ہے ‘ مسبوک الذہب ‘ رعایتین ‘ حاوی صغیر ‘ اور مجمع البحرین میں لکھا ہے کہ صحیح روایت کے مطابق فاسق کی امامت جائز نہیں ‘ ابن عقیل وغیرہ نے ” التذکرۃ “ میں اسی پر اعتماد کیا ہے ‘ ” وجیز “ میں لکھا ہے کہ فاسق کی امامت جائز نہیں ‘ ” الفروع “ اور ” المستوعب “ وغیرھما میں اسی قول کو مقدم کیا ہے شیخ تقی الدین نے کہا ہے کہ صاحب ھوا (بدمذہب) بدعتی اور فاسق کے پیچھے قدرت کے باوجود نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ 

دوسری روایت یہ ہے کہ کراہت کے ساتھ فاسق کی امامت جائز ہے اور ایک روایت یہ ہے کہ نفل میں جائز ہے البتہ جو از روئے اعتقاد کے فاسق ہو اس کی اقتداء کسی حال میں جائز نہیں ‘ اور مذہب مختار کے مطابق جو شخص فاسق کی اقتداء میں نماز پڑھے اس کو دہرانا لازم ہے ‘ خواہ اس کو نماز کے وقت اس کے فسق کا علم ہو یا بعد میں پتا چلے خواہ اس کا فسق ظاہر ہو یا نہ ‘ یہی صحیح مذہب ہے۔ (الانصاف ج ٢ ص ٢٥٣۔ ٢٥٢ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ) 

فاسق کی امامت نماز میں ائمہ شافعیہ کا نظریہ : 

علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں : 

فاسق کی اقتداء میں نماز مکروہ ہے ‘ اور جس کی بدعت کفر کی حد تک نہیں پہنچی اس کے پیچھے بھی نماز مکروہ ہے اور جس کی بدعت حد کفر تک پہنچی ہے اس کی اقتداء میں نماز جائز نہیں ہے ‘ صاحب ” الافصاح “ نے کہا : جو شخص خلق قرآن کا قائل ہو یا جو اللہ تعالیٰ کی صفات کی نفی کرے وہ کافر ہے ‘ امام ابو حامد اور ان کے متابعین کا یہی مذہب ہے اور معتزلہ کی تکفیر کی جاتی ہے اور خوراج کی تکفیر نہیں کی جاتی ‘ اور ہمارے بہت سے اصحاب اہل بدعت کی اقتداء میں جواز نماز کے قائل ہیں اور ان کی تکفیر نہیں کرتے ’ صاحب ” العدۃ “ نے کہا : امام شافعی کا ظاہر مذہب یہی ہے۔ 

(علامہ نووی فرماتے ہیں :) میں کہتا ہوں کہ صاحب ” العدۃ “ کا قول ہی صحیح اور صواب ہے ‘ کیونکہ امام شافعی (رح) نے فرمایا : میں خطابیہ کے سوا تمام اہل اھواء کی شہادت کو قبول کرتا ہوں ‘ کیونکہ خطابیہ اپنی موافقت میں جھوٹی گواہی کو جائز کہتے ہیں ‘ اور تمام سلف اور خلف معتزلہ وغیرہ کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے ہیں اور ان کے ساتھ مناکحت ‘ میراث اور مسلمانوں کے تمام معاملات کرتے رہے ہیں اور ہمارے جن علماء اور محققین نے معتزلہ کی تکفیر کی ہے اس تکفیر کی حافظ ابوبکر بیہقی (رح) نے یہ تاویل کی ہے کہ کفر ‘ کفران نعمت کے معنی میں ہے ‘ ملت اسلامیہ سے خروج کے معنی میں نہیں ہے۔

(روضۃ الطالبین ج ١ ص ٤٦٠۔ ٤٥٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ ابوالعباس رملی شافعی لکھتے ہیں :

آزادفاسق کی بہ نسبت نیک غلام کی اقتداء میں نماز پڑھنا اولی ہے ‘ کیونکہ امام حاکم نے روایت کیا ہے ‘ اگر تم کو یہ پسند ہو کہ تمہاری نماز قبول ہو تو تم میں بہتر لوگ تمہاری امامت کریں ‘ اور فاسق کی امامت صحیح ہے کیونکہ حضرت ابن عمر حجاج کی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے ‘ اور امام شافعی (رح) نے کہا : اس کا فاسق ہونا کافی ہے اور فاسق کی اقتداء اور جس کی بدعت کفر تک نہ پہنچی ہو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ (نہایۃ المحتاج ج ٢ ص ١٨٠۔ ١٧٩‘ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

علامہ شبراملی قاہری اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں :

اگر فاسق اور بدعتی کے سوا جماعت نہ مل سکے تو پھر اس کی اقتداء مکروہ نہیں ہے ‘ فاسق کا از خود امام بننا مکروہ ہے ‘ اس کا مقتضی یہ ہے کہ جہاں نیک لوگ ہوں وہاں لوگ اس کی اقتداء کرلیں تو ان کی اقتداء مکروہ نہیں ہے ‘ فاسق کی امامت مکروہ ہے ‘ (الی قولہ) خلاصہ یہ ہے کہ حرمت یا کراہت فاسق کے حق میں ہے اور جو مقتدی فاسق کو مکروہ جانتے ہوں ان کا اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے۔ (حاشیہ ابی الضیاء علی نہایۃ المحتاج ج ٢ ص ١٨٠‘ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

فاسق کی امامت نماز میں ائمہ احناف کا نظریہ :

فاسق کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے متعلق فقہاء احناف کا اختلاف ہے ‘ بعض علماء کے نزدیک اس کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی اور واجب الاعادہ ہے اور بعض فقہاء کے نزدیک اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے اور مکروہ تنزیہی ہے۔ 

علامہ بدرالدین عینی حنفی (رح) لکھتے ہیں :

جو شخص از روئے عمل کے فاسق ہو مثلا زانی اور شرابی ہو تو ابن الحبیب نے یہ زعم کیا کہ جس نے شرابی کی اقتداء میں نماز پڑھی وہ ہمیشہ نماز دہرائے الا یہ کہ وہ امام حاکم ہو ‘ اور ایک روایت میں ہے کہ فاسق کی اقتداء میں نماز صحیح ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٥ ص ‘ ٢٣٢ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

علامہ زیلعی حنفی فرماتے ہیں :

فاسق کو جب امامت سے ہٹانا مشکل ہو تو جمعہ اس کے پیچھے پڑھ لے اور جمعہ کے علاوہ نمازیں کسی اور مسجد میں پڑھے۔ (تبیین الحقائق ج ١ ص ١٣٥‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان) 

علامہ شرنبلالی حنفی لکھتے ہیں :

فاسق عالم کی امامت مکروہ (تحریمی) ہے کیونکہ وہ احکام دین کا اہتمام نہیں کرتا اس لیے اس کی اہانت شرعا واجب ہے ‘ لہذا اس کو امام بنا کر اس کی تعظیم نہ کی جائے اور اگر اس کو امامت سے ہٹانا دشوار ہو تو جمعہ اور باقی نمازوں کے لیے کسی اور مسجد میں جائے اور اگر صرف جمعہ پڑھاتا ہو تو اس کی اقتداء میں پڑھ لے۔ (مراقی الفلاح ص ١٨١‘ مطبوعہ مطبعہ مصطفیٰ البابی واولادہ ‘ مصر ١٣٢٥٦ ھ) 

اس عبارت کی شرح میں علامہ طحطاوی لکھتے ہیں : 

اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ فاسق کی امامت اور اس کی اقتداء مکروہ تحریمی ہے۔ (حاشیہ مراقی الفلاح ص ١٨١‘ مطبوعہ مطبعہ مصطفیٰ البابی واولادہ ‘ مصر ١٣٢٥٦ ھ) 

علامہ حلبی حنفی لکھتے ہیں : 

اگر لوگوں نے فاسق کو امام بنایا تو گنہ گار ہوں گے کیونکہ فاسق کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔ (غیۃ المستملی ص ٤٧٩‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ دہلی) 

علامہ ابن بزاز کردری لکھتے ہیں : 

جوشخص سود خوری معروف ہو اس کی اقتداء میں نماز مکروہ ہے ‘ فاسق جمعہ پڑھاتا ہو اور اس کو منع کرنا دشوار ہو تو بعض علماء نے کہا : اس کی اقتداء میں جمعہ پڑھ لے اور اس کی امامت میں جمعہ کو ترک نہ کرے۔ (فتاوی بزازیہ علی ھامش الھندیہ ج ٤ ص ٥٥‘ مطبوعہ مطبع کبری امریہ بولاق ‘ مصر ‘ ١٣١٠ ھ) 

ان علماء کے علامہ کے علاوہ دوسرے فقہاء احناف نے فاسق کی اقتداء میں نماز کو کراہت کے ساتھ جائز لکھا ہے یعنی یہ کراہت تنزیہی ہے کیونکہ کراہت تحریمی جواز کے ساتھ جمع نہیں ہوتی۔

شمس الائمہ سرخسی فرماتے ہیں : 

امام محمد فرماتے ہیں : نابینا ‘ دیہاتی “ غلام ‘ ولد زنا اور فاسق کی امامت جائز ہے اور ان کے علاوہ دوسروں کی امامت میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے (الی قولہ) اس کے بعدعلامہ سرخسی فرماتے ہیں کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ فاسق کو امامت کے لیے مقدم کرنا جائز ہے اور مکروہ (تنزیہی) ہے ‘ امام مالک (رض) کہتے ہیں کہ فاسق کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے کیونکہ وہ احکام دین کا اہتمام نہیں کرتا اور اس کی شہادت مردود ہوتی ہے ہماری دلیل مکحول کی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر امیر کے ساتھ جہاد واجب ہے اور ہر امام کے پیچھے واجب ہے اور ہر میت کے اوپر نماز واجب ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نیک اور بد کے پیچھے نماز پڑھو۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٤٣) (المبسوط ج ١ ص ٤٠‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

علامہ مرغینانی صاحب ” ہدایہ “ نے بھی فاسق کی اقتداء میں نماز پڑھنے کو جائز کہا ہے اور اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ (ہدایہ اولین ص ١٢٢‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ‘ ملتان)

علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں : 

اس پر یہ اعتراض ہے کہ یہ حدیث مکحول سے مروی ہے اور ان کا حضرت ابوہریرہ (رض) سے سماع نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے اور ہمارے نزدیک حدیث مرسل مقبول ہوتی ہے ‘ اس پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ یہ حدیث متعدد سندوں سے مروی ہے اور اس کی ہر سند میں ضعیف راوی ہیں ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ جو حدیث متعدد ضعیف طریقوں سے مروی ہو وہ محققین کے نزدیک درجہ ” حسن “ کو پہنچ جاتی ہے۔ (فتح القدیر ج ١ ص ٣٠٥‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر) 

مصنف یہ کہتا ہے کہ اس مسئلہ میں حدیث متصل بھی موجود ہے۔

امام بخاری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

عدی بن خیار بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عثمان (رض) کے پاس اس وقت گئے جب باغیوں نے ان کا محاصرہ کیا ہو اتھا ‘ عدی نے کہا : آپ عام مسلمانوں کے امام ہیں اور آپ پر وہ افتاد پڑی ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں ‘ اب ہمیں فتنہ کرنے والا (باغی) امام نماز پڑھاتا ہے اور ہم اس میں گناہ سمجھتے ہیں ‘ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : نماز لوگوں کے اعمال میں سے اچھا عمل ہے ‘ جب لوگ اچھا کام کریں تو تم ان کے ساتھ اچھا کام کرو اور جب وہ برا کام کریں تو تم ان کی برائی سے اجتناب کرو۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٩٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث کی شرح میں علامہ بدرالدین عینی حنفی لکھتے ہیں : 

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جن کی اقتداء میں نماز مکروہ ہے ‘ ان کے پیچھے نماز پڑھ لینا جماعت کو ترک کرنے سے اولی ہے (الی قولہ) اور ” محیط “ میں لکھا ہے کہ اگر فاسق یا بدعتی کے پیچھے نماز پڑھی تو جماعت کا ثواب مل جائے گا ‘ البتہ متقی کے پیچھے نماز پڑھنے کا ثواب نہیں ملے گا ‘ اور ” مبسوط “ میں ہے کہ بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ (تنزیہی) ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص ‘ ٢٣٢ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

حدیث مکحول بیان کرنے کے بعد علامہ سرخسی لکھتے ہیں : 

(اور فاسق کی اقتداء میں نماز کا جواز اس لیے ہے کہ) صحابہ اور تابعین حجاج کی اقتداء میں جمعہ اور دوسری نمازیں پڑھنے سے احتراز نہیں کرتے تھے ‘ حالانکہ وہ اپنے زمانہ کا بدترین فاسق شخص تھا ‘ حسن نے کہا : اگر ہر امت اپنے اپنے خبیثوں کو لے کر آئے اور ہم صرف حجاج کو لے کر آئیں تو ہم غالب رہیں گے (اور فاسق کی اقتداء میں) کراہت کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے گریز کریں گے ‘ امام ابو یوسف نے ” امالی “ میں کہا : میرے نزدیک امام کا صاحب بدعت ہونا اس لیے مکروہ ہے کہ لوگ اس کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے متنفر ہوں گے۔ (المبسوط ج ١ ص ٤١۔ ٤٠‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ ‘ بیروت) 

علامہ قاضی خاں اور جندی حنفی فرماتے ہیں : 

جہمیہ ‘ قدریہ اور غالی رافضی کے سوا باقی لوگوں کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز اور مکروہ (تنزیہی) ہے ‘ اسی طرح اس شخص کی اقتداء بھی جائز ہے جو سود خوری میں معروف ہو اور فاسق معلن ہو ‘ یہ امام ابوحنفیہ (رح) اور امام ابویوسف (رح) سے مروی ہے ‘ اور جب کوئی شخص فاسق یا بدعتی کے پیچھے نماز پڑھ لیتا ہے تو اس کو جماعت تو اس کو جماعت کا ثواب مل جاتا ہے۔ (فتاوی قاضی خاں علی ھامش الھندیہ ج ١ ص ٩٢۔ ٩١ مطبوعہ بولاق ‘ مصر ‘ ١٣١٠ ھ) 

علامہ ابن ھمام حنفی لکھتے ہیں : 

” محیط “ میں لکھا ہے کہ اگر فاسق یا بدعتی کے پیچھے نماز پڑھی تو اس کو جماعت کا ثواب مل جائے گا لیکن متقی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا ثواب نہیں ملے گا ‘۔ اھ) ۔

” محیط “ کی عبارت میں بدعتی سے مراد وہ شخص ہے جس کی بدعت کفر تک نہ پہنچی ہو اور اس تفصیل کے ساتھ تمام اہل اہواء کی اقتداء میں نماز جائز ہے ‘ البتہ جہمیہ ‘ قدریہ ‘ غالی روافض ‘ خلق قرآن کے قائلین ‘ خطابیہ اور مشبھہ کے پیچھے نماز جائز نہیں خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص ہمارے قبلہ والا ہو اور غلو نہ کرتا ہو اور اس کی تکفیر نہ کی گئی ہو اس کے پیچھے نماز کراہت کے ساتھ جائز ہے ‘ البتہ عذاب قبر ‘ شفاعت ‘ رویت باری اور کراما کاتبین کے منکروں کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے۔ (فتح القدیر ج ١ ص ٣٠٤‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر) 

علامہ ابن نجیم حنفی فرماتے ہیں :

اگر تم یہ سوال کرو کہ ان لوگوں کی اقتداء میں نماز پڑھنا افضل ہے یا تنہا نماز پڑھنا بہتر ہے اس کا جواب یہ ہے کہ فاسق کی اقتداء میں نماز پڑھنا بہرحال بہتر ہے جیسا کہ ہم اس سے پہلے کتب فتاوی سے نقل کرچکے ہیں ‘ خلاصہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا امام بننا اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے ‘ اگر ان کے علاوہ کسی اور کی اقتداء میں نماز پڑھنا ممکن ہو تو فبہا ورنہ تنہا نماز پڑھنے سے ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا اولی ہے ‘ اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا اس وقت مکروہ ہے جب دوسروں کی اقتداء میں نماز پڑھنا میسر ہو ورنہ کوئی کراہت نہیں ہے۔ (البحر الرائق ج ١ ص ٣٤٩‘ مطبوعہ علمیہ ‘ مصر ١٣١١ ھ) 

علامہ علاؤ الدین حصکفی لکھتے ہیں : 

غلام ‘ اعرابی ‘ فاسق اور نابینا کی امامت مکروہ تنزیہی ہے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ١ ص ‘ ٣٧٦ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

علامہ ابن عابدین شامی مکروہ تنزیہی کی وجہ میں لکھتے ہیں : 

کیونکہ امام محمد نے اصل (مبسوط) میں لکھا ہے کہ ان لوگوں کے غیر کی امامت میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ‘ پھر فرمایا : ان کا امام بننا اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے ‘ اگر ان کے علاوہ دوسروں کی اقتداء میں نماز پڑھنا ممکن ہو تو افضل ہے ورنہ اکیلے نماز پڑھنے سے ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا بہتر ہے۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٣٧٦ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ طحطاوی نے بھی ” درمختار “ کی شرح میں کراہت تنزیہی کی یہی وجہ ہے اور یہی لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ اکیلے نماز پڑھنے کی بہ نسبت فاسق کے پیچھے نماز پڑھنا اولی ہے۔ (حاشیہ الطحطاوی علی الدر ج ١ ص ٢٤٢‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ‘ ١٣٩٥ ھ) 

علامہ عالم بن العلاء الانصاری لکھتے ہیں : 

بدعتی خواہ فاسد تاویل کرتا ہو اگر اس کی بدعت حد کفر تک نہ پہنچی ہو تو اس کی اقتداء میں نماز کراہت (تنزیہی) کے ساتھ جائز ہے (الی قولہ) ” منتقی “ میں مذکور ہے : امام محمد سے شارب خمر کی اقتداء کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس کی اقتداء میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے اور اس میں کراہت (تحریمی) نہیں ہے۔

امام ابویوسف کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے (فتاوی تاتار خانیہ ج ١ ص ٦٠٢۔ ٦٠١ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ‘ ١٤١١ ھ) 

علامہ عبداللہ بن محمود بن مودودموصلی حنفی لکھتے ہیں : 

فاسق کی اقتداء میں نماز کراہت (تنزیہی) کے ساتھ جائز ہے۔ (الاختیار ج ١ ص ٢٨‘ مطبوعہ دارفراس للشروالتوزیع ‘ مصر) 

علامہ طاہر بن عبدالرشید بخاری حنفی لکھتے : 

اگر فاسق یا بدعتی کے پیچھے نماز پڑھی تو اس کو جماعت کا ثواب مل جائے گا لیکن ایسا ثواب نہیں ملے گا جو متقی کے پیچھے نماز پڑھنے سے ملتا ہے۔ (جامع الرموز ج ١ ص ١٥٠‘ مطبوعہ نو لکثور ‘ لکھنؤ) 

علامہ قہستانی لکھتے ہیں : 

اعرابی ‘ فاسق ‘ نابینا اور بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے۔ (خلاصۃ الفتاوی ج ١ ص ٧٧‘ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ ‘ کوئٹہ) 

ملاعلی قاری لکھتے ہیں : 

صحیح یہ ہے کہ فاسق کے پیچھے پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ نہیں ہے (الی قولہ) ’ منتقی “ میں لکھا ہے کہ امام ابوحنفیہ (رح) سے اہل سنت و جماعت کے مذہب کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا : تم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی فضیلت دو ‘ حضرت عثمان اور حضرت علی سے محبت رکھو ‘ موزوں پر مسح کو جائز سمجھو اور ہر نیک اور بد کے پیچھے نماز پڑھو (کیونکہ معتزلہ فاسق کی امامت کے قائل نہیں ہیں) شرح فقہ اکبر ص ٧٦‘ مطبوعہ مطبع مصطفیٰ البابی واولادہ ‘ مصر ‘ ١٣٧٥ ھ) 

علامہ ابوسعود حنفی لکھتے ہیں : 

اگر غیر فاسق موجود ہو تو فاسق کی اقتداء میں نماز مکروہ تنزیہی ہے ورنہ کوئی کراہت نہیں ہے (بحر) اور ” النہر “ میں لکھا ہے کہ فاسق اور بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنے سے جماعت کا ثواب مل جائے گا۔ (فتح المعین علی ملامسکین ج ١ ص ٢٠٨۔ ٢٠٧) 

خلاصہ یہ ہے کہ فقہاء احناف میں سے امام ابویوسف (١) علامہ زیلعی حنفی (٢) علامہ شرنبلالی (٣) علامہ حلبی حنفی (٤) اور علامہ ابن بزاز کردری (٥) کے نزدیک فاسق کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی ہے اور امام ابوحنفیہ (١) امام محمد شیبانی (٢) شمس الائمہ سرخسی (٣) علامہ قاضی خاں اوزجندی (٤) علامہ المرغینانی صاحب ” ہدایہ “ (٥) علامہ ابن ھمام (٦) صاحب ” محیط “ (٧) علامہ ابن نجیم حنفی (٨) علامہ علاؤالدین حصکفی (٩) علامہ ابن عابدین شامی (١٠) علامہ سید طحطاوی (١١) علامہ عالم بن العلا انصاری دہلوی صاحب ” فتاوی تاتارخانیہ “ (١٢) علامہ عبداللہ بن محمود صاحب ” الاختیار “ (١٣) علامہ عبدالرشید بخاری صاحب ” خلاصۃ الفتاوی “ (١٤) علامہ قہستانی (١٥) علامہ ابو سعود حنفی (١٦) صاحب ” النہرالفائق “ (١٧) اور ملاعلی قاری (١٨) کے نزدیک فاسق کی اقتداء میں مکروہ تنزیہی ہے۔ فقہاء احناف کے ان کثیر حوالہ جات کو پیش کرنے سے ہمارا مقصد فاسق کی امامت کی حوصلہ افزائی نہیں ہے بلکہ اس سے ہمارا صرف اتنا مقصد ہے کہ یہ محقق ہوجائے کہ اس مسئلہ میں فقہاء احناف کا کیا مذہب ہے۔

دوسری غور طلب بات یہ ہے کہ کسی متقی امام کی اقتداء نہ ملنے کی وجہ سے فاسق کی اقتداء میں نماز پڑھ لینا ایک الگ چیز ہے اور اسی کو فقہاء احناف نے کراہت تنزیہی کے ساتھ جائز کہا ہے اور کسی فاسق معلن کا از خود امام بننا یا لوگوں کا اس کو امام بنادینا ایک الگ بات ہے اور فقہاء احناف میں سے کسی نے اس کو جائز نہیں کہا ‘ یہ بالاتفاق مکروہ تحریمی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ولا یوم فاجر مومنا ‘ کوئی فاسق کسی مومن کا امام نہ بنے “۔ (سنن ابن ماجہ ٧٥) امام بیہقی نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تم میں سے سب سے بہتر ہوں ان کو امام بناؤ۔ (سنن کبری ج ٣ ص ٩٠) اس لیے جب امام بننے کا مرحلہ ہو تو اس شخص کو امام بنایا جائے جو عالم اور متقی ہو ‘ اور جو شخص فاسق معلن ہو اس کو امام بنانا جائز اور گناہ ہے ‘ ڈاڑھی منڈانے والا بھی فاسق معلن ہے اگرچہ اس کا فسق ظنی ہے ‘ اس کو امام نہ بنایا جائے اور جو شخص فرنچ کٹ ڈاڑھی یا خشخشی ڈاڑھی رکھتا ہو اس کا بھی امام نہ بنایا جائے ‘ جس شخص کی ڈاڑھی سنت کے مطابق ہو اور اس کا ظاہر حال نیک ہو ‘ وہ عالم ہو اور اس پر کسی وجہ سے فسق کی تہمت نہ ہو اس کو امام بنایا جائے ‘” شرح صحیح مسلم “ جلد دوم میں بھی میں نے یہی تحقیق کی ہے ‘ فاسق کے امام بنانے یا از کود امام بننے کو ناجائز لکھا ہے۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ٣١٠) اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنے کو اکثر یا بعض فقہاء حوالوں سے جائز لکھا ہے۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ٢١١) لیکن بعض معاندین نے ان عبارات کو گڈمڈ کردیا اور میری طرف یہ منسوب کیا کہ وہ فاسق اور ڈاڑھی منڈے کے امام بنانے کو جائز کہتے ہیں ‘ فالی اللہ المشتکی۔ اسی طرح میں نے فاسق کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے متعلق مذاہب بیان کیے اور باحوالہ لکھا کہ بعض احناف کے نزدیک اس کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی ہے اور اکثر احناف کے نزدیک اس کی اقتداء میں نماز مکروہ تنزیہی ہے اور ان سب کے حوالہ جات بیان کیے لیکن بعض معاندین نے ان حوالوں کو حذف کرکے میری طرف یہ منسوب کردیا کہ ایک جگہ یہ فاسق کی اقتداء میں نماز کو مکروہ تحریمی کہتا ہے اور ایک جگہ مکروہ تنزیہی کہتا ہے ‘ خیر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان سب باتوں کا حساب ہوجائے گا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ابراہیم نے کہا :) اور میری اولاد سے بھی ! اللہ نے فرمایا : میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔۔ (البقرہ : ٢٤) 

حضرت ابراہیم کے مطلقا ذریت کے لیے دعا کرنے کی توجیہ : 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں سے بعض کے لیے امامت کی دعا کی ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو علم تھا کہ ظالم اور کافر امام نہیں بن سکتے لیکن اس دعا کے وقت ان کا ذہن اس طرف متوجہ نہیں تھا اس لیے اپنی دعا میں یہ قید نہیں لگائی کہ میری اولاد میں سے مومنین اور صالحین کو امامت عطا فرما اور مطلقا عرض کیا : اور میری اولاد سے بھی ‘ اللہ تعالیٰ نے مسئلہ واضح کرنے کے لیے فرما دیا کہ میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 123