بات اقلیت اکثریت کی نہیں

کل وفاقی وزیر برائےاطلاعات فواد چودھری نے عاطف میاں کی تعیناتی کا دفاع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص کو جو اقلیتوں میں سے ہے کمیٹی میں شامل کیے جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔یہ بلا جواز ہے تنقید کرنے والے انتہاء پسند ہیں۔ہم کسی انتہاء پسند کے آگے نہیں جھکیں گے۔اور وہی کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔اسلام اور پاکستان کے آئین میں اقلیتوں کے حقوق متعین ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اقلیت اور اکثریت کے درمیان کسی اختلاف کا معاملہ نہیں ہے۔پاکستان میں جو معروف اقلیتیں ہیں وہ پاکستان کے سرکاری اداروں میں ملازمتیں کرہی ہی ہیں ان پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔بھگوان داس ایک اچھے اور محب وطن ہندو کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں جسٹس بنایا گیا کسی نے اعتراض نہیں کیا۔پھر انہیں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا سربراہ لگایا گیا کسی نے انکی تعیناتی پر اعتراض نہیں۔ایک راسخ العقیدہ عیسائی جے سالک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی کابینہ میں وزارت کا منصب دیا گیا کسی نے بالکل کوئی اعتراض نہیں کیا۔جن اعتراض کرنے والوں کو آپ انتہاء پسند کہہ رہے ہیں انکی طرف سے بھی ان مذکورہ افراد پر کوئی اعتراض نہیں ہوا کیونکہ وہ اعلانیہ اپنے مذہب پر قائم تھے۔فواد صاحب جنکو آپ اقلیت کہہ رہے ہیں برائے کرم ذرا ان سے ایک دن پوچھیں لیں کہ وہ بھی اپنے آپ کو اقلیت سمجھتے ہیں کہ نہیں۔۔۔خدا را آپ اقلیت اور اکثریت کے تصور کو خلط ملط کر کے عوام کو مت الجھائیں اور فکری دجل پیدا نہ کریں۔آپ نے فرمایا کہ عاطف کی قابلیت کو دنیا مانتی ہے اور اگلے پانچ چھ سالوں میں انہیں نوبل انعام ملنے والاہے۔یہ بہت ہی عجیب استدلال ہے۔دنیا انکو ماہر اقتصادیات مانتی تو کیا ہم نہیں مان رہے؟؟؟جہاں تک نوبل انعام کا تعلق ہے تو اس کے حصول کے لیے پہلی شرط ہی یہ ہے کہ انعام حاصل کرنے والاغیر مسلم ہو اسلام کا دشمن ہو اگر پاکستانی ہے تو ایک اضافی شرط یہ ہوگی کہ وہ پاکستان کا بھی دشمن ہو۔یہ غیر اعلانیہ شرائط ہیں۔اگر اسلام اور پاکستان دشمنی شرط نہ ہوتی تو نوبل انعام ملالہ کے بجائے ڈاکٹر طاہر القادری کو ملتا جنہوں پوری دنیا میں امن و سلامتی کی بات کی،جو پوری دنیا میں چند اعلی دماغوں میں سے ایک ہے۔ڈاکٹر عبد السلام کو نوبل انعام پاکستانی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستانی ہو کر پاکستان کا مخالف ہونے کی وجہ سے ملا ہے۔یہ آپکی بہت ہی بوھنڈی دلیل ہے۔

جس سے آپ یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ پاکستانی معیشت سنوارے گا وہ مرزا مسرور کا مشیر برائے مالیات ہے،وہ قادیانیت کے تبیلغی مشن کا افریقہ کا انچارج ہے اور وہ لندن کے قادیانی مرکز کا بھی انچارج ہے جناب۔ یہ اقلیتی گروہ میں سے نہیں ہے حضور۔۔!!!! یہ مرتدین کی جماعت کا رکن ہے بلکہ زنادقہ کی جماعت کا فرد ہے۔یہ مرتد بھی ہیں اور کافر بھی ہیں۔ہمارے حق پرست علماء نے ان سے ادنی تعلق رکھنے کو بھی جرم قرار دیا ہے چہ جائیکے آپ اسے اپنا مشیر بنا چکے ہیں۔

آپ نے فرمایا کہ ہم نہیں جھکیں گے جناب آپ نہ جھکیں۔اگر اوپر سے فیصلہ آگیا کہ آپ نے جھکنا ہے تو پھر آپ جھکیں گے اور ذلت کے ساتھ جھکیں گے۔پہلے آپ کے سامنے مثال موجود ہے۔آج اڈیالہ جیل کا اسیر زندہ مثال ہے آپ کے سامنے اگر اس سے سبق حاصل کر لیں تو فبہا ورنہ “جھکانے والا” ختم نبوت کے معاملہ میں رعایت نہیں دیتا۔

ہمارے ایک خاص مکتب فکر کے لوگ بھی قادیانیوں کو اقلیت قرار دے رہے ہیں اور عاطف کے حق میں فیس بک پر کمپین چلا رہے ہیں۔برائے کرم آپ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ ایسا نہ کریں ورنہ ہمیں بھی کچھ کہنا پڑے گا اور یہ کوئی درست بات نہیں ہوگی۔جس دن قادیانیوں نے اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کر لیا اس کے بعد آپ بالکل انکے ہم نوا بن جائیے گا ہم کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔بہت شکریہ

طالب دعاء

گلزار احمد نعیمی۔