*انتہائی اہم سوالات اور انکے جوابات*

سوالات:

1:مشھور بانیان پاکستان قائد اعظم اور علامہ اقبال قادیانیت کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے………؟؟

2:قائد اعظم نے قادیانی وزیر کیوں رکھا……..؟؟

3:قائد اور اقبال کے نظریات کردار معتبر یا اسلام……؟؟

4:پاکستان اسلام کے لیے بنا یا جناح اور اقبال کے نظریات کے لیے….؟؟

5:کیا قادیانی اقلیت ہیں،انہیں اقلیتیں حقوق حاصل ہیں…؟؟

6:پاکستان اسلام کے لیے بنا تو کس فرقے کے لیے….؟؟ شیعیت کے لیے یا وہابیت یا اہلسنت…….؟؟

.

جواب:

درج ذیل تحریر سے تمام سوالات کے جوابات واضح ہوجائیں گے…..تسلی اور غور سے پڑھیے اور ہوسکے تو شئیر بھی کیجیے، کاپی پیسٹ کیجیے تاکہ حق سچ پھیلے، معتبر مستند معلومات پھیلے

.

.

①جب کشمیر سے واپسی پر قائد اعظم سے سوال پوچھا گیا کہ ’’آپ کی قادیانیوں کے بارے میں کیا رائے ہے ؟

تو آپ نے فرمایا

’’میری رائے وہی ہے جو علماء کرام اور پوری امت کی ہے‘‘

قائد اعظم کے اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ آپ پوری امت کی طرح قادیانیوں کو کافر اور غدار باغی سمجھتے تھے یہی وجہ تھی کہ قادیانیوں نے اپ کا جنازہ پڑھنے سے انکار کیا اور آپ کی حکومت کو کافر کہا تھا،

(اسلام کا سفیر،ص 387)

ثابت ہوا کہ قائد کی وہی رائے تھی جو معتبر سچے باشعور علماء و امت کی تھی…..اور علماء و امت کا متفقہ فیصلہ فتوی ہے کہ قادیانی بظاہر جتنے بھی بھولے بھالے پڑھے لکھے ہوشیار تجربہ کار ہوں مگر کافر مرتد زندیق باغی ہیں..اسلام و وطن کے سازشی و غدار ہیں… انگریزوں کے یار ہیں.. ہر طرح سے انکا بائیکاٹ ضروری ہے… مسلمانوں کی حکومت میں کسی عہدے پر کسی بھی معاملات میں انہین عہدہ زمہ داری سونپی نہین جاسکتی

.

.

②مشرقی پاکستان کی سازش کےتحت مرزا قادیانی کے پوتے ایم ایم احمد نے اقتصادی بدعنوانیوں کے ذریعے الگ کروانے میں بھر پور کردار ادا کیا…..

اس سے عمران خان کو سبق لینا چاہیے کہ قادیانی اقتصادیات و معیشت میں بھی پاکستان کے مخلص نہیں، لیھذا فورا میان عاطف وغیرہ قادیانوں کو اقتصادی کمیٹی، حکومت سے نکال باہر کریں

.

.

③.انگریز وائسرائے نے ظفر اللہ قادیانی کی تقرری پر بہت زیادہ اصرار کیا تھا ،اور دھمکی دی تھی کہ جب تک یہ اعلان نہیں کیا جاتا ،اختیارات کی منتقلی نہ ہوسکے گی،،،،ان ہی مسائل کے سبب قائد اعظم نے چوہدری ظفر اللہ قادیانی کے علاوہ جنرل ڈگلس گریسی کو پاکستان کی فوج کا کمانڈر انچیف اور سردار جوگندر ناتھ منڈل کو پاکستان کا پہلا وزیر قانون مقرر کیا تھا‘‘…(پاکستان کی پہلی کابینہ،پاکستان کیوں ٹوٹا؟۔ڈاکٹر صفدر محمود)

.

④کشمیر کمیٹی سے اقبال کے استعفی کی وجہ قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر کا صدر ہونا سامنے آئی تھی

.

.

⑤اقبال انگریزوں کی ڈیزائن جھوٹی نبوت اور صیہونی برانڈ جھوٹے نبی مرزا قادیانی کی سازشوں سے بخوبی آشنا تھے۔ انہوں نے مرزائیت اور اس کے دل میں اسلام اور ملت اسلامیہ سے عداوت کو پیشگی بھانپ کر یہ دو تاریخی جملے کہے تھے کہ:

*قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے۔ ، قادیانی اسلام اور ملک دونوں کےغدار ہیں*

.

اس کی وضاحت میں اگر مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے ان ریمارکس کو دیکھ لیا جائے تو بات پوری طرح سمجھ میں آجاتی ہے، جس کا تذکرہ بھٹو مرحوم کے قید کے ایام میں ان کی نگرانی کرنے والے فوجی افسر کرنل رفیع نے اپنی یادداشتوں میں کیا ہے کہ مسٹر ذو الفقار علی بھٹو مرحوم نے کہا کہ قادیانی گروہ پاکستان میں وہی حیثیت حاصل کرنے کے درپے ہے جو امریکہ میں یہودیوں کو حاصل ہے کہ ملک کی کوئی پالیسی ان کی مرضی کے بغیر طے نہ ہو۔ امریکہ اور یورپ میں یہودیوں کی دخل اندازی، بلکہ مغرب کی پالیسیوں پر ان کے کنٹرول کو اقبال ؒ ہی نے یوں تعبیر کیا تھا کہ

’’فرنگی کی رگِ جان پنجۂ یہود میں ہے‘‘

آج دنیا کا ہر با شعور شخص اس سے آگاہ ہے کہ امریکہ میں سیاست ،معیشت اور میڈیا تینوں پر یہودیوں کا کنٹرول ہے اور تھنک ٹینکس بھی انہی کے زیر اثر ہیں ،اس لئے امریکہ کی قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں پر ان کی اجارہ داری ہے ،حالانکہ امریکی آبادی میں یہودیوں کاتناسب بمشکل ایک فیصد ہو گا، بھٹو مرحوم نے اس حقیقت کو بجا طور پر سمجھا ہے اور اس کی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں یہی پوزیشن حاصل کرنے کے لئے قادیانیوں کی شروع سے کوشش جاری ہے اور آج بھی وہ عالمی استعمار کی پشت پناہی کے ساتھ اس کے لئے منظم طریقے سے کام کر رہے ہیں ،اس لئے میں تمام مسلمانوں سے یہ گزارش کروں گا کہ وہ اس معروضی صورت حال کا اچھی طرح ادراک کریں کہ قادیانیت کا مسئلہ مذہبی، علمی اور دینی ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی مسئلہ بھی ہے اور اس سے امت مسلمہ کی وحدت ، پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو مسلسل خطرات در پیش ہیں ،بالخصوص آج کے اس عالمی تناظر میں بہت زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کہ قادیانیوں کو عالمی سیکولر لابیوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور پاکستان کے اندر قادیانیوں کے عزائم کو کامیاب بنانے کے لئے بین الاقوای سطح پر منظم مہم چلائی جا رہی ہے ،اس لئے عقیدۂ ختم نبوت اور قادیانیوں کے بارے میں دستور پاکستان کے فیصلے کا مسلسل پہرہ دینے کی ضرورت ہے اور یہ صرف علمائے کرام کی نہیں بلکہ امت کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ دای ہے۔

(ماہنامہ نصرت العلوم، مئی 2012ء)

.

.

⑥خود قادیانیوں نے اس وقت اقرار کیا تھا کہ:

اقبال نے آحمدیوں کو کچلنے کا مطالبہ کیا تھا، اقبال قادیانیوں کی دونون جماعتوں کو مٹانےکے حق میں تھے، پھر (جو قادیانی خود کو غیرمسلم کہیں انہیں)اقلیت قرار دیے جانے کے حامی تھے….(اقبال اور قادیانیت ص190)

.

.

⑦علامہ اقبال قادیانیوں کے بارے میں فرماتے ہیں:

ذاتی طور پر اس تحریک سے میں اس وقت بدظن ہوا جب اس میں بانی اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے برتر نبوت کا دعویٰ پیش کیا گیا اور مسلمانان عالم کو کافر قرار دے دیا ،بعد میں میرے شکوک ایک مثبت بغاوت میں تبدیل ہوگئے،جب میں نے اپنے کانوں سے تحریک کے ایک پیروکار کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بڑی تحقیر آمیز زبان استعمال کرتے سنا ،

(تصانیف اقبال،ص 449)

.

⑧علامہ اقبال کے نزدیک ایک اسلامی معاشرہ کا استحکام اور بقا اسی صورت میں ممکن تھی جب وہ معاشرہ عقیدہ ختم نبوت پر کامل یقین رکھتا ہو،اقبال کےک نزدیک ’’ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد از اسلام اگر یہ دعوٰی کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزاء نبوت کے موجود ہیں،یعنی یہ کہ مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل ہے مسیلمہ کذاب کو اسی بناء پر قتل کیا گیا حالانکہ (ابی جعفر محمد جرید طربی) لکھتا ہے وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا مصدق تھا اور اس کی اذان میں حضور کی نبوت کی تصدیق تھی،

(انوار اقبال،ص 45)

.

.

⑨قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا:

میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اسوہ حسنہ(سیرت نبی، سنت نبی)پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبر اسلام(حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم)نے ہمارے لیے بنایا ہے، ہمیں چاہیے کہ

ہم اپنی جمہوریت کی بنیادیں صحیح معنوں میں اسلامی تصورات اور اصولوں پر رکھیں..(قائد اعظم کے افکار و نظریات ص29)

.

قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا:

اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت و وفاکیشی کا مرجع خدا کی ذات ہے، اسلام میں اصلا نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمنٹ کی، نہ کسی شخص کی یا ادارے کی، قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کرسکتے ہیں…(قائد اعظم کے افکار و نظریات ص25)

.

دیکھا آپ نے بانی پاکستان کے مطابق وہ جمہوریت، وہ لوگ، وہ صدر، وہ وزیر، وہ سینیٹر وہ پارلیمنٹ، وہ جج وہ وکیل، وہ فوجی وہ جرنیل الغرض جو بھی اسلام کے اصول و تصورات کے خلاف ہو وہ جوتے کی نوک پر…..!! حتی کہ قائد اعظم کا نظریہ کردار بھی اگر(کم علمی، غلط فھمی کی وجہ سے) اسلام سے متصادم ہو تو وہ بھی غیرمعتبر ہوگا، وہ قابلِ قبول اور قابلِ تقلید نہین ہوگا….لیھذا یہ مت سمجھیے کہ قائد کا ہر قولبو عمل میرا آئیڈیل ہے…..ہرگز نہیں

.

نتیجہ:

1:قائد اعظم نے اگر بلامجبوری جان بوجھ کر کسی قادیانی کو وزیرِ خارجہ بنایا تھا تو غلط کیا تھا…..پاکستان قائد اعظم کے نظریات کے لیے نہیں بنا تھا کہ ان کے نظریات کو قانون بنایا جائے بلکہ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا…..اقبال و قائد کے وہ نظریات و کردار جو اسلام سے متصادم ہوں وہ ہرگز قابل قبول نہین ہوسکتے ، وہ ہرگز قانون نہین بن سکتے، وہ ہرگز قابلِ تقلید نہیں بن سکتے…

حالات سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے یہ کام عالمی دباو کے تحت کیا تھا اور اس وقت پاکستان کا اسلامی قانون بنا بھی نہین تھا لیکن جب آئین پاکستان بن چکا ہے تو اب قائد کی تقلید کے بجائے آئین کی تقلید واجب ہے اور پاکستان کا آئین وہ ہے جو اسلام کا ہے…

لیکن

ہم قائد اعظم کے اس اقدام کو انکی مجبوری قرار دین گے کہ عالمی دباو تھا، جیسا کہ اوپر بھی گذرا اور تاریخی حالات کا سنجیدگی گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو بھی یہی واضح ہوتا ہے…جیسا کہ اوپر گذرا

.

2:قائد اعظم اور انکے مرشد اقبال “قادیانیوں” کو فتنہ پرور غیرمسلم، غدار، ایجنٹ ، باغی قرار دیتے تھے اور قادیانیوں کا اختتام چاہتے تھے،قادیانی کی ترقی اور پھیلاو نہین چاہیتے تھے…انہوں نے قادیانیوں کو غدار کہا، اسلام کے دشمن قرار دیا، وطن کے دشمن قرار دیا، باغی غدار کو اقلیتی حقوق و ہمدردی کچھ حاصل نہیں، انہین مٹانا کچلنا بائیکاٹ کرنا لازم….ہاں جو قادیانی خود کو غیرمسلم مان لین انہیں اقلیت کے حقوق ملیں گے…..یہی اسلام کا حکم ہے …یہی اقبال کا مشن تھا…اور قائد اعظم اقبال کے مرید و پیرکار تھے…انہی کے قول.و کردار کو معتبر سمجھتے تھے….ہم پر بھی یہی لازم

.

3: قادیانیون کے حکومت میں آنے کے خلاف اسی وقت سے اہل اسلام نے احتجاج کیا اور کامیابیاں سمیٹیں اور بالاخر تہتر کے قانون نے قادیانیوں کو مسل کر رکھ دیا

.

.

*مسلے کا حل:*

اسلام اور اقبال اور جناح کے مذکورہ بالا تفصیلات کا خلاصہ کیا جائے تو قادیانیت کے مسلے جگھڑے کا حل یہ ہے کہ:

قادیانیوں کا ہرطرح سےبائیکاٹ و دھتکار لازم ہے،انکو اقلیتی حقوق بھی حاصل نہیں اگر وہ خود کو غیرمسلم مان لین تب اقلیتی حقوق ملیں گے، قادیانی پاکستان سے باہر جاکر اپنا ملک بنائیں….ملک پاکستان سچے مسلمانوں نے بنایا….وہی حکومت کے حقدار ہیں… یہی سچی تاریخ ہے…..یہی اصلی وژن ہے…انکا بائیکاٹ ضروری ہے… انہیں محدود دے محدود تر رکھنا ضروری ہے… اسلامی حکومت کا کوئی عہدہ وزیر مشیر رکن ممبر کچھ نہیں دیا جاسکتا…یہ زندیق مرتد سازشی غدار باغی ہین انہیں کوئی اقلیتی حقوق بھی ھاصل نہیں،

.

اصل شرعی حکم یہ بنتا ہے کہ اسلامی حکومت جنگی فوج لے کر قادیانی علاقوں کا گھیرا کرے اور انہین سمجھائے اسلام کی دعوت دے اور انکے شبہات کا جواب دے….اگر توبہ کریں تو وہ احمدی قادیانی کہلوانا بند کر دین اپنے مخصوص عقائد و رسومات علامت چھوڑ دیں

تو

وہ مسلم کہلائیں گے اور اسلامی حقوق پائیں.گے ورنہ.انہی اقلیتی حقوق بھی حاصل نہین کہ یہ زندیق مرتد باغی ہیں… یہی اصل آئین اسلام ہے….اور پاکستان کو آئین میں ہے کہ اسلام پاکستان کا آئین ہے

ہاں اگر

قادیانی خود کو غیرمسلم اقلیت مان لیں اور ببانگ دہل اس کا اقرار و اظہار کریں تو انہین اقلیتوں کے حقوق مل سکتے ہیں

.

.

باقی رہی بات یہ کہ بانیان پاکستان سیکیولر پاکستان بنانا چاہیتے تھے یا اسلامی ملک……؟اسلامی بنانا چاہتے تھے تو کونسا……؟ شیعیت والا یا وہابیت والا یا اہلسنت والا…….؟

اس کا جواب درج ذیل تحریر سے واضح ہو جاتا ہے

.

1946 مین قائد اعظم کی یہ تحریر اس قابل ہے کہ ہر ادارے میں قائد کی فوٹو کے بجاے یہ تحریر لٹکائی جاے..

قائد اعظم فرماتے ہیں:

.

میں مطمئین ہوں کہ قرآن و سنت کے زندہ جاوید قانون پر مبنی ریاست(پاکستان)دنیا کی بہترین اور مثالی سلطنت ہوگی،یہ اسلامی ریاست اسی طرح سوشلزم کمیونزم مارکسزم کیپٹل ازم کا قبرستان بن جاے گی..جس طرح سرورکائنات کا مدینہ اس وقت کے تمام نظام ہاے فرسودہ کا گورستان بنا…

پاکستان میں اگر کسی نے روٹی(معیشت،دولت)کے نام پر اسلام.کے خلاف کام کرنا چاہا

یا

اسلام کی آڑ میں کیپٹل ازم،سوشلزم،کمیونزم یا مارکسزم کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کی غیور قوم اسے کبھی برداشت نہیں کرے گی..

یہ یاد رکھو کہ میں نہرو نہیں ہوں کہ وہ کبھی سیکولرسٹ بنتے ہیں کبھی مارکسٹ..

میں تو اسلام.کے کامل نظام زندگی،خدائی قوانین کی بادشاہت پر ایمان رکھتا ہوں… مجھے عظیم فلاسفر اور مفکر ڈاکٹر اقبال سے نا صرف پوری طرح اتفاق ہے بلکہ میں انکا معتقد ہوں

اور میرا ایمان ہے کہ اسلام ایک کامل ضابطہ حیات ہے..

زندگی کی تمام مصیبتوں اور مشکلوں کا حل اسلام سے بہتر کہیں نہیں ملتا… سوشلزم کمیونزم مارکسزم کیپٹل ازم ہندو ازم امپیریل ازم امریکہ ازم روس ازم ماڈرن ازم یہ سب دھوکہ اور فریب ہیں..

(نقوشِ قائد اعظم صفحہ 312،314)

.

.

اب رہی بات یہ کہ جناح اور اقبال کونسا اسلام پاکستان مین نافذ کرنا چاہتے تھے….؟؟ قادیانیوں والا یا شیعوں والا…؟؟ نجدیوں وہابیوں والا یا سنیوں والا…؟؟

.

حقیقیت یہ ہے کہ دونوں بانیان اکثر اسلام اسلام قرآن و سنت کہا کرتے تھے….فرقوں کی جھنجھٹ مین نہین پڑتے تھے، قادیانیوں کو تو دو ٹوک خارج از اسلام کہا تھا البتہ سنی شیعہ وہابی کے معاملے مین اگرچہ زیادہ نہین بولتے تھے مگر عمل اور کردار اہلسنت والے تھے انکے….مزار قبرستان جانا فاتحہ کرنا اولیاء کے دربار کی حاضری ، فاتحہ ایصال ثواب وغیرہ کرتے تھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ قائد اور اقبال عملا اہلسنت تھے انہی کو حق سمجھتے تھے

بلکہ

قولا بھی وہ اہلسنت تھے ملاحظہ کیجیے جناب محمد علی جناح اقبال کے بارے مین کہتے ہیں کہ:

مجھے عظیم فلاسفر اور مفکر ڈاکٹر اقبال سے نا صرف پوری طرح اتفاق ہے بلکہ میں انکا معتقد ہوں

(نقوشِ قائد اعظم صفحہ 313)

اور

اب علامہ اقبال کا آخری حتمی فیصلہ بھی سنیے….

علامہ اقبال جب بہت بیمار ہوے تو آخر ایام میں وصیت لکھوائ تھی،جس میں یہ بھی تھا کہ:

ملک ہندوستان میں مسلمانوں کی غلامی نے جو دینی عقائد کے نئے فرقے مختص کر لیے ہیں ان سے احتراز کرے…پھر چند سطر بعد فرماتے ہیں:

غرض یہ ہے کہ طریقہ حضرات اہلِ سنت محفوظ ہے اور اسی پر گامزن رہنا چاہیے اور آئمہ اہلِ بیت کے ساتھ محبت اور عقیدت رکھنی چاہیے..(اوراق گم گشتہ صفحہ 468)

ایسے موقع پے انسان جو وصیت لکھواتا ہے وہ اسکی زندگی اسکے نظریات اسکی تحقیق کا نچوڑ ہوتا ہے..

.

لیھذا ثابت ہوا کہ جناح اور اقبال اہلسنت تعلیمات پر یقین رکھتے تھے…اور اسلام کی اسی تشریح و تعلیمات کو برحق سمجھتے تھے جو مستند علماء اہلسنت نے کتابوں مین لکھی…اسی کا نفاذ اسلام کا نفاذ سمجھتے تھے

.

یہاں ایک اور بات عرض کرتا چلوں کہ اہلسنت لفظ بڑا وسیع ہے….اس مین تمام سنی تنظیمین تحریکیں قادری چشتی سہروردی نقشبندی شاذلی عطاری حسنی حسینی حنفی شافعی حنبلی مالکی اشعری ماتریدی الغرض اہلسنت کی تمام چھوٹی بڑی شاخیں اہلسنت مین شامل ہیں

اور

دیوبند اہل حدیث غیرمقلد اہل تشیع وغیرہ فرقوں کی بڑی عوامی تعداد اور کافی خواص بھی اہلسنت مین شامل ہے….البتہ وہ دیوبند وہابی شیعہ وغیرہ جو گستاخیاں کرتے ہوں منافقت و ایجنٹیاں کرتے ہوں وہ اہلسنت مین شامل نہیں

.

اہلسنت جو فرقوں کا رد کرتے ہیں تو اس وجہ سے ان کو تفرقہ باز مت سمجھیے

دیکھیں ایک فرقہ تفرقہ کرتا ہے تو جو اہل حق ہوتا ہے وہ مجبورا تفرقے والے کا رد کرتا ہے جس سے لوگ اہل حق کو بھی تفرقہ باز سمجھتے ہیں جوکہ سمجھ کی غلطی ہے… ہر ایک کو تفرقہ باز مت سمجھیے بلکہ پہچانیے کہ اہل حق کون اور تفرقہ باز کون…؟؟

.

یاد رکھیے ہر کوئی خود کو حق کہے گا…کیا چور منافق کبھی خود کو چور کرپٹ منافق کہے گا…؟؟

نہین ناں…..!! تو پھر چوری کرپشن منافقت پکڑنی پڑتی ہے… اہلسنت کی کچھ عوام میں بدعملی بے عملی ملے گی مگر مستند علماء اہلسنت کی کتابوں اصولوں میں نا تو جھوٹ ملے گا نا منافقت نا گستاخی….

اہلسنت کوئی فرقہ نہین بلکہ اسلام کا دوسرا نام اہلسنت ہے…یہ نام صحابہ کرام نے اس وقت دیا جب نام نہاد منافق گستاخ خوارج بھی خود کو مسلمان کہلوانے لگے تو صحابہ کرام نے اسلام کو اہلسنت کا نام دیا تاکہ لوگوں کو لفظ مسلمان سے دھوکہ نا لگے … اس لیے ہم بھی مسلمان کہلوانے کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کی دی ہوئی پہچان اہلسنت بھی کہلواتے ہین بلکہ اگر فقط اہلسنت کہہ دیا جائے تو بھی کوئی حرج نہین کیونکہ اہلسنت کا مطلب ہی سچا مسلمان ہے

.

اور یہ بھی ضرور یاد رکھیے کہ اسلام نے حدود مین رہتے ہوئے ادب و آداب اور دلائل و شواہد کے ساتھ اختلاف رکھنے کی اجازت دی ہے… یہ اختلاف آپ کو اہلسنت مین بھی ملے گا… اس سے دل چھوٹا مت کیجیے، اسے تفرقہ بازی مت سمجھیے

تحریر: العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر