قادیانی مسئلے کا حل

قادیانی متعلقہ آئینی شِق کا انکار کرتے ہیں،
لہذا قانونی طور پر انہیں اقلیت قرار نہیں دیا جا سکتا٭

ناصرف یہ کہ قادیانی “اقلیت” نہیں بلکہ قانونی طور پر ان کی شہریت بھی کالعدم ہو جاتی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے سیکولر حکمران اور سیکولر قانون دان ناصرف انہیں پاکستانی شہری تسلیم کرتے ہیں بلکہ اقلیت قرار دے کر ان کے حقوق کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔

یہ جو آئینی شِق ہے کہ قادیانی کافر ہیں۔ اس میں لفظ کافر سے مراد #زندیق ہے لیکن اس پر بھی افسوس ہے کہ آئین میں کافر کے ساتھ بریکٹ میں زندیق نہیں لکھا گیا، گویا یہ وہ چور راستہ ہے جہاں سے سیکولر قانون دان اور حکمران قادیانیوں کیلئے گنجائش نکالتے ہیں۔

تو اب قادیانیوں پر مقدمہ ایک نہیں دو ہیں۔
1۔ کہ وہ صرف کافر نہیں بلکہ زندیق بھی ہیں
2۔ اور ان کی پاکستانی شہریت بھی کالعدم ہونی چاہئے چہ جائے کہ انہیں عہدے دئے جائیں
علاوہ ازیں جس طرح بقیہ کالعدم تنظیموں پر پابندیاں عائد ہیں عین اسی طرح قادیانیوں پر بھی لامحدود پابندیاں ہونی چاہئیں، جس طرح کالعدم تحریک طالبان کو دیوار کے ساتھ لگایا جاتا ہے اسی طرح قادیانیوں کو بھی گڑھے میں دھنسا دیا جانا چاہئے۔ یہ کوئی ظلم نہیں بلکہ عین قرین انصاف ہو گا!

حل:

اگر قادیانی چاہتے ہیں کہ انہیں کالعدم قرار نہ دیا جائے تو بڑا آسان سا حل ہے، کہ وہ متعلقہ آئنی شِق کا اقرار کر لیں اور خود کو غیر مسلم تسلیم کر کے اپنے نام کے ساتھ “مسلم” لکھنا چھوڑ دیں۔ اگر وہ ایسا کر لیتے ہیں تو پھر بجا طور پر وہ پاکستانی اقلیت کہلائیں گے، اس صورت میں انہیں مخصوص عہدے بھی دئے جا سکتے ہیں، جو شرعی و قانونی، دونوں تناظرات میں درست ہوں گے۔

اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر ہم مسلمانوں کے پاس ایک بڑا خطرناک حل ہے کہ آئین کی متعلقہ شق میں کافر کے ساتھ بریکٹ میں “زندیق” لکھ دیا جانا چاہئے،اگر ایسا ہو جائے تو یہ قادیانیوں کیلئے مکمل ریاستی موت ہو گی۔

ف ر ش