اعلیٰ حضرت پر کُرتا اٹھانے کے اعتراض کا جواب 👇👇👇👇👇

جناب سید ایوب علی رضوی فرماتے ہیں کہ حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی عمر شریف تقریباً 5۔6 سال ہوگی اس وقت صرف ایک بڑا کُرتا پہنے ہوئے باہر تشریف لائے کہ سامنے سے چند طوائف زنان بازاری گزریں ، آپ نے فوراً کرتے کا اگلادامن دونوں ہاتھوں سے اُٹھا کر چہرہ مبارک کو چھپا لیا یہ کیفیت دیکھ کر ایک طوائف بولی واہ صاحب منہ تو چھپالیا اور ستر کھول دیا آپ نے برجستہ اُس کو جواب دیا جب نظر بہکتی ہے تب دل بہکتا ہے ، جب دل بہکتا ہے تو ستر بہکتا ہے یہ جواب سن کر وہ سکتہ کے عالم میں ہوگئی۔

(حیات اعلی حضرت ، جلد اوّل ، مطبوعہ کراچی، صفحہ 23)

امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا یہ جواب خرق عادت ہے، ورنہ اتنی چھوٹی عمر میں ایسا دانائی والا جواب دینا محال ہے، امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی کیفیت پر سب سے پہلے اعتراض فاحشہ عورتوں نے کیا اور امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے خرق عادت کے طور پر دانائی والا جواب دیا، اب جو بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے اس جواب پر اعتراض کرتا ہے وہ فاحشہ عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے اور جو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پر اس اعتراض کا جواب دیتا ہے وہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی نمائندگی کرتا ہے ، یہ اپنی اپنی قسمت ہے

یہاں ایک اور مزے والی بات بتاؤں آپکو کہ وہ رنڈیاں اور طوائفیں ہونے کی وجہ سے سمجھ گئیں کہ اس بچے نے کرتا کس وجہ سے اٹھایا

اور انھوں نے بر ملا اظہار بھی کیا کہ تمھاری اس حیا سے تمھارا ستر ظاہر ہو گیا

مطلب انھیں بھی معلوم تھا کہ بچہ شرم و حیا والا ہے اور جب اس بچے کا مزاق اڑانے کی کوشش کی تو جوب سن کر سمجھ گئیں کہ بچہ نہ صرف شرم و حیا والا ہے بلکہ عقلمندی کی بھی انتہا پر ہے

آج یہ دیو کے بندے اور وہابی نجدی خبیث ان طوائفوں سے ہزار درجے گری ہوئی سوچ رکھ کر اپنے آپ کو ان طوائفوں کی جگہ رکھ کر سوچتے ہیں

*کہ یہ بچہ انھیں غلط نظر سے دیکھ رہا ہے *

جو بات وہ رنڈیاں اور طوائفیں نہیں سوچ سکی وہ یہ ولی الشیطان سوچتے ہیں

دوستو ان خارش زدہ کلاب النار کا قصور نہیں انکے گھر میں ماں بہن بہو اور بیٹی سے نفس کی مالش تک کروا سکتی ہیں جب اہلسنت نے انکا رد کیا تو انھیں لگا کہ ہمارے دھرم کے مطابق نفس کی مالش آپ کسی سے بھی کروا سکتے ہو تو انھوں نے دلیل کے طور پر اعلیٰ حضرت کے ستر والی عبارت دلیل بنا دی حالانکہ یہ بھول گئے کہ یہاں 5-6 سالہ وہ کمسن بچہ ہے جس سے بے اختیار انکی ماؤں یعنی رنڈیوں سے جنکے کوٹھے آباد کرنے کے لیے انکے بابے تعویز گنڈے کیا کرتے تھے ان سے پردہ کرلیا

یاد رہے یہ اس وقت کی بات ہےجب انکے ابو اور چاچو 12 سال کی عمر میں پیشاب سے کھیلتے اور مسجدسے جوتیاں چراتے تھے جب انکے بابے 12 سال کی عمر میں کھڑے ہوکر ایک دوسرے کے سر پر پیشاب کر رہے تھے اس وقت ان ملعون خارش زدہ خارجیوں کو لگتا ہے کہ 5 سالہ بچہ شہوت پرست تھا

امت مسلمہ کے مخالف نجدیوں کو اعتراض ہی کرنا ہے تو کوئی ڈھنگ کا کریں یہ بھی کوئی اعتراض ہے

اعتراض ایسے ہوتا ہے

یہ نجدی کہتے ہیں کہ ماں سے زنا عقلا جائز ہے

جب اہلسنت اعتراض کرتی ہے تو کہتے ہیں کہ جب پورا ماں کے اندر تھا تو کوئی بات نہیں اب تھوڑا سا اندر جاتا ہوں تو اعتراض کیسا؟؟؟؟؟

استغفراللہ

یہ تو حالت ہے انکی

اعتراض کرنا ہے تو ایسے کرو

ایک نجدی کہتا ہے کہ میں اپنی ماں بہن بیٹی بہو سے ہر جگہ کی مالش کرواسکتا ہوں یہاں تک کہ نفس پر بھی مالش کرواسکتا ہوں( اور بہت مزا بھی آتا ہے )

نجدی دھرم کے منوں

ایسے ہوتا ہے اعتراض

یہ کیا اعتراض ہوا

ایک کمسن بچے نے آپکے ماؤں سے نفرت کا اظہار کردیا تو تم ابھی تک اپنی ماؤں کے دکھ میں ابھی تک ماتم کرتے چلے آرہے ہو

😉😉😉😉😉😉😉😉😉😉😉😉

افسوس ہے ان ملعونوں پر جب انھیں ہمارے عقائد پر اعتراض نہیں ملتا تو یہ کردار کشی کرکے اپنے دھرم کے جاھلوں کو بیوقوف بناتے ہیں اور انکے جاھل نجدی واہ واہ کر کے باآسانی جاھل بن بھی جاتے ہیں

اللہ پاک ایسے گمراہ اور جاھل فتنہ پرستوں سے ہماری نسلوں کو محفوظ رکھے

لئیق احمد دانش

کاپی اور شئیر کر کے محمد سلمان شیخ شیخو جیسے ملعون کزابوں کو بے نقاب کرکے انکے خارجی دھرم کو ایکسپوز کریں

(کاش ہمارے مخالفین کو اعتراض کرنے کا ڈھنگ آتا 😥😥😥😥😥😥)