بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَ يُزَكِّيۡهِمۡ‌ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ

اے ہمارے رب ! ان میں ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیج دے ‘ جو ان لوگوں پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور ان کو کتاب اور حکم کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کی اصلاح کرے ‘ بیشک تو ہی بہت غالب بڑی حکمت والا

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جس رسول کی بعثت کی دعا کی وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں :

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو دعا کی تھی کہ مکہ میں ایک عظیم رسول بھیج دے اس سے مراد حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور اس پر حسب ذیل دلائل ہیں

(١) تمام مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ اس رسول سے مراد حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور یہ اجماع حجت ہے۔

(٢) امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عرباض بن ساریہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک میں اللہ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھا اور اس وقت حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے اور میں تم کو اپنی ابتداء کی خبر دیتا ہوں ‘ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں ‘ اور عیسیٰ کی بشارت ہوں اور میں اپنی ماں کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا تھا ‘ ان سے ایک ایسا نور نکلا تھا جس سے ان کے لیے شام کے محلات روشن ہوگئے تھے۔ ١ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٤ ص ١٢٨۔ ١٢٧، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ)

اس حدیث کو امام بزار۔ ٢ (حافظ نورالدین علی بن ابی بکر الہیثمی المتوفی ٨٠٧ ھ ‘ کشف الاستار عن الزوائد البزار ج ٣ ص ١١٣‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت)

امام طبرانی۔ ٣ (امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ ‘ المعجم الکبیر ج ١٨ ص ‘ ٢٥٢ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

امام ابن حبان۔ ٤ (حافظ نورالدین علی بن ابی بکر الہیثمی المتوفی ٨٠٧ ھ ‘ موارد الظمان عن الزوائدابن حبان ص ٥١٢‘ مطبوعہ دارالکتب العربی ‘ بیروت)

امام حاکم۔ ٥ (امام ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥‘ المستدرک ج ٢ ص ٦٠٠‘ مطبوعہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ)

امام ابونعیم۔ ٦ (امام ابو نعیم بن عبداللہ اصبہانی متوفی ٤٣٠ ھ حلیۃ الاولیاء ج ٦ ص ٩٠۔ ٨٩‘ مطبوعہ دارالکتب العربی ‘ ١٤٠٧ ھ)

امام بیہقی۔ ٧ (امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی (رح) متوفی ٤٥٨ ھ ‘ دلائل النبوۃ ج ٢ ص ١٣٠‘ مطبوعہ دار الکتاب العلمیہ بیروت)

اور امام بغوی۔ ٨ (امام حسین بن مسعود بغوی متوفی ٥١٦ ھ ‘ شرح السنۃ ج ٧ ص ١٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) نے بھی بیان کیا ہے۔

(٣) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا اہل مکہ کے لیے کی ہے اور مکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ اور کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا۔

اہل مکہ ہی میں سے رسول کو مبعوث کرنے کی حکمت :

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی کہ مکہ میں اہل مکہ ہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث فرما ! اس میں ایک بات تو یہ بتائی ہے کہ یہ رسول انسانوں کی جنس سے ہے ‘ فرشتوں یا جنات کی جنس سے نہیں ہے کیونکہ اگر وہ رسول فرشتہ یا جن ہوتا تو انسان اس کو دیکھ نہ سکتے ‘ اس کا کلام سن نہ سکتے ‘ اور اس کی سیرت انسانوں کے لیے نمونہ اور حجت نہ ہوتی ‘ دوسری بات یہ ہے کہ جب وہ رسول اہل مکہ میں سے ہوگا تو اہل مکہ اس کی پیدائش ‘ اس کی تربیت اور اس کی نشو و نما سے واقف ہوں گے ‘ اس کا صدق ‘ اس کی امانت اور دیانت اور اس کی زندگی کا ایک ایک گوشہ ان پر عیاں اور بیاں ہوگا اور پھر اس کی رسالت کو تسلیم کرنے کے لیے خود اس کی زندگی ہی میں ان کو قرائن اور دلائل مل جائیں گے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ‘ ان کافروں سے کہیے :

(آیت) ” فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلاتعقلون “۔ (یونس : ١٦)

ترجمہ : میں اس سے پہلے تم میں عمرکا ایک حصہ) گزار چکا ہوں ‘ تو کیا تم نہیں سمجھتے۔

نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اہل مکہ میں سے اپنی ذریت کے لیے دعا کی تھی اور ان کو یہ علم تھا کہ جب وہ رسول مکہ میں پیدا ہوگا تو یہ ان کی ذریت کے لیے باعث عزت اور فخر ہوگا ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا دو ہزار سات سو پچھتر سال بعد قبول ہوئی ‘ اس سے معلوم ہوا کہ دعا کا دیر سے قبول ہونا مقبولیت کے منافی نہیں ہے۔

نماز میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر صلوۃ کی تخصیص اور ان کے ساتھ تشبیہ کی حکمتیں :

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہمارے رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک بار دعا کی اور آپ نے ہر نماز میں تشہد کے بعد ان کے لیے دعا کی ہدایت کردی کہ جب مجھ سے صلوۃ پڑھو اور جب میرے لیے برکت کی دعا کرو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے بھی برکت کی دعا کرو ‘ باقی رہا یہ اعتراض کہ اس دعا میں ہے : اے اللہ ! سیدنا محمد اور سیدنا محمد کی آل پر صلوۃ نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر صلوۃ نازل فرمائی ہے ‘ دعا میں سیدنا محمد مشبہ ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشبہ ہیں اور مشبہ بہ ‘ مشبہ سے اقوی ہوتا ہے ‘ اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فضلیت لازم آئے گی حالانکہ آپ تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے کیونکہ بعض اوقات مشبہ افضل ہوتا ہے جیسے قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” مثل نورہ کمشکوۃ “ (النور : ٣٥) ” اللہ کے نور کی مثال جیسے ایک طاق ہو۔ “

(٢) تشبیہ ابراہیم اور آل ابراہیم کے مجموعہ سے ہے اور آل ابراہیم میں دیگر انبیاء کے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہیں۔

(٣) یہ تشبیہ نفس صلوۃ میں ہے اس کی کیفیت سے قطع نظر کے ساتھ ‘ جس طرح قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح “ (النساء : ١٦٣) ” ہم نے آپ کو ایسی وحی کی ہے جیسے نوح کی طرف کی تھی “ حالانکہ آپ پر جو وحی ہے وہ قرآن مجید ہے اور وہ بالاجماع افضل ہے۔

(٤) اس دعا میں کاف تشبیہ کے لیے نہیں ہے بلکہ تعلیل کے لیے ہے جیسے (آیت) ” ولتکبرواللہ علی ما ھدکم “ (البقرہ : ١٨٥) ” تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تم کو ہدایت دی ہے “ میں ہے ‘ اور اس دعا کا معنی ہے : اے اللہ ! سیدنا محمد پر اور سیدنا محمد کی آل پر صلوۃ نازل فرما کیونکہ تو نے ابراہیم پر اور ان کی آل پر صلوۃ نازل کی ہے۔

کتاب و حکمت کی تعلیم اور تزکیہ نفس کی تشریح :

اس عظیم رسول کی صفت بیان کرتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : وہ تیری آیات کی تلاوت کرے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کی اصلاح کرے۔

آیات کی تلاوت کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ ان پر قرآن مجید کی تلاوت کریں یا مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت پر جو دلائل ‘ آیات اور علامات ہیں ان کو بیان کریں۔

کتاب کی تعلیم سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید میں بیان کیے ہوئے احکام پر عمل کر کے دکھائیں اور جن آیات کی تفصیل کی ضرورت ہے انکی تفصیل کریں اور جن آیات کے شرعی معنی بیان کرنے کی ضرورت ہے انکے شرعی معنی بیان کریں۔

حکمت کا معنی ہے : معرفت الموجودات اور فعل الخیرات ‘ اور یہاں اس سے مراد ہے : قرآن مجید کے ناسخ اور منسوخ اور محکم اور متشابہ کو جاننا یا قرآن مجید کے اسرار اور دقائق کو جاننا ‘ یا حکمت سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور آپ کی احادیث ہیں۔

اور اصلاح نفس سے مراد یہ ہے کہ آپ ان کو معصیت کی آلودگی سے پاک کرتے ہیں ‘ ان کے ظاہر اور باطن کو رذائل اور نقائص سے دور کرتے ہیں اور ان کی عبادات میں خلوص ‘ للہیت اور دوام کو اجاگر کرتے ہیں جس سے ان کا دل تجلیات الہیہ کا آئینہ بن جاتا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 129