بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ يَرۡفَعُ اِبۡرٰهٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَيۡتِ وَاِسۡمٰعِيۡلُؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ‌ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ

اور (یاد کیجئے) جب ابراہیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے ‘ (اور اس وقت وہ یہ دعا کر رہے تھے :) اے ہمارے رب ! ہم سے قبول فرما ‘ بیشک تو ہی بہت سننے والا خوب جاننے والا ہے

تعمیر کعبہ کی تاریخ کے متعلق روایات کا بیان :

اس مسئلہ میں مختلف روایات اور مختلف اقوال ہیں کہ سب سے پہلے کعبہ کی تعمیر فرشتوں نے کی تھی ‘ یا حضرت آدم (علیہ السلام) نے کی تھی یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کی تھی۔ امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عطاء بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے رب ! میں فرشتوں کی آواز نہیں سنتا ‘ فرمایا : اس کی وجہ تمہاری (ظاہری) خطا ہے لیکن تم زمین پر اتر جاؤ اور میرے لیے ایک بیت (گھر) بناؤ پھر اس کے گرد طواف کرو جس طرح تم نے آسمان میں میرے بیت کے گرد فرشتوں کو طواف کرتے ہوئے دیکھا تھا ‘ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) نے حرا ‘ طور زیتا ‘ طور سینا ‘ جبل لبنان اور جودی پانچ پہاڑوں سے مٹی لے کر بیت اللہ کو بنایا۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت سے اتارا تو فرمایا : میں تمہارے ساتھ ایک بیت (بھی) اتاروں گا ‘ جس کے گرد اس طرح طواف کیا جائے گا جس طرح میرے عرش کے گرد طواف کیا جاتا ہے اور اس کے پاس ایسے نماز پڑھی جائے گی جیسے میرے عرش کے پاس نماز پڑھی جاتی ہے ‘ طوفان کے زمانہ میں اس بیت کو اٹھایا گیا انبیاء اس کا حج کرتے تھے اور انہیں اس کی جگہ کا علم نہیں تھا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی جگہ سے مطلع کیا۔ (جامع البیان ج ١ ص ٤٢٨‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

ان دونوں روایتوں کو حافظ ابن ہجر عسقلانی نے بھی بیان کیا ہے۔ (فتح الباری ج ٦ ص ٤٠٧۔ ٤٠٦ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

دوسری روایت کو علامہ عینی نے بھی بیان کیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٩ ص ‘ ٢١٦ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

علامہ سہیلی لکھتے ہیں :

کعبہ کو پانچ مرتبہ بنایا گیا ہے ‘ پہلی بار شیث بن آدم نے بنایا ‘ دوسری بار ان ہی بنیادوں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بنایا ‘ تیسری بار ظہور اسلام سے پانچ سال پہلے قریش نے بنایا ‘ چوتھی مرتبہ حضرت ابن الزبیر نے بنایا اور حطیم کو کعبہ میں شامل کرلیا جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منشاء تھا ‘ پانچویں بار عبدالملک بن مروان نے بنایا اور حطیم کو پھر باہر کردیا ‘ ایک قول یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جب ایک یا دو بار سیلاب آیا تو اس کو قوم جرہم نے بنایا اور امام ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ سب سے پہلے کعبہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بنایا تھا۔ (الروض الانف ج ١ ص ١٢٨۔ ١٢٧‘ مطبوعہ مکتبہ فاروقیہ ‘ ملتان)

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں :

ایک قول یہ ہے یہ سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) نے کعبہ کو بنایا ‘ اس سلسلہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے ایک حدیث مرفوع مروی ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے ‘ اور قوی قول یہ ہے کہ کعبہ کو سب سے پہلے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے بنایا ‘ حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ پھر کعبہ منہدم ہوگیا ‘ پھر اس کو عمالقہ نے بنایا ‘ پھر منہدم ہوگیا ‘ پھر اس کو جرھم نے بنایا ‘ پھر منہدم ہوگیا ‘ پھر اس کو قریش نے بنایا اور یہ آپ کی بعثت سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ پندرہ سال پہلے کا واقعہ ہے اور زہری سے روایت ہے کہ اس وقت آپ بلوغت کے قریب تھے۔ (البدایہ والنہایہ ج ١ ص ١٢٨۔ ١٢٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٣٩٣ ھ)

میں کہتا ہوں کہ ” صحیح بخاری “ سے امام زہری کے قول کی تائید ہوتی ہے۔

علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں :

اس میں اختلاف ہے کہ سب سے پہلے کعبہ کس نے بنایا ‘ ایک قول یہ ہے کہ اس کو سب سے پہلے فرشتوں نے بنایا ‘ امام ابن اسحاق نے کہا : اس کو سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) نے بنایا ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ اس کو سب سے پہلے حضرت شیث بن آدم نے بنایا۔ (عمدۃ القاری ج ١٦ ص ٢٨٨‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

علامہ احمد قسطلانی نے ان تمام اقوال اور روایات کو جمع کرکے یہ فرمایا کہ کعبہ کو دس مرتبہ بنا گیا :

(١) پہلی بار کعبہ کو فرشتوں نے بنایا (٢) دوسری مرتبہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے بنایا (٣) تیسری بار حضرت شیث بن آدم نے بنایا (٤) چوتھی بار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بنایا (٥) پانچویں بار قوم عمالقہ نے بنایا (٦) چھٹی بار جرھم نے بنایا (٧) ساتویں بار قصی بن کلاب نے بنایا (٨) آٹھویں بار قریش نے بنایا (٩) نویں بار حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حسب منشا کعبہ کو بنایا ‘ اس میں دو دروازے رکھے ‘ ایک داخل ہونے اور ایک خارج ہونے کا ‘ اور حطیم کو کعبہ میں داخل کیا اور یہی بناء ابراہیم تھی ‘ قریش اپنے وسائل میں کمی کی وجہ سے اس کو مکمل بناء ابراہیم پر نہیں بنا سکے تھے ‘ اور آپ کی خواہش تھی کہ اس کو بناء ابراہیم پر بنادیا جائے لیکن فتنہ کے خدشہ سے آپ نے نہیں بنایا تھا (١٠) دسویں بار عبدالملک بن مروان کے حکم سے حجاج بن یوسف نے اس کو پھر منہدم کرکے قریش کی بناء کے مطابق بنادیا۔ (ارشاد الساری ج ٣ ص ١٤٤۔ ١٤٣‘ مطبوعہ مطبعہ میمنہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٢ ھ)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

جب ہارون رشید کو یہ روایت پہنچی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کو اس طرح بنانا چاہتے تھے تو اس نے چاہا کہ کعبہ کو پھر حضرت ابن الزبیر (رض) کی بناء کے مطابق بنا دے لیکن امام مالک نے اس کو منع کیا اور فرمایا : میں تم کو قسم دیتا ہوں اب کعبہ کو اس طرح رہنے دو بار بار منہدم کرنے اور بنانے سے اس کی ہیبت اور جلال میں کمی آئے گی۔ اسعد حمیری نے سب سے پہلے کعبہ کو غلاف چڑھایا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے ‘ اور حجاج بن یوسف نے سب سے پہلے اس پر ریشم کا غلاف چڑھایا تھا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ١٢٥‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے دعا کی :) اور ہمیں خاص اپنی فرمانبرداری پر برقرار رکھ اور ہماری اولاد میں سے ایک امت کو خاص اپنا فرمانبردار کر۔ (البقرہ : ١٢٨)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل کے مسلمان کرنے کی دعا پر اعتراض اور اس کا جواب :

قرآن مجید کی اس آیت میں ” واجعلنا “ کا لفظ ہے یعنی ہم کو اپنے لیے مسلم کر دے ‘ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل پہلے بھی تو مسلم ہی تھے ! اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اسلام کا معنی اطاعت ہے اور یہ اطاعت میں زیادتی کی دعا ہے یعنی ہم کو اور زیادہ مطیع اور فرمانبردار کر دے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ اطاعت اور فرمانبرداری میں دوام کے حصول کی دعا ہے ‘ یعنی جس طرح ہم اب مطیع ہیں ‘ ہمیں آئندہ بھی اپنا مطیع اور فرمانبردار رکھنا ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ اسلام سے مراد یہاں تمام احکام شرعیہ کو ماننا اور قضاء وقدر کو تسلیم کرنا اور اس پر راضی رہنا ہے ‘ یعنی ہمارے دلوں کو ایسا بنادے کہ احکام شرعیہ پر عمل کرنے کے خلاف دل میں کوئی تنگی نہ آئے اور قضاء وقدر کے معاملات کے خلاف دل میں کوئی ملال نہ آئے ‘ چوتھا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد صرف تسمیہ ہے یعنی ہمارا نام مسلم کر دے۔

اپنی اولاد کے لیے دعا کی تخصیص کا جواب :

دوسرا سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے لیے خصوصا دعا کیوں کی عام لوگوں کے لیے دعا کیوں نہیں فرمائی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اولاد شفقت اور مصلحت کی زیادہ مستحق ہوتی ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا قوا انفسکمواھلیکم نارا “۔ (التحریم : ٦)

ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے بچاؤ۔

نیز جب انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد نیک اور صالح ہوگی تو وہ دوسرے لوگوں کی نیکی اور خیر کا بھی ذریعہ بنے گی ‘ اس دعا پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل کی ذریت میں سے کوئی عرب مسلمان نہیں تھا۔

امام رازی اس کے جواب میں لکھتے ہیں :

قفال نے کہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل کی ذریت میں ہمیشہ موحد رہے ہیں جو صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے ‘ زمانہ جاہلیت میں زید بن عمرو بن نفیل اور قس بن ساعدہ تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جدامجد حضرت عبدالمطلب بن ہاشم بھی موحد تھے ‘ اسی طرح عامر بن الظرب تھے۔ یہ سب موحد تھے ‘ قیامت اور ثواب اور عقاب کے قائل تھے ‘ مردار کھاتے تھے نہ بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٤٨١ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) نے کہا : اور ہم کو ہمارے مناسک دکھا۔ (البقرہ : ١٢٨)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مناسک حج کی تعلیم کا بیان :

شریعت میں ” منسک “ عبادت کا نام ہے ‘ اور یہاں ” مناسک “ سے مراد حج کی عبادات ہیں۔

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

زبیر بن محمد سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کعبہ کو بنانے سے فارغ ہوگئے تو دعا کی : اے رب ! میں اس کو بنانے سے فارغ ہوگیا ‘ اب ہم کو ہماری عبادات بتا ‘ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کو بھیجا اور انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ حج کیا ‘ حتی کہ جب وہ میدان عرفات سے لوٹے اور یوم نحر (دس ذوالحجہ) آیا تو شیطان ظاہر ہوا ‘ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا : اس کو کنکریاں مارئیے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو سات کنکریاں ماریں ‘ پھر اللہ تعالیٰ پھر دوسرے اور تیسرے روز ‘ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ثبیر (مکہ اور منی کے درمیان ایک پہاڑ) پر چڑھے ‘ اور فرمایا : اے اللہ کے بندو ! جواب دو ‘ تو جس شخص کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی ایمان تھا اس نے کہا : لبیک اللہم لبیک “ اور روئے زمین پر ہمیشہ کم از کم سات آدمی مسلمان رہے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین اور زمین والے ہلاک ہوجاتے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تمام مناسک دکھائے صفا ‘ مروہ ‘ منی اور مزدلفہ وغیرہ۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ١٢٩۔ ١٢٨ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 127