اللہ اکبر کے فلسفیانہ معنی

اللہ اکبر کے لغوی معنی یہ ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “سب” اور “بڑا” سے کیا مراد ہے؟

“سب” سے کچھ بھی مراد لیا جا سکتا ہے، مثلا پوری کائنات، اس صورت میں اللہ اکبر کا معنی یہ ہو گا کہ اللہ کائنات سے بڑا ہے! لیکن یہ معنی درست نہیں! کیونکہ کائنات ایک مادی وجود ہے، اگر کوئی وجود اس سے بڑا کہلائے تو مطلب یہ ہو گا کہ وہ وجود بھی مادی ہو گا، کیونکہ اگر وہ مادی نہ ہو تو پھر تو تقابل ہی درست نہیں۔

اللہ کس حساب سے “سب ” سے بڑا ہے؟ کیا وہ لمبائی میں سب سے بڑا ہے یا چوڑائی میں، موٹائی میں یا حجم میں؟ ان میں سے کوئی بھی جواب درست نہیں کیونکہ ہر جواب سے یہ لازم آئے گا کہ اللہ کا کوئی جسم ہے جو کہ اپنے مد مقابل سے بڑا ہے۔ اس صورت میں خدا، خدا ہی نہیں رہ جائے گا کیونکہ اس پر حدود و قیود لگ جائیں گی جبکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا ہر قید و حد سے پاک ہے۔

تو پھر اللہ اکبر کے معنی کیا ہیں؟

اللہ اکبر کے درست اور حتمی معنی تو اللہ اور اس کے حبیبﷺ کو ہی معلوم ہیں البتہ اللہ اکبر کے فلسفیانہ معنی یہ ہیں کہ “اللہ وہ ہے جس سے بڑا کوئی وجود انسان کی قوت خیال سے باہر ہو۔”یعنی اللہ وہ ہے کہ جس سے بڑا کوئی وجود انسان تصور نہ کر سکتا ہو۔

آپ کوئی بھی ایسا “خالص تصورPure Concept-” تصور میں نہیں لا سکتے کہ جو خدا کے تصور سے بڑا ہو۔ گویا سب سے بڑا خالص تصور خدا کا ہے۔ یہ تو ہوئی ایک بات،

دوسری اہم بات یہ ہے کہ انسان کوئی ایسا خالص تصور خیال میں نہیں لا سکتا جو خارج میں موجود نہ ہو، پھر چونکہ خدا کا خالص تصور ہر انسان رکھتا ہے، چاہے وہ خدا کا منکر ہی کیوں نہ ہو، پس ثابت ہوا کہ خدا موجود ہے۔ (یہ بارہویں صدی کے عیسائی پادری سینٹ انسلم کی وجودیاتی دلیل ہے)

الحاصل یہ کہ سینٹ انسلم کی وجودیاتی دلیل میرے نزدیک اللہ اکبر کے فلسفیانہ معانی کی تشریح ہے۔ تفصیلات کیلئے دیکھئے سینٹ انسلم کی کتاب Proslogion

بشکریہ فیصل ریاض شاہد صاحب