غازی کون مہاجر کون

حدیث نمبر :32

بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت فضالہ کی روایت ۱؎ سے یہ زیادتی کی کہ غازی وہ جو اﷲ کی فرمانبرداری میں اپنے نفس سے مشقت لے ۲؎اور سچا مہاجر وہ جو خطا و گناہ چھوڑ دے۳؎

شرح

۱؎ فضالہ ابن عبید اوسی انصاری ہیں،یہ حضور کے غلام ہیں،احد اور اس کے بعد تمام غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،بیعت رضوان میں شریک تھے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شام کے جہادوں میں شریک رہے،دمشق میں قیام کیا،امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں وہاں کے قاضی رہے، ۵۳ ھ؁ میں وہیں وفات پائی(از مرقاۃ و اشعہ)

۲؎ کیونکہ ہمارا بدترین دشمن اور مارآستین ہمارا نفس ہے،کفار کو مارنا آسان نفس ناہنجار کو مارنا مشکل،مولانا فرماتے ہیں؂

سہل شیر ے وانکہ صفہا بشکند شیرآں باشد کہ خودر بشکند

۳؎ کیونکہ وطن جسم کا دیس ہے اور گناہ نفس امّارہ کا دیس وطن عمر میں ایک بار چھوڑنا پڑتا ہے اور یہ ہر لحظہ،یہاں خطا سے مراد چھوٹے گناہ ہیں اور ذنوب سے مراد بڑے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.