بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَوَصّٰى بِهَآ اِبۡرٰهٖمُ بَنِيۡهِ وَ يَعۡقُوۡبُؕ يٰبَنِىَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَـكُمُ الدِّيۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَؕ

اور اسی ملت کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی ‘ اور یعقوب نے (بھی) اے میرے بیٹو ! بیشک اللہ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند کرلیا ‘ پس تم تادم مرگ مسلمان رہنا

حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کے بیٹوں کی سوانح :

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے ‘ ان کی ماں ہاجرہ قبطیہ تھیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کی شیر خوارگی میں مکہ لے آئے ‘ یہ اپنے بھائی حضرت اسحاق سے چودہ سال بڑے تھے ‘ جس وقت حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی وفات ہوئی تو ان کی عمر ایک سو سینتیس (١٣٧) سال تھی ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وفات کے وقت ان کی عمر نواسی (٨٩) سال تھی ‘ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہی ذبیح اللہ ہیں۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی والدہ سارہ ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ ذبیح ہیں (علامہ قرطبی کے نزدیک حضرت اسحاق ہی ذبیح ہیں لیکن ہمیں اس سے اختلاف ہے ‘ انشاء اللہ سورة الصافات میں یہ بحث آئے گی) ان کی اولاد بنی اسرائیل ہیں ‘ حضرت اسحاق کی عمر ایک سو اسی (١٨٠) سال تھی ‘ یہ ارض مقدسہ میں فوت حضرت ابرہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے پاس دفن کیے گئے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ حضرت سارہ فوت ہوگئیں تو انہوں نے قطنورا بنت یقطن کنعانیہ سے شادی کرلی اور ان سے مدین ‘ مداین ‘ نہشان ‘ زمران ‘ نشیق اور شیوخ پیدا ہوئے ‘ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فوت ہوگئے ان کی وفات اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیدائش کے درمیان تقریبا تین ہزار سال کا عرصہ ہے۔ یہود اس مدت سے چار سو سال کم کرتے ہیں ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کا ذکر انشاء اللہ سورة یوسف میں آئے گا ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے جدامجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وفات کے بعد پیدا ہوئے ‘ اور جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اسی طرح اپنے بیٹوں کو وصیت کی ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ایک سو سینتالیس (١٤٧) سال زندہ رہے اور مصر میں فوت ہوئے آپ نے وصیت کی تھی کہ آپ کو ارض مقدسہ میں لے جایا جائے اور وہاں آپ کے باپ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پاس دفن کیا جائے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آپ کو ان کے پاس دفن کیا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ١٣٦۔ ١٣٥ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا تم اس وقت حاضر تھے جب یعقوب (علیہ السلام) کو موت آئی ؟۔ (البقرہ : ١٣٢)

یہود یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے ان کے دین پر تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ کیا تم یعقوب کی موت کے وقت حاضر تھے اور کیا تم کو معلوم ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو کیا وصیت کی تھی ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے تو اپنے اپنے بیٹوں کو اسلام پر ثابت رہنے اور توحید پر قائم رہنے کی وصیت کی تھی۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ امت گزر چکی ہے ‘ اس نے جو کام کیے اس کے لیے ان کا بدلہ ہے اور تم نے جو کام کیے تمہارے لیے ان کا بدلہ ہے۔ (البقرہ : ١٣٤)

جبریہ اور قدریہ کے نظریہ کا رد :

اس آیت میں یہ بتایا کہ بندہ کے عمل اور کسب کی اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے ‘ اگرچہ بندہ کے افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور جو نیک کام ہیں وہ اللہ کے فضل سے ہوتے ہیں اور جو برے کام ہیں وہ بندہ کے اپنے نفس کی شامت ہیں ‘ اہل سنت و جماعت کا یہی مذہب ہے ‘ قرآن مجید کی بہت سی آیات اور بہت سی احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں ‘ بندہ صرف کسب کرتا ہے اور کسب کا معنی ہے : کسی فعل کا ارادہ کرنا خواہ وہ اچھا ہو یا برا اور جس وقت بندہ ارادہ کرتا ہے اللہ اسی وقت اس میں اس فعل کی قدرت پیدا کردیتا ہے اس لیے یہ کہا جاتا ہے کہ بندہ فعل کا کسب کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ فعل کو خلق کرتا ہے۔ اس کے برعکس جبریہ یہ کہتے ہیں : بندہ کا فعل میں کوئی دخل نہیں اور اس کو فعل پر کوئی قدرت اور اختیار نہیں جیسے درختوں کے پتے ہواؤں سے اپنے اختیار کے بغیر ہل رہے ہیں اسی طرح بندہ اپنے اختیار کے بغیر افعال کررہا ہے لیکن یہ بداھۃ باطل ہے ‘ ہم اپنے اختیار سے کسی کام کو کرتے ہیں یا ترک کرتے ہیں ‘ جس شخص پر رعشہ طاری ہو اس کے اختیار نہ ہو تو انبیاء (علیہم السلام) کو دنیا میں بھیجنا ‘ قیامت اور جزا اور سزا کا نظام عبث ہو کر رہ جائے گا ‘ معتزلہ اور قدریہ یہ کہتے ہیں کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے اور یہ قرآن مجید کی اس آیت کے صراحۃ خلاف ہے :

(آیت) ” واللہ خلقکم وما تعملون “۔۔ (الصافات : ٩٦)

ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کاموں کے متعلق تم سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔۔ (البقرہ : ١٣٤)

کسی کے گناہ کی سزا دوسرے کو نہ دینا :

یعنی کسی شخص کے گناہ کی وجہ سے دوسرے شخص سے مواخذہ نہیں ہوگا ‘ اور اسی کی مثل قرآن مجید کی یہ آیت ہے :

(آیت) ” ولا تزروازرۃ وزر اخری “۔ (الزمر : ٧)

ترجمہ : اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

یہاں پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ایک حدیث اس آیت کے خلاف ہے ؟ امام بخاری حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بھی ظلما قتل کیا جائے گا اس کے خون (کی سزا) کا ایک حصہ آدم کے بیٹے (قابیل) پر ہوگا کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کا طریقہ ایجاد کیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٦٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بعد کے قاتلوں کو عذاب نہیں ہوگا اور ان کے گناہ کا عذاب قابیل کو ہوگا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قاتل کو اپنے گناہ کی پوری پوری سزا ملے گی ‘ لیکن ظلما قتل کرنے کو قابیل نے ایجاد کیا تھا ‘ لہذا ہر قتل کا سبب قابیل قرار پایا اور قیامت تک جتنے بھی قتل ہوں گے سب کے قتل کا سبب ہونے کی سزا قابیل کو ملے گی اور ان قاتلوں کو اپنی سزا میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اس کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے :

امام مسلم حضرت ابن جریر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی برے کام کو ایجاد کیا اس پر اپنی برائی کا بھی بوجھ ہوگا اور اس کے بعد اس برائی پر عمل کرنے والوں کو بھی بوجھ ہوگا اور ان برائی کرنے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٣٢٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٤ ص ‘ ٣٥٧ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اس مسئلہ کی وضاحت اس حدیث سے بھی ہوتی ہے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) پر قاتلانہ وار کیے گئے تو حضرت صہیب (رض) روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے : ہائے میرے بھائی ! ہائے میرے صاحب ! حضرت عمر (رض) نے کہا : اے صہیب ! تم مجھ پر رو رہے ہو حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : میت کے گھر والوں میں سے کسی کے رونے سے اس میت کو عذب ہوتا ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : جب حضرت عمر (رض) فوت ہوگئے تو میں نے حضرت عائشہ (رض) سے اس حدیث کا ذکر کیا ‘ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت عمر (رض) پر رحم فرمائے ‘ بہ خدا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ میت کے گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے ‘ اور تمہارے لیے قرآن مجید کی یہ آیت کافی ہے : (آیت) ” ولا تزر وازرۃ اخری “۔ (الزمر : ٧) (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٧٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام بخاری (رح) نے لکھا ہے کہ اگر میت نے یہ وصیت کی ہو کہ اس پر نوحہ کیا جائے تو پھر گھر والوں کے رونے سے اس کو عذاب ہوگا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٧١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

قرآن اور حدیث کی بناء پر اکابر علماء سے اختلاف کرنے کا جواز :

حضرت عمر (رض) یہ کہتے تھے کہ میت پر گھر والوں کے رونے سے اس میت کو عذاب ہوگا اور حضرت عائشہ (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) کے سامنے اس کا قرآن مجید سے رد کیا (صحیح بخاری) حالانکہ حضرت عمر (رض) دوسرے خلیفہ راشد ہیں اور ان کا مرتبہ حضرت عائشہ (رض) سے بڑا ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ دلیل کے ساتھ اکابر علماء سے اختلاف کرنا جائز ہے۔ اسی طرح حضرت عمر (رض) اور عثمان (رض) حج تمتع کرنے سے منع کرتے تھے اور حضرت علی (رض) ‘ حضرت عمران بن حصین وغیرہما ان سے اختلاف کرتے تھے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حج تمتع کرنا ثابت ہے۔

امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :

مروان بن الحکم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان (رض) اور حضرت علی کے زمانہ میں حاضر تھا ‘ حضرت عثمان تمتع کرنے سے منع کر رہے تھے ‘ حضرت علی (رض) نے یہ دیکھا تو حضرت علی (رض) نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا اور فرمایا : میں کسی شخص کے قول کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو ترک نہیں کروں گا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢١٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :

سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ شام کے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے تمتع کے متعلق سوال کیا ‘ انہوں نے کہا : یہ حلال ہے ‘ شامی نے کہا : آپ کے باپ (حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ) اس سے منع کرتے تھے ! حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : یہ بتاؤ کہ اگر میرے باپ نے تمتع سے منع کیا ہو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمتع کیا ہو تو میرے باپ کے حکم پر عمل کیا جائے گا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقہ پر عمل کیا جائے گا ؟ اس شخص نے کہا : بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقہ پر عمل کیا جائے گا ‘ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : تو بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمتع کیا ہے ‘ امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ١٤١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت علی ‘ حضرت عمران بن حصین اور حضرت ابن عمر علم وفضل اور مرتبہ ومقام میں حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) سے کم درجہ کے تھے لیکن انہوں نے دلائل کی بناء پر اپنے سے بڑے درجہ کے صحابہ سے اختلاف کیا اور ان کا رد کیا اور اس چیز کو ان کے مرتبہ کی خلاف ورزی یا بےادبی نہیں سمجھا گیا ‘ آج اگر قرآن اور حدیث کی بناء پر کسی مشہور عالم سے اختلاف کیا جائے تو اس کے معتقدین کہتے ہیں کہ ان کو قرآن اور حدیث کا علم نہیں تھا ؟ کیونکہ خیر القرون میں لوگ اس قدر غلو کا شکار نہیں تھے اور کسی شخص کی رائے اور اس کے قول کو قرآن اور حدیث پر فوقیت نہیں دیتے تھے۔

حضرت عمر (رض) جنبی کے لیے تیمم کو جائز نہیں قرار دیتے تھے ‘ حضرت عمار بن یاسر (رض) نے ایک حدیث کی بناء پر ان سے اختلاف کیا۔

امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :

عبدالرحمان بن ابزی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آکر حضرت عمر (رض) سے پوچھا : میں جنبی ہوگیا اور مجھے پانی نہیں ملا ‘ حضرت عمار بن یاسر نے حضرت عمر بن الخطاب سے کہا : کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ ایک سفر میں تھے ‘ ہم دونوں جنبی ہوگئے ‘ آپ نے تو نماز نہیں پڑھی اور میں زمین پر لوٹ پوٹ ہوگیا اور میں نے نماز پڑھ لی ‘ پھر میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں اس طرح کرلینا کافی تھا ‘ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہتھیلیاں زمین پر ماریں ‘ ان پر پھونک ماری اور چہرے اور ہاتھوں پر تیمم کیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور حضرت ابو موسیٰ (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ حضرت ابوموسی (رض) نے حضرت ابن مسعود (رض) سے پوچھا : جب ایک شخص جنبی ہو اور اس کو پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے ؟ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : جب تک پانی نہ ملے وہ نماز نہ پڑھے ‘ حضرت ابوموسی (رض) نے کہا : پھر آپ حضرت عمار (رض) کی حدیث کا کیا جواب دیں گے ؟ حضرت ابن مسعود (رض) نے کہا : کیا تم کو معلوم نہیں کہ حضرت عمران کی روایت سے مطمئن نہیں تھے ؟ حضرت ابوموسی (رض) نے کہا : اچھا حضرت عمار (رض) کی حدیث کو چھوڑیں آپ اس آیت کا کیا جواب دیں گے : (آیت) ” اولمستم النسآء فلم تجدوا مآء فتیمموا “ (المائدہ : ٦)

” جب تم جنبی ہوجاؤ اور پانی نہ ملے تو تیمم کرو ‘۔ “ حضرت ابن مسعود (رض) کو اس آیت کا کوئی جواب نہ آیا ‘ پھر وہ کہنے لگے : اگر میں لوگوں کو اس کی اجازت دے دوں تو جس کو سردی لگے گی وہ غسل کی جگہ تیمم کرلے گا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٥٠‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس مسئلہ میں بھی جمہور امت نے حضرت عمر (رض) کے قول اور حضرت ابن مسعود (رض) کی رائے پر عمل نہیں کیا بلکہ قرآن اور حدیث پر عمل کیا ہے۔

بعض جمود لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ صحابہ سب مجتہد تھے ‘ ان کا ایک دوسرے سے اختلاف جائز ہے ‘ ہم مقلد ہیں ‘ ہمارا ائمہ اور اکابر علماء سے اختلاف جائز نہیں ‘ میں کہتا ہوں کہ دلائل کی بناء پر ہمارے فقہاء نے امام ابوحنیفہ (رح) سے بھی اختلاف کیا ہے ‘ مثلا علامہ ابن نجیم نے لکھا ہے کہ امام ابو حنفیہ (رح) کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنا مکروہ ہے خواہ وہ متفرق رکھے جائیں یا متصلا اور امام ابو یوسف کے نزدیک یہ روزے متصلا رکھنا مکروہ ہیں لیکن عام متاخرین کے نزدیک ان میں کراہت نہیں ہے (البحرالرائق ج ٢ ص ٢٥٨‘ مطبوعہ مطبع علمیہ ‘ مصر ١٣١١ ھ)

اور علامہ شرنبلالی نے لکھا ہے کہ شوال کے چھ روزے رکھنے مستحب ہیں کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے رمضان کے بعد متصل چھ روزے رکھے اس کو دائما روزہ رکھنے کا اجر ملے گا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٦٩) (مراقی الفلاح ص ٣٨٧‘ مطبوعہ مطبع مصطفیٰ البابی واولادہ ‘ مصر ١٣٥٦ ھ)

اسی طرح عقیقہ کو امام ابوحنفیہ (رح) نے مباح کہا ہے لیکن ہمارے فقہاء نے حدیث کی بناء پر کہا : یہ سنت ہے اور کار ثواب ہے ‘ بہرحال قرآن اور حدیث سب پر مقدم ہیں اور قرآن اور حدیث کے دلائل کی وجہ سے اکابر علماء سے اختلاف کرنا جائز ہے اور میری زندگی کا یہی مشن ہے کہ قرآن اور حدیث کی بلادستی بیان کروں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 132