حکایت نمبر15: جس دن قدم پھسل رہے ہوں گے

حضرت سیدنافضیل بن عیاض علیہ رحمۃاللہ الوھّاب کی خلیفۃ المسلمین ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجیدکو نصیحت

فضل بن ربیع کابیان ہے:”جب خلفیۃ المسلمین ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجیدحج ادا کرنے کے لئے مکۃالمکرمہ آئے، تو ان دنوں مَیں اپنے گھرہی میں موجود تھا۔اچانک مجھے اطلاع ملی کہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجید میرے پا س تشریف لارہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی میں فوراً حاضرخدمت ہو ااور عرض کی:”حضور!آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ نے کیوں زحمت فرمائی ، مجھے پیغام بھجوا دیا ہوتا میں خود ہی حاضرہوجاتا ۔”

خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجیدنے فرمایا:” اے ابن ربیع ! میرے دل میں ایک بات کھٹک رہی ہے،تم جلدی سے مجھے کسی ایسے بزرگ کے پاس لے چلو جو میری مشکل کو آسان کر دے، کیا تمہاری نظرمیں کوئی ایسا شخص ہے؟”میں نے کہا:” جی ہاں!حضرت سیدنا سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مکہ مکرمہ میں موجود ہیں۔ ”خلیفہ نے کہا :”مجھے فوراً ان کے پاس لے چلو۔”

چنانچہ ہم ان کے گھر پہنچے اور میں نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔اندرسے آوازآئی: ”کون ہے؟”میں نے کہا :”خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجید تشریف لائے ہیں۔ جلدی سے حاضرخدمت ہوجاؤ۔ہارون الرشید کانام سنتے ہی حضرت سیدنا سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فوراًباہرآئے اور کہا:” حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تکلیف کیوں کی؟” مجھے حکم نامہ بھیجا ہوتا میں خود ہی حاضر ہوجاتا۔”خلیفہ نے کہا :”اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے۔ہم جس مقصد کے لئے آئے ہیں اس کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے۔” پھرخلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجیدنے ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا اور دیرتک ان سے باتیں کرتے رہے۔ 

پھران سے پوچھا:” کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر کسی کا قرض ہے؟” کہا:”جی ہاں! میں مقروض ہوں۔” خلیفہ نے فرمایا:” اے عباس ! ان کا قرض ادا کر دینا۔”پھرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے لے کر وہاں سے آگے چل دیئے اور فرمایا: ”میں ان سے مطمئن نہیں ہو ا، مجھے کسی اور بزرگ کے پاس لے چلو۔” 

میں نے عرض کی:”حضرت سیدنا عبدالرزاق ابن ہمام علیہ رحمۃاللہ المنّان کے پاس چلتے ہیں۔”فرمایا:”جلدی کرو،چنانچہ ہم ان کے گھرپہنچے اوردروازہ کھٹکھٹایا، اندرسے آواز آئی:” کون ہے ؟”میں نے کہا:”جلدی باہر تشریف لائیے، خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجید آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ملنے آئے ہیں۔” یہ سنتے ہی حضرت سیدناعبدالرزاق ابن ہمام علیہ رحمۃاللہ المنّان باہر تشریف لائے ،اور کہنے لگے:” حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کیوں زحمت فرمائی ، مجھے پیغام بھیجا ہوتا میں خود حاضر ہو جاتا۔” خلیفہ نے کہا:” اللہ عزوجل آپ پررحم فرمائے،ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس ایک مقصد لے کر حاضر ہوئے ہیں، ہماری پریشانی دور فرمادیجئے۔”

پھرخلیفہ نے ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا،اور کچھ دیران سے باتیں کرتے رہے۔پھرفرمایا:” کیا تم پر کسی کا قرض ہے ؟” انہوں نے جواب دیا:”جی ہاں۔” خلیفہ نے کہا:” اے عباس ان کا قرض ادا کردینا ۔”یہ کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آگے بڑھے، اورمجھ سے فرمانے لگے:”ان کے پاس آنے سے بھی میرا مسئلہ حل نہیں ہوا، اے ابن ربیع ! مجھے کسی بہت کا مل بزرگ کی بارگاہ میں لے چلو۔”

میں نے عرض کی:” حضور!اب ہم حضرت سیدنا فضیل بن عیاض علیہ رحمۃاللہ الوھاب کی بارگاہ میں چلتے ہیں ۔”(وہاں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مسئلہ ضرورحل ہوجائے گا) خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجیدنے فرمایا: ”ٹھیک ہے ،انہیں کی بارگاہ میں چلتے ہیں۔”

چنانچہ ہم ان کے گھرپہنچے دیکھا تو وہ نماز میں مشغول تھے اوربار بار قرآن پاک کی کسی آیت کو پڑھ رہے تھے۔ میں نے دروازہ پردستک دی، اندرسے پوچھا گیا: ”کون ہے ؟”میں نے کہا:” حضور!باہر تشریف لائیں،خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجید آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ملناچاہتے ہیں۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا: ”مجھے امیرالمؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کیا غرض ؟ اورانہیں مجھ سے کیا کام ہے ؟”میں نے کہا:”سبحان اللہ عزوجل! کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علی ہپرامیرکی اطا عت واجب نہیں؟ کیاآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضور نبی رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی یہ حدیث پاک نہیں سنی کہ” مؤمن کے لئے یہ جائز نہیں کہ اپنے آپ کو ذلت میں ڈالے۔”

(جامع الترمذی، ابواب الفتن، باب لا یتعرض من البلاء لما لا یطیق، الحدیث:۲۲۵۴،ص۱۸۷۹)

فرمانِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سنتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نیچے تشریف لے آئے اور چراغ بجھا دیا پھرکمرے کے ایک کونے میں جاکر چھپ گئے۔ ہم کمرے میں داخل ہوئے اورآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ڈھونڈنے لگے ۔ اچانک خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجید کی ہتھیلی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے جسم سے لگی۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمانے لگے:” اے امیرالمؤمنین! رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کی ہتھیلی کتنی نرم ونازک ہے ،اے کاش! یہ جہنم کی آگ سے بچ جائے۔” یہ سن کر میں نے دل میں کہا :” آج آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خوب وعظ ونصیحت فرمائیں گے اور امیر المؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے (خوف خدا عزوجل) کے متعلق خوب کھل کر بات کریں گے۔ ”
پھر خلیفہ ہارو ن الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجیدنے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی: ”حضور! ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بار گاہ میں ایک مسئلہ لے کر حاضر ہوئے ہیں، خدارا! ہمارا مسئلہ حل فر ما دیجئے تاکہ میرے بیقراردل کوقرار آ جائے۔”
توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” جب حضرت سیدنا عمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ العزیزخلیفہ بنے توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سیدناسالم بن عبداللہ، حضرت سیدنا محمدبن کعب قرظی اورحضرت سیدنارجاء بن حیوٰۃ رحمھم اللہ تعالیٰ کو اپنے پاس بلایا اور ان سے کہنے لگے :”میں تو اس خلافت کی وجہ سے سخت مصیبت میں گر فتار ہوگیا ہوں، مجھے امورِ خلافت کے بارے میں کچھ مشورہ دیجئے۔”
پھرحضرت سیدنافضیل بن عیاض رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”اے امیر المؤمنین!دیکھئے !حضرت سیدناعمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز نے خلافت کو مصبیت سمجھا لیکن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اورآپ کے ساتھی اسے نعمت سمجھتے ہیں۔”
اے امیرالمؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ!جب حضرت سیدناعمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز نے ان حضرات سے مشورہ لیا توحضرت سیدنا سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”اے عمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز ! اگر تو اللہ عزوجل کے عذاب سے بچنا چاہتا ہے تو مسلمانوں میں سے جو بزرگ ہیں، ان کی عزت اپنے باپ کی طرح کر، اورجودرمیانی عمرکے ہیں انہیں اپنے بھائیوں کی طرح جان،اورجوتجھ سے عمر میں چھوٹے ہیں انہیں اپنی اولاد کی طرح سمجھ ۔”
حضرت سیدنا رجاء بن حیوٰۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”اے عمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز !اگرتوعذابِ الٰہی عزوجل سے بچنا چاہتا ہے تومسلمانوں سے محبت کر، اوران کے لئے بھی وہی پسند کر جواپنے لئے پسند کرتا ہے تو دُنیا وآخرت میں مامون رہے گا ۔”
اس کے بعدحضرت سیدنافضیل بن عیاض علیہ رحمۃاللہ الوھاب نے فرمایا: ”اے خلیفہ! میں بھی تجھے سمجھا رہا ہوں اور میں تیرے بارے میں اس دن کی سختی سے شدید خوف زدہ ہوں ”جس دن قدم پھسل رہے ہوں گے۔” ذرا سوچ! کیا وہاں تجھے کوئی مشورہ دینے والا ہوگا؟ کیا وہاں تیرے وزیر ،مشیرتیراساتھ دیں گے؟
؎ نہ بیلی ہوسکے بھائی، نہ بیٹا باپ تے مائی
توکیوں پھرتا ہے سودائی، عمل نے کام آناہے
یہ سن کر خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ العزیز اتنا رو ئے کہ ان پرغشی طاری ہو گئی۔ میں نے کہا :”حضور !خلیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر کچھ نرمی فرمایئے ۔”توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :”اے ربیع !میں ان پر نرمی ہی توکررہا ہوں جبھی تو ایسی باتیں کی ہیں۔ اے ابن ربیع ! حقیقت تو یہ ہے کہ تو اور تیرے دوستوں نے تو خلیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بربادکردیا ہے۔ 

جب خلیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوکچھ افاقہ ہو ا تو فرمایا:”اللہ عزوجل آپ پررحم فرمائے ،مجھے کچھ اور نصیحت فرمائیے ۔”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :اے امیر المؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ !مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت سیدنا عمربن عبدالعزیزعلیہ رحمۃاللہ العزیز کے ایک گورنرنے شکایت کی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے خط بھیجا جس میں لکھا تھا:

” میں تجھے جہنمیوں کی اس شدید بے چینی وبے آرامی سے ڈراتا ہوں جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوگی۔ خبر دار!ایسے کاموں سے کوسوں دور بھاگنا جوتجھے اللہ عزوجل کی یادسے دور کردیں۔ یاد رکھ !آخری لمحات میں امید یں ختم ہوجائیں گی۔ ”

جب اس گو رنر نے یہ خط پڑھا تو فوراً حضرت سیدنا عمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز کی طرف چل دیا۔جب وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس پہنچا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے پوچھا:” تجھے کس چیزنے یہاں آنے پرمجبورکیا ؟”اس نے عرض کی:” حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خط نے میرا دل پارہ پارہ کر دیا ہے ،اب میں کبھی بھی گورنر کا عہدہ قبول نہیں کروں گا یہاں تک کہ مجھے موت آجائے۔” یہ سن کر خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجیدپھرزورزورسے رونے لگے ،اورفرمایا: اے فضیل بن عیاض رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ !اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے،مزیدکچھ نصیحت فرمائیے۔”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”اے امیرالمؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ!جب ہمارے پیارے آقا، دو عالم کے داتا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پیارے چچاحضرت سیدناعباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی:”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مجھے کسی شہر کا حاکم بنا دیں تو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ”بے شک امارت (یعنی حکومت) حسرت وندامت ہے ، اگرتجھ سے ہوسکے تو کبھی بھی (کسی پر)امیرنہ بننا ۔”

(سنن النسائی،کتاب آداب القضاۃ، باب النھی عن مسألۃ الامارۃ، الحدیث:۵۳۸۷،ص۲۴۳۱)

(حلیۃ الاولیاء، الفضیل بن عیاض، الحدیث:۱۱۵۳۶، ج۸، ص۱۰۹)

خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجیدیہ سن کر پھررونے لگے، اور عرض کی: ”اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، مزید کچھ ارشاد فرمائیں ۔”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” اے حسین وجمیل چہرے والے! یاد رکھ! کل بروز ِقیامت اللہ عزوجل تجھ سے مخلوق کے بارے میں سوال کریگا ۔اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا یہ خو بصورت چہرہ جہنم کی آگ سے بچ جائے تو کبھی بھی صبح یاشام اس حال میں نہ کرناکہ تیرے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کینہ یا عداوت ہو۔ بے شک رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرورہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا۔”

(حلیۃ الاولیاء، الفضیل بن عیاض، الحدیث۱۱۵۳۶،ج۸،ص۱۱۰)

خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجید رونے لگے ،اور عرض کی :”حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پرکسی کا کوئی قرض وغیرہ ہے ؟ ‘  توآپ نے فرمایا:” جی ہاں! میرے پروردگار عزوجل کا مجھ پر قرض ہے ، لیکن اس نے ابھی تک میرا محاسبہ نہ کیا۔ اگر اس نے مجھ سے سوال کرلیایا میرا حساب لے لیا تو میرے لئے ہلاکت ہوگی ، اوراگر مجھے جواب دینے کی تو فیق نہ دی گئی تو میری تباہی وبر بادی ہے۔” خلیفہ نے کہا :”حضور! میری مراد یہ ہے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر کسی بندے کا توکوئی قرض وغیرہ نہیں ؟”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” میرے رب عزوجل نے مجھے اس کا حکم نہیں دیا۔بے شک مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کی اطاعت کرو ں، اور اس کا مخلص بندہ بن جاؤں ۔” اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ ﴿56﴾مَاۤ اُرِیۡدُ مِنْہُمۡ مِّنۡ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیۡدُ اَنۡ یُّطْعِمُوۡنِ ﴿57﴾ اِنَّ اللہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیۡنُ ﴿58﴾ (پ 27،الذٰریٰت : 56تا8 5 )

ترجمہ کنزالایمان:اورمیں نے جنّ اور آدمی اتنے ہی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں۔ میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتااورنہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانادیں۔بے شک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا،قوت والا،قدرت والا ہے۔ 

حضرت سیدنا فضیل بن عیاض علیہ رحمۃاللہ الوھاب کی نصیحت آموز باتیں سن کرخلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کے دل پر بہت گہرااثر ہوا۔پھر خلیفہ نے ایک ہزار دینار آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دیتے ہوئے عرض کی:” حضور! یہ حقیر سا نذرانہ قبول فرمالیں، انہیں اپنے اہل وعیال پر خرچ کریں اور ان کے ذریعے عبادت پر قوت حاصل کریں۔” 

یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” سبحان اللہ عزوجل! میں تجھے نجات کا راستہ بتارہاہوں اور تو اس کے صلہ میں مجھے یہ( حقیر) دولت دے رہاہے۔اللہ عزوجل تجھے نیک اعمال کی تو فیق دے،اورتجھے سلامت رکھے۔ ”

ٍ پھرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خاموش ہوگئے ، اور ہم سے کوئی کلام نہ فرمایا۔ فضل بن ربیع کہتے ہیں: پھر ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس سے اٹھ کر چلے آئے۔جب ہم دروازے پر پہنچے توخلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے مجھ سے کہا :”اے عباس !جب بھی مجھے کسی کے پاس لے جانا چاہو تو ایسے ہی پاکباز اولیاء کرا م کے پاس لے جایا کرو،بے شک ایسے لوگ ہی مسلمانوں کے سردار ہیں ۔”

ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ حضرت سیدنا فضیل بن عیاض علیہ رحمۃاللہ الوھاب کے اہلِ خانہ میں سے ایک عورت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: ” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جانتے ہی ہیں کہ ہم کیسے تنگ حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہوہ رقم قبول کرلیتے تو اس میں کیا حرج تھا،ہمارے حالات کچھ بہتر ہوجاتے۔” تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس عورت سے فرمایا: ”میری اور تم لوگو ں کی مثال اس قوم کی سی ہے کہ جن کے پاس اونٹ ہو اور وہ اس کے ذریعے روزی حاصل کرتے ہوں پھرجب وہ اونٹ بوڑھا ہوجائے تو اسے ذبح کر لیں، اور اس کا گو شت کھالیں ۔ خلیفہ ہارو ن الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی گفتگو سنی تو مجھ سے کہا :”آؤ! ہم دوبارہ انہیں مال پیش کرتے ہیں، شاید! اب قبول فرما لیں ۔”
جب حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دیکھا کہ ہم دوبارہ آرہے ہیں توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے اٹھے اور جاکر چھت پر بیٹھ گئے ۔”
خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجید بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس چھت پر پہنچ گئے، اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ ہی زمین پر بیٹھ گئے۔پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے گفتگو کرنا چاہی مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔
اتنی دیر میں ایک سیاہ فام لونڈی آئی ۔اور کہنے لگی:” آپ لوگ ساری رات انہیں تنگ کرتے رہے ہیں ،خدارا! اب آپ یہاں سے تشریف لے جائیں،اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے ۔”چنانچہ ہم وہاں سے واپس پلٹ آئے ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)))