صِبۡغَةَ اللّٰهِ ‌ۚ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبۡغَةً وَّنَحۡنُ لَهٗ عٰبِدُوۡنَ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 138

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صِبۡغَةَ اللّٰهِ ‌ۚ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبۡغَةً وَّنَحۡنُ لَهٗ عٰبِدُوۡنَ

تم ان سے کہو :) ہم نے خود کو اللہ کے رنگ میں رنگ لیا ‘ اور اللہ کے رنگ سے اور کس کا رنگ بہتر ہوگا ؟ اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں

” صبغۃ اللہ “ (اللہ کا رنگ) کی تفسیر :

اللہ کے رنگ میں مفسرین کے کئی اقوال ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ کا دین ہے ‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض عیسائی اپنے بچوں کو پیلے رنگ میں رنگتے تھے اور کہتے تھے یہ اس کے لیے تطہیر ہے اور اب وہ عیسائیت میں داخل ہوگیا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ کے رنگ کو طلب کرو اور وہ دین اسلام ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اللہ کے رنگ سے مراد اللہ کی فطرت ہے یعنی جس فطرت اور خلقت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے ‘ اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ کی سنت ہے۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ کے رنگ سے مراد اس کی صفات ہوں اور اللہ کے رنگ میں رنگنے سے مراد یہ ہو کہ بندہ اللہ کی صفات سے متصف ہوجائے یا اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہوجائے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 138

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.