بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡا کُوۡنُوۡا هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰى تَهۡتَدُوۡا ‌ؕ قُلۡ بَلۡ مِلَّةَ اِبۡرٰهٖمَ حَنِيۡفًا ‌ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ

اور اہل کتاب نے کہا : یہودی یا عیسائی ہوجاؤ تو ہدایت پاجاؤ گے ‘ آپ کہیے : (نہیں) بلکہ ہم ابراہیم کی ملت پر ہیں جو باطل سے اعراض کرنے والے تھے ‘ اور مشرکین میں سے نہ تھے

حنیف کا معنی :

امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن صوریا نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : ہدایت صرف ہمارے دین میں ہے ‘ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہماری پیروی کریں تو ہدایت پاجائیں گے ! اور عیسائیوں نے بھی اسی طرح کہا : تب یہ آیت نازل ہوئی : آپ کہیے کہ نہیں بلکہ ہم ابراہیم کی ملت پر ہیں اور جو حنیف ہے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٤٤٢۔ ٤٤٠ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

رضی اللہ تعالیٰ عنہحنیف کے معنی ہیں : مستقیم ‘ یعنی ابراہیم کا دین مستقیم ہے ‘ بعض اہل تاویل نے کہا : حنیف کا معنی ہے : حج کرنے والا ‘ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کو حنیف اس لیے فرمایا کہ وہ اپنے زمانہ سے لے کر قیامت تک کے لیے حج کرنے والوں کے امام ہیں اور بعض علماء نے کہا : حنیف کا معنی اسلام ہے۔

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

جو شخص ٹیڑھے راستے سے انحراف کرکے سیدھے راستے پر چلے وہ حنیف ہے ‘ اہل عرب حج اور ختنہ کرنے والے کو حنیف کہتے تھے کیونکہ وہ ملت ابراہیم پر ہے۔ (المفردات ص ١٣٣‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے مسلمانو ! ) تم کہو : ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور اس پر جو ابراہیم ‘ اسماعیل اسحاق ‘ یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل کیا گیا۔ الایہ۔ (البقرہ : ١٣٦)

تمام انبیاء پر ایمان لانے کی وجہ :

جب یہود اور عیسائیوں نے یہ کہا : تم یہودی ہوجاؤ یا عیسائی ہوجاؤ تو پہلے فرمایا : آپ کہئے کہ نہیں بلکہ ہم ابراہیم کی ملت پر ہیں ‘ اب فرمایا : تم کہو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا الخ ‘ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کی معرفت کی دلیل ان کے صدق پر معجزہ کا ظہور ہے اور جب سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے صدق پر معجزہ ظاہر ہوگیا ‘ تو آپ پر ایمان لانا واجب ہے ‘ اسی طرح باقی انبیاء (علیہم السلام) کی نبوت اور رسالت کی جب قرآن نے شہادت دی تو ان پر بھی ایمان لانا واجب ہوا اور ہم انبیاء (علیہم السلام) میں یہ فرق نہیں کرتے کہ بعض پر ایمان لائیں اور بعض پر ایمان نہ لائیں جس طرح یہود اور نصاری ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لائے۔

باقی انبیاء پر جو نازل کیا گیا اس پر ایمان لانے کے محامل :

اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ابراہیم ‘ اسماعیل ‘ اسحاق ‘ یعقوب اور ان کی اولاد پر جو نازل کیا گیا ہم اس پر بھی ایمان لاتے ہیں ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے جو احکام ان پر نازل کیے گئے ہم ان سب پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین واحد ہے ‘ دین ان عقائد اور ان اصول کو کہتے ہیں جو تمام انبیاء میں مشترک ہیں ‘ مثلا الوہیت ‘ توحید ‘ رسالت ‘ قیامت ‘ مرنے کے بعد اٹھنا ‘ قضا وقدر کا حق ہونا ‘ عبادت کا فرض ہونا ‘ شرک ‘ قتل ناحق اور جھوٹ کا حرام ہونا وغیرہ اور ہر زمانہ کے مخصوص حالات کے اعتبار سے عبادت اور معاشرت کے جو احکام ہوتے ہیں ان کو شریعت کہتے ہیں اور ہر نبی کی شریعت الگ ہے ‘ تو اگر اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ ہم ان انبیاء سابقین کی شرائع پر ایمان لاتے ہیں تو اس کا محمل یہ ہے کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ ہر نبی کی شریعت اس کے زمانہ میں برحق تھی اور اب اللہ تعالیٰ نے تمام شرائع منسوخ کرکے صرف شریعت محمدی کو قیامت تک کے لیے جاری کردیا ہے اور اگر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم انبیاء سابقین پر نازل ہونے والے صحائف پر ایمان لاتے ہیں تو اس کا محمل یہ ہے کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ جو اصل صحائف اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیے تھے وہ برحق ہیں اور بعد میں ان کی امتوں نے ان میں جو تحریف کردی اس کی ہم تصدیق نہیں کرتے۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب تورات کو عبرانیہ میں پڑھتے تھے اور مسلمانوں کے لیے عربی میں اس کی تفسیر کرتے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اہل کتاب کی تصدیق کرو نہ ان کی تکذیب کرو بلکہ کہو : ” امنا باللہ وما انزل الینا “ الایہ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٦٤٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (کہو :) ہم اسی (ایک رب) کے فرمانبردار ہیں۔ (البقرہ : ١٣٦)

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا ان سب انبیاء پر ایمان لانا اسلام کی وجہ سے ہے اور قرآن کی شہادت کے سبب سے ہے کیونکہ نبوت کا ثبوت معجزہ کے ظہور سے ہوتا ہے اور معجزہ کے ظہور کے بعد کسی کو مانا جائے اور کسی کو نہ مانا جائے تو یہ خواہش نفس کی اتباع ہے دلیل کی اتباع نہیں ہے ‘ سو یہود اور عیسائیوں نے اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ظہور معجزہ کی وجہ سے نبی مانا ہے تو ان پر لازم ہے کہ حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی نبی مانیں ورنہ لازم آئے گا کہ وہ دلیل کے متبع نہیں ہیں بلکہ خواہش نفس کے متبع ہیں جس کو چاہا نبی مانا جس کو چاہا نہ مانا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو اگر وہ ان کی مثل پر ایمان لے آئیں جن پر تم ایمان لائے ہو تو بیشک وہ ہدایت پائیں گے۔ (البقرہ : ١٣٧)

اللہ کی مثل پر ایمان لانے میں اشکال اور اس کے جوابات :

اس جگہ یہ اعتراض ہے کہ جن پر مسلمان ایمان لائے ہیں مثلا اللہ تعالیٰ ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید ‘ ان کی تو مثل ہے ہی نہیں بلکہ ان کی مثل کا ہونا محال ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کیسے فرمایا : اگر وہ ان کی مثل پر ایمان لے آئیں جن پر تم ایمان لائے ہو ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس آیت میں مثل کا لفظ زائد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کوئی مثل نہیں ہے ‘ اور اس کا معنی ہے : اگر وہ اس پر ایمان لے آئیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو ہدایت پالیں گے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٤٤٣ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤١٠ ھ)

دوسرا جواب یہ ہے کہ جس طرح مسلمان قرآن مجید پر بغیر تحریف اور تغییر کے ایمان لائے ہیں اسی طرح اگر یہود بھی تورات پر بغیر تحریف اور تغییر کے ایمان لائیں تو ہدایت پاجائیں گے ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہاں مومن بہ میں مماثلت مراد نہیں ہے بلکہ ایمان میں مماثلت مراد ہے یعنی اگر یہ اللہ اور رسول پر تمہاری طرح ایمان لائیں اور تمہاری طرح تصدیق کریں تو یہ ہدایت پاجائیں گے اور اگر یہ ضد اور عناد کی وجہ سے ایمان نہ لائیں تو ان کے شر سے بچانے کے لیے آپ کو اللہ کافی ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور یہ وعدہ پورا ہوا ‘ اس آیت میں پیش گوئی ہے جو صادق ہوئی اور غیب کی خبر ہے اور یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق کی دلیل ہے ‘ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیش گوئی کے مطابق حضرت عثمان (رض) کو شہید کیا گیا تو اس آیت ” فسیکفیکھم اللہ “ پر حضرت عثمان (رض) کا خون گرا تھا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ١٤٣ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

واضح رہے کہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی کافر آپ کو قتل نہیں کرسکے گا ‘ رہا ایذاء اور تکالیف کا پہنچنا تو وہ اس آیت کے منافی نہیں ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 135