حدیث نمبر :37

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس بیٹھے تھے۔ہمارے ساتھ ابوبکروعمر رضی اللہ عنہاسبھی تھے ۱؎ کہ اچانک ہمارے درمیان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ گئے واپسی میں دیر لگائی ہم ڈر گئے کہ مبادا حضورکو ہماری غیر حاضری میں کوئی ایذا پہنچے ۲؎ ہم گھبراکر اٹھ کھڑے ہوئے گھبرانے والا پہلا میں تھا میں حضور کو ڈھونڈھنے نکل کھڑا ہوایہاں تک کہ انصار بنی نجار کے ایک باغ میں پہنچا ۳؎ باغ کے اردگرد گھوما ۴؎ کہ کوئی دروازہ ملے مگر نہ ملا ۵؎ ایک نالی تھی جو بیرونی کنوئیں سے باغ میں جاتی تھی ۶؎ فرماتے ہیں کہ میں سکڑ کر نالی میں گھس کر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا ۷؎ حضور نے فرمایا کیا ابوہریرہ ہیں ۸؎ میں نے کہا ہاں یارسول اﷲ فرمایا تمہارا کیا حال ہے ۹؎ میں نے عرض کیا کہ حضور ہم میں تشریف فرما تھے اچانک اٹھ آئے اور واپسی میں دیر ہوئی ہم ڈر گئے کہ مبادا حضور کو ہماری غیر موجودگی میں ایذا پہنچے تو ہم گھبرا گئے پہلے میں ہی گھبرایا ۱۰؎ تو اس باغ میں آیا اور میں لومڑی کی طرح سکڑ گیا۱۱؎ اور باقی یہ لوگ میرے پیچھے ہی ہیں ۱۲؎ حضور نے فرمایا اے ابوہریرہ اور مجھے اپنے نعلین شریف عطا کئے ۱۳؎ فرمایا ہمارے نعلین لے جاؤ جو تمہیں اس باغ کے پیچھے یقین دل سے یہ گواہی دیتا ملے ۱۴؎ کہ اﷲ کے سواء کوئی معبود نہیں اسے جنت کی بشارت دے دو ۱۵؎ پہلے جن سے ملاقات ہوئی وہ عمر تھے ۱۶؎ وہ بولے اے ابوہریرہ یہ جو تے کیسے ہیں میں نے کہا کہ یہ حضور کے نعلین پاک ہیں مجھے یہ دیکر حضور نے اس لیے بھیجا ہے کہ جو مجھے یقین دل سے گواہی دیتا ملے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اسے جنت کی بشارت دے دوں جناب عمر نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا۱۷؎ کہ میں چت گر گیا اور فرمایا لوٹ چلو ابو ہریرہ ۱۸؎ تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور رو رو کر فریاد کی ۱۹؎ ا ور مجھ پر عمر کی ہیبت سوار ہوگئی تھی ۲۰؎ دیکھا تو وہ میرے پیچھے ہی تھےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ کیا حال ہے میں نے کہا کہ میں جا ب عُمر سے ملا اور انہیں وہ ہی پیغام سنایا جو دے کر حضور نے مجھے بھیجا تھا تو انہوں نے میرے سینے پر ایسا مارا کہ میں چت گر گیا اور فرمایا کہ لوٹو ۲۱؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر اس کام پر۲۲؎ تمہیں کس خیال نے ابھارا وہ عرض کرنے لگے میرے ماں باپ آپ پر قربان یارسول اﷲ کیا آپ نے ابوہریرہ کو نعلین پا ک دے کر اس لیے بھیجا ۲۳؎ کہ جو انہیں یقین دل سے یہ گواہی دیتا ملے کہ اﷲ کے سوا ء کوئی معبود نہیں اسے جنت کی بشارت دے دیں فرمایا ہاں۲۴؎ عرض کیا ایسا نہ کیجئے ۲۵؎ میں خوف کرتا ہوں کہ لوگ اس پر بھروسہ کر بیٹھیں گے ۲۶؎ انہیں چھوڑ دیں کہ عمل کرتے رہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا چھوڑ دو ۲۷؎ (مسلم)

شرح

۱؎ جماعت صحابہ میں یہ دونوں بزرگ ایسا درجہ رکھتے ہیں جیسے تاروں میں چاند و سورج اسی لیے اکثر جگہ ان کا ذکر خصوصیّت سے ہوتا ہے۔خیال رہے کہ صحابہ کے شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہات ہیں،محدثین کے شیخین بخاری ومسلم،فقہاء کے شیخین امام ابوحنیفہ و ابو یوسف رضی اللہ عنہم،منطق کے شیخین بو علی سینا وفارابی ہیں۔

۲؎ اس طرح کہ ہم خدمت میں حاضر نہ ہوں حضور کہیں اکیلے ہوں اور کوئی دشمن آپ کو ایذا پہنچائےکیونکہ عرب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت دشمن ہیں،یہ گھبراہٹ اسباب کے لحاظ سے ہے،ورنہ اﷲ ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔

۳؎ بنی نجار انصار کا ایک بڑا قبیلہ ہے۔حائط وہ باغ کہلاتا ہے جس کے آس پاس دیوار ہو اور ایک دروازہ۔بستان ہر باغ کو کہہ سکتے ہیں دیوار سے گھر ا ہویا نہ ہو۔

۴؎ اس لیے کہ اندازے سے مجھے پتا لگا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں ہیں۔شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ نسیم جمال نے بوئے محبوب عاشق کے دماغ محبت میں پہنچائی،جیسے بوئے یوسفی مصر سے کنعان پہنچ گئی،مگر عشاق کے حال مختلف ہوتے ہیں کبھی قبض،کبھی بسط۔

۵؎ یعنی دروازہ موجود تھا مگر نظر نہ آیا وارفتگئی عشق محبوب کی وجہ سے۔

۶؎ وہ نظر آگئی پیاروں کے حال نیارے ہوتے ہیں،ان کی کیفیات عقل سے وراء ہیں،دیکھو رب کی شان کہ دروازہ نظر نہ آیا اور نالی سوجھ گئی،یہ واردات ان لوگوں پرگزرتی ہیں جنہیں عشق سے حصّہ ملا ہو۔

۷؎معلوم ہوتا ہے کہ نالی بہت تنگ تھی جس میں حضرت ابوہریرہ بتکلف داخل ہوئے۔خیال رہے کہ بغیر اجازت نالیوں کے ذریعہ کسی کے گھر یا باغ میں چلا جانا ازروئے قانون ممنوع ہے،مگر یہ عشق کا کرشمہ تھا خود کو آتشِ نمرود میں ڈالنا،بے قصور فرزند کو ذبح کرنا سب عشق کی جلوہ گری ہے،قانون اس سے کوسوں دُور ہے۔

۸؎ یہ سوال تعجب کی بنا پر ہے کہ دروازہ ہوتے ہوئے نالی کے رستہ پہنچے یا دروازہ بند تھا اور آگئے۔

۹؎ یعنی پریشان کیوں ہو،ہانپ کیوں رہے ہو۔

۱۰؎ اس میں ا ﷲ کی نعمت کا اظہار ہے نہ کہ فخر و ریا،یعنی مجھے اﷲ نے حضور کا ایسا عشق دیا ہے کہ آپ کے بغیر صبر نہیں کرسکتا۔

۱۱؎ اس میں اظہار معذرت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس گھبراہٹ میں آداب دربار بجا نہ لاسکا،بغیر اذن آگیا،سلام بھی کرنا بھول گیا،حالانکہ یہ دونوں حکم قرآنی ہیں مگر ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے۔

۱۲؎ یعنی شعر ؂

نہ تنہا من دریں میخانہ مستم ازیں مے ہمچومن بسارشد مست

ع ایک میں ہی نہیں عالم ہے طلبگار تیرا

۱۳؎ کیوں عطا کئے،عاقل تو یہ کہتے ہیں کہ نشانی کے طور پر تاکہ معلوم ہو کہ حضور کے بھیجے ہوئے ہیں۔عاشق کہتے ہیں نہیں صحابی سچے ہیں ان کی ہر بات بغیر نشانی مانی جاتی ہے۔منشاء یہ ہے کہ آگے صرف”لاالٰہ الااﷲ”کا ذکر ہے،ابوہریرہ کو کفش بردار بنا کر یہ بتایا کہ کلمہ اور توحید اس کا معتبر ہے جو ہمارا کفش بردار ہو،اس میں تبلیغ قولی کے ساتھ تبلیغ عملی بھی ہے،عشق کی تفسیر سے حدیث پر کوئی اعتراض نہ رہا،کفش برداری میں سارے عقائد و اعمال آگئے،ان کا نعلین بردار یقینًا جنتی ہے۔

۱۴؎ سبحان اﷲ! کیا لطیف اشارہ ہے یعنی یہ بشارت ہر شخص کو نہ دینا کہ ہر کوئی یہ راز سمجھے گا نہیں،صرف جناب عمر کو بتانا جو تمہیں اس باغ کے پیچھے ہی مل جائیں گے،جو ہمارے راز دار ہیں۔

۱۵؎ یعنی ان سے کہہ دو کہ تم جنتی ہو۔یقینًااس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور کو یہ خبر تھی کہ حضرت ابوہریرہ کو پہلے حضرت عمر ہی ملیں گے۔دوسرے یہ کہ حضرت عمر یقینی لازمی جنتی ہیں۔تیسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی سعادت وشقاوت کی خبر ہے۔چوتھے یہ کہ مسلمان کو زبان سے کلمہ طیبہ پڑھنا ضروری ہے صرف عقیدے پر کفایت نہ کرے،زبان سے اقرا ر بھی کرے۔پانچویں یہ کہ اس قسم کی احادیث عوام تک بغیر شرح نہ پہنچائی جاویں،اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قید لگادی کہ جو تمہیں اس باغ کے پیچھے مسلمان ملے صرف اسے بشارت دو۔

۱۶؎ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا ظہور ہے کہ فرمایا تھا جو تمہیں اس باغ کے پیچھے ملے،ملاقات حضرت عمر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تفسیر ہے۔

۱۷؎ یہاں تھوڑا مضمون پوشیدہ ہے،یعنی مجھ سے فرمایا لوٹ چلو،میں نہ مانا،تب آپ نے مجھے مارا کیونکہ بیرم کچھ کہے سنے مارنا عقل کے خلاف ہے۔(مرقاۃ)اور ظاہر یہ ہے کہ یہاں مارنا مقصود نہ تھا بلکہ آگے جانے سے روکنا اور منہ پھیر کر مجبورًا واپس کرنا تھا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کمزور تھے۔اس تھوڑی سی حرکت دینے سے گر پڑے اور اگر مارا ہی ہو تب بھی حَرج نہیں کہ جناب عمر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے مثل استاد یا کم از کم بڑے بھائی کی طرح تھے۔

۱۸؎ خیال رہے کہ اس فرمان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت نہیں،مقصد یہ ہے کہ اے ابوہریرہ!تم تعمیل کرچکے ہو،میں تمہیں مل گیا تم نے مجھے فرمان سنا دیا۔حدیث اپنے انتہا کو پہنچ گئی،اس کی عام اشاعت کی ضرورت نہیں۔خیال رہے کہ حدیث کا مبداء نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور حدیث کا منتہی مجتہدہیں۔عوام براہ راست حدیث رسول پر عمل نہ کریں بلکہ مجتہد سے سمجھ کر عمل کریں،رب تعالٰی فرماتا ہے:”لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسْتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ”حدیث و قرآن طب روحانی کی دوائیں ہیں۔کسی طبیب روحانی کے مشورہ سے استعمال کرو ورنہ مارے جاؤ گے۔یہ حدیث تقلید آئمہ کی قوی دلیل ہے۔

۱۹؎ یعنی میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی پناہ لی جیسے بچہ مادر مہربان کی۔خیال رہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہاں آکر روئے وہاں نہ روئے تھے کیونکہ مظلوم فریا درس کو دیکھ کر رویا کرتا ہے۔

۲۰؎ یہ عرب کا محاورہ ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں پر قرض سوار ہوگیایعنی غالب آگیا۔

۲۱؎ یعنی اس کام کے لیے یہاں سے آگے نہ بڑھو خواہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس چلو یا اور کام کیلئے جاؤ۔

۲۲؎ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو واپس کرنے پر نہ کہ انہیں مارنے پر،جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔اس فرمان سےمعلوم ہوتا ہے کہ شکایات وغیرہ میں اکثر ایک کی خبر معتبر ہےکیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ سے گواہی مانگی اور نہ جناب عمر سے اقرار کرایا صرف لوٹا نے کی وجہ پوچھی۔

۲۳؎ یہ عرض معروض بارگاہ نبوی کے آداب میں سے ہے نہ کہ حضرت ابوہریرہ پر بدگمانی کی بنا پر کیونکہ سارے صحابہ عادل ہیں،ان کی خبریں معتبر،جب شاہی کارندے کے کسی کام پر بادشاہ سے عرض معروض کرنا ہو تو پہلے بادشاہ سے تصدیق کرلینی ادب دربار ہے۔

۲۴؎ خیال رہے کہ اس جگہ ایک چیز کا ذکر نہیں آیا یعنی اس باغ کے پیچھے معلوم ہوتا ہے کہ جناب عمر راز دار پیغمبر ہیں دلی رازوں سے خبردار ہیں۔

۲۵؎ یعنی آیندہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو عام لوگوں سے یہ کلام کرنے کی اجازت نہ دیں اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک مشورہ کی پیش کش ہے نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سرتابی۔رب فرماتا ہے “وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ”اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر عتاب نہ کیا بلکہ آپ کا مشورہ قبول کرلیا۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جناب عمر کی عقل و دانائی حضور سے زیادہ ہے۔اس حدیث کا راز کچھ اور ہی ہے جو ہم پہلے عرض کرچکے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم اپنے موقع پر پہنچ چکا،تعمیل ارشاد ہوچکی۔

۲۶؎ یعنی وہ نو مسلم لوگ جو ابھی تک منشاء کلام سمجھنے کے لائق نہیں ہیں وہ ظاہر الفاظ سُن کر اعمال ہی چھوڑ بیٹھیں گے اور سمجھیں گے کہ نجات کے لئے صرف کلمہ پڑھ لینا کافی ہے،اس لئے موجودہ زمانے کے اہل حدیث حضرات کو عبرت پکڑنی چاہئیے جو ہر حدیث پر بلا سوچے سمجھے عمل کرنے کے مدعی ہیں۔آیات قرآنیہ پر بھی اندھا دھند گرنا حرام ہے،رب فرماتاہے:”وَالَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡابِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوۡاعَلَیۡہَاصُمًّا وَّعُمْیَانًا”۔

۲۷؎ یعنی تمہاری رائے منظور ہے،بہت درست ہے۔خیال رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے جناب حضرت ابوہریرہ کا نہ قصاص دلوایا نہ ان سے معافی دلوائی۔کیونکہ حضرت عمر مجتہدہیں۔اور ا بوہریرہ رضی اللہ عنہ محض محدّث،مجتہد استاد ہیں،محدث شاگرد،استاد پر شاگرد کا قصاص لازم نہیں اگرچہ غلطی سے سزادیدے۔دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے خطاءً ہارون علیہ السلام کے بال پکڑ کر کھینچے مگر رب نے ان سے قصاص نہ دلوایا (قرآن حکیم) ہماری اس شرح سے حسب ذیل سوالات اٹھ گئے۔

(۱)حضرت ابوہریرہ کو باغ کا دروازہ نظر کیوں نہ آیا نالی کیوں نظر آئی(۲)آپ دوسرے کے باغ یا مکان میں بلا اجازت کیوں گئے(۳) آپ نے پہلے سلام کیوں نہ کیا(۴)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نعلین شریف کیوں عطا فرمائیں(۵)حضرت عمر نے اشاعت حدیث سےجناب ابوہریرہ کو کیوں روکا(۶)انہیں مارا کیوں(۷)حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کیوں کرائی(۸)حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرمان کے اشاعت نہ کرنے کی رائے کیوں دی(۹)حضور نے ان کی رائے قبول کیوں کرلی(۱۰)حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس مار کا بدلہ کیوں نہ لیا گیا۔