بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَ تُحَآجُّوۡنَـنَا فِى اللّٰهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّکُمۡۚ وَلَنَآ اَعۡمَالُـنَا وَلَـكُمۡ اَعۡمَالُكُمۡۚ وَنَحۡنُ لَهٗ مُخۡلِصُوۡنَۙ

آپ کہیے : کیا تم اللہ کے متعلق ہم سے بحث کرتے ہو حالانکہ وہ ہمارا رب ہے اور تمہارا رب ہے اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں ‘ اور ہم اسی کے ساتھ مخلص ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے : کیا تم اللہ کے متعلق ہم سے بحث کرتے ہو ‘ حالانکہ وہ ہمارا رب ہے اور تمہارا رب ہے اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں اور ہم اسی کے ساتھ مخلص ہیں۔ (البقرہ : ١٣٩)

حسن بصری (رح) نے بیان کیا ہے کہ بحث یہ تھی کہ یہود مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تمہاری بہ نسبت ہم اللہ کے زیادہ قریب ہیں کیونکہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور ہمارے آباء اور ہماری کتابیں تم سے پہلے کی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان سے کہہ دو کہ مقدم ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہے ‘ اعتبار صرف عمل کا ہے اور اس عمل کا اعتبار ہے جس میں اللہ کے لیے اخلاص ہو۔

اخلاص کا معنی :

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

خالص کا معنی ہے : صاف ‘ جس چیز میں ملاوٹ ہو اور وہ ملاوٹ دور کردی جائے تو اس کا خالص کہتے ہیں : (جس چیز میں ملاوٹ ہوسکتی ہو لیکن ملاوٹ نہ ہو اس کو بھی خالص کہتے ہیں) قرآن مجید میں مسلمانوں کو مخلص فرمایا ہے کیونکہ وہ یہود کی تشبیہ اور نصاری کی تثلیت سے بری ہیں اور اخلاص کی حقیقت ہے : اللہ کے سوا ہر چیز سے بری ہونا۔ (المفردات ص ١٥٥۔ ١٥٤‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ جس عبادت میں ریاکاری کی بالکل آمیزش نہ ہو اس کو اخلاص کہتے ہیں۔

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

عمل کو مخلوق کے ملاحظہ سے صاف کرلینا اخلاص ہے ‘ جنید بغدادی نے کہا : اخلاص اور اللہ کے درمیان ایک راز ہے ‘ نہ اس کو فرشتے جانتے ہیں کہ لکھ سکیں نہ اس کو شیطان جانتا ہے کہ اس کو فاسد کرسکے ‘ اور نہ اس کو خواہش جانتی ہے کہ اس کو کسی طرف مائل کرسکے ‘ ابوالقاسم قشیری وغیرہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ آپ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا : اخلاص کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رب العزت سے اخلاص کے متعلق پوچھا : فرمایا : وہ میرا ایک راز ہے جس کو میں نے اپنے محبوب بندہ کے دل میں رکھا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ١٤٦‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

علامہ ابو الحیان اندلسی لکھتے ہیں :

سعید بن جیر نے کہا : اخلاص یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور اپنا عمل کسی کو نہ دکھایا جائے ‘ فضیل بن عیاض نے کہا : لوگوں کی وجہ سے عمل کو ترک کرنا ریا ہے اور لوگوں کی وجہ سے عمل کرنا شرک ہے اور اخلاص یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان دونوں سے محفوظ رکھے ‘ ابن معاذ نے کہا : اخلاص یہ ہے کہ جس طرح دودھ کو گوبر اور خون کے درمیان سے نکالا جاتا ہے اس طرح عمل صالح کو گناہوں سے متمیز کیا جائے۔ ابوشیخی نے کہا : اخلاص یہ ہے کہ کہ اس عمل کو نہ فرشتے لکھ پائیں ‘ نہ شیطان فاسد کرسکے ‘ نہ اس پر کوئی انسان مطلع ہو یعنی اللہ کے سوا اس پر کوئی مطلع نہ ہو حذیفہ المرعشی نے کہا : بندے کے افعال کا ظاہر اور باطن میں برابر ہونا اخلاص ہے ‘ ابویعقوب المکفوف نے کہا : اخلاص یہ ہے کہ بندہ اپنی نیکیوں کو اس طرح چھپائے جس طرح اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے ‘ سہل نے کہا : اپنے عمل کو حقیر جاننا اخلاص ہے ‘ ابوسلیمان الدارانی نے کہا : ریاکار کی تین علامتیں ہیں : جب وہ اکیلا ہو تو عبادت سے تھک جاتا ہے ‘ اور جب لوگوں کے درمیان ہو تو تروتازہ ہوتا ہے اور جب اس کی تعریف کی جائے تو نیک عمل زیادہ کرتا ہے ‘ اور اخلاص ریا کے بالمقابل ہے۔ (البحرالمحیط ج ١ ص ٦٥٩۔ ٦٥٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا تم کہتے ہو کہ بیشک ابراہیم ‘ اسماعیل ‘ اسحاق ‘ یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے ؟ آپ کہیے : کیا تم زیادہ ہو یا اللہ ؟۔ (البقرہ : ١٤٠)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل وغیرہ کے دین یہودیت اور عیسائیت پر نہ ہونے کا بیان :

یہود کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد میں سے یہ انبیاء یہودی تھے اور عیسائی ان کو عیسائی کہتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کا رد فرمایا ہے ‘ یہ بات بالکل واضح ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) موحد تھے ‘ اسی طرح ان کی اولاد میں سے یہ انبیاء بھی موحد تھے اور حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے وفات سے پہلے اپنے بیٹوں سے توحید پر تادم مرگ قائم رہنے کا اقرار کرایا جیسا کہ قرآن مجید میں گزر چکا ہے ‘ اور یہود مشرک تھے کیونکہ ہو عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور عیسائی بھی شرک کرتے ہیں کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں ‘ اس لیے یہود اور عیسائیوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان انبیاء کو اپنے اپنے دین پر کہنا بداھۃ باطل ہے۔

واضح رہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین واحد ہے اور وہ اسلام ہے (آیت) ” ان الدین عند اللہ الاسلام “ (آل عمران : ١٩) اور ان کی شریعت الگ الگ ہے (آیت) ” لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جا “ (المائدہ ‘: ٤٨) یعنی انسان کے فکری اور تہذیبی ارتقاء اور زمانہ اور ماحول کے خصوصی تقاضوں کی وجہ سے ہر نبی کے دور میں عبادات اور معاملات کے الگ الگ طریقے مشروع (مقرر) کیے گئے ‘ البتہ عقائد سب کے ایک ہی تھے اور بعض غیر متبدل اصول بھی ہر دور میں برقرار رہے جیسا کہ ہم (آیت) ” مالک یوم الدین “ کی تفسیر میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جس نے اس شہادت کو چھپایا جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے ہے۔ (البقرہ : ١٤٠)

اس شہادت کا بیان جس کو یہودیوں اور عیسائیوں نے چھپایا :

اس شہادت کے متعلق دو قول ہیں ‘ ایک یہ کہ یہود اور عیسائیوں کو یہ علم تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد میں یہ انبیاء یہودی یا عیسائی نہیں تھے اور انہوں نے علم کے باوجود اس شہادت کو چھپایا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی کتابوں میں حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر شہادت موجود تھی لیکن انہوں نے اس کو چھپایا ‘ حالانکہ بعض راہبوں نے آپ کی نبوت کی تصدیق کی جیسا کہ ورقہ بن نوفل نے آپ کی تصدیق کی اور قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم “۔ (الانعام : ٢٠)

” وہ اس نبی کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں “۔ اس کے باوجود وہ حسد اور عناد کی وجہ سے اس شہادت کو چھپاتے تھے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ ایک امت ہے جو گزر چکی ہے ‘ اس نے جو کام کیے اس کے لیے ان کا بدلہ ہے اور تم نے جو کام کیے تمہارے لیے ان کا بدلہ ہے۔ (البقرہ : ١٤١)

ایک شخص کے عمل سے دوسرے کو فائدہ پہنچنے کی تحقیق :

یعنی ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا ملے گی ‘ یہ معنی برحق ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ کسی شخص کو دوسرے کے عمل سے فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور اس کلیہ کی وجہ سے فوت شدہ مسلمانوں کے لیے ایصال ثواب کے جواز کا انکار کرنا باطل ہے ‘ بعض لوگ قرآن مجید کی اس آیت کی بناء پر ایصال ثواب کا انکار کرتے ہیں :

(آیت) ” ان لیس للانسان الا ما سعی “۔۔ (النجم : ٣٩)

ترجمہ : انسان کے لیے صرف اسی کی کوشش کا اجر ہے۔

اور ایصال ثواب میں دوسرے کے عمل سے فائدہ پہنچتا ہے اس لیے وہ ناجائز ہے ‘ یہ دلیل باطل ہے اور اس کی متعددوجوہ ہیں۔

علامہ سید احمد طحطاوی لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ آیت اس دوسری آیت سے منسوخ ہوگئی :

(آیت) ” والذین امنوا واتبعتھم بایمان الحقنا بہم ذریتہم وا التنھم من عملہم من شیء “۔ (الطور : ٢١)

ترجمہ : اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان میں ان کی پیروی کی ‘ ان کی اولاد کو ہم ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان کے عمل میں کسی قسم کی کمی نہیں کریں گے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت عکرمہ (رض) نے فرمایا کہ اس آیت سے پہلے صحف ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کا ذکر ہے ‘ اس لیے یہ حکم ان کی امتوں کے ساتھ محصوص ہے۔

رہی یہ امت تو اس کو اپنی سعی کا اجر بھی ملے گا اور جو اس کے لیے سعی کریں گے اس کا اجر بھی ملے گا ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ علامہ ربیع بن انس اور علامہ ثعلبی نے فرمایا : اس آیت میں انسان سے مراد کافر ہیں اور کافروں کو صرف ان کی سعی کا اجر ملتا ہے اور وہ بھی صرف دنیا میں ‘ آخرت میں ان کے لیے کوئی چیز نہیں ہے ‘ چوتھا جواب یہ ہے کہ علامہ حسین بن فضل نے کہا : اس آیت میں دوسروں کی سعی ہے جس اجر کی نفی ہے وہ بطریق عدل ہے اور جس اجر کا ثواب ہے وہ بہ تقاضاء فضل ہے ‘ پانچواں جواب یہ ہے کہ علامہ ابوبکر وراق نے کہا : اس آیت میں سعی ‘ نیت کے معنی میں ہے یعنی انسان کو صرف اپنی نیت کا اجر ملتا ہے ‘ چھٹا جواب یہ ہے کہ آیت میں لام بہ معنی ” علی “ ہے یعنی انسان کو صرف اس کے عمل سے گناہ ہوتا ہے دوسروں کے عمل کا بار اس پر نہیں ‘ ساتواں جواب یہ ہے کہ علامہ زعفرانی نے کہا : اس آیت میں سعی سے مراد عام ہے انسان نے خود سعی کی ہو یا سعی کا سبب فراہم کیا ہو مثلا جس انسان کی اولاد ‘ دوست احباب اور ملنے والے اس کے لیے دعا کرتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں تو یہ بھی اس کی سعی کا سبب ہے کیونکہ وہ اپنی اولاد کی ایسی تربیت کرتے ہیں کہ اس دعا اور استغفار کا سبب اس شخص کی سعی سے قائم ہوا ‘ آٹھواں جواب یہ ہے کہ علامہ عینی نے فرمایا : یہ حصر اصل مقصود کے اعتبار سے ہے کل کے اعتبار سے نہیں ہے۔ (حاشیہ مراقی الفلاح ص ٣٧٧‘ مطبوعہ مصطفیٰ البابی ‘ مصر الطبعۃ الثالثہ ‘ ١٣٥٦ ھ)

مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن بھوپالی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : شیخ الاسلام تقی الدین ابوالعباس احمد بن تیمیہ (رح) نے کہا : جس شخص کا یہ عقیدہ ہے کہ انسان کو صرف اس کے عمل سے نفع ہوتا ہے وہ اجماع کا مخالف ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے ‘ ایک وجہ یہ ہے کہ انسان کو دوسرے شخص کی دعا سے فائدہ پہنچے گا ‘ تیسری وجہ یہ ہے یہ مرتکب کبیرہ (گنہگار) شفاعت کے ذریعہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور یہ نفع عمل غیر سے ہوگا ‘ چوتھی وجہ یہ ہے کہ فرشتے زمین والوں کے لیے دعا اور استغفار کرتے ہیں ‘ پانچویں وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض ایسے گناہ گاروں کو جہنم سے نکالے گا جن کا کوئی عمل صالح نہیں ہوگا اور یہ نفع بغیر عمل اور سعی کے حاصل ہوا ‘ چھٹی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اولاد اپنے آباء کے عمل سے جنت میں جائے گی اور یہ عمل غیر سے نفع ہے۔

ساتویں وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو یتیم لڑکوں کے قصہ میں بیان فرمایا :” وکان ابوھما صالحا “ ان لڑکوں کو اپنے باپ کی نیکی سے فائدہ پہنچا۔ آٹھویں وجہ یہ ہے کہ سنت اور اجماع سے ثابت ہے کہ میت کو دوسروں کے کیے ہوئے صدقات سے فائدہ پہنچتا ہے ‘ نویں وجہ یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ میت کے ولی کیطرف سے حج کرنے سے میت سے حج مفروف ساقط ہوجاتا ہے اور یہ فائدہ بھی عمل غیر سے ہے ‘ دسویں وجہ یہ ہے کہ حدیث میں ہے کہ نذر مانا ہوا حج اور نذر مانا ہوا روزہ بھی غیر کے کرنے سے ادا ہوجاتا ہے ‘ گیارہویں وجہ یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مقروض کی نماز جنازہ نہیں پڑھی حتی کہ ابوقتادہ نے اس کا قرض ادا کردیا ‘ اس طرح غیر کے عمل سے قرض ادا ہوا ‘ بارہویں وجہ یہ ہے کہ ایک شخص تنہا نماز پڑھ رہا تھا ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی شخص اس پر صدقہ کیوں نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھے اور اس کو جماعت کا ثواب مل جائے ‘ تیرہویں وجہ یہ ہے کہ اگر کسی میت کی طرف سے لوگ قاضی کے حکم سے قرض ادا کریں تو میت کا قرض ادا ہوجاتا ہے ‘ چودھویں وجہ یہ ہے کہ جس شخص پر لوگوں کے حقوق ہیں اگر لوگ وہ حقوق معاف کردیں تو وہ بری ہوجاتا ہے ‘ پندرہویں وجہ یہ ہے کہ نیک پڑوسی سے زندگی میں اور موت کے بعد بھی نفع حاصل ہوتا ہے ‘ سولہویں وجہ یہ ہے کہ حدیث شریف میں ہے : ذکر کرنے والوں کی مجلس میں بیٹھا ہوا ایک شخص بخشا گیا جس نے ذکر نہیں کیا تھا ‘ صرف انکی مجلس میں بیٹھنے کی وجہ سے بخشا گیا ‘ سترہویں وجہ یہ ہے کہ میت پر نماز جنازہ پڑھنا اور اس کے لیے استغفار کرنا ‘ عمل غیر کا نفع ہے ‘ اٹھارہویں وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : (آیت) ” وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم “۔ (الانفال : ٣٣) اور اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ انکو عذاب دے حالانکہ آپ ان میں موجود ہوں “ اور انیسویں وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” لولا رجال مؤمنون ونساء مؤمنت “ (الفتح : ٢٥) اور فرمایا : (آیت) ” ولولادفع اللہ الناس بعضہم ببعض الفسدت الارض “ (البقرہ : ٢٥١) ” اور اگر بعض لوگوں کی نیکیوں کے سبب اللہ تعالیٰ بعض بروں سے عذاب نہ ٹالے تو زمین تباہ و برباد ہوجائے “ اور یہ عمل غیر سے نفع ہے ‘ بیسویں وجہ یہ ہے کہ نابالغ صدقہ فطر ادا کرتا ہے ‘ اکیسویں وجہ یہ ہے کہ (ائمہ ثلاثہ کے نظریہ کے مطابق) نابالغ کی طرف سے اس کا ولی زکوۃ ادا کرے تو زکوۃ ادا ہوجائے گی اور یہ عمل غیر سے نفع حاصل کرنا ہے معلوم ہوا کہ کتاب ‘ سنت اور اجماع کی روشنی میں عمل غیر سے فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

(فتح البیان ج ٩ ص ١٤٤‘ مطبوعہ مطبع بولاق ‘ مصر الطبۃ الاولی ‘ ١٣٠١ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 139