حدیث نمبر :42

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتےہیں کہ فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی اپنا اسلام ٹھیک کرے ۱؎ تو جو نیکی بھی کرے گا وہ دس گناہ لکھی جاوے گی سات سو گناہ تک ۲؎ اور ہر برائی جو کر بیٹھے گا وہ ایک گناہ ہی لکھی جاوے گی ۳؎ یہاں تک کہ رب سے ملے۔(مسلم و بخاری)

شرح

۱؎ اس طرح کہ تمام عقائد اسلامیہ کا دل سے اعتقاد رکھے،زبان سے اقرارکرے،رب فرماتا ہے:”مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ “۔

۲؎ یعنی کم از کم دس گناہ،زیادہ سات سو گناہ،جیسا اخلاص اورموقع ویسا ثواب یہ قانون ہے،فضل کی حد نہیں۔اس حدیث میں دو آیتوں کی طرف اشارہ ہے کہ ایک”فَلَہٗ عَشْرُاَمْثَالِہَا”دوسری “مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمُ”الخ۔خیال رہے کہ یہ ان نیکیوں کا ذکر ہے جو عام کی جائیں ورنہ مدینہ طیبہ کی ایک نیکی کا ثواب پچاس ہزار اور مکہ مکرمہ کی ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ہے،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

۳؎ یہ بھی عام گناہوں کا بیان ہے ورنہ مکہ معظمہ کا ایک گناہ ایک لاکھ ہے،ا یسے ہی موجد گناہ پر تمام گناہگاروں کا عذاب۔