بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ؕ وَمَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَةَ الَّتِىۡ كُنۡتَ عَلَيۡهَآ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ يَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ يَّنۡقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ‌ؕ وَاِنۡ كَانَتۡ لَكَبِيۡرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيۡمَانَكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ

اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ اور یہ رسول تمہارے حق میں گواہ ہوجائیں ‘ اور (اے رسول ! ) جس قبلہ پر آپ پہلے تھے ہم نے اس کو اسی لیے قبلہ بنایا تھا تاکہ ہم ظاہر کردیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور اس کو اس سے ممتاز کردیں جو اپنی ایڑیوں پر پلٹ جاتا ہے اور بیشک جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے ان کے سوا سب پر یہ (قبلہ کا بدلنا) بھاری ہے ‘ اور اللہ کی شان نہیں ہے کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کرے ‘ بیشک اللہ لوگوں پر بہت مہربان ہے بےحد رحم فرمانے والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اسی طرح ہم نے تمہیں متوسط (بہترین) امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ اور یہ رسول اللہ تمہارے حق میں گواہ ہوجائیں۔ (البقرہ : ١٤٣)

امت مسلمہ کا باقی امتوں پر گواہ ہونا :

اس کلام کے اول اور آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے ‘ اول میں ہے : آپ کہیے کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں اور آخر میں ہے : (اے رسول) جس قبلہ پر آپ پہلے تھے الخ اور درمیان میں اس کلام سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو خطاب کیا گیا ہے ‘ اس میں یہود کو بتایا گیا ہے کہ تم مسلمانوں کے قبلہ کا کیوں انکار کرتے ہو اور ان کے دین کو کیوں قبول نہیں کرتے حالانکہ مسلمان قیامت کے دن تمہارے خلاف شہادت دیں گے اور ان کی شہادت قبول کی جائے گی اس لیے تم کو چاہیے کہ تم دنیا میں ان کی مخالفت کرو اور ان کے دین کی پیروی کرو۔

امام بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ذکر کی گئی ہے۔

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت نوح (علیہ السلام) کو قیامت کے دن بلایا جائے گا ‘ وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں اے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تم نے تبلیغ کی تھی ؟ وہ کہیں گے : ہاں ! پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا : کیا نوح نے تم کو تبلیغ کی تھی ؟ ان کی امت کہے گی : ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اللہ تعالیٰ حضرت نوح سے فرمائے گا : تمہارے حق میں کون گواہی دے گا ؟ وہ کہیں گے : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی امت ‘ اور وہ گواہی دیں گے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو تبلیغ کی تھی ‘ یہ اس آیت کی تفسیر ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٦٤٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام نسائی روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعید خدری (رض) نے بیان کیا کہ قیامت کے دن ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ ایک شخص ہوگا اور ای نبی آئے گا اس کے ساتھ دو شخص ہوں گے اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ زیادہ لوگ ہیں گے اس سے کہا جائے گا : کیا تم نے اپنی قوم کو تبلیغ کی تھی ؟ وہ کہے گا : ہاں ! پھر اس کی قوم کو بلایا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا : کیا انہوں نے تم کو تبلیغ کی تھی ؟ وہ کہیں گے نہیں ‘ پھر اس نبی سے کہا جائے گا : تمہارے حق میں کون گواہی دے گا ؟ وہ کہیں گے : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ‘ پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو بلایا جائے گا اور کہا جائے گا : کیا انہوں نے تبلیغ کی تھی ؟ وہ کہیں گے ہاں ! پھر کہا جائے گا : تم کو اس کا کیسے علم ہوا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ خبر دی تھی کہ (سب) رسولوں نے تبلیغ کی ہے ‘ اور یہ اس آیت کی تفسیر ہے۔ (سنن کبری ج ٦ ص ٢٩٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

دین اسلام اور مسلک اہل سنت و جماعت کا سب سے افضل ہونا :

اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ہم نے تم کو ہدایت یافتہ بنایا ہے اور تمہارے قبلہ کو تمام امتوں کے قبلہ سے افضل بنایا ہے اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط یعنی سب سے افضل امت بنایا ہے۔ دائرہ میں جس نقطہ (مرکز) سے محیط کی طرف تمام مساوی خطوط نکلتے ہیں ان مساوی خطوط کو خط وسط کہتے ہیں اور عرف میں وسط سے وہ کیفیت مراد ہے جو افراط اور تفریط کے درمیان ہو ‘ مثلا اسراف اور بخل کے درمیان سخاوت ہے اور رہبانیت اور فسق وفجور کے درمیان عفت ہے اور کیفت متوسط سب سے افضل ہوتی ہے ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تم کو سب سے افضل امت بنایا ہے۔ باقی امتوں میں سے یہود و نصاری ہیں جو ایک سے زیادہ خدا مانتے ہیں اور یا دہریے ہیں جو خدا کے وجود کے منکر ہیں ‘ ان میں مسلمان متوسط ہیں جو خدا کے وجود کے قائل ہیں اور صرف ایک خدا مانتے ہیں ‘ ہندو نبوت کے قائل نہیں اور مرزائی قیامت تک نبوت کو جاری مانتے ہیں اور مسلمان نبوت کے قائل ہیں اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نبوت کو ختم مانتے ہیں ‘ اسی طرح اسلام کے فرقوں میں اہل سنت و جماعت متوسط ہیں ‘ رافضیہ صحابہ کو سب اور لعنت کرتے ہیں ‘ ناصبیہ اہل بیت کو سب کرتے ہیں اور اہل سنت و جماعت صحابہ اور اہل بیت دونوں کی تعظیم کرتے ہیں ‘ جبریہ کہتے ہیں : انسان مجبور محض ہے ‘ معتزلہ کہتے ہیں : انسان اپنے افعال کا خالق ہے اور اہل سنت و جماعت کہتے ہیں کہ انسان کو کسب کا اختیار ہے اور افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ‘ خوارج کہتے ہیں کہ صغیرہ یا کبیرہ گناہ کرنا کفر ہے اور مرجۂ کہتے ہیں کہ گناہ کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا اور اہل سنت و جماعت کہتے ہیں کہ گناہ کبیرہ کرنے سے انسان ایمان سے خارج نہیں ہوتا اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو عذاب کا مستحق ہوتا ہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب میں اسلام متوسط ہے اور اسلام کے تمام فرقوں میں اہل سنت و جماعت متوسط ہیں اور متوسط ہونا افضل ہونے کو مسلتزم ہے۔

عدالت صحابہ اور حجیت اجماع :

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں امت مسلمہ کو گواہ قرار دیا ہے اور گواہی اس کی مقبول ہوتی ہے جو عادل اور نیک ہو اور اس آیت کے اولین مخاطب اور مصداق حضرات صحابہ (رض) ہیں ‘ سو یہ آیت اس بات کو مستلزم ہے کہ تمام صحابہ عادل اور نیک ہیں اور شیعہ کا یہ کہنا باطل ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد تین چار کے سوا باقی تمام صحابہ (العیاذ باللہ) مرتد ہوگئے تھے ‘ نیز صحابہ کرام کے علاوہ قیامت کے تمام مسلمان بھی امت مسلمہ میں ثانیا وبالعرض داخل ہیں اور اس میں یہ دلیل ہے کہ امت مسلمہ کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی کیونکہ ان کا گمراہی پر مجتمع ہونا ان کی عدالت اور نیکی کے خلاف ہے اور جو عادل نہ ہو وہ گواہ نہیں ہوسکتا اس لیے امت مسلمہ کا گواہ ہونا امت مسلمہ کے اجماع کے حق اور حجت ہونے کو مستلزم ہے ‘ اور یہ واضح رہے کہ کفر اور بدعت عدالت کے منافی ہے اس لیے امت مسلمہ کے اجماع میں روافض ‘ خوارج اور مشبہہ وغیرہ داخل نہیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ رسول تمہارے حق میں گواہ ہوجائیں۔ (البقرہ : ١٤٣)

قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں پچھلی امتوں اور اس امت کے افعال اور احوال کا۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پیش کیا جانا۔

عربی قواعد کے مطابق ” علی “ جب شہادت کا صلہ ہو تو اس کا معنی ہے : کسی کے خلاف گواہی دینا اور یہاں مقصود یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امت مسلمہ کے حق میں گواہی دیں گے اور ان کے عادل اور نیک ہونے کو بیان کریں گے ‘ علامہ بیضاوی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہاں شہید رقیب اور مہیمن (نگہبان) کے معنی کو متضمن ہے اور ” علی “ رقیب کا صلہ ہے ‘

اس کا معنی ہے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت پر نگہبان اور ان کے احوال پر مطلع ہیں ‘ اس لیے ان کے حق میں گواہی دیں گے۔ (انوار التنزیل (درسی) ص ٢٩‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)

بہ کثرت احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پچھلی امتیں پیش کی گئیں اور اس امت کے افعال اور اعمال آپ پیش کیے گئے اور چونکہ آپ سب کے احوال اور افعال پر مطلع ہیں اس لیے سب کے متعلق گواہی دیں گے۔

قرآن مجید میں ہے :

فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھیدو جئنابک علی ھؤلاء شھیدا “۔ (النساء : ٤١)

ترجمہ : اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان (سب) پر گواہ بنا کر لائیں گے۔

علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ ہر نبی اپنی امت کے فاسد عقائد اور برے اعمال کے خلاف گواہی دے گا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام نبیوں کی گواہی کے صدق پر گواہی دیں گے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام امتوں کے احوال پر مطلع ہوں گے ‘ کیونکہ بغیر علم کے گواہی جائز نہیں ہے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے تمام امتوں کے احوال اور افعال پر مطلع فرمایا ہے اور ان کی دنیا اور آخرت کا آپ کو علم عطا فرمایا ہے ‘ اور خصوصا آپ کی امت کے اعمال قبر انور میں آپ پر پیش کیے جاتے ہیں۔

امام احمد بن حنبل روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھائی پھر وہاں چاشت کے وقت تک بیٹھے رہے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسے ‘ پھر اسی جگہ بیٹھے رہے ‘ پھر آپ نے ظہر ‘ عصر ‘ مغرب اور عشاء پڑھیں اور اس دوران کسی سے بات نہیں کی ‘ پھر گھر تشریف لے گئے ‘ لوگوں نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا : آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا نہیں کہ آج کا دن آپ نے غیر معمولی طور پر گزارا ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے پوچھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دنیا اور آخرت کے امور میں سے جو کچھ بھی ہونے والا تھا وہ سب مجھ پر آج پیش کیا گیا ‘ تمام اولین اور آخرین کو ایک میدان میں جمع کیا گیا ‘ لوگ گھبرا کر حضرت آدم کے پاس گئے درآں حالیکہ وہ لوگ منہ تک پسینے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ الحدیث ( مسند احمد ج ١ ص ٤‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اس حدیث کو امام ابوعوانہ نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند ابو عوانہ ج ١ ص ١٧٧۔ ١٧٦ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت)

امام مسلم روایت کرتے ہیں ؛

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر امت کے اچھے اور برے (تمام) اعمال پیش کے جاتے ہیں ‘ میں نے نیک اعمال میں دیکھا کہ نجاست کو راستہ سے ایک طرف کردیا گیا ‘ اور برے اعمال میں دیکھا کہ ناک کی رینٹ کو مسجد میں ڈال دیا گیا اور اس کو دفن نہیں کیا گیا (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٢٠٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث کو امام احمد۔ ١ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٥ ص، ١٨٠ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ)

امام ابوعوانہ۔ ٢ (امام ابوعوانہ یعقوب بن اسحاق اسفرائنی متوفی ٣١٦ ھ ‘ مسند ابو عوانہ ج ١ ص ١٧٧۔ ١٧٦ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت)

اور امام بیہقی : ٣ (امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ ٗسنن کبری ج ١ ص ٣٦۔ ٣٥‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ٗملتان) نے بھی روایت کیا ہے۔

امام محمد بن سعدروایت کرتے ہیں :

بکربن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری حیات تمہارے لیے بہتر ہے ‘ تم باتیں کرتے ہو اور تمہارے لیے حدیث بیان کی جاتی ہے اور جب میں وفات پاجاؤں گا تو میری وفات تمہارے لیے بہتر ہوگی ‘ مجھ پر تمہارے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ جب میں نیک عمل دیکھتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں اور جب میں برا عمل دیکھتا ہوں تو تمہارے لیے استغفار کرتا ہوں۔ (الطبقات الکبری ج ٢ ص ١٩٤‘ مطبوعہ دار صادر بیروت ‘ ١٣٨٨ ھ)

حافظ سیوطی نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے : یہ حدیث حسن ہے۔ (الجامع الصغیر ج ١ ص ٥٨٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

حافظ ابن حجر عسقلانی۔ ١ (حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ ‘ المطالب العالیہ ج ٤ ص ٢٣۔ ٢٢‘ مطبوعہ توزیع عباس احمد الباز ‘ مکہ مکرمہ)

علامہ علی متقی ھندی۔ ٢ (علامہ علی متقی بن حسام الدین ہندی متوفی ٩٧٥ ھ ‘ کنزالعمال ج ١١ ص ٤٠٧‘ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

اور علامہ مناوی۔ ٣ (علامہ عبدالرؤف مناوی متوفی ١٠٠٣ ھ ‘ فیض القدیر ج ٣ ص ٤٠١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٣٩١ ھ) نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔

حافظ ابن کثیر ‘ امام بزاز کی سند بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے سیاحت کرنے والے ہیں ‘ وہ مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری حیات تمہارے لیے بہتر ہے ‘ تم باتیں کرتے ہو اور تمہارے لیے حدیث بیان کی جاتی ہے اور میری وفات تمہارے لیے بہتر ہے ‘ تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں۔ میں جو نیک عمل دیکھتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں ‘ اور میں جو برا عمل دیکھتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں۔ (البدایہ والنہایہ ج ٥ ص ٢٧٥ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٣٩٣ ھ)

حافظ نور الدین الہیثمی اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

اس حدیث کو امام بزار نے بیان کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٩ ص ‘ ٢٤ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام عبداللہ بن عدی الجرجانی روایت کرتے ہیں :

خراش بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری حیات تمہارے لیے بہتر ہے اور میری موت تمہارے لیے بہتر ہے ‘ حیات اس لیے بہتر ہے کہ میں تم سے حدیث بیان کرتا ہوں اور میری موت اس لیے بہتر ہے کہ ہر پیر اور جمعرات کو تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں ‘ سو جو نیک عمل ہوتے ہیں میں ان پر اللہ کی حمد کرتا ہوں اور جو برے عمل ہوتے ہیں تو میں تمہارے لیے استغفار کرتا ہوں۔ الکامل فی ضعفاء الرجال ‘ ج ٣ ص ٩٤٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

اس حدیث کو امام ابن جوزی نے حضرت انس (رض) کی روایت سے ذکر کیا ہے اس روایت میں ہر جمعرات کو عرض اعمال کا ذکر ہے پیر کا ذکر نہیں ہے۔ (الوفاء ص ٨١٠‘ مطبوعہ مطبع مصطفیٰ البابی واولادہ ‘ مصر ١٣٦٩ ھ)

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت اوس بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا دن جمعہ ہے ‘ اس دن مجھ پر بہت زیادہ صلوۃ (درود) پڑھا کرو ‘ کیونکہ تمہاری صلوۃ مجھ پر پیش کی جاتی ہے ‘ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہماری صلوۃ آپ پر کیسے پیش کی جائے گی حالانکہ آپ کا جسم بوسیدہ ہوچکا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اللہ نے انبیا کے اجسام کھانے کو زمین پر حرام کردیا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٢١٤۔ ١٥٠‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر میری امت کے (نیک کاموں کے) اجر پیش کیے گئے حتی کہ مسجد سے کوڑا کڑکٹ نکال کر پھینکنے کا اجر پیش کیا گیا اور میری امت کے گناہ پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن مجید کی کوئی سورت یا کوئی آیت دی گئی ہو اور اس نے اس کو بھلا دیا۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٦٦ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس حدیث کو امام ترمذی ١ (امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ ‘ جامع ترمذی ص ٤١٤‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام بیہقی۔ ٢ (امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ ٗسنن کبری ج ٢ ص ٤٤٠‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ٗملتان)

امام طبرانی۔ ٣ (امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ ‘ المعجم الصغیر ج ١ ص ١٨٩‘ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ ‘ مدینہ منورہ ١٢٨٨ ھ)

اور امام عبدالرزاق۔ ٤ (امام عبدالرزاق بن ہمام صنعانی متوفی ٢١١ ھ ‘ المصنف ج ٣ ص ‘ ٣٦١ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) نے بھی روایت کیا ہے۔

امام طبرانی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ کی امت پر جو کچھ مفتوح تھا وہ آپ پر پیش کردیا گیا۔ (معجم کبیر ج ١٠ ص ٢٧٧‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

حافظ نور الدین الہیثمی امام بزار کے حواے سے ذکر کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر میری امت کو پیش کیا گیا اور ان میں تابع ہو یا متبوع مجھ پر کوئی مخفی نہیں رہا۔ (مجمع الزوائد ج ١ ص ٧٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام ابونعیم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں ایک نبی کے ساتھ ایک جماعت گزری ‘ ایک نبی کے ساتھ ایک اور دو آدمی گزرے۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٤ ص ٣٠٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

اس حدیث کو امام ابوعوانہ۔ ٥ (امام ابوعوانہ یعقوب بن اسحاق اسفرائنی متوفی ٣١٦ ھ ‘ مسند ابو عوانہ ج ١ ص ٨٥ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت)

اور امام طبرانی۔ ٦ (امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ ‘ معجم کبیر ج ١٠ ص ٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) نے تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے رسول ! ) جس قبلہ پر آپ پہلے تھے ہم نے اس کو اسی لیے قبلہ بنایا تھا تاکہ ہم ظاہر کردیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور اس کو اس سے ممتاز کردیں جو اپنی ایڑیوں پلٹ جاتا ہے۔ (البقرہ : ١٤٣)

بعض ترجموں سے اللہ تعالیٰ کے علم کی نفی کا اشکال اور اس کے جوابات :

اس آیت کا لفظی معنی یہ ہے : تاکہ ہم جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے ‘ لیکن اس ترجمہ سے یہ لازم آتا ہے کہ تحویل قبلہ سے پہلے اللہ تعالیٰ کو یہ علم نہیں تھا کہ رسول کی پیروی کرنے والے اور دین سے پھرجانے والے کون ہیں ‘ بعض مترجمین نے اسی طرح ترجمہ کیا تھا :

شیخ محمودالحسن اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :

اور نہیں مقرر کیا تھا ہم نے وہ قبلہ جس پر تو پہلے تھا ‘ مگر اس واسطے کہ معلوم کریں کہ کون تابع رہے گا اور کون پھرجائے گا الٹے پاؤں۔

شیخ اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں :

اور جس سمت قبلہ پر آپ رہ چکے ہیں وہ تو محض اس لیے تھا کہ ہم کو معلوم ہوجائے کہ کون تم رسول اللہ کا اتباع اختیار کرتا ہے اور کون پیچھے کو ہٹتا جاتا ہے۔

سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں :

پہلے جس طرف تم رخ کرتے تھے اس کو تو ہم نے یہ دیکھنے کے لیے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پر پھرجاتا ہے۔

اس عبارت میں دیکھنے سے متبادر بھی جاننا ہے اس لیے یہ عبارت محل اشکال ہے کیونکہ اس قسم کی عبارت میں دیکھنے کا لفظ جاننے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔

اور ہم نے اس آیت کا یہ ترجمہ کیا ہے :

اور (اے رسول ! ) جس قبلہ پر آپ پہلے تھے ہم نے اس کو اسی لیے قبلہ بنایا تھا تاکہ ہم ظاہر کردیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور اس کو اس سے ممتاز کردیں جو اپنی ایڑیوں پر پلٹ جاتا ہے۔

ہم نے اس آیت میں علم کا اظہار اور تمییز کے معنی پر محمول کیا ہے تاکہ صرف اردو پڑھنے والے لوگ جن کی عربی تفاسیر تک رسائی نہیں ہے یہ وہم نہ کریں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی نفی ہو رہی ہے۔ معاذ اللہ !

اس آیت کا ظاہری معنی ہے : ہم ہمیں معلوم ہوجائے ‘ اس معنی پر جو اشکال ہے اس کے امام رازی نے متعدد جواب دیئے ہیں :

(١) تاکہ ہم جان لیں اس کا معنی ہے : تاکہ ہمارے نبی اور ایمان والے جان لیں ‘ جیسے بادشاہ کہتا ہے : فلاں شہر ہم نے فتح کیا ‘ یعنی ہماری فوجوں نے فتح کیا۔

(٢) علم بہ معنی تمییز ہے یعنی تاکہ ہم رسول کے متبعین کو غیر متبعین سے ممتاز کردیں۔

(٣) علم بہ معنی مشاہدہ ہے ‘ یعنی تاکہ ہم یہ مشاہدہ کرلیں کہ کون متبع ہے ‘ اللہ کو اس کا علم تو پہلے تھا لیکن مشاہدہ تحویل قبلہ کے وقت ہوا۔

(٤) اس آیت میں حدوث علم مخاطبین کی طرف راجع ہے یعنی تاکہ تم لوگ یہ جان لو کہ کون متبع ہے اور کون پھرنے والا ہے۔

(٥) علم بہ معنی تحقق ہے یعنی تاکہ واقع میں متبعین متحقق ہوجائیں اور آپ کی اتباع سے پھرنے والے متحقق ہوجائیں۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ١١۔ ١٠ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

علامہ آلوسی لکھتے ہیں :

یہ کلام بہ طور تمثیل ہے یعنی تحویل قبلہ کا یہ فعل اس شخص کے فعل کی مثل ہے جو یہ جاننا چاہے کہ کون متبع ہے اور کون غیر متبع ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں متعدد جگہ علم بہ معنی جزاء آیا ہے اور اس آیت میں بھی علم بہ معنی جزاء ہے ‘ یعنی تاکہ ہم آپ کی اتباع کرنے والے کو جزا دیں اور آپ کی اتباع سے پھرنے والے کو سزا دیں۔ (روح المعانی ج ٢ ص ٦‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے ان کے سوا سب پر یہ (قبلہ کا بدلنا) بھاری ہے۔ (البقرہ : ١٤٣)

اہل کتاب پر تحویل قبلہ کے بھاری ہونے کی وجہ :

اللہ تعالیٰ نے قبلہ بدل کر لوگوں کو امتحان میں ڈالا ‘ اور یہ امتحان ان پر اس لیے بھاری تھا کہ جو چیز مالوف ہو اور جس کی عادت ہو اس کو ترک کرنا اور اپنے آباء و اجداد کے طریقہ کو چھوڑنا بہت دشوار ہوتا ہے اور ہر نئی چیز سے انسان متوحش ہوتا ہے ‘ البتہ جس شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت پیدا کردی اور اس نے اپنی طبیعت کو شریعت میں ڈھال لیا ‘ اس کو فی نفسہ کسی چیز سے رغبت نہیں ہوتی ‘ اس کی رغبت تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا تو وہ اس کا قبلہ تھا اور اب اللہ اور رسول نے کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا تو وہ اس کا قبلہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کردے۔ (البقرہ : ١٤٣)

نمازوں پر ایمان کے اطلاق کی توجیہ :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ کچھ مسلمان تحویل قبلہ سے پہلے فوت ہوگئے کچھ شہید ہوگئے اور ہم نے نہیں جانا کہ ہم (بیت المقدس کی طرف ان کی پڑھی ہوئی نمازوں کے متعلق) کیا کہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ترجمہ) اور اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کرے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس آیت میں بیت المقدس کی طرف پڑھی ہوئی نمازوں پر ایمان کا اطلاق کیا گیا ہے اس سے محدثین اور ائمہ ثلاثہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ ایمان میں اعمال داخل ہیں اور متکلمین اور امام ابوحنیفہ یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں ایمان سے مراد کامل ہے اور ایمان کامل میں ہمارے نزدیک بھی اعمال داخل ہیں ’ البتہ نفس ایمان صرف تصدیق کو کہتے ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 143