حدیث نمبر :41

روایت ہے حضرت وہب ابن منبہ سے ۱؎ کہ ان سے عرض کیا گیا کہ کیا کلمہ لا الہ الا اﷲ جنت کی چابی نہیں ۲؎ فرمایا ہاں ہےلیکن کوئی چابی دندانہ بغیر نہیں ہوتی ۳؎ تو اگر تم دندانہ والی چابی لے کر آؤ گے تو تمہارے لئے دروازہ کھلے گا ورنہ نہ کھلے گا ۴؎(بخاری ترجمہ باب)

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابو عبداﷲ ہے،وطن فارس،قیام گاہ یمن کا علاقہ صنعاء ہے،آپ جلیل القدر تابعی ہیں،یمن کے قاضی تھے، ۱۱۴ ھ؁ میں وفات پائی، حضرت جابر اور ابن عباس سے ملاقات اور سماعت ثابت ہے۔

۲؎ مسلمانوں میں ایک فرقہ مرجیہ تھا جن کے نزدیک عمل کی کوئی ضرورت نہ تھی،اسلام لا کر بدترین گناہ بھی برا نہ جانتے تھے۔سائل ان میں سے کوئی تھا۔منشاءسوال یہ ہے کہ جب کلمہ طیّبہ جنت کی چابی ہے تو نیک اعمال کی کیا ضرورت ہے۔

۳؎ سبحان اﷲ!کیا نفسن مثال ہے،یعنی کلمہ طیبہ چابی کی ڈنڈی ہے اور ارکان اسلام روزہ نماز وغیرہ اس کے دندانےجیسے چابی میں دانتوں کی ضرورت ہے ایسے ہی مسلمان کے لئےٍ ارکان اربعہ ضروری ہیں۔

۴؎ یعنی بد عمل مسلمان اوّلًا جنت میں نہ جائے گا۔”اِلَّا اِن یَّشَاءَ اﷲُ “۔اس مسئلے کی تحقیق پہلے ہوچکی۔