بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ يَعۡرِفُوۡنَهٗ كَمَا يَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَهُمۡؕ وَاِنَّ فَرِيۡقًا مِّنۡهُمۡ لَيَكۡتُمُوۡنَ الۡحَـقَّ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس نبی کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ‘ اور ان میں سے ایک فریق یقیناً جان بوجھ کر حق کو چھپاتا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ (البقرہ : ١٤٦)

اہل کتاب کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بیٹوں سے زیادہ پہچاننا۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری نے متعدد اسانید کے ساتھ قتادہ ‘ ربیع ‘ حضرت ابن عباس ‘ سدی ‘ ابن زید اور ابن جریج سے نقل کیا ہے کہ یہ ضمیر تحویل قبلہ کی طرف لوٹتی ہے یعنی اہل کتاب تحویل قبلہ کے حق ہونے کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ (جامع البیان ج ٢ ص ١٦‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤١٠ ھ)

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

یہ ضمیر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع ہے ‘ مجاہد ‘ قتادہ ‘ ربیع ‘ حضرت ابن عباس ‘ سدی ‘ ابن زید ‘ اور ابن جریج سے نقل کیا ہے کہ یہ ضمیر تحویل قبلہ کی طرف لوٹتی ہے یعنی اہل کتاب قبلہ کی حق ہونے کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں (جامع البیان ج ٢ ص ١٦‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

یہ ضمیر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع ہے ‘ مجاہد ‘ قتادہ وغیرہما سے یہی روایت ہے ‘ زجاج ‘ تبریزی اور زمخشری کا یہی مختار ہے پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صیغہ خطاب سے ذکر کیا تھا اور اب ضمیر غائب سے ذکر کیا ہے ‘ سو یہ باب التفات سے ہے ‘ یعنی اہل کتاب کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی واضح معرفت حاصل تھی ‘ ان کو آپ کی معرفت میں کوئی شک نہیں تھا نہ آپ کی دی ہوئی خبروں کے صادق ہونے میں کوئی تردد تھا اور جن چیزوں کا آپ کو مکلف کیا گیا تھا مثلا بیت المقدس کے قبلہ ہونے کا منسوخ ہونا ‘ ان کی صداقت پر ان کو یقین تھا کیونکہ ان کی کتاب میں آپ کا ذکر اور آپ کی صفات لکھی ہوئی تھیں ‘ قرآن مجید میں ہے۔

(آیت) ” یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورۃ والانجیل : (الاعراف : ١٥٧)

جس رسول کا ذکر وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اس ضمیر کے لوٹنے کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے سوال کیا : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل کی ہے کہ (آیت) ” الذین اتینہم الکتب یعرفونہ “ (البقرہ : ١٤٦) تو یہ معرفت کیسی ہے ‘ حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا : اے عمر ! جب میں نے آپ کو دیکھا تو فورا پہچان لیا جیسے اپنے بیٹے کو پہچانتا ہوں ‘ اور میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بیٹے سے زیادہ پہچانتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے کتاب میں آپ کی صفات بیان کی ہیں اور اپنے بیٹوں کے متعلق ہمیں پتا نہیں کہ عورتیں کیا کرتی ہیں ‘ میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں ‘ حضرت عمر (رض) نے ان کے سر کو بوسہ دیا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق دی ہے۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ٣٣۔ ٣٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

علامہ قرطبی نے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے اور یہ لکھا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ اس نبی کو اپنے آپ سے زیادہ پہچانتے ہیں کیونکہ انسان کو اپنی پیدائش سے لے کر ایک زمانہ تک اپنی معرفت نہیں ہوتی اور وہ اپنے بیٹے کو شروع سے پہچانتا ہے اور اس کی معرفت کے بغیر اس پر کوئی زمانہ نہیں گزرتا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ١٦٣ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

امام فخر الدین رازی حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

چونکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت معجزات سے ثابت ہوگئی تھی ‘ اس لیے آپ کے نبی ہونے کا ان کو قطعی علم تھا ‘ جبکہ اپنے بیٹے کے متعلق ان کو قطعیت کے ساتھ یہ علم نہیں تھا کہ یہ ان کا بیٹا ہے ‘ اس لیے آپ کی معرفت بیٹوں کی معرفت سے زیادہ قوی تھی ‘ نیز امام رازی فرماتے ہیں :

اس آیت میں ضمیر کو تحویل قبلہ کی طرف لوٹانے کے قول سے یہ قول راجح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر نہیں دی کہ ان کی کتابوں میں تحویل قبلہ کا ذکر ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ تورات اور انجیل میں آپ کا ذکر لکھا ہوا ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ اس آیت سے پہلی آیت میں آپ کا ذکر ہے (آیت) ” ولئن اتیت الذین اوتوالکتب ولئن اتبعت اھوآء ھم “۔ اور تحویل قبلہ کا ذکر اس سے بعید ہے اور قریب کو مرجع بنانا اولی ہے ‘ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ معجزات سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صادق ہونا ثابت ہوا ہے اس لیے اہل کتاب آپ کی نبوت کے صدق کو پہچانتے تھے اور تحویل قبلہ کا برحق ہونا آپ کے برحق ہونے کی فرع ہے اس لیے اس ضمیر کو آپ کی طرف لوٹانا زیادہ اولی ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٢٦۔ ٢٥ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

حافظ سیوطی لکھتے ہیں کہ ثعلبی نے از سدی صغیر از کلبی روایت کیا ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے تو حضرت عمر بن الخطاب نے حضرت عبداللہ بن سلام سے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل کی ہے۔ (آیت) ” یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم “۔ (البقرہ : ١٤٦) اے عبداللہ ! یہ معرفت کیسی ہے ؟ حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا : جب میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کو اس طرح پہچان لیا جس طرح میں اپنے بیٹے کو پہچانتا ہوں ‘ بلکہ مجھے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معرفت اپنے بیٹے سے زیادہ تھی کیونکہ ہماری کتاب میں اللہ تعالیٰ نے ان کی صفات بیان کی ہیں تو میں نے دیکھتے ہی آپ کو پہچان لیا کہ یہ برحق نبی ہیں اور اپنے بیٹوں کے متعلق میں نہیں جانتا کہ عورتیں کیا کرتی ہیں ‘ حضرت عمر نے کہا : اے عبداللہ بن سلام ! تم کو اللہ نے توفیق دی۔ (درمنثور ‘ ج ١ ص ١٤٧‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)

امام طبرانی روایت کرتے ہیں :

حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے کہ میں دین کو تلاش کرنے کے لیے نکلا تو مجھے اہل کتاب کے باقی لوگوں میں سے چند راہب ملے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم “۔ (البقرہ : ١٤٦) وہ کہتے تھے کہ یہ وہ زمان ہے جس میں عنقریب سرزمین عرب سے ایک نبی ظاہر ہوگا ‘ اس کی خاص علامات ہیں ‘ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے کندھوں کے درمیان تلوں کے گول مجموعہ کی شکل میں مہر نبوت ہوگی ‘ میں عرب میں پہنچا ‘ اس وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ظہور ہوچکا تھا۔ میں نے ان تمام علامات کو دیکھا اور مہر نبوت کو بھی دیکھا ‘ پھر میں نے کلمہ پڑھ لیا ‘ ” لالہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ الحدیث۔ (المعجم کبیر ج ٢ ص ‘ ٢٦٨۔ ٢٦٧ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 146