بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ

(یہ تحویل قبلہ) تمہارے رب کی طرف سے برحق ہے ‘ (تو اے مخاطب) تم شک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ ہونا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (یہ تحویل قبلہ) تمہارے رب کی طرف سے برحق ہے (تو اے مخاطب) تم شک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ ہونا۔۔ (البقرہ : ١٤٧)

قبلہ کے بارے میں شک کرنے کی ممانعت کی توجیہ :

اس آیت میں تعریض ہے ‘ صراحۃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے اور مراد آپ کی امت ہے ‘ کیونکہ اس آیت میں شک کرنے سے منع کیا ہے اور جس چیز سے منع کیا جائے اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ پہلے واقع ہوچکی ہو یا متوقع ہو ورنہ منع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ توقع نہیں ہے کہ آپ قبلہ کے برحق ہونے میں شک کریں گے اس لیے منع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کا خطاب بےفائدہ نہیں ہوسکتا اس لیے یہاں خطاب سے بہ طور تعریض آپ کی امت مراد ہے ‘ اس جگہ ایک اور سوال یہ ہے کہ شک کرنا یا نہ کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے ‘ اور غیر اختیاری چیز کا مکلف نہیں کیا جاتا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ شک کو زائل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دلائل بیان کردیئے اس لیے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان دلائل پر غور کرو تاکہ شک پیدا نہ ہو ‘ اور دلائل یہ ہیں کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں ‘ وہ کسی جہت اور سمت کے ساتھ مختص نہیں ہے اس لیے جس سمت کی طرف منہ کر کے سجدہ کرو گے اسی کو سجدہ ہوگا اور اس نے کعبہ کو اس لیے قبلہ بنایا کہ وہ تمہارے نبی کے باپ ابراہیم کا قبلہ اور تمہارے نبی کا مولد ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 147