زاویہ نگاہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالئ عنہ کی شہادت کے موقع پر مختصر تحریر _________________________

میری آج کی گفتگو کو دو مثالوں سے سمجھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ کیا ہمیں دشمن دین و ملک کو اعلی عہدوں پر جہاں پر وہ صاحب اختیار ہوں تعینات کرنا چاہیے یا نہیں؟

پہلی مثال جو بار بار لوگوں نے دی

جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھ گرفتار ہونے والوں کو کہا گیا کہ فدیہ دو اور آزاد ہوجاو۔

اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے خصوصی رعایت کا اعلان فرمایا جو فدیہ دینے کے قابل نہ تھے ، ان سے کہا گیا دس دس لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دو تمہارا فدیہ یہی ہے…

مگر یہ یاد رکھیے وہ قیدی تھے اور کوئی قیدی رہائی کے لیے مخلصانہ کوشش کیوں نہیں کرے گا؟

یا ہوں کہہ لیجئے کوئی بھی قیدی اپنے دشمن کو تعلیم کیوں دے گا… مقصد دشمن کی تعلیم نہیں اپنی آزادی ہے

آج بھی جیلوں میں قیدی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اپنی قید میں کمی کرواتے ہیں………

یہ یاد رکھیے ایک قیدی اور کسی ادارے میں خاص عہدے پر بیٹھے ہوئے شخص میں بڑا فرق ہوتا ہے…

دوسری مثال

امام زہری نے لکھا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ میں بالغ نوجوانوں کا داخلہ منع فرمایا تھا (یقینا یہ فیصلہ معاشی اور سیکورٹی کے پیش نظر کیا گیا تھا)

لیکن ابولولو فیروز( حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کرنے والا) کی سفارش مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے کی کہ یہ شخص بہت زیادہ ہنر مند ہے اس سے مدینہ کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے مغیرہ بن شعبہ کی سفارش کے سبب ابو لولو فیروز کو مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دی..

پھر اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے وہی ابولولو فیروز 26 ذوالحجہ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فجر کی نماز میں حملہ آور ہوکر شدید زخمی کر دیتا ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ یکم محرم کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مرتبہ شہادت پا جاتے ہیں

جبکہ طبقات ابنِ سعد میں لکھا ہے کہ اس سازش میں دو اور عجمی شریک ہیں جن میں سے ایک ہرمزان،( اور ہرمزان بھی فارس کے کسی علاقے کا گورنر تھا اور فارس کے فتح ہونے کے بعد مدینہ میں آکر آباد ہوا) اور دوسرا جفینہ…..

جب دشمن کو کسی عہدے پر اسکے فن و ہنر کی وجہ بیٹھاؤ گے تو نتائج اس طرح کے ہوں گے..

اور اسکی ایک موجودہ مثال فلسطین میں یہودیوں کا آباد ہونا ہے. کل تک فلسطینی بڑے خوش تھے کہ ہماری جائیدادوں کی قیمتیں بہت اچھی مل رہی ہیں ہم امیر ہو جائیں گے.. اور آج فلسطینیوں کا رونا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجئے.. فلسطینیوں کا وجود ختم ہو گیا

پھر برصغیر میں معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لئے آنے والے ان تاجروں کو دیکھیے جو لگاتار دو سو سال ہم پر حکومت کر گئے….

دوستوں اسی طرح قادیانی دشمن دین اور دشمن پاکستان ہیں ہر صورت میں مسلمانوں کو تب تک ان سے ہوشیار رہنا ہے جب تک یہ اپنا مسلمانی کا لبادہ اتار نہیں دیتے….

بشکریہ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی