حدیث نمبر :44

روایت ہے حضرت عمرو ابن عبسہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ حضور اسلام میں آپ کے ساتھ کون کون ہے فرمایا ایک غلام ایک آزاد ۲؎ میں نے عرض کیا اسلام کیا ہے ۳؎ فرمایا اچھی بات کرنا کھانا کھلانا ۴؎ میں نے پوچھا ایمان کیا ہے ۵؎ فرمایا صبر اور سخاوت ۶؎ فرماتے ہیں میں نے پوچھا کون سااسلام بہتر ہے فرمایا جس کی زبان و ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں فرماتے ہیں میں نے پوچھا کونسا ایمان افضل ہے فرمایا اچھے عادات ۷؎ فرماتے ہیں پوچھا نماز کونسی افضل ہے ۸؎ فرمایا لمبا قیام ۹؎ فرماتے ہیں میں نے پوچھا ہجرۃ کونسی بہتر ہے ۱۰؎ فرمایا یہ کہ جو رب کو ناپسند ہو اسے چھوڑ دو ۱۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کہ جہاد کونسا بہتر ہے فرمایا جس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جاویں اور اس کا خون بہادیا جاوے ۱۲؎ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا گھڑی کون سی بہتر ہے۱۳؎ فرمایا آخری رات کا درمیانی حصہ۱۴؎ (احمد)

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابو شیخ ہے،قبیلہ بنی سلمہ سے ہیں،قدیم الاسلام صحابی ہیں،چنانچہ آپ چوتھے مسلمان ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اپنی قوم بنی سلیم میں رہے۔خیبر کے بعد مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور وہیں قیام کیا۔

۲؎ یعنی اب تک ابوبکرصدیق اور بلال ایمان لاچکے ہیں،چونکہ حضرت علی بچے تھے،حضرت خدیجہ بی بی تھیں۔اس لئےان کا ذکر نہ فرمایا،یا یہ مطلب ہے کہ اسلام میں غلام و آزاد ہر قسم کے لوگ داخل ہیں یہی معنی زیادہ قوی ہیں۔

۳؎ یعنی مسلمان کی خصوصی خصلتیں کیا ہیں یا کمال اسلام کیا ہے۔

۴؎ یہ اسلامی اخلاق ہیں،اچھی بات میں کلمہ طیبہ،دین کی تبلیغ،لوگوں کو برائیوں سے سختی سے روکنا،نرم کلام سب شامل اور کھلانے میں مہمان نوازی،مسافروں اور بھوکوں کا پیٹ بھرنا،بچوں کو پالنا سب داخل ہیں۔

۵؎ یعنی ایمان کا نتیجہ اور پھل اور مؤمن کی علامت۔

۶؎ صبر کی بہت قسمیں ہیں۔عبادت پرصبر،گناہ سے صبر،مصیبت میں صبر،یعنی ہمیشہ عبادت کرنا،کبھی گناہ نہ کرنا مصیبت میں گھبرانہ جانا،ایسے ہی عمد کی سخاوت،مال کی سخاوت،دین کی سخاوت سب اس میں شامل ہیں۔

۷؎ اچھے خلق اﷲ کی بڑی نعمت ہیں یہ ہمارے حضور کو بطور معجزہ عطا ہوئے،رب فرماتا ہے:”اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ”خلق حسن وہ عادت ہے جس سے خالق بھی راضی رہے مخلوق بھی،یعنی نفس کے معاملے میں در گزر اور معافی دین کے معاملے میں سخت پکڑ۔

۸؎ یعنی نماز کا کون سا رکن یا کون سی صفت افضل ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ارکان نماز آپس میں یکساں نہیں۔

۹؎ قنوت کے معنی اطاعت،عاجزی،نماز،دُعا،خاموشی اور قیام ہے۔یہاں یا عاجزی یا خشوع مراد ہے،یا قیام،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔خیال رہے کہ بعض کے نزدیک سجدہ افضل ہے اور بعض کے ہاں قیام افضل،بعض کے خیال میں رات کی نماز میں لمبا قیام افضل اور دن کی نماز میں زیادہ سجدے بہتر،مگر امام صاحب کے یہاں لمبا قیام بہتر ہے کیونکہ اس میں مشقت اور خدمت زیادہ ہے،یعنی اگر ایک گھنٹہ نوافل پڑھنے ہیں تو بجائے چھوٹی بیس رکعتوں کے لمبی چار رکعتیں پڑھے یہ حدیث امام صاحب کی دلیل ہے۔جن روایتوں میں زیادتی سجدہ کو افضل کہا گیا ہے وہاں کوئی خاص سبب ہے۔

۱۰؎ ہجرتیں بہت سی قسم کی ہیں:مکّہ سے حبشہ کی طرف،مکّہ سے مدینہ کی طرف ،کفرستان سے دارالاسلام کی طرف،جہالت کی جگہ سے علم کے مقام کی طرف،علم سیکھنے کے لیے گناہوں سے نیکیوں کی طرف،کفر سے اسلام کی طرف۔(مرقاۃ)

۱۱؎ حرام،مکروہ تحریمی،مکروہ تنزیہی سب سے بچو کہ یہ اعلٰی ہجرت ہے۔خیال رہے کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ ہو خدا کو بھی پسند نہیں۔

۱۲؎ یعنی غازی میدان جہاد سے نہ جان سلامت لائے نہ مال،غنیمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جہاد میں جس قدر مشقت زیادہ اسی قدر ثواب زیادہ۔

۱۳؎ یعنی نفل کے لیے کون سا وقت بہتر ہے۔فرائض کے اوقات کا سوال نہیں ہے جیسا کہ جواب سے معلوم ہورہا ہے۔

۱۴؎ یعنی آخری تہائی رات کے تین حصے کرو اس کے درمیانی حصے میں تہجد پڑھو گویا رات کے چھٹے حصے میں اس ہی وقت سحری کھانا دعائیں مانگنا بلکہ استغفار کرنا افضل ہےکیونکہ اس وقت رحمت الٰہی دنیا کی طرف زیادہ متوجہ ہوتی ہے اور اس وقت جاگنا نفس پرشاق ہے ؎

پچھلی راتیں رحمت ربدی گھر گھر کرے آوازہ سونے والیو رب رب کرلو کھلا ہے دروازہ