حدیث نمبر :48

روایت ہے عبداﷲ ابن عمر و سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شرک باﷲ،ماں باپ کی نافرمانی ۱؎ جان کا قتل، جھوٹی قسم ۲؎ بڑے گناہ ہیں اسے بخاری نےروایت کیا۔

شرح

۱؎ یعنی ان کے حقوق ادا نہ کرنا،یا ان کے جائزحکموں کی مخالفت کرنا،ماں باپ کے حکم میں دادا و دادی اور نانا اور نانی بھی ہیں۔اس ترتیب سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی نافرمانی بدترین جرم ہے کہ شرک کے بعد اس کا ذکر فرمایا گیا۔اسی لئے رب نے اپنی عبادت کے ساتھ ماں باپ کی اطاعت کا ذکر کیا کہ فرمایا:”اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالْوٰلِدَیۡنِ اِحْسٰنًا “۔

۲؎ غموس قسم وہ ہے جو دیدہ ودانستہ گزشتہ واقعہ پر جھوٹی کھائی جائے اس میں گناہ ہے کفارہ نہیں،یہ قسم انسان کو گناہ میں ڈبو دیتی ہے اس لئے اس غموس کہتے ہیں۔چونکہ جھوٹ اور جھوٹی قسم ہزار ہا گناہوں کی جڑ ہے۔اس لیے یہ گناہ کبیرہ ہے۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے جوابات سائلین کے حالات کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔

حدیث نمبر :49

حضرت انس کی روایت میں بجائے جھوٹی قسم کے جھوٹی گواہی ہے۔(بخاری،مسلم)