حدیث نمبر :50

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے سات ہلاکت کی چیزوں سے بچو۔لوگوں نے پوچھا حضور وہ کیا ہیں ؟ فرمایا اﷲ کے ساتھ شرک ۱؎ جادو ۲؎ ،اور ناحق اس جان کو ہلاک کرنا جو اﷲ نے حرام کی،اور سود خوری ۳؎ ،یتیم کا مال کھانا ۴؎ ،جہاد کے دن پیٹھ دکھادینا ۵؎ ،پاکدامن مؤمن ہ بے خبر بیبیوں کو بہتان لگانا ۶؎ (بخاری،مسلم)

شرح

۱؎ یعنی مطلقًاکفر کیونکہ کوئی کفر گناہ صغیرہ نہیں سب کبیرہ ہیں۔

۲؎ یعنی جادو کرنا یا بلا ضرورت جادو سیکھنا۔خیال رہے کہ جادو اتارنے کے لیے جادو سیکھنا جائز بلکہ ضروری ہے۔اگر جادو میں الفاظ کفریہ ہیں تو جادوگر مرتد ہوجاتا ہے۔ورنہ فقط مفسد دونوں قسم کے جادوگر واجب القتل ہیں۔پہلا ارتداد اور فساد کی وجہ سے اور دوسرا فقط فساد کی بناء پر۔(ازاشعۃ اللمعات)

۳؎ یعنی سود لینا خواہ کھائے خواہ پہنے یا کسی اور کام میں لائے۔اس سے معلوم ہوا کہ سود لینا گناہ کبیرہ ہے نہ کہ دینا۔

۴؎ یعنی ظلمًا اس کا مال مارنا کیونکہ یتیم رحم کے قابل ہے اس پر ظلم بدترین گناہ ہے۔

۵؎ یعنی کفار کے مقابلہ سے بھاگ جانا کیونکہ اس میں غازیو ں کو نقصان پہنچانا ہے اور اسلام کی توہین۔خیال رہے کہ جہاد سے بھاگنا گناہ کبیرہ جب ہے کہ بزدلی سے ہو اگر کفار کا دباؤ بڑھ جانے سے مجبورًا مورچہ چھوڑنا پڑے تو اس کا یہ حکم نہیں ایسے موقعہ پر ڈٹ جانا اور شہید ہوجانا افضل ہے لیکن پیچھے پھرجانا گناہ کبیرہ نہیں تدبیرجنگی کی بنا پر پیچھے ہٹناثواب ہے۔

۶؎ زناکا یعنی جو نیک بخت زنا کو جانتی بھی نہ ہوں انہیں تہمت لگانا گناہ ہے صراحۃً،ضمنا لہذا کسی عورت کو غصّہ میں زانیہ یا بدمعاش کہنا بھی اسی میں داخل ہے۔خیال رہے کہ نیک مرد اور چالاک عورتوں کو بھی زنا کی تہمت لگانا گناہ ہے مگر غافلہ عورتوں کو تہمت لگانا بہت زیادہ گناہ ہے جس کی سزا دنیا میں اسی کوڑے اور آخرت میں سخت عذاب۔

تتمّہ

مرقاۃ میں ہے کہ ۱۷ گناہ کبیرہ بہت سخت ہیں:چار دل کے:(۱)شرک و کفر(۲)گناہ پر اڑنے کی نیّت(۳)اﷲ کی رحمت سے مایوسی(۴)عذاب پر امن۔چار زبان میں:(۱)جھوٹی گواہی(۲)پاک دامنوں کی تہمت(۳)جھوٹی قسم(۴)جادو۔تین پیٹ کے گناہ:(۱)یتیم کا کھانا(۲)شراب پینا(۳)سود کھانا۔دو شرم گاہ کے:(۱)زنا(۲) لواطت۔دو ہاتھ کے:(۱)چوری(۲)ناحق قتل۔ایک پاؤں کا(۱)میدان جہاد سے بھاگ جانا۔ایک سارے بدن کا:(۱)یعنی والدین کی نافرمانی۔