سیدنا حضرت عثمان غنی رضی الله تعالیٰ عنه کے وہ فضائل جن میں وہ خاص ہیں !!

١- آپ نبی کریم صلی الله علیه وسلم کے دوہرے داماد تھے اور اسی سبب آپ کو “ذوالنورین” کہا جاتا ہے۔

(السنن الكبرى للبيهقي: 72/7, صحيح)

۲- آپ نے جاھلیت میں بھی نہ کبھی گیت گایا، نہ اس کی تمنا کی، نہ شراب نوش کی، نہ زنا کے قریب گئے اور قبولِ اسلام کے بعد کبھی دائیں ہاتھ سے شرمگاه کو نہیں چھوا۔

(حلیة الأولياء: 60/1، صحيح بمجموع طرقه)

٣- آپ کو بدر میں عدم موجودگی کے باوجود بدریین کا مقام دیا گیا۔

(صحيح البخاري: 3697)

٤- آپ کو سب سے ذیادہ دفعہ جنت کی بشارت دی گئی جس کی تعداد تقریبا آٹھ سے بارہ کے درمیان ہے۔ (متعدد احادیث)

٥- آپ نے بیئرِ رومة اور دیگر مواقع پر اہلِ اسلام کی سب سے ذیادہ مالی معاونت کی.

(سنن الترمذي: 3703, حسنه ابن حجر)

٦- آپ کے خون کا بدلہ لینے کیلئے لی گئی بیعت کو اللہ نے اپنی بیعت قرار دیا۔

(سورۃ الفتح: 10)

٧- نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے فرمایا تھا: عثمان کو آج کے بعد کوئی عمل نقصان نہیں پہنچاۓ گا۔

(سنن الترمذي: 3701، حسنه الألباني)

۸- آپ اس امت کے سب سے ذیادہ با حیا آدمی تھے۔

(سنن الترمذي: 3791, صححه الألباني)

۹- آپ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے۔

(صحیح مسلم: 2401)

١۰- آپ امتِ محمدیہ کے پہلے اور حضرت لوط علیه السلام کے بعد دوسرے شخص ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں اہلیہ سمیت ہجرت کی۔

(السیرۃ النبویة لإبن كثير: 402/1، معناه صحيح)

١١- مسجدِ نبوی کی پہلی توسیع کا خرچہ آپ نے اٹھایا۔

(سنن النسائي: 3610، صححه الألباني)

١۲- آپ حرم میں ایک رات میں قرآن کریم مکمل پڑھ دیا کرتے تھے۔

(البدایة والنهاية: 225/7، صححه الذهبي)

١٣- آپ کے آزمائش سے دو چار ہونے کی پیش گوئی نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے کر دی تھی۔

(صحیح البخاري: 3690)

١٤- آپ کے حق پر قائم خلیفہ ہونے کی پیش گوئی بھی نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے کر دی تھی۔

(مسند أحمد: 419/4, صححه أحمد شاكر)

١٥- آپ کی مظلومانہ شہادت کی پیش گوئی بھی نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے کر دی تھی۔

(فضائل الصحابة: 551/1، إسناده حسن)

١٦- آپ بوقتِ شہادت ہدایت پر قائم تھے۔

(سنن إبن ماجه: 111, صححه الألباني)

١٧- نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے آپ کو خلافت سے دستبردار نہ ہونے کی وصیت کی تھی۔

(سنن الترمذي: 3705, صححه الألباني)

١۸- فتنوں کے دور میں آپ کے ساتھی بھی حق پر تھے۔

(مسند أحمد: 33/5، حسن لغيره)

١۹- نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے اپنے صحابہ کو فتنوں میں “امین” کے ساتھ رہنے کی وصیت کی اور آپ علیه السلام نے حضرت عثمان غنی کی جانب اشارہ کیا۔

(مسند أحمد: 2/344، إسناده صحيح)

۲۰- آپ کے ساتھ ہمیشہ مصحف ہوتا تھا اور بوقتِ شہادت بھی آپ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے۔

(البدایة والنهایة: 192/7)