بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِؕ وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَڪُمۡ شَطۡرَهٗ ۙ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَيۡكُمۡ حُجَّةٌ اِلَّا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِىۡ وَلِاُتِمَّ نِعۡمَتِىۡ عَلَيۡكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ

اور (اے رسول ! ) آپ جہاں سے بھی باہر نکلیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیرلیں ‘ اور (اے مسلمانو ! ) تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے چہروں کو اس کی طرف پھیر لو ‘ تاکہ لوگوں کے لیے تمہارے خلاف کوئی حجت نہ رہے ‘ البتہ ان میں سے جو ظالم ہیں (وہ تم پر ضرور ناحق الزام تراشی کریں گے) سو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو (اور کعبہ کی طرف منہ کرو) تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں اور تاکہ تم ہدایت پا جاؤ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو تم ان سے نہ ڈرو مجھ سے ڈرو (اور کعبہ کی طرف منہ کرو) تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردو۔ (البقرہ : ١٥٠)

تمام نعمت کا مصداق :

یعنی یہود اور نصاری تمہارے قبلہ پر جو چہ میگوئیاں کرتے ہیں اور اس پر زبان طعن دراز کرتے ہیں تو تم اس سے مت ڈرو اور مت گھبراؤ اور ان کے اعتراضات کی وجہ سے کعبہ کی طرف منہ کرنے کو ترک مت کرو بلکہ اس کو ترک کرنے کی وجہ سے میرے عذاب سے ڈرو ‘ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ انسان ہر وقت اللہ کے عذاب کو اپنے پیش نظر رکھے اور ہر کام کے وقت صرف یہ دیکھے کہ اس کام کے کرنے یا نہ کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے یا ناراض ہوتا ہے ‘ اس آیت میں تمام نعمت کا ذکر ہے ‘ امام ترمذی حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک شخص کے پاس سے گزر ہوا ‘ وہ دعا کررہا تھا : اے اللہ ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے بلاء (مصیبت) سوال کیا ہے ‘ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو ‘ ایک اور شخص کے پاس سے آپ کا گزر ہوا وہ دعا کر رہا تھا : اے اللہ ! میں تجھ سے تمام (پوری) نعمت کا سوال کرتا ہوں ‘ آپ نے فرمایا : اے ابن آدم ! کیا تم جانتے ہو کہ تمام نعمت کیا ہے ؟ اس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے نیکی کی توقع پر دعا کی ہے ‘ آپ نے فرمایا : اے ابن آدم ! کیا تم جانتے ہو کہ تمام نعمت کیا ہے ؟ اس نے کہا : یا رسول اللہ ! میں نے نیکی کی توقع پر دعا کی ہے ‘ آپ نے فرمایا : تمام نعمت جنت میں داخل ہونا اور جہنم سے نجات پانا ہے۔ ایک اور شخص کے پاس سے گزر ہوا ‘ وہ کہہ رہا تھا : یا ذا الجلال والا کرام ! آپ نے فرمایا : تمہاری دعا قبول ہوگی ‘ سوال کرو۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥٠٨۔ ٥٠٧ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث کو امام بخاری۔ ١ (امام محمد اسماعیل بخاری (رح) متوفی ٢٥٦ ھ الادب المفرد ص ١٨٨‘ مطبوعہ مکتبہ اثریہ ‘ سانگلہ ہل “ )

امام احمد۔ ٢ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٥ ص، ٢٣١ مطبوعہ مکتبہ اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ)

امام طبرانی۔ ٣ (امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ ‘ المعجم کبیر ج ٢٠ ص ‘ ٥٦، ٥٥ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اور امام ابی شیبہ۔ ٤ (امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ ‘ المصنف ج ١٠ ص ٢٧٠‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ) نے بھی روایت کیا ہے۔

حافظ سیوطی۔ ٥ (حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ ‘ الدرالمنثور ج ٢ ص ٢٦٥‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ‘ ایران ‘) نے اس حدیث کا امام بیہقی کی ” کتاب الاسماء والصفات “ کے حوالے سے بھی ذکر کیا ہے اور علامہ علی متقی۔ ٦ (علامہ علی متقی بن حسام الدین ھندی متوفی ٩٧٥ ھ ‘ کنزالعمال ج ٢ ص ١٧‘ مطبوہ مؤسسۃ الرسالۃ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) نے بھی اس حدیث کو متعدد حوالوں سے ذکر کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسی طرح ہم نے تم ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا ہے۔ (البقرہ : ١٥١)

اس آیت میں رسول کے بھیجنے کو تشبیہ دی گئی ہے ‘ اس کے مشبہ بہ کے متعلق حسب ؟ ذیل اقوال ہیں :

(١) جس طرح میں تم پر اپنی نعمت پوری کروں گا ‘ بایں طور کہ تم کو آخرت میں جنت میں داخل کروں گا ‘ اسی طرح میں نے دنیا میں تم میں سے ایک عظیم رسول بھیج کر تم پر نعمت پوری کی ہے۔

(٢) جس طرح میں نے ابراہیم کی یہ پہلی دعا قبول کرکے (اور ہماری اولاد میں سے ایک امت کو خاص اپنا فرمانبردار بنا دے) اپنی نعمت پوری کی ‘ اسی طرح ہم نے تم ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیج کر اپنی نعمت پوری کی۔

(٣) جس طرح میں نے ابراہیم کی یہ دوسری دعا قبول کرکے (اے ہمارے رب ! ان میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیج دے) اپنی نعمت پوری کی ‘ اسی طرح ہم نے تم ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا۔

(٤) جس طرح ہم نے تم کو امت وسط (افضل) اسی طرح ہم نے تم ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا۔

(٥) جس طرح ہم نے کعبہ کو تمہارا قبلہ بنایا جو قیامت تک تمہارا قبلہ رہے گا جس کے بعد کوئی اور سمت قبلہ نہیں ہوگی ‘ اور جو آخر القبلات ہے جس ہم نے تم پر یہ نعمت پوری کی ہے ‘ اسی طرح ہم نے تم ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا ‘

جس کی شریعت قیامت تک جاری رہے گی ‘ جس کے بعد کوئی اور نبی مبعوث نہیں ہوگا ‘ جو آخر الانبیاء ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 150