بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِؕ وَاِنَّهٗ لَـلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ

اور (اے رسول ! ) آپ جہاں سے بھی باہر نکلیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں ‘ اور بیشک یہ (تحویل قبلہ) آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے رسول ! ) آپ جہاں سے بھی باہر نکلیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں ‘ اور بیشک یہ (تحویل قبلہ) آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے۔ اس کے بعد پھر فرمایا : اور (اے رسول ! ) آپ جہاں سے بھی باہر نہیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں ‘ اور (اے مسلمانو ! ) تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے چہروں کو اس کی طرف پھیر لو ‘ تاکہ لوگوں کے لیے تمہارے خلاف کوئی حجت نہ رہے (الی قولہ) تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں اور تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔۔ (البقرہ : ١٥٠۔ ١٤٩)

کعبہ کی طرف منہ کرنے کے حکم کو تین بار ذکر کرنے کی حکمتیں :

اس رکوع میں تین مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو مسجد حرام کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ‘ بہ ظاہریہ تکرار ہے لیکن حقیقت میں یہ تکرار نہیں ہے کیونکہ ہر مرتبہ اس حکم کی ایک نئی علت بیان فرمائی ہے ‘ پہلی بار اس حکم کی علت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم ہے اور آپ کی رضا جوئی کے لیے مسجد حرام کو قبلہ بنایا اور نماز میں اس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا ‘ دوسری مرتبہ یہ علت بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ ہے کہ وہ ہر قوم کا الگ الگ قبلہ بناتا ہے جس کی طرف وہ منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں سو اس نے مسلمانوں کے خلاف حجت قائم نہ کریں ‘ کیونکہ تحویل قبلہ سے پہلے یہودیہ کہتے تھے کہ کہ تورات میں جس نبی کے مبعوث ہونے کے متعلق لکھا ہوا ہے اس کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے گا ‘ اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں ‘ لہذا یہ وہ نبی نہیں ہیں جن کے مبعوث ہونے کی ہماری کتاب میں پیش گوئی کی گئی ہے ‘ سو مسلمانوں کو تیسری بار اسی وجہ سے مسجد حرام کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تاکہ یہود مسلمانوں پر اعتراض نہ کریں۔

دوسری توجیہ یہ ہے کہ نماز پڑھنے کے تین احوال ہیں ‘ ایک حال یہ ہے کہ مسجد حرام میں نماز پڑھی جارہی ہو ‘ دوسرا حال یہ ہے کہ مسجد حرام سے باہر شہر مکہ مکرمہ میں نماز پڑھی جارہی ہو ‘ تیسرا حال یہ ہے کہ مکہ مکرمہ سے باہر کسی اور شہر میں نماز پڑھی جا رہی ہو ‘ پہلی آیت میں اس پر محمول ہے کہ مسجد حرام میں کعبہ کی طرف منہ کیا جائے ‘ دوسری آیت اس پر محمول ہے کہ مکہ مکرمہ میں کعبہ کی طرف منہ کیا جائے اور تیسری آیت اس پر محمول ہے کہ دیگر شہروں میں سے جہاں کہیں بھی ہوں کعبہ کی طرف منہ کیا جائے۔

تیسری توجیہ یہ ہے کہ پہلی بار کعبہ کی طرف منہ کرنے کے حکم کے ساتھ بتایا کہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کے معاملہ کا یہود و نصاری کو علم ہے اور تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ہے ‘ دوسری بار اس حکم کے ساتھ فرمایا : اللہ کے نزدیک کعبہ کا قبلہ ہونا برحق تھا اس اس لیے کعبہ کو قبلہ بنایا اور تیسری بار فرمایا : یہ حکم اس لیے ہے تاکہ اللہ تم پر اپنی نعمت پوری کر دے کیونکہ عرب اپنے تمام افعال میں اتباع ابراہیم کو پسند کرتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے اور بیت المقدس کی طرف منہ کرنے سے تنگ ہوتے تھے اس لیے کعبہ کی طرف منہ کرنا ان کے لیے نعمت تھا ‘ نیز یہ حکم ملت ابراہیم کی طرف ہدایت تھا۔

چوتھی توجیہ یہ ہے کہ پہلی بار فرمایا : آپ کی رضا کے لیے کعبہ کو قبلہ بنایا ‘ دوسری بار اس لیے فرمایا کہ آپ کی رضا کے علاوہ فی نفسہ تحویل برحق ہے اور تیسری بار اس لیے فرمایا کہ یہ حکم عارضی نہیں ہے ‘ دائمی ہے اور تمام زمانوں اور تمام علاقوں کے لیے ہے۔

پانچویں توجیہ یہ ہے کہ پہلی آیت تمام احوال کے لیے ہے ‘ دوسری آیت تمام علاقوں کے لیے ہے اور تیسری تمام زمانوں کے لیے ہے۔

چھٹی توجیہ یہ ہے کہ پہلی آیت حالت اختیار میں قلب اور بدن کے ساتھ تحقیقا کعبہ کی طرف منہ کرنے پر محمول ہے ‘ دوسری آیت اشتباہ قلبہ کی صورت میں اپنے ظن کے مطابق کعبہ کی طرف منہ کرنے پر محمول ہے اور تیسری آیت حال اضطرار میں (مثلا جب سواری پر ہو جیسے ٹرین یا جہاز) اپنے قلب کے ساتھ کعبہ کی طرف منہ کرنے پر محمول ہے۔

اور ساتویں توجیہ یہ ہے کہ تحویل قبلہ کی صورت میں پہلی بار نسخ کا حکم مسلمانوں میں متعارف ہوا اور چونکہ یہود نسخ کا انکار کرتے تھے اور اس کو بداء کہتے تھے اس لیے یہ ایک مہتم بالشان امر تھا ‘ لہذا اس حکم کو بار بار دہرا کر اس کی تاکید کی گئی۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 149