بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَمَآ اَرۡسَلۡنَا فِيۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيۡکُمۡ وَيُعَلِّمُکُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِکۡمَةَ وَيُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ

اسی طرح ہم نے تم ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا ہے ‘ جو تم پر ہماری آیات تلاوت کرتا ہے اور تمہاری باطنی اصلاح کرتا ہے اور تم کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جن کو تم نہیں جانتے تھے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو تم پر ہماری آیات تلاوت کرتا ہے اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور تم کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ (البقرہ : ١٥١)

دعاء ابراہیم میں تزکیہ کا مؤخر ہونا اور دعاء استجابت میں مقدم ہونا :

اللہ تعالیٰ نے اس رسول کی یہ صفت ذکر کی ہے کہ وہ ہماری آیات کی تلاوت کرتا ہے ‘ اس میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی دلیل کی طرف اشارہ ہے کیونکہ آپ امی تھے اور کسی امی کا ایسی آیات کی تلاوت کرنا بشری طاقت سے باہر ہے جو انتہائی فصیح وبلیغ ہوں ‘ غیب کی خبروں پر مشتمل ہوں اور ان میں بنی نوع انسان کی دنیا اور آخرت کی صلاح اور فلاح کے لیے ایک مکمل نظام حیات ہو۔

اور وہ رسول تمہارا تزکیہ کرتا ہے ‘ تزکیہ کے کئی معنی ہیں : تحسین کرنا ‘ بڑھانا اور پاک کرنا ‘ اس رسول نے تمہاری تحسین کی ہے اور تم کو تمام امتوں میں بہترین امت قرار دیا ہے ‘ اور دن رات مؤخر تبلیغ کرکے تم کو باقی امتوں سے بڑھایا ہے اور تم کو شرک اور کفر کی آلودگی سے پاک کیا ہے اور وہ کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں ‘ کتاب سے مراد قرآن مجید ہے اور حکم سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے۔

ایک سوال یہ ہے کہ اس آیت میں تزکیہ ‘ کتاب اور حکمت کی تعلیم پر مقدم ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں مؤخر ہے کیونکہ انہوں نے کہا : ان میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیج دے جو ان پر تیری آیتوں کی تلاوت کرے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ تزکیہ ‘ کتاب اور حکمت کی تعلیم کے لیے علت غائیہ ہے اور علت غائیہ ذہن میں مقدم ہوتی ہے اور خارج میں مؤخر ہوتی ہے ‘ کتاب اور حکمت کی تعلیم کی غرض اور غایت یہ ہے کہ انسان کے ظاہر اور باطن کی اصلاح ہو ‘ لہذا جس تزکیہ اور اصلاح کے لیے تعلیم دی جاتی ہے ‘ اس سے پہلے ذہن میں اس کا تصور ہوگا ‘ پھر اس کے حصول کے لیے آیتوں کی تلاوت کی جائے گی اور کتاب اور سنت کی تعلیم دی جائے گی ‘ پھر اس کے نتیجہ میں ظاہر اور باطن کی اصلاح عمل اور وجود میں آئے گی اس آیت میں وجود ذہنی کے لحاظ سے تزکیہ کو مقدم کیا ہے اور حضرت ابراہیم کی دعا میں وجود خارجی کے لحاظ سے تزکیہ کو مؤخر کیا ہے ‘ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ قوت نظریہ کے کمال کے بعد قوت عملیہ کا کامل ہونا یا اصلاح عقائد کے بعد اصلاح عمل ہونا اور ظاہر اور باطن کا نیک ہونا تزکیہ ہے۔

دعاء ابراہیم میں اور اس آیت میں رسول کی بعثت کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے ہم یہاں نبی اور رسول کی تعریف ‘ ان کی شرائط اور ان کی تعداد کا بیان کر رہے ہیں۔

نبی اور رسول کی تعریف :

علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں :

نبی وہ انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف کی ہوئی وحی کی تبلیغ کے لیے بھیجا ہو ‘ رسول کی بھی یہی تعریف ہے اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے اور ایک قول یہ ہے کہ رسول وہ انسان ہے جس کے پاس شریعت ہو اور اس پر کتاب نازل کی گئی ہو یا اس کے لیے پہلی شریعت کا کچھ حصہ منسوخ کیا گیا ہو۔ (مسائرہ مع المسامرہ ص ٢٠٧ مطبوعہ دائرۃ المعارف الاسلامیہ ‘ مکران)

علامہ تفتازانی نے بھی یہی دو تعریفیں لکھیں ہیں ‘ پھر دوسری تعریف کے اعتبار سے رسول کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

رسول نبی سے خاص ہے ‘ رسول وہ ہے جس کی اپنی شریعت ہو اور اس کے پاس کتاب ہو ‘ اس پر یہ اعتراض ہے کہ حدیث میں رسولوں کی تعداد کتابوں سے زیادہ بیان کی گئی ہے اس لیے رسول کی تعریف میں یہ تاویل کی گئی ہے کہ اس کے پاس کتاب ہو یا شریعت سابقہ میں سے کچھ احکام اس کے لیے مخصوص کیے گئے ہوں ‘ جیسے حضرت یوشع (علیہ السلام) ۔ (شرح المقاصد ج ٥ ص ٦‘ مطبوعہ منشورات الرضی ایران ‘ ١٤٠٩ ھ)

صدر الشریعت مولانا امجد علی (رح) لکھتے ہیں :

عقیدہ : نبی اس بشر کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے وحی بھیجی ہو ‘ اور رسول بشر ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ملائکہ میں بھی رسول ہیں (جیسے حضرت جبرئیل وغیرہ)

عقیدہ : انبیاء سب بشر تھے اور مرد ‘ نہ کوئی جن نبی ہوا نہ عورت۔ (بہار شریعت ج ١ ص ٩‘ مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز لمیٹڈ ‘ لاہور)

نبی اور رسول کو مبعوث کرنے کی حکمتیں :

رسولوں کا بھیجنا محض اللہ تعالیٰ کا بندوں پر لطف اور اس کی رحمت ہے اور اس کی بیشمار حکمتیں ہیں ‘ بعض حکمتیں حسب ذیل ہیں :

(١) بعض احکام انسانوں کی عقل سے ماوراء ہیں جیسے اللہ کا وجود ‘ اس کی وحدانیت ‘ اس کا علم اور اس کی قدرت وغیرہ اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیج کر اپنے بندوں کی ان امور کی طرف رہنمائی فرماتا ہے۔

(٢) اللہ تعالیٰ کا دکھائی دینا ‘ اللہ تعالیٰ کا کلام اور قیامت کے بعد جزاء اور سزا عقل از خود ان کو معلوم نہیں کرسکتی ‘ اس وجہ سے ان امور کی تعلیم کے لیے رسولوں کو بھیجا۔

(٣) ایک ہی کام بعض اوقات میں اچھا اور بعض اوقات میں برا ہوتا ہے ‘ مثلا طلوع ‘ غروب اور زوال کے وقت نماز پڑھنا برا ہے اور باقی اوقات میں اچھا ہے ‘ یا عید اور ایام تشریق میں روزہ رکھنا برا ہے اور باقی اوقات میں اچھا ہے یا بعض افراد کے اعتبار سے ایک کام اچھا اور بعض افراد کے اعتبار سے برا ہوتا ہے جیسے کافر حربی کو قتل کرنا اچھا ہے اور مومن یا کافر ذمی کو قتل کرنا برا ہے اور یہ فرق نبی کے علاوہ اور کوئی نہیں بتاسکتا۔

(٤) کیا چیز کھانی حلال ہے اور کیا چیز کھانی حرام ہے ‘ اس کو بھی صرف نبی ہی بتاسکتا ہے۔

(٥) ایک شخص کے اعتبار سے نیک اور بدافعال ‘ ایک خاندان کے اعتبار سے نیک اور بدافعال اور ایک ملک اور قوم کے اعتبار سے نیک اور بدی کی یہ تفصیل صرف نبی ہی بتاسکتا ہے۔

(٦) نیکی پر ابھارنے کے لیے نیکو کار کے ثواب کی تفصیل اور بدی سے بچانے کے لیے بدی کے عذاب کی خبر بھی صرف نبی ہی بیان کرسکتا ہے

(٧) ایک فرد ‘ ایک خاندان اور ایک ملک کے حقوق اور فرائض کا تعین بھی صرف نبی ہی کرسکتا ہے۔

(٨) انسان کی قوت علمی اور قوت عملی کو کامل کرکے اس کے ظاہر اور باطن کو پاک صاف کرنا اور مزین کرنا ‘ یہ بھی صرف نبی کا منصب ہے۔

(٩) مختلف غذاؤں کے فوائد اور نقصانات بیان کرنا ‘ اسی طرح مختلف صنعتوں کے اسرار بیان کرنا ‘ یہ بھی صرف نبی کا حصہ ہے۔

(١٠) نبی کو دنیا میں بھیج کر اللہ تعالیٰ بندوں پر اپنی حجت پوری کرتا ہے تاکہ قیامت کے دن کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ ہم اس لیے گمراہ ہوگئے کہ ہم کو کوئی بتانے والا نہیں تھا۔

نبی کی شرائط :

علامہ ابن ہمام نے نبی کی حسب ذیل شرائط بیان کی ہیں :

(١) نبی کا مذکر ہونا شرط ہے ‘ کیونکہ مؤنث ہونا نقص ہے۔

(٢) عقل اور خلقت کے اعتبار سے نبی اپنے زمانہ میں سب سے کامل ہو ‘ لیکن یہ کمال بعثت کے وقت ضروری ہے ‘ کیونکہ بعثت سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں لکنت تھی جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ‘ انہوں نے بعثت کے وقت لکنت کے ازالہ کے لیے دعا کی۔

(٣) ذہانت اور رائے کی اصابت اور قوت کے اعتبار سے وہ سب سے کامل ہو کیونکہ نبی پوری قوم کے معاملات کا منتظم اور ان کی مشکلات کا مرجع ہوتا ہے۔

(٤) نبی کے آباء میں کوئی ایسا وصف نہ ہو جس کی وجہ سے ان کو حقیر جانا جاتا ہو اور اس کی ماں کی عفت اور پارسائی پر تہمت نہ ہو۔

(٥) نبی کا دل سخت نہ ہو ‘ کیونکہ انسان کے باقی جسم کی سلامتی کا مدار اس کے دل پر ہے۔

(٦) نبی میں کوئی ایسا جسمانی عیب یا بیماری نہ ہو جس سے لوگ متنفر ہوتے ہوں جیسے برص اور جذام۔

(٧) وہ وقار کے خلاف اور معیوب کام نہ کرتا ہو ‘ مثلا بازاروں میں راستہ چلتے ہوئے کسی چیز کو کھانا۔

(٨) جو پیشے لوگوں میں معیوب سمجھے جاتے ہوں جیسے حجامت بنانا ‘ نبی ایسے پیشے نہ کرتا ہو ‘ کیونکہ نبوت مخلوق میں سب سے زیادہ عزت کا منصب ہے تاکہ لوگ اس کو احترام کی نگاہ سے دیکھیں ‘ اس لیے وہ وقار کے منافی کسی متبذل پیشے میں نہ ہو۔

(٩) نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد نبی کفر سے بالاجماع معصوم ہو (باقی معاصی میں تفصیل ہے ‘ بعض کے نزدیک اعلان نبوت سے پہلے صغیرہ کا ارتکاب جائز ہے ہماری تحقیق یہ ہے کہ نبی نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد عمدا معصیت کے ارتکاب سے معصوم ہے ‘ ہاں بعض اوقات نسیان یا اجتہاد سے بہ ظاہر خطاء ہوجاتی ہے)

(١٠) نبی کے صدق کو ظاہر کرنے کے لیے معجزہ کا اظہار بھی شرط ہے۔

ہر نبی کے پیدائشی نبی ہونے یا نہ ہونے کی تحقیق :

بعض لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے لیکن مجھے اس سلسلہ میں کوئی صریح عبارت نہیں ملی ‘ قرآن مجید میں یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) سے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور آپ کی مدد کرنے کا عہد ومیثاق اور قول و اقرار لیا ‘ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی نبوت علم الہی میں پہلے سے متحقق تھی ‘ لیکن اس پر یہ اشکال ہے کہ ہر چیز کی حیثیت علم الہی میں پہلے سے متحقق ہے ‘ البتہ قرآن مجید میں ہے کہ ان کو بچپن میں نبوت ملی اور ہمارے نبی سیدنا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی پیدائشی نبی تھے ‘ کیونکہ امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ یا رسول اللہ ! آپ کے لیے نبوت کب واجب ہوئی ؟ آپ نے فرمایا : جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥١٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

صدرالشریعت مولانا امجد علی (رح) لکھتے ہیں :

عقیدہ : انبیاء (علیہم السلام) شرک وکفر اور ہر ایسے امر سے جو خلق کے لیے باعث نفرت ہو جیسے کذب و خیانت وجہل وغیرہا صفات ذمیمہ سے ‘ نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مروت کے خلاف ہیں ‘ قبل نبوت اور بعد نبوت بالاجماع معصوم ہیں اور کبائر سے بھی مطلقا معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ تعمدا صغائر سے بھی قبل نبوت اور بعد نبوت معصوم ہیں۔ (بہار شریعت ج ١ ص ١١‘ مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سننز لمیٹڈ لاہور)

اگر ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے تو پھر قبل نبوت اور بعد نبوت کی قید بےفائدہ ہوگی اور یہ صرف صدر الشریعت کی عبارت نہیں ہے بلکہ تمام متکلمین اور مفسرین نے جہاں بھی عصمت انبیاء سے بحث کی ہے قبل نبوت اور بعد نبوت کی قید کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ علماء کی عبارات میں مفہوم مخالف معتبر ہوتا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی کے متعلق یہ دعوی صحیح نہیں ہے کہ وہ پیدائشی نبی ہوتا ہے۔

نبیوں ‘ رسولوں ‘ کتابوں اور صحیفوں کی تعداد کی تحقیق :

امام ابونعیم اصبہانی نے اپنی سند کے ساتھ ایک بہت طویل حدیث روایت کی ہے ‘ اس موضوع سے متعلق اس روایت کا درمیانی حصہ ہم پیش کررہے ہیں :

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! انبیاء کتنے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! رسول کتنے ہیں کہ آپ نے فرمایا تین سو تیرہ جم غفیر ہیں ‘ میں نے کہا : بہت اچھے ہیں میں کے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلا نبی کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : آدم ٗ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا وہ نبی مرسل ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور ان میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی ‘ پھر ان کو اپنے سامنے بنایا ‘ پھر آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! چار نبی سریانی ہیں : آدم ‘ شیث اور خنوع ‘ یہ ادریس ہیں جنہوں نے سب سے پہلے قلم سے خط کھینچا اور نوح ‘ اور چار نبی عرب ہیں : ھود ‘ صالح ‘ شعیب ‘ اور نبی ‘ اے ابوذر ! میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل کیں ؟ آپ نے فرمایا : سو صحیفے اور چار کتابیں ‘ شیث پر پچاس صحیفے نازل کیے گئے ‘ خنوخ پر تیس صحیفے نازل کیے گئے ‘ ابراہیم پر دس صحیفے نازل کیے گئے اور موسیٰ پر تورات سے پہلے دس صحیفے نازل کیے گئے ‘ اور تورات ‘ انجیل ‘ زبور اور فرقان کو نازل کیا گیا : (حلیۃ الاولیاء ج ١ ص ١٦٧‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

اس حدیث کو امام ابن حبان نے بھی اپنی صحیح میں حضرت ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے (مواردالظمآن ص ٥٤۔ ٥٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ ‘ بیروت)

امام احمد نے بھی دو سندوں سے اس حدیث کو حضرت ابوذر سے روایت کیا ہے مگر اس میں تین سوپندرہ رسولوں کا ذکر ہے۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٢٦٦۔ ١٧٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

امام ابن عساکر بھی اس حدیث کو حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے۔ (تہذیب تاریخ دمشق ج ٦ ص ٣٥٧۔ ٣٥٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

حافظ الہیثمی نے بھی نے بھی امام احمد اور امام طبرانی کے حوالوں سے تین سو پندرہ رسولوں کا ذکر کیا ہے اور اس حدیث کو ضعیف لکھا ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١ ص ‘ ١٥٩ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حافظ سیوطی نے ’ الجامع الکبیر “ میں اس حدیث کو امام ابن حبان ‘ امام اصبہانی اور امام ابن عساکر کے حوالوں سے لکھا ہے اور اس میں تین سو تیرہ رسولوں کا ذکر ہے۔ (جامع الاحادیث الکبیر ج ١٧ ص ٢٠٦۔ ٢٠٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)

علامہ علی متقی نے بھی اس حدیث کا حافظ سیوطی کے حوالوں سے ذکر کیا ہے۔ ( کنزالعمال ج ١٦ ص ١٣٤۔ ١٣٣‘ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

حافظ سیوطی نے ” الدرالمنثور “ میں لکھا ہے : امام عبدبن حمید ‘ امام حکیم ترمذی نے ” نوارد الاصول “ میں امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں ‘ امام حاکم اور امام ابن عساکر نے حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! انبیاء کتنے تھے ؟ فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے رسول کتنے تھے ؟ فرمایا : تین سو تیرہ کا جم غفیر تھا ‘ اس حدیث کو امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں وارد کیا ہے اور امام ابن الجوزی نے ” موضوعات “ میں وارد کیا ہے اور یہ دونوں متضاد ہیں ‘ اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے ‘ نہ موضوع ہے ‘ نہ صحیح ہے جیسا کہ میں نے ” مختصر الموضوعات “ میں بیان کیا ہے (الدرالمنثور ‘ ج ٢ ص ‘ ٢٤٦ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)

امام ابویعلی روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو میرے بھائی نبی پہلے گزرے ہیں ان کی تعداد آٹھ ہزار ہے ‘ پھر عیسیٰ بن مریم آئے پھر میں۔ (مسند ابویعلی ج ٤ ص ١٤٣‘ مطبوعہ دارالمامون تراث بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)

نیز امام ابویعلی روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار نبی مبعوث کیے چار ہزار بنو اسرائیل کی طرف اور چار ہزار باقی لوگوں کی طرف۔ (مسند ابویعلی ج ٤ ص ١٥٧‘ مطبوعہ دارالمامون تراث بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)

امام حاکم نے اس حدیث کو حضرت انس سے موقوفا روایت کیا ہے (المستدرک ج ٢ ص ٥٩٧‘ مطبوعہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ)

امام ابویعلی اور امام حاکم نے جن سندوں سے اس حدیث کو روایت کیا ہے ان میں ابراہیم اور یزید رقاشی نام کے دو راوی ہیں۔ امام ذہبی نے ان دونوں کے متعلق لکھا ہے کہ یہ ضعیف راوی ہیں۔ (تلخیص المستدرک ج ٢ ص ٥٩٧‘ مطبوعہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ)

علامہ بدر الدین عینی نے امام ابن حبان کی صحیح اور امام ابن مردویہ کی تفسیر کے حوالوں سے حضرت ابوذر کی حدیث ذکر کی ہے اور امام ابویعلی اور حافظ ابوبکر اسماعیلی کے حوالوں سے حضرت انس کی روایت ذکر کی ہے اور کوئی محاکمہ نہیں کیا۔ (عمدۃ القاری ج ١٥ ص ٢٠٤‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

حضرت ابوذر نے مرفوعا بیان کیا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی ہیں اور ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں ‘ اس حدیث کو امام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ (فتح الباری ج ٦ ص ٣٦١ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

حافظ ابن حجر نے امام ابو یعلی اور امام حاکم کی روایت کا ذکر نہیں کیا ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ روایت ان کے نزدیک معتبر نہیں ہے اور امام ذہبی نے اس کے راویوں کی جو تضعیف کی ہے اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور انہوں نے امام ابن حبان کی تصحیح کو بلاتبصرہ نقل کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ان کے نزدیک صحیح ہے ‘ اور حدیث کی تحقیق کے سلسلہ میں حافظ ابن حجر عسقلانی بہت معتمد ہیں اس لیے یہی صحیح ہے کہ انبیاء کی تعدادا ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے اور ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں۔

علامہ تفتازانی نے لکھا ہے کہ ایک روایت میں ہے کہ دو لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ہیں۔ (شرح عقائد ص ٩٧‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز ‘ کراچی)

علامہ پر ھاروی نے لکھا ہے کہ میرا گمان ہے کہ حافظ سیوطی نے کہا کہ میں اس روایت سے واقف نہیں ہوں۔ (نبراس ص ٤٤٧‘ مطبوعہ مکتبہ قادریہ لاہور ‘ ١٣٩٧ ھ)

میں اس سلسلہ میں تمام متداول کتب حدیث اور علماء کی تصانیف کو دیکھا ہے ‘ لیکن دو لاکھ کی روایت کہیں نہیں ملی ‘ حافظ ابن کثیر اور حافظ سیوطی نے اس سلسلہ میں تمام روایات کو جمع کیا لیکن دو لاکھ کی روایت ان میں نہیں ہے اور حافظ ابن کثیر اور حافظ سیوطی کے مقابلہ میں علم روایت حدیث پر علامہ تفتازانی کی نظر بہت کم ہے ‘ بلکہ علامہ تفتازانی کی نظر بہت کم ہے ‘ بلکہ علامہ تفتازانی نے کئی ایسی احادیث ذکر کی ہیں جن کا کوئی وجود نہیں مثلا یہ حدیث : جس نے اپنے زمانہ کے امام کو نہیں پہچانا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (شرح عقائد ص ١٠٦‘ شرح مقاصد ج ٥ ص ٢٣٩)

حافظ ابن کثیر نے ان تمام احادیث کو تفصیل اور سندوں کے ساتھ لکھا ہے جن کے ہم نے حوالے دیئے ہیں اور ان سب کو ضعیف قرار دیا ہے ‘ پھر اس کے آخر میں انہوں نے لکھا ہے کہ امام احمد اور امام یعلی نے حضرت ابوسعید سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ہزار یا اس سے زیادہ نبیوں کا خاتم ہوں ‘ امام احمد کی یہ سند زیادہ صحیح ہے ‘ اور اس حدیث کو امام بزار نے بھی حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٥٤‘ مطبوعہ ادارہ اندلس ‘ بیروت ‘ ١٣٨٥ ھ)

ہر چند کہ حافظ ابن کثیر کی تحقیق یہی ہے لیکن زیادہ تر محدثین کا اعتماد حضرت ابوذر کی اس روایت پر ہے کہ انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے اور ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 151