حدیث نمبر :53

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتےہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی تین علامتیں ہیں ۱؎ مسلم نے یہ زیادتی بھی بیان کی کہ اگر یہ روزہ رکھے،نماز پڑھے،اپنے کو مسلمان سمجھے۔پھرمسلم و بخاری متفق ہوگئے کہ جب بات کرے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی جائے تو خیانت کرے۲؎

شرح

۱؎ منافق سے اعتقادی منافق مراد ہیں،یعنی دل کے کافر زبان کے مسلم،یہ عیوب ان کی علامتیں ہیں مگر علامت کے ساتھ علامت والا پایا جانا ضروری نہیں۔کوّے کی علامت سیاہی ہے مگر ہر کالی چیزکوّا نہیں۔

۲؎ یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں۔مسلمان کوا س سے بچنا چاہئیے یہ نہیں کہ یہ جرم خود نفاق ہیں۔یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے یہ تینوں جرم کئے تھے مگر وہ نہ منافق ہوئے نہ کافر لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔