*…اور اب نمازوں پر پابندی*

تحریر : غلام مصطفی نعیمی

جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام

نزیل حال : ساؤتھ افریقہ

gmnaimi@gmail.com

کوئی بھی جمہوری ملک اسی وقت کامیاب وکامران ہوتا ہے جب اس میں بسنے والی اقلیتوں کو ان کے قانونی ودستوری حقوق دیے جائیں. ان کی مذہبی آزادی کا تحفظ کیا جائے اور ان کے تہذیب و تمدن میں کسی طرح کی رخنہ اندازی سے گریز کیاجائے۔

ہمارا وطن عزیز دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا علم بردار ہے. لیکن آزادی کے بعد ہی سے یہاں بسنے والی اقلیتوں بالخصوص قوم مسلم کے دستوری وقانونی حقوق کے ساتھ حکومتیں آنکھ مچولی کھیلتی آئیں ہیں. لیکن پچھلے چار سالوں میں شدت پسندوں نے کھل کر قوم مسلم کے دستوری حقوق میں دخل اندازی کا بیڑا اٹھا رکھا ہے. کہیں دبے کہیں کھلے ان شرپسند عناصر کو حکومت وانتظامیہ کی شہہ حاصل ہے،جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کی نمازوں پر بھی پابندی لگائی جارہی ہے !¡¡

*دستوری حقوق کی پامالی*:

ہندوستان کا دستور تین اہم چیزوں پر مشتمل ہے جو درج ذیل ہیں:

(1) سوشلسٹ(Socialist) یعنی ہندوستان ایک سماج وادی ملک ہوگا. کسی کے لیے کوئی تخصیص نہیں ہوگی. دستور کی نگاہ میں امیروغریب سب برابر ہوں گے۔

(2) سیکولر(Secular)یعنی ملک کا دستور غیر مذہبی ہوگا یعنی کسی خاص مذہب کا اس پر غلبہ نہیں ہوگا. مملکت کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوگا.

(3) ڈیموکریٹک(Democratic) یعنی ملک ایک جمہوری ریاست ہوگا. سبھی فیصلے عوامی اور جمہوری ہوں گے. جمہوریت ہی ہر فیصلے کی اصل و بنیاد ہوگی.

دستور ہند کی دفعہ [25]اور[26]کے تحت مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، عبادت کرنے، مذہبی رسومات اور اپنے مذہب کی اشاعت وتبلیغ کی مکمل اجازت ہے. اور حکومت وانتظامیہ پر اس دستوری حق کی حفاظت ونگہداشت کرنا، نیز دستور کی خلاف ورزی کرنے والوں پر سختی سے کاروائی کرنا لازم ہے.

لیکن یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جو ملک دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہلاتا ہو آج اسی کی سب سے بڑی اقلیت کو ان کی مذہبی عبادت کرنے سے کھلے عام روکا جارہا ہے اور اس سے بھی زیادہ شرم کی بات یہ ہے کہ اس گھنونے کام میں حکومت وانتظامیہ بھی شامل ہیں ¡!¡!!

*نمازوں پر پابندی*:

قانونی اعتبار سے مسلمانوں کو عبادت کرنے اور عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی مکمل دستوری آزادی ہے لیکن یہ محض کاغذوں میں ہے. سچ تو یہ ہے کہ آج مسلمانوں کو عبادت گاہیں تعمیر کرنے سے روکنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں۔

تعمیرمساجد اور نمازوں میں رخنہ اندازی کی خبریں پورے ملک سے موصول ہورہی ہیں لیکن بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں شرپسند زیادہ ہی بے لگام ہوگئے ہیں۔نمازوں کی سب سے زیادہ مخالفت اس وقت دہلی سے متصل میٹرو سٹی گڑگاؤں(ہریانہ) میں ہورہی ہے. یہاں متشدد آر ایس ایس نواز تنظیمیں ٹولیاں بنا کر مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روک رہی ہیں.¡!!!!¡

*گڑگاؤں میں کھلی غنڈہ گردی*:

گڑگاؤں ہریانہ صوبے کا ایک کاروباری شہر ہے اور سائبرسٹی کے نام سے مشہور ہے. یہ شہر راجدھانی دہلی سے بہت قریب ہے. اسی وجہ سے کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں، بی پی

او(BPO) اور پرائیویٹ سیکٹر کی سیکڑوں کمپنیاں یہاں چلتی ہیں.

لیکن پچھلے کچھ ماہ سے یہ کاروباری شہر شدت پسند ہندو تنظیموں کے حملوں کی وجہ سے سرخیوں میں ہے.

شہر میں آبادی کے تناسب سے مساجد نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے افراد مختلف پارکوں، خالی پلاٹوں وغیرہ میں نمازیں ادا کرتے ہیں. لیکن اب متشدد ہندو تنظیمیں اس کی مخالفت پر اتر آئی ہیں کہ ہم کسی بھی قیمت پر نمازیں نہیں ہونے دیں گے. اس لیے اب ان لوگوں نے نمازیوں پر حملے شروع کر دئے ہیں.

*کھلے میں نماز کیوں*؟

یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان پارکوں، خالی پلاٹوں میں نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ نمازادا کرنے مسجد کیوں نہیں جاتے؟

شدت پسند تنظیموں کے لوگ بھی ایک عام انصاف پسند ہندو کو یہی کہہ کر ورغلاتے ہیں.

لیکن ایک نظر اصل صورتِ حال پر ڈالیں تاکہ سچائی کھل کر سامنے آسکے:

🔸 موجودہ وقت میں گڑگاﺅں کی آبادی قریب 15 لاکھ ہے. جن میں مسلم آبادی قریب تین لاکھ ہے.

🔸 شہر میں ملازمت پیشہ بیرونی مسلم افراد بھی ہیں، ساتھ ہی قرب وجوار سے آنے والے افراد بھی.

🔸 اتنے بڑے شہر میں مسلمانوں کی صرف 13 مسجدیں ہیں !!! جن میں بمشکل 1500 نمازی ہی نماز پرھ سکتے ہیں.

🔸 اوسطاً 20 سے 25 ہزار کی آبادی پر صرف ایک مسجد ہے !! جب کہ سبھی مسجدوں میں کل ملاکر بھی 20 ہزار آدمی نماز نہیں پڑھ پاتے.

🔸 اسی شہر میں 19 مسجدوں پر شہر کے مختلف شرپسندوں نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے، اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہے !!!!¡

🔸 نئی مسجد بنانے پر انتظامیہ نے پابندی لگا رکھی ہے. !!!¡! (پتریکا نیوز)

ان ساری تفصیلات کی روشنی میں بتایا جائے کہ مسلمان کیا کریں؟

ان کی مسجدوں پر مختلف حیلوں بہانوں سے ناجائز قبضے کر لیے گئے!!

نئی مساجد کی تعمیر پر انتظامیہ کی طرف سے پابندی ہے.

تو اب مسلمان اپنی عبادت کہاں اداکریں؟

اس لیے بمجبوری مسلمان پارکوں میں نماز ادا کرتے ہیں. حالانکہ ایک عام مسلمان بھی خوب جانتا ہے کہ نماز کا حقیقی لطف اوراضافی ثواب مسجد میں ہی ہے لیکن اتنے بڑے شہر میں مسلمان اپنی مساجد میں عبادت کرنے سے بھی محروم ہے !!!

*نمازیوں پر شرپسندوں کے حملے*:

پچھلے کچھ مہینوں سے گڑگاﺅں اور اطراف میں مسلسل نماز پڑھنے کو لےکر شرپسند ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں لیکن حکومت وانتطامیہ کی خاموشی سے ان کے حوصلے مزید بڑھ رہے ہیں. پچھلے پانچ مہینے میں ہوئے چند اہم تنازعات پر ایک نظر:

🔹 19مئی2018ء کو بھورا کلان گاﺅں میں ایک مزار پر رمضان کا پہلاجمعہ پڑھنے آئے مسلمانوں کو وہاں موجود 50 ہندو شرپسندوں نے نماز نہیں پڑھنے دی. !!

🔹 2013ء میں اسی گاﺅں میں ہندوﺅں نے ایک سال تک مسلمانوں کو نماز نہیں پڑھنے دی. !!

2014ءمیں یہاں نماز شروع ہوئی لیکن یہ شرط لگائی کہ بیرونی امام نہیں ہوگا !!

🔹 ناتھوپور گاﺅں میں مسلمانوں نے نماز کے لیے ایک جگہ کرایہ پر حاصل کی لیکن شرپسندوں نے مکان مالک کو دھمکی دےکر کرایہ داری ختم کرادی !!

🔹 اگست 2018ء میں گڑگاﺅں سیکٹر34 میں مول شری میٹرو اسٹیشن کے پاس نماز ادا کر رہے لوگوں کو پولیس نے زبردستی ہٹادیا !!

🔹 28اپریل 2018ء کو سیکٹر53 سرسوتی کُنج میں نماز ادا کی جارہی تھی. تبھی وہاں شرپسند پہنچ گئے اور جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے نماز بند کرادی. !!

🔹 شِو سینا گڑگاﺅں کے صدر گوتم سینی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے نماز پڑھنے سے لوگ ڈرے ہوئے ہیں. ان کی منشا ٹھیک نہیں ہے.

🔹 20اپریل کو پارس ہاسپٹل کے سامنے نماز ادا کی جارہی تھی. قریب 200 نمازی وہاں موجود تھے تبھی قریب درجن بھر نوجوانوں کا ایک گروپ وہاں اشتعال انگیز نعرے بازی کرتے ہوئے پہنچا اور جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے سبھی نمازیوں کو وہاں سے ہٹا دیا. حالانکہ مسلمانوں نے تحمل سے کام لیا ورنہ 200 کے سامنے درجن بھر افراد کچھ بھی نہیں.

🔹 گڑگاﺅں کی شیتلا کالونی میں مدینہ مسجد کو ہندوﺅں کی جانب سے مائک چلانے کی شکایت پر سیل کردیاگیا. !!!

*شرپسندوں کی عوامی پذیرائی*:

ملک کی معاشی حالت نازک ہے. بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور نوجوان ہر طرف سے مایوس ہے. ایسے ماحول میں شرپسند تنظیمیں مسلم منافرت کا جھوٹا ماحول بناتی ہیں.

مسلم آبادی کا ڈر دکھا کر زہریلا پروپگنڈہ کیاجاتا ہے. مسلم منافرت کے زیر اثر نوجوانوں کو ورغلا کر مسلمانوں پر حملے کرائے جاتے ہیں، اور حملوں کے بعد ان کو” ہندو رکشھک“ جیسے القاب دےکر، عوامی سطح پر استقبالیہ دےکر، انعام واکرام سے نواز جاتا ہے. !!

لوکل انتظامیہ میں ان کے چھوٹے موٹے کام کراکر انہیں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ شرپسندی کے انہیں کارناموں کی وجہ سے ان کی عزت و وقار اور رعب ودبدبہ ہے. جس کی وجہ سے عوام میں شرپسندوں کو پھلنے پھولنے کاموقع ملتاہے.

حالیہ تنازع میں ایک پارک میں نمازیوں پر حملہ کرنے کی وجہ سے چھ شدت پسندوں کو جیل جانا پڑا، لیکن جب وہ ضمانت پر رہا ہوئے تو ہندو تنظیموں نے ان کا شان دار استقبالیہ جلوس نکالا. !!!

یہی وہ میٹھا زہر ہے جس کی چپیٹ میں ایک عام ہندو نوجوان آجاتا ہے. بے روزگاری سے پریشان نوجوان کو لگتا ہے کہ اس طرح کی فرقہ وارانہ کاروائی سے اسے سماج میں عزت بھی ملے گی اور انتظامیہ میں رتبہ بھی بڑھے گا. اسی وجہ سے کم عمر نوجوان اس طرح کی حرکتوں میں زیادہ ملوث پائے جارہے ہیں.

ایسے پُر خطر حالات میں سنجیدہ ہندو والدین اور امن پسند ہندو تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو اس طرح کی فرقہ وارانہ کاروائیوں سے باز رکھیں. اس طرح کی حرکتوں سے کہیں نہ کہیں ان کی زندگی برباد اور مستقبل تاریک ہو رہا ہے.

*گڑگاﺅں کی آگ دہلی تک*:

یوں توگُڑگاﺅں اور دہلی کے مابین 30 کلومیٹر کافاصلہ ہے لیکن دونوں ہی شہروں کی حدود اپنی وسعت کی وجہ سے ایک دوسرے سے مل چکی ہیں. اس لیے دہلی اور گڑگاﺅں ایک دوسرے کا اثر بھی بہت جلد قبول کرتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ مسجدوں پر پابندی کا جِنّ بہت تیزی،زیادہ شدت کے ساتھ گڑگاؤں سے دہلی پہنچ گیا!!

مسلم اکثریتی علاقے سلیم پور کی برہم پوری کی گلی نمبر8 میں مسلمانوں نے نماز پڑھنے کے لیے خواجہ معصوم ویلفئیر ٹرسٹ کے تحت ایک جگہ خریدکر نمازوں کا سلسلہ شروع کیا. بس اسی بات پر اس گلی کے رہنے والے ہندوخاندانوں نے کچھ شرپسندوں کے بہکانے پر ایک بڑی سازش رچ ڈالی.

*نمازروکنے کے لئے سازش*:

نماز اور مسجد کی تعمیر روکنے کے لیے اس گلی کے ہندوﺅں نے شرپسندوں کے بہکاوے میں آکر ایک بڑی سازش رچی جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

اس گلی میں کل 60 مکان ہیں جن میں 13 مکان ہندوﺅں کے اور باقی47 مکان مسلمانوں کے ہیں.

 سازش کے تحت ہندوﺅں نے اپنے گھروں کے باہر ”مکان بِکاﺅ ہے“ کے بورڈ آویزاں کر دیے. !!!

 اس کے بعد شدت پسند چینل ”سُدَرشَن ٹی وی“ کا نمائندہ وہاں پہنچا اور سبھی مکان والوں سے پوچھا کہ اچانک آپ سب لوگ ایک ساتھ مکان کیوں بیچنا چاہتے ہیں؟

جواب میں ان ہندوﺅں نے کہا کہ وہ اپنے مسلمان پڑوسیوں سے پریشان ہیں. وہ یہاں گلی میں آتے جاتے ہیں. موٹر سائکل چلاتے ہیں اور شور مچاتے ہیں.

سدرشن چینل کے بعد قومی درجے کے میڈیا چینلوں نے اس خبر کو بریکنگ نیوز بنایا: “مسلمانوں کے ڈر سے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہندو”. !!

جیسے ہی نیشنل میڈیا میں یہ خبر آئی ایک ہنگامہ برپا ہوگیا. ہر چینل پر مسلمانوں کی غنڈہ گردی اور ہندوﺅں کی مظلومیت کے مرثیے سنائی دینے لگے۔

آخر علاقائی ممبر اسمبلی اور انتطامیہ کی موجودگی میں دونوں فریق کے مابین ایک سمجھوتہ ہوا،جو سمجھوتہ کے نام پر مسلمانوں کی ذلت ورسوائی کا دستاویز ہے.

صلح نامہ یا ذلت نامہ*:

ہندو اور مسلم فریقین کے مابین جو صلح نامہ ہوا وہ یک طرفہ اور سراسر ہندو قوم کی مرضی کے مطابق کیا گیا ہے. مسلم فریق کی ایک بات نہیں سنی گئی. !!

بلکہ انہیں ڈرا دھمکا کر اسی صلح نما ذلت پر راضی ہونے کو مجبور کیا گیا.

اب ذرا اس صلح نامہ کی شرائط پڑھیے اور قوم کی بے چارگی دیکھئے:

🔸 سمجھوتے کے مطابق مسجد کے لیے خریدی گئی جگہ کو ”مسجد“ نہیں بنایا جائے گا.

🔸 اس “مکان” میں صرف 16 لوگ ہی نماز پڑھ سکیں گے اور وہ 16 لوگ بھی اسی گلی کے ہوں گے کوئی دوسرامسلمان یہاں نماز نہیں پڑھ سکتا. !!!

🔸 اس “مکان” کو مدرسہ میں بھی تبدیل نہیں کیا جاسکتا. !!

🔸 اس مکان میں کوئی نئی تعمیر بغیر ہندو فریق کی رضامندی کے نہیں کی جاسکتی. !!!

🔸 نماز پڑھنے والے سبھی افراد کا نام پتا ریکارڈ میں رکھا جائے گا. !!!

ان شرائط کو پڑھ کر اندازہ لگائیں کہ صلح نامہ میں مسلمانوں کی کون سی بات تسلیم کی گئی؟

گلی میں تین چوتھائی اکثریت مسلمانوں کی !!

مکان مسلمانوں کا !!!

لیکن صرف 13 ہندو خاندانوں نے مسجد بنانے سے روک دیا.

کیا کسی ہندو اکثریتی علاقے میں اقلیت کے مسلمان کسی مندر کی تعمیر روک سکتے ہیں؟

کیا انتظامیہ اسی طرح مسلمانوں کے اعتراض پر کسی مندر کو بند کر سکتاہے؟

کیا اب نمازیوں کی تعداد کا تعین بھی ہندو لوگ کریں گے؟

کیا اب مسجدوں میں نمازپڑھنے والے لوگوں کا بایوڈاٹا بھی جمع کیا جائے گا؟

اس سے بھی بڑی بے شرمی کی بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ کرانے والے علاقائی ممبر اسمبلی بھی مسلمان ہیں. !!!

برا ہو اس سیاست کا جس کی وجہ سے قومی غیرت ووقار کا سواد کرنے والوں میں اپنے ہی کسی بھائی کا نام دکھائی دیتا ہے.

*مسجدوں کے لاﺅڈ اسپیکر سے دقت ہے تو مندروں سے کیوں نہیں*؟

آج کل مسجدوں کے خلاف لاﺅڈ اسپیکر کو آسان ہتھیار بنا لیا گیاہے. جسے دیکھو مسجد کے لاﺅڈاسپیکر پر اعتراض کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے ہماری نیندیں خراب ہوتی ہیں. لیکن جن لوگوں کی نیندیں مسجد کی اذان سے خراب ہوجاتی ہیں وہ لوگ مندروں سے بجنے والے لاﺅڈ اسپیکر پر کیوں خاموش ہیں؟

🔹 کانوڑ یاترا کے دنوں میں کان پھوڑو ڈی جے(DJ) کے ساتھ نکلنے والے کانوڑیوں کے شور پر کوئی کچھ نہیں بولتا.

🔹 ہر دوسرے ہفتے گلی گلی ہونے والی ”ماتا کی چوکی“ کے لاﺅڈ اسپیکر سے کسی کی نیند میں خلل نہیں پڑتا۔

🔹 جگہ جگہ ہونے والے ”ماتا کے جگراتے“ سے کیا شور نہیں ہوتا ؟

مسجد کی اذان بمشکل دوتین منٹ میں مکمل ہوجاتی ہے لیکن مندروں، جگراتوں، کانوڑ اور چوکیوں کے لاﺅڈ اسپیکر رات رات بھر چلتے ہیں لیکن کیا آج تک کسی مسلمان نے ان پر اعتراض کیا؟

نہیں ! کیوں کہ مسلمان کسی کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی پسند نہیں کرتے لیکن شرپسند ہمیشہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں اور آج کل یہ سلسلہ تیزی کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے.

*حکومت وانتظامیہ سے اپیل*:

کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہاں بسنے والی سبھی قوموں کو مذہبی آزادی حاصل ہو ورنہ ترقی یافتہ بننے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوتا.

ہمارا ملک دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے اس لیے اس ملک کو ”امن وانصاف“ کا گہوارا بھی بنائیں تاکہ ہر شہری بڑھ چڑھ کر ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ لے سکے.

دستور میں دیے قانونی حقوق کی حفاظت کرنا حکومت وانتظامیہ کی دستوری ذمہ داری ہے. اس لیے ملک کو جمہوری بنیادوں پر آگے بڑھائیں.

کسی خاص مذہب کی بیجا تائید و تقویت انصاف کے خلاف ہے.

مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے معاملات میں جملہ قانونی کاروائیاں مکمل کرنے کے بعد ہی کوئی اعلان واقدام کریں. اور اپنے بیچ کی کالی بھیڑوں کو کبھی راز کی باتیں نہ دیں کیوں کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی دنیا بنانے کے لیے دین وقوم کا سودا کرتے ہیں.

اپنا لیڈر بھی کسی غیرت مند کو ہی منتخب کریں تاکہ بوقت ضرورت وہ آپ کی قومی غیرت کا خیال رکھ سکے ورنہ ہر مقام پر اسی طرح کی رسوائی اٹھانا پڑے گی.

غلام مصطفےٰ نعیمی

4 محرم الحرام1440ھ

14 ستمبر2018ءبروز جمعہ