بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں ان کو مردہ مت کہو ‘ بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم (ان کی زندگی کا) شعور نہیں رکھتے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں ان کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم (ان کی زندگی کا) شعور نہیں رکھتے۔۔ (البقرہ : ١٥٤)

اللہ کے نزدیک موت اور حیات کا معنی اور شان نزول :

اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا :

(آیت) ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا ‘ بل احیآء عند ربہم یرزقون۔ فرحین بما اتھم اللہ من فضلہ ویستبشرون بالذین لم یلحقوا بہم من خلفہم الا خوف علیہم ولا ھم یحزنون۔ (آل عمران : ١٧٠۔ ١٦٩)

ترجمہ : اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے وہ اس پر خوش ہیں ‘ اور اپنے بعد کے مسلمانوں کے متعلق جو ان سے ابھی نہیں ملے یہ بشارت پاکر خوش ہوتے ہیں کہ ان پر (بھی) نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو زمین پر چلتا پھرتا ہو وہ زندہ ہے اور جو زمین کے نیچے دفن کردیا جائے وہ مردہ ہے ‘ لیکن ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نزدیک زندہ وہ ہے جس کی زندگی کی اللہ راہ میں بسر ہو وہ زمین کے اوپر ہو پھر بھی زندہ ہے ‘ اور زمین کے نیچے ہو پھر بھی زندہ ہے اور جس کی زندگی لہو ولعب اور کفر میں بسر ہو وہ زمین کے اوپر بھی مردہ ہے اور زمین کے نیچے بھی مردہ ہے ‘ اسی لیے فرمایا : (آیت) ” انک لا تسمع الموتی “ (النمل : ٨٠) آپ مردوں کو تو نہیں سناتے “ کافر زمین پر چلتے پھرتے تھے ان کو مردہ فرمایا اور شہید زمین کے نیچے دفن ہوگئے لیکن ان کو زندہ فرمایا :

امام رازی سورة بقرہ کی اس آیت کے شان نزول میں لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان فرماتے ہیں کہ یہ آیت شہداء بدر کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ جنگ بدر کے دن چودہ مسلمان شہید ہوئے تھے ‘ چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے ‘ مہاجرین میں سے عبیدہ بن حارث ‘ عمر بن ابی وقاص ‘ ذوالشمالین ‘ عمرو بن نفیلہ ‘ عامر بن بکر اور مہجع بن عبداللہ اور انصار میں سے سعید بن خیثمہ ‘ قیس بن عبدالمنذر ‘ زید بن حارث ‘ تمیم بن ھمام ‘ رافع بن معلی ‘ حارثہ بن سراقہ ‘ معوذبن عفراء اور عوف بن عفراء اس وقت لوگ یہ کہتے تھے کہ فلاں مرگیا اور فلاں مرگیا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ راہ خدا میں مرنے والوں کو مردہ نہ کہو ‘ اس آیت کے شان نزول میں دوسرا قول یہ ہے کہ کفار اور منافقین یہ کہتے تھے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا کی خاطر مسلمان بےفائدہ اپنے آپ کو قتل کرا رہے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٣٥ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

برزخ میں حیات کا بیان :

اس آیت میں شہداء کی حیات کو بیان کیا گیا ہے ‘ قبر میں حیات کئی قسم کی ہے :

حیات کی ایک قسم برزخی حیات ہے ‘ یہ حیات ہر مومن اور کافرکو حاصل ہے ‘ دو چیزوں کے درمیان حد اور حجاب کو برزخ کہتے ہیں ‘ اور یہاں برزخ سے مراد موت سے لے کر قیامت تک کا وقت ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ومن ورآۂم برزخ الی یوم یبعثون “۔۔ (المؤمنون : ١٠٠)

ترجمہ : اور ان کے آگے اس دن تک ایک حجاب ہے جس دن میں وہ اٹھائے جائیں گے۔

حیات برزخی پر دلیل یہ ہے کہ کافروں اور فاسقوں پر قبر میں عذاب ہوتا ہے اور نیک مسلمانوں کو قبر میں ثواب ہوتا ہے اور حیات کے بغیر عذاب اور ثواب متصور نہیں ہے انسان کا جسم تو کچھ عرصہ بعد گل سڑ جاتا ہے اور ہڈیاں بھی ریزہ ریزہ ہو کر خاک ہوجاتی ہیں پھر عذاب اور ثواب کیا صرف روح کو ہوتا ہے ؟ اس میں تحقیق یہ ہے کہ انسان کے بدن کے اصلی جز کو اللہ تعالیٰ ہرحال میں قائم رکھتا ہے اور اس جز کے ساتھ روح متعلق ہوجاتی ہے اور عذاب اور ثواب کا ترتب روح اور بدن کے اس جز پر ہوتا ہے ‘ لیکن دنیاوی احکام میں یہ مردہ ہوتے ہیں۔

اولیاء اللہ کی جسمانی حیات کا بیان :

اولیاء اللہ کو قبر میں جسمانی حیات حاصل ہوتی ہے ‘ اس پر دلیل یہ ہے کہ امام ترمذی حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ بندہ مومن جب فرشتوں کے سوال کا صحیح جواب دے دیتا ہے تو اس کی قبر میں ستر در ستر وسعت کردی جاتی ہے اور فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اس عروس (دلہن) کی طرح سو جا جس کو اس کے محبوب اھل (زوج) کے سوا کوئی بیدار نہیں کرتا ‘ حتی کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو قبر سے اٹھائے۔ (جامع ترمذی ص ١٧٣‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندہ مومن قیامت تک قبر میں سوتا رہے گا اور سونا حیات کی فرع ہے اور جب کہ عام مشاہدہ یہ ہے کہ قبر میں بالعموم مسلمانوں کے اجسام گل سڑ جاتے ہیں اس لیے اس حدیث کو خواص مومنین یعنی اولیاء اللہ کی قبر میں حیا کے متعلق بہ کثرت نقول موجود ہیں۔ شیخ رشید احمد گنگوہی نے لکھا ہے کہ اولیاء کرام بھی بحکم شہداء ہیں اور مشمول آیت ” بل احیاء عندربھم “ (البقرہ : ١٦٩) کے ہیں۔ (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب ص ‘ ٨٧ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز ‘ کراچی)

علامہ قرطبی بیان کرتے ہیں :

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ ثواب کی نیت سے اذان دینے والا اس شہید کی طرح ہے جو اپنے خون میں لتھڑا ہوا ہو اگر وہ مرگیا تو اس کی قبر میں کیڑے نہیں پڑیں گے۔ اس حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو مومن ثواب کی نیت رکھتا ہو اس کو بھی زمین نہیں کھاتی۔ ١ (علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ ‘ التذکرہ فی احوال الموتی و امور الاخرۃ ص ١٨٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) یہ حدیث اولیاء الہ کی جسمانی حیات پر واضح دلیل ہے۔

شہداء کی حیات کا بیان :

شہداء کی حیات بھی جسمانی ہے جیسا کہ سورة آل عمران کی آیت : ١٧٠ میں ذکر ہے ‘ شہداء کو رزق بھی دیا جاتا ہے ‘ اور سورة بقرہ کی اس آیت میں فرمایا ہے کہ تم ان کی حیات کا شعور نہیں رکھتے یعنی تم اپنے حواس سے ان کی حیات کا ادراک نہیں کرسکتے ‘ بایں طور کہ ہم ان کو رزق کھاتا ہوا دیکھیں یا چلتا پھرتا ہوا دیکھیں جس طرح ہم دنیا میں اور زندہ لوگوں میں آثار حیات دیکھتے ہیں اس طرح شہداء میں ہم کو آثار حیات دکھائی نہیں دیں گے ‘ لیکن شہداء بھی دنیاوی احکام میں مردہ ہیں ‘ کیونکہ انکی شہادت کے بعد ان کی بیویوں سے عدت پوری ہونے کے بعد نکاح کرنا جائز ہے اور ان کا ترکہ ان کے وارثوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔

شہادت کے بعد بعض جسموں کے تغیر سے ان کی حیات پر معارضہ کا جواب :

حیات شہداء پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم کئی بار میدان جنگ میں مسلمان مقتولین کو دیکھتے ہیں ‘ چند دن گزرنے کے بعد ان کا جسم پھول اور پھٹ جاتا ہے اور اس سے بدبو آنے لگتی ہے ‘ قبروں میں ان کا جسم ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے اور ان کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجاتی ہیں اور یہ جسمانی حیات کے منافی ہے ‘ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو میدان جہاد میں مقتول ہوئے لیکن ان کی نیت صحیح نہیں تھی ‘ یہ لوگ صرف روزی کمانے کے لیے فوج میں بھرتی ہوئے یا شہرت اور ناموری کے لیے فوج میں بھرتی ہوئے ان کے دلوں میں اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جان دینا یا راہ خدا میں قتل ہونے کا جذبہ نہیں تھا اس لیے باوجود میدان جہاد میں مارے جانے کے یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہید نہیں تھے ‘ اس لیے ان کو جسمانی حیات سے بھی نہیں نوازا گیا۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں ؛

حضرت ابوموسی اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک اعرابی نے حاضر ہو کر کہا : یا رسول اللہ ! ایک شخص مال غنیمت کی خاطر لڑتا ہے ‘ ایک شخص نام آوری کے لیے لڑتا ہے اور ایک شخص اظہار شجاعت کے لیے لڑتا ہے ‘ ان میں سے اللہ کے لیے لڑنے والا کون ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد کرے وہی (درحقیقت) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ١٣٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ایک شخص دنیا کو حاصل کرنے کے لیے جہاد کا ارادہ کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔

اور جن مسلمانوں کی نیت صحیح ہوتی ہے ان کو شہادت کے بعد جسمانی حیات حاصل ہوتی ہے ‘ اس کی دلیل یہ حدیث ہے : امام مالک روایت کرتے ہیں کہ ان کو یہ حدیث پہنچی ہے :

حضرت عمرو بن الجموح انصاری اور حضرت عبداللہ بن عمرو انصاری (رض) کی قبروں کو سیلاب نے اکھاڑ دیا تھا ‘ ان کی قبریں سیلاب کے قریب تھیں ‘ یہ دونوں ایک قبر میں مدفون تھے ‘ یہ دونوں جنگ احد میں شہید ہوئے تھے ‘ ان کی قبر کھودی گئی تاکہ ان کی قبر کی جگہ تبدل کی جاسکے ‘ جب ان کے جسموں کو قبر سے نکالا گیا تو ان کے جسموں میں کوئی تغیر نہیں ہوا تھا یوں لگتا تھا جیسے وہ کل فوت ہوئے ہوں ‘ ان میں سے ایک زخمی تھا اور اس کا ہاتھ اس کے زخم پر تھا ‘ اس کو اسی طرح دفن کیا گیا تھا ‘ اس کے ہاتھ کو اس کے زخم سے ہٹا کر چھوڑا گیا تو وہ پھر اپنے زخم پر آگیا ‘ جنگ احد اور قبر کھودنے کے درمیان چھیالیس (٤٦) سال کا عرصہ تھا۔ (موطا امام مالک ص ٤٨٣۔ ٤٨٢‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان لاہور)

امام بیہقی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (سنن کبری ج ٤ ص ٥٨۔ ٥٧‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کاملین کو اصلی جسم کے ساتھ حیات عطا کی جائے اور عام مسلمانوں کو اس جسم معروف کے ساتھ حیات عطا نہ کی جائے بلکہ جسم مثالی کے ساتھ حیات عطا کی جائے ‘ اس مسئلہ کو زیادہ تفصیل اور تحقیق کے ساتھ ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ جلد خامس میں بیان کیا ہے۔

سبز پرندوں میں شہید کی روح کے متمثل ہونے سے تناسخ کا جواب :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام مالک ‘ امام احمد ‘ اور امام ترمذی نے تصحیح سند کے ساتھ اور امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ‘ حضرت کعب بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوتی ہیں ‘ وہ جنت کے پھلوں یا درختوں پر ہوتے ہیں۔

امام عبدالرزاق نے ” مصنف “ میں حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہداء کی روحیں سبزپرندوں کی صورتوں میں جنت کی قندیلوں سے معلق ہوتی ہیں ‘ حتی کہ قیامت کے دن اللہ انہیں (ان کے بدنوں میں) لوٹا دے گا۔ (الدرمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ١٥٥ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)

امام عبدالرزاق کی اس ثانی الزکر روایت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ شہادت کے بعد شہید کی روح کا سبز پرندہ کی صورت میں متمثل ہوجانا بعینہ تماسخ ہے ‘ اس اعتراض کا ایک یہ ہے کہ تماسخ انکار معاد پر مبنی ہے اور اس حدیث میں معاد کو بیان کیا گیا ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے اور زیادہ قوی اول الذکر حدیث ہے جس کی صحت کی امام ترمذی نے تصرح کی ہے اور اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں ہے ‘ کیونکہ شہید کی روح پرندہ کے پوٹے میں حلول نہیں کرتی بلکہ پرندہ میں اپنی روح ہوتی ہے اور شہید کی روح بہ منزلہ سوار اور پرندہ اس کی سواری ہے ‘ اور اس روح کا اپنے اصل جسم یا جسم مثانی کے ساتھ تعلق قائم رہتا ہے ‘ لہذا یہ حدیثیں شہید کی جسمانی حیات کے منافی نہیں ہیں اور ان سے تناسخ ثابت نہیں ہوتا۔

انبیاء (علیہم السلام) کی حیات کا بیان :

انبیاء (علیہم السلام) کی حیات بھی قبر میں جسمانی ہے اور یہ سب سے اعلی افضل اور قوی حیات ہے ‘ اور انبیاء علیم السلام دنیاوی احکام میں بھی زندہ ہوتے ہیں ان کی وفات کے ان کی میراث تقسیم نہیں کی جاتی اور وفات کے بعد انکی ازاوج مطہرات سے کسی شخص کے لیے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔

انبیاء (علیہم السلام) کی حیات پر قرآن مجید کی یہ آیت دلیل ہے :

(آیت) ” فلما قضینا علیہ الموت مادلھم علی موتہ الا دآبۃ الارض تاکل منساتہ فلما خر تبینت الجن ان لوکانوا یعلمون الغیب مالبثوقا فی العذاب المھین “۔۔ (سباء : ١٤)

ترجمہ : تو جب ہم نے سلیمان پر موت کا حکم نافذ کردیا تو جنات کو ان کی موت پر سوائے زمین کی دیمک کے کسی نے مطلع نہیں کیا جو سلیمان کے عصا کو کھاتی رہیں ‘ پھر جب سلیمان زمین پر آرئے تو جنوں پر یہ حقیقت واضھ ہوگئی کہ اگر یہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) جنوں سے مسجد بیت المقدس کی تعمیر کی تجدید کرا رہے تھے ‘ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو موت کے وقت سے مطلع کردیا تو آپ نے جنوں کو نقشہ بنا کردیا اور خود ایک شیشہ کے مکان میں دروازہ بند کر کے عصا سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے عبادت الہی میں مشغول ہوگئے اسی حالت میں فرشتے نے روح قبض کرلی اور آپ کا جسم مبارک اس عصا کے سہارے کھڑا رہا اور کسی کو آپ کی وفات کا احساس نہ ہوسکا ‘ وفات کے بعد مدت دراز تک جن بہ دستور تعمیر کرتے رہے ‘ جب تعمیر پوری ہوچکی تو وہ عصا دیمک کے گھن لگنے کی وجہ سے گرپڑا تب سب کو آپ کی وفات کا حال معلوم ہوا اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ جنوں کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ انبیاء پر موت طاری ہونے کے بعد ان کا جسم صحیح سلامت رہتا ہے پھولنے ‘ پھٹنے ‘ گلنے اور سڑنے سے محفوظ رہتا ہے ‘ لیکن ان کی جسمانی حیات کی کیفیت ہمارے دائرہ احساس اور شعور سے خارج ہے۔ عصا میں جب گھن لگ گیا اور وہ زمین پر گرگیا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا جسم مبارک بھی زمین پر آرہا تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) کی حیات جسمانی ہوتی ہے لیکن اس پر دنیاوی حیات کے آثار مرتب نہیں ہوتے ‘ ورنہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا جسم اپنے قیام میں عصا کا محتاج نہ ہوتا اور عصا گرنے کے باوجود آپ کا جسم مبارک قائم رہتا۔ انبیاء (علیہم السلام) زائرین کے سلام کا جواب دیتے ہیں اور جو ان سے دعا کی درخواست کرتے ہیں ان کی شفاعت کرتے ہیں ‘ اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے مشاہدہ اور مطالعہ میں مستغرق رہتے ہیں اور احوال برزخ پر بھی نظر رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے کائنات میں تصرف بھی کرتے ہیں لیکن یہ تمام امور متشابہات میں سے ہیں ‘ یہ امور ایسے نہیں ہیں جیسے دنیا میں کسی انسان سے صادر ہوتے ہیں ‘ ان کی کیفیت ہم ایسے عام لوگوں کے دائرہ ادراک اور شعور سے خارج ہے ‘ احادیث میں بھی انبیاء (علیہم السلام) کی جسمانی حیات اور ان کے جسمانی تصرفات پر دلیل ہے۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وادی ازرق میں گزرے آپ نے فرمایا : یہ کون سی وادی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : یہ وادی ازرق ہے آپ نے فرمایا : گویا کہ میں (حضرت) موسیٰ کو دیکھ رہا ہوں ‘ وہ باواز بلند تلبیہ پڑھتے ہوئے اس وادی سے اتر رہے ہیں ‘ پھر آپ وادی ھرشی سے گزرے ‘ آپ نے فرمایا : یہ کون سی وادی ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا یہ وادی ھرشی ہے ‘ آپ نے فرمایا : گویا کہ میں (حضرت) یونس بن متی کی طرف دیکھ رہا ہوں ‘ وہ ایک سرخ رنگ کی فربہ اونٹی پر سوار ہیں ‘ جس کی مہار کھجور کی چھال کی ہے ‘ انہوں نے ایک ادنی جبہ پہنا ہوا ہے اور وہ ” اللہم لبیک “ کہتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٩٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) حج اور تلبیہ کس طرح کرتے ہیں ‘ حالانکہ وہ وفات پاچکے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) بہ منزلہ شہداء ہیں بلکہ ان سے افضل ہیں اور شہداء اپنے رب کے نزدیک زندہ ہیں ‘ اس لیے ان کا حج کرنا اور نماز پڑھنا بعید نہیں ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ (شرح مسلم ج ١ ص ‘ ٩٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

شیخ عثمانی لکھتے ہیں : انبیاء (علیہم السلام) زندہ ہیں اس لیے ان کے حج کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں مانع نہیں ہے ‘(الی قولہ) اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے ان کی روح کو دیکھا تھا ‘ آپ کے لیے ان کی روحوں کو اس طرح متمثل کردیا گیا جس طرح شب معراج انبیاء (علیہم السلام) کی روحوں کو متمثل کردیا گیا تھا اور ان کے اجسام قبروں میں تھے ‘ علامہ ابن منیر وغیرہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نبی کی روح کے لیے ایک جسم مثالی بنا دیتا ہے ‘ پھر وہ جس طرح خواب میں دیکھائی دیتے ہیں ‘ اسی طرح بیداری میں دکھائی دیتے ہیں۔ (فتح الملھم ج ١ ص ٣٣٠‘ مطبوعہ مکتبہ الحجاز ‘ کراچی)

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا اس وقت وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٩٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

نیز امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنے آپ کو انبیاء (علیہم السلام) کی ایک جماعت میں پایا ‘ میں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نماز پڑھ رہے ہیں اور ان کے بال قبیلہ شنوءہ کے لوگوں کی طرح گھنگریالے تھے ‘ اور اس وقت حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور تمہارے نبی ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہیں ‘ پھر نماز کا وقت آیا اور میں نے ان سب نبیوں کی امامت کی (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٩٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ نووی لکھتے ہیں :

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قبر میں نماز پڑھتے ہوئے کیسے دیکھا تھا ‘ حالانکہ آپ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) کو بیت المقدس میں نماز پڑھائی اور آپ نے ان کو آسمانوں میں بھی اپنے اپنے مراتب میں دیکھا اور ان کو سلام کیا اور انہوں نے آپ کو خوش آمدید کہا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ آپ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قبر میں بیت المقدس جاتے ہوئے آسمانوں پر چڑھنے سے پہلے دیکھا ہو ‘ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آپ سے پہلے آسمان پر پہنچ گئے ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے انبیاء (علیہم السلام) کو پہلے نماز پڑھائی ہو اور پھر ان کو آسمانوں پر دیکھا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سدرۃ المنتہی سے واپسی کے بعد آپ نے انبیاء (علیہم السلام) کو نماز پڑھائی ہو اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا ہو۔ (شرح مسلم ج ١ ص ‘ ٩٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

شیخ اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں :

حضرت آدم (علیہ السلام) جمیع انبیاء میں اس کے قبل بیت المقدس میں بھی مل چکے ہیں اور اسی طرح وہ اپنی قبر میں بھی موجود ہیں اور اسی طرح بقیہ سموات میں جو انبیاء (علیہم السلام) کو دیکھا سب جگہ یہی سوال ہوتا ہے ‘ اس کی حقیقت یہ ہے کہ قبر میں تو اصلی جسد سے تشریف رکھتے ہیں اور دوسرے مقامات پر انکی روح کا تمثل ہوا ہے یعنی غیر عنصری جسد سے جس کو صوفیہ جسم مثالی کہتے ہیں ‘ روح کا تعلق ہوگیا اور اس جسد میں تعدد بھی اور ایک وقت میں روح کا سب کے ساتھ تعلق بھی ممکن ہے لیکن ان کے اختیار سے نہیں بلکہ محض بقدرت ومشیت حق۔ (نشر الطیب ص ٦٥۔ ٦٤‘ مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ ‘ کراچی)

اللہ تعالیٰ کی قدرت تو محل کلام نہیں ہے لیکن انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس قسم کے اختیار عطا فرماتا ہے۔

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت اوس بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے دنوں میں جمعہ کا دن سب سے افضل ہے ‘ اس دن مجھ پر بہ کثرت دورد پڑھا کرو ‘ کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ‘ صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ پر ہمارا درود کس طرح پیش کیا جائے گا حالانکہ آپ کا جسم بوسیدہ ہوچکا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسم کھانے کو حرام کردیا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٢١٤ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس وقت بھی کوئی شخص مجھ پر سلام پیش کرتا ہے اس وقت اللہ نے مجھ پر روح لوٹائی ہوئی ہوتی ہے حتی کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔

(سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٢٧٩ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حیات انبیاء پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گرنے سے معارضہ کے جوابات :

قرآن مجید میں ذکر ہے کہ وفات کے بعد عصا کا سہارا نہ ہونے کی وجہ سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا جسم زمین پر آ رہا ‘ اور احادیث صحیحہ میں وفات کے بعد انبیاء (علیہم السلام) کا ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ‘ نمازیں پڑھنا ‘ حج کرنا ‘ سلام جواب دینا اور باتیں کرنا مذکور ہے۔ ان میں توفیق اور تطبیق کی حسب ذیل صورتیں ہیں :

(١) عام انسانوں اور جنات کی نظروں میں انبیاء (علیہم السلام) کے اجسام پر وفات کے بعد آثار حیات نہیں ہوتے۔ ان میں آثار حیات کا مشاہدہ صرف اہل اللہ اور انبیاء (علیہم السلام) ہی کرسکتے ہیں۔

(٢) انبیاء (علیہم السلام) کے اجسام عنصریہ میں حس اور حرکت ارادی کے آثار نہیں ہوتے البتہ انکی روح کے ساتھ اجسام مثالیہ کو متعلق کردیا جاتا ہے اور تصرف کے جس قدر واقعات کا ذکر احادیث میں ہے یہ سب اجسام مثالیہ ہیں۔ rnّ (٣) وفات کے بعد انبیاء (علیہم السلام) کے اجسام کے احوال مختلف ہوتے ہیں بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنی کسی حکمت کو ظاہر کرنے کے لیے ان سے آثار حیات کو سلب فرما لیتا ہے (جیسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے واقعہ میں جنوں کے دعوی علم غیب کو رد کرنا مقصود تھا یا ان کی وفات ظاہر کرکے ان کی تجہیز و تکفین اور ان کو قبر میں دفن کرانا تھا) اور بعض اوقات اپنی کسی حکمت کو ظاہر کرنے کے لیے ان کے اجسام میں آثار حیات جاری فرما دیتا ہے ‘ جیسے ہماری نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت اور شان ظاہر کرنے کے لیے شب معراج آپ کی اقتداء میں سب نبیوں سے نماز پڑھوائی اور عبادت میں ان کا شغف ظاہر کرنے کے لیے وفات کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انہیں نماز پڑھتا ہوا اور حج کرتا ہوا دکھایا۔

وفات کے بعد انبیاء (علیہم السلام) کے دکھائی دینے کی کیفیت کا بیان :

امام غزالی لکھتے ہیں :

صوفیاء کی پہلی منزل مکاشفات اور مشاہدات سے شروع ہوتی ہے ‘ حتی کہ وہ بیداری میں فرشتوں کا اور ارواح انبیاء کا مشاہدہ کرتے ہیں ‘ ان کی آوازیں سنتے ہیں اور ان سے فوائد حاصل کرتے ہیں۔

(المنقذمن الضلال ص ٥٠‘ مطبوعہ بیئت الاوقاف لاہور ‘ ١٩٧١ ء)

علامہ سیوطی لکھتے ہیں :

آیا ذات مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت آپ کے جسم اور روح کے ساتھ ہوتی ہے یا جسم مثالی کے ساتھ ؟ امام غزای نے کہا ہے کہ ارباب احوال آپ کے جسم اور روح کو نہیں دیکھتے بلکہ مثال کو دیکھتے ہیں (علامہ سیوطی فرماتے ہیں) آپ کی ذات مبارکہ کی جسم اور روح کے ساتھ زیارت ممتنع نہیں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور باقی انبیاء (علیہم السلام) زندہ ہیں اور آپ سب کی روحیں آپ کے جسموں میں لوٹا دی گئی ہیں اور تمام انبیاء کو اپنی قبروں سے باہر آنے کا اور تمام کائنات میں تصرف کرنے کا اذن دیا گیا ہے اور امام بیہقی نے حیات انبیاء میں ایک رسالہ لکھا ہے اور ” دلائل النبوۃ “ میں لکھا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) شہداء کی طرح اپنے رب کے پاس زندہ ہیں (الحاوی للفتاوی ج ٢ ص ٢٦٣‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ فیصل آباد)

علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں :

یا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح دکھائی دیتی ہے بایں طور کہ وہ مختلف صورتوں میں دکھائی دیتی ہے اور اس کا تعلق جسد انور کے ساتھ باقی رہتا ‘ جیسا کہ جبرائیل (علیہ السلام) حضرت دحیہ کلبی کی صورت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوتے تھے اور سدرۃ المنتہی سے جدا نہیں ہوتے تھے اور یا آپ کا جسم مثالی دکھائی دیتا ہے جس کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح متعلق ہوتی ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ بیشمار اجسام مثالیہ ہوں اور ان سب کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح واحد متعلق ہو جیسا کہ ایک جسم کے متعدد اعضاء کے ساتھ روح واحد متعلق ہوتی ہے۔ (روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٧‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

شیخ انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں :

میرے نزدیک بیداری میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت ممکن ہے کیونکہ منقول ہے کہ علامہ سیوطی نے بائیس مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا اور آپ سے چند احادیث کی صحت کے متعلق سوال کیا اور آپ کے صحیح فرمانے کے بعد ان احادیث کو صحیح لکھا اور علامہ شعرانی نے لکھا ہے کہ انہوں نے آپ کی بیداری میں زیارت کی اور آٹھ ساتھیوں کے ساتھ آپ سے ” بخاری “ پڑھی جن میں سے ایک حنفی تھا۔ (فیض الباری ج ١ ص ٢٠٤‘ مطبوعہ مطبع حجازی ‘ مصر ‘ ١٣٥٧ ھ)

اس تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) اپنی اپنی قبور مبارکہ میں اپنے جسد عنصری کے ساتھ زندہ ہیں اور اپنی عبادت اور اللہ تعالیٰ کی تجلیات کے مشاہدہ میں مشغول ہیں ‘ ان پر اعمال پیش کیے جاتے ہیں ‘ نیک اعمال دیکھ کر وہ اللہ کی حمد کرتے ہیں اور برے اعمال دیکھ کر امت کے لیے استغفار کرتے ہیں اور اہل اللہ اور خاص خاص بندگان خدا ان کی زیارت سے مستفید ہوتے ہیں ‘ ان کا کلام سنتے ہیں اور وہ اپنی قبروں سے باہر بھی آتے ہیں اور زمین اور آسمان میں جہاں چاہیں تشریف لے جاتے ہیں ‘ ایک وقت میں کئی جگہ بھی تشریف لے جاتے ہیں ‘ اس وقت ان کی روح کئی صورتوں میں متمثل ہوتی ہے یا ایک وقت میں کئی جگہ ان کے اجسام مثالیہ نظر آتے ہیں ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو حاضر ناظر کہا جاتا ہے اس کا یہی مفہوم ہے ‘ حاضر ناظر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اپنے جسم معروف اور جسد عنصری کے ساتھ ایک وقت میں ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔

شہید کا معنی :

شہید کا معنی گواہ اور حاضر ہے۔ اللہ کی راہ میں مارے جانے والے کو شہید کہتے ہیں ‘ اس کو شہید اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے لیے جنت کی شہادت دی گئی ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کے پاس حاضر ہوتے ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ مرنے کے فورا بعد شہید کی روح جنت میں حاضر ہوجاتی ہے ‘ جب کہ دوسرون کی روحیں فورا جنت میں نہیں جاتی ‘ ایک قول یہ ہے کہ شہید راہ خدا میں جان دے کر اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اس نے خدا سے کیا ہوا وعدہ پورا کردیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ؛

(آیت) ” ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ (التوبہ : ١١١)

ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت بدلہ میں خرید لیا۔

اسی لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ ہی کو خوب علم ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے۔

شہداء کی تعداد کا بیان :

جو شخص دین کی سربلندی کے لیے راہ خدا میں مارا جائے وہ حقیقۃ شہید ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے علاوہ بھی چند مرنے والوں کو شہید فرمایا ہے ‘ ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ جلد خامس میں احادیث کے حوالوں سے پینتالیس شہداء کا ذکر کیا ہے۔ علامہ قرطبی نے بھی اپنی کتاب ” التذکرہ “ میں احادیث کے حوالوں سے بعض شہداء کا ذکر کیا ہے ‘ ہم اس میں سے یہاں ان شہداء کا ذکر کر رہے ہیں جن کا ذکر ” شرح صحیح مسلم “ میں نہیں ہے۔

علامہ قرطبی ” التذکرہ “ میں لکھتے ہیں :

امام آجری نے حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس ! اگر ہو سکے تو تم ہمیشہ باوضو رہو کیونکہ ملک الموت جس بندہ کی روح قبض کرے اور وہ اس وقت باوضوہو اس کے لیے شہادت لکھ دی جاتی ہے۔

امام شعبی نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے چاشت کی نماز پڑھی ‘ ہر ماہ تین روزے رکھے ‘ اور سفر اور حضر میں وتر کو ترک نہیں کیا اس کے لیے شہادت کا اجر لکھ دیا جاتا ہے ‘ اس حدیث کو امام ابو نعیم نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

امام حکیم ترمذی اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر شخص کے پاس کوئی نہ کوئی ایسا پسندیدہ جانور ہوتا ہے جس کے ذبح کرنے وہ انکار کرتا ہے اور اللہ کی بھی ایک ایسی مخلوق ہے جس کو ذبح کرنے سے وہ انکار ہے کچھ لوگ بستروں پر مرتے ہیں ان کے لیے شہداء کا اجر تقسیم کیا جاتا ہے۔ ١ (علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ ‘ التذکرہ ص ١٨٢۔ ١٨٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ ١٤٠٧ ھ)

ان تین قسموں کو ملانے کے بعد شہداء کی تعداء کی تعداد اڑتالیس ہوگئی۔

شہید کے متعلق فقہی احکام :

علامہ مرغینانی حنفی لکھتے ہیں :

جس شخص کو مشرکین قتل کردیں یا جو میدان جنگ میں مردہ پایا جائے اور اس پر زخموں کے نشان ہوں ‘ یا جس کو مسلمان ظلما قتل کردیں اور اس کے قتل کرنے پر ان پر دیت واجب نہ ہو وہ شہید ہے ‘ اس کو کفن دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کو غسل نہیں دیا جائے گا کیونکہ وہ شہداء احد کے معنی میں ہے ‘ جن کے متعلق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انہیں ان کے زخموں اور خون میں لپیٹ دو اور ان کو غسل نہ دو (یہ حدیث غریب ہے ‘ صحیح حدیث یہ ہے : امام بخاری حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ احد کے دن فرمایا : انہیں ان کے خون کے ساتھ دفن کردو اور ان کو غسل نہیں دلوایا۔ ج ١ ص ١٧٩)

ہر وہ شخص جو کسی دھار والے آلہ کے ساتھ قتل کیا گیا ہو بہ شرطی کہ وہ طاہر ہو (جنبی نہ ہو) اور بالغ ہو ‘ اور اس کے قتل کی وجہ سے کوئی مال عوض واجب نہ ہو ‘ وہ شہداء احد کے معنی میں ہے اور وہ ان کے ساتھ لاحق ہوگا ‘ امام شافعی شہید کی نماز جنازہ میں ہماری مخافت کرتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں : اس کا تلوار سے مارا جانا اس کے گناہوں کا کفارہ ہے ‘ لہذا وہ نمازیوں کی شفاعت سے مستغنی ہے ‘ ہم کہتے ہیں ‘ کہ میت پر نماز پڑھنا اس کی تعظیم اور توقیر کے اظہار کے لیے ہے ‘ اور شہید اس توقیر کے زیادہ لائق ہے اور جو گناہوں سے پاک ہو وہ مسلمان کی دعا سے مستغنی نہیں ہوتا جیسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اور بچوں کے لیے دعا کی جاتی ہے اور جس مسلمان کو اہل حرب ‘ یا باغی یا ڈاکو قتل کردیں ‘ خواہ وہ اس کو کسی چیز سے بھی قتل کریں اس کو غسل نہیں دیا جائے گا کیونکہ تمام شہداء احد کو تلوار اور ہتھیاروں سے قتل نہیں کیا گیا تھا۔ (ہدایہ اولین ص ١٨٣‘ مطبوعہ مکتبہ شرکت علمیہ ‘ ملتان)

شہید کی نماز جنازہ پڑھی جانے کے متعلق فقہاء احناف کی دلیل یہ حدیث ہے :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ پڑھی ‘ پھر آپ منبر کی طرف لوٹ گئے اور فرمایا : میں تمہارا پیش رو ہوں اور تمہارے حق میں گواہ ہوں ‘ اور بیشک بہ خدا ! میں ضرور اس وقت اپنے حوض کی طرف دیکھ رہا ہوں ‘ اور مجھے تمام روئے زمین کے خزانوں کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور بیشک بہ خدا ! مجھے تم سے اندیشہ نہیں ہے کہ تم (سب) میرے بعد مشرک ہوجاؤ گے لیکن مجھے تم سے یہ اندیشہ ہے کہ میرے بعد تم دنیا میں رغبت کرو گے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٧٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

علم اور شعور کا فرق :

اس آیت میں فرمایا ہے : تم شہداء کی حیات کا شعور نہیں رکھتے۔ حواس سے ادراک کرنے کو شعور کہتے ہیں اور عقل سے ادراک کرنے کو علم کہتے ہیں۔ علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں : (آیت) ” لا تشعرون “ کا معنی ہے : تم حواس سے ادراک نہیں کرتے اور (آیت) ” لاتشعرون “ کی جگہ ” لا تعقلون “ کہنا جائز نہیں ہے کیونکہ کئی ایسی چیزیں ہیں جن کا حواس سے ادراک نہیں ہوتا لیکن

عقل سے ان کا ادراک ہوجاتا ہے۔ ١ (علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٣٠٢ ھ المفردات ص ٢٦٢ ھ ‘ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ) نیز راغب اصفہانی لکھتے ہیں : کسی شے کی حقیقت کا ادراک کرنا علم ہے اور علم کی دو قسمیں ہیں : ایک علم عقل سے حاصل ہوتا ہے اور دوسرا خبر سے (المفردات ص ‘ ٢٤٣ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :

علم صاحب عقل کی وہ صفت ہے جس سے اس کے لیے ذکر کی ہوئی چیز منکشف ہوجائے اور فرشتوں انسانوں اور جنوں کے لیے علم کے تین اسباب ہیں : حواس سلیمہ ‘ خبر صادق اور عقل۔ (شرح عقائد ص ١٠۔ ٩ مطبوعہ محمد سعید تاجران کتب ‘ کراچی)

علامہ شمس الدین خیالی ‘ علامہ تفتازانی پر اعتراض کرتے ہیں :

حواس کے ادراک کو علم میں شمار کرنا عرف اور لغت کے خلاف ہے ‘ کیونکہ عرف اور لغت میں بہائم (حیوانات) ذوی العلم نہیں ہیں۔ (حاشیۃ الخیالی ص ٢٢‘ مطبوعہ یوسفی فرنگی محلی ‘ لکھنو)

علامہ خیالی کا یہ اعتراض صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ علامہ تفتازانی نے انسانوں کے لیے حواس کو علم کا سبب بنایا ہے ‘ مطلقا حواس کو علم کا سبب نہیں کہا :

شیخ اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں :

پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ‘ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کیا تخصیص ہے ‘ ایسا علم غیب تو زید عمرو بلکہ ہر صبی ومجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کیلیے بھی حاصل ہے کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے تو چاہیے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے۔ (حفظ الایمان ص ٧‘ مطبوعہ مکتبہ نعمانیہ دیوبند ‘ یوپی)

اس عبارت پر حسب ذیل اعتراضات ہیں :

(١) اس عبارت میں حیوانات اور بہائم کے ادراک پر علم غیب کا اطلاق کیا ہے ‘ حالانکہ حیوانات کے ادراک پر علم کا اطلاق بھی صحیح نہیں ہے ‘ چہ جائیکہ حیوانات کے ادراک پر علم غیب کا اطلاق کیا جائے۔

(٢) مکتب فکر دیوبند کی تعلیم کے مطابق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم پر بھی علم غیب کا اطلاق جائز نہیں بلکہ عطائی علم غیب کو بھی انہوں نے کفر لکھا ہے شیخ سرفراز نے لکھا ہے : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے علم غیب ثابت کرنے والا کافر اور مشرک ہے۔ (محصلہ ازالۃ الریب ص ٣٨) پھر جانوروں کے لیے علم غیب ثابت کرنے کا کیا حکم ہوگا ؟

(٣) تھانوی صاحب کی اس عبارت سے لازم آتا ہے کہ آپ کو عالم بھی نہ کہا جائے کیونکہ کل علم آپ کو حاصل نہیں اور بعض میں آپ کی تخصیص نہیں۔

(٤) عام لوگوں کو جن بعض غیوب کا علم ہوتا ہے (جیسے جنت ‘ دوزخ وغیرہ) یہ بعض قلیل ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جن بعض غیوب کا علم ہے وہ بعض کثیر ہے ‘ آپ کے علم کے سامنے تمام مخلوق کا علم ایسا ہے جیسے قطرہ سمندر کے سامنے ہو اور اللہ کے مقابلہ میں آپ کے علم کی وہ نسبت بھی نہیں جو قطرہ اور سمندر میں ہے کیونکہ قطرہ اور سمندر میں محدود کی نسبت محدود کی طرف ہے اور آپ کے اور اللہ کے علم میں محدود کی نسبت لا محدود کی طرف ہے اور بعض قلیل کی بناء پر وصف کا اطلاق نہیں ہوتا اور بعض کثیر کی بناء پر وصف کا اطلاق ہوتا ہے ‘ مثلا ہر مسلمان کو دین کے بعض مسائل کا علم ہے ‘ لیکن اس کو عالم نہیں کہتے اور عالم دین کو عالم کہتے ہیں ‘ حالانکہ اسے بھی کل مسائل کا علم نہیں ہوتا ‘ بعض مسائل ہی کا علم ہوتا ہے لیکن اس کو چونکہ بعض کثیر کا علم ہوتا ہے اس لئے اس کو عالم کہتے ہیں باقی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عالم الغیب کا اطلاق کرنا ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے ‘ ہرچند کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطاء الہی سے غیب کا علم ہے ‘ لیکن چونکہ عرف اور شرع میں عالم الغیب کا لفظ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اس لیے آپ کو عالم الغیب کہنا جائز نہیں ہے ‘ جیسا کہ آپ میں برکت اور بلندی کا معنی پایا جاتا ہے اس کے باوجود محمد تبارک وتعالیٰ کہنا جائز نہیں ہے کیونکہ عرف اور شرع میں تبارک وتعالیٰ اللہ کے ساتھ مخصوص ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 154