یزید کی خلافت ایک تاریخی تنازعہ

از: افتخار الحسن رضوی

یزید ابن معاویہ تاریخِ اسلام کا وہ بد شکل کردار ہے جس کی وجہ سے امت میں ایسے ایسے تنازعات پیدا ہو گئے جو صبحِ قیامت تک حل نہ ہو پائیں گے۔ ان تنازعات اور مشاجرات پر جب بات کی جاتی ہے تو دورِ حاضر کے علماء اس پر عوام کو خاموشی کا مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن ان تاریخی حقائق سے آپ کیسے روگردانی کر سکتے ہیں جو کتبِ تاریخ میں مذکور ہیں۔ مثلاً ماضی قریب کے معروف سنی حنفی عالم صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ اپنی کتاب “سوانحِ کربلا” میں رقم طراز ہیں؛

” یزید بن معاویہ ابو خالد اموی وہ بد نصیب شخص ہے جس کی پیشانی پر اہل بیت کرام علیہم الرضوان کے بے گناہ قتل کا سیاہ داغ ہے اور جس پر ہر قَرَن میں دنیا ئے اسلام ملامت کرتی رہی ہے اور قیامت تک اس کا نام تحقیر کے ساتھ لیا جائے گا۔ یہ بد باطن ،سیاہ دل ، ننگِ خاندان 25ھ؁ میں ا میر معاویہ کے گھر مَیْسون بنت بَحْدَل کلبیہ کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ نہایت موٹا، بدنما، کثیرالشعر ، بدخُلْق، تُنْدخُو، فاسق، فاجر، شرابی، بدکار،ظالم، بے ادب، گستاخ تھا۔ اس کی شرارتیں اور بیہودگیاں ایسی ہیں جن سے بدمعاشوں کو بھی شرم آئے۔ عبداللہ بن حنظلۃ ابن الغسیل رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: خداعزوجل کی قسم!ہم نے یزیدپراس وقت خروج کیا جب ہمیں اندیشہ ہوگیا کہ اس کی بدکاریوں کے سبب آسمان سے پتھر نہ برسنے لگیں۔

(سوانحِ کربلا، ص 112)

عقائد و نظریاتِ اہل سنت کے مخالفین انہیں تحریروں کو حوالہ و دلیل بنا کر پوچھتے ہیں کہ جب یزید ایک مسیحی خاتون سے پیدا ہوا تھا، وہ شروع سے ہی بد باطن اور خبیث عادات کا حامل تھا تو حضرتِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اولادِ رسول کے مقابلے میں اسے کیوں لا کھڑا کیا؟

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 59 ہجری میں موجود جماعتِ صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی اس سے ہرگز خوش نہیں تھے۔ خود صدر الافاضل علیہ الرحمہ ہی لکھتے ہیں؛

جب کہ عِنانِ سلطنت اس شَقِی کے ہاتھ میں آئی، 59ھ؁ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا کی: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ رَأْسِ السِّتِّیْنِ وَاِمَارَۃِ الصِّبْیَان”

یارب! عزوجل میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں 60ھ؁ کے آغاز اور لڑکوں کی حکومت سے۔”

اور پھر بات بڑھتے ہوئے رسول اللہ ﷺ تک جاتی ہے، صدر الافاضل لکھتے ہیں ؛

“رویانی نے اپنی مسند میں حضرت ابو درداء صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث روایت کی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ میں نے حضو ر اقدس نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سناکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ” میری سنت کا پہلا بدلنے والا بنی اُمَیَّہ کاایک شخص ہوگاجس کانام یزید ہوگا۔”

اب یہاں ہمارے بعض حضرات ان اقوال اور روایات کو ضعیف قرار دیتے ہیں، لیکن صدر الافاضل علیہ الرحمہ کا ان واقعات کو ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ معاملات و روایات سچی ہیں اور اکابر اہل سنت ان کی صحت کے منکر نہیں ہیں۔

خصوصی نوٹ: میری اس تحریر کا مقصد کسی صحابی رسول کی توہین و تنقیص نہیں ہے ، مگر یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ماضی کہ مقابلے میں زمانہِ حال بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ وہ دور اب نہیں رہا جب اس طرح کی روایات کو چھپایا جا سکتا تھا یا ان کی تلاش ایک مشکل کام ہوا کرتا تھا۔ اب ہر بندے کے پاس Search اور Verification کے جدید وسائل موجود ہیں۔ جھوٹ بول کر یا آنکھیں بند کر کسی چیز کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ اللہ کریم کا جماعتِ صحابہ کے ساتھ اچھائی کا اور راضی کا وعدہ اور خبر موجود ہے لیکن جو تاریخی حقائق ہیں انہیں نظر انداز کرنے کی بجائے احسن طریقے سے بیان کر دیا جائے، سچوں کی ناموس بچانے کے لیے جھوٹ کا سہارا نہ لیا جائے۔

مذکورہ بالا پوسٹ “لائیک ” کرنے کا حق سب کے پاس ہے تاہم اس کے اوپر کمنٹ صرف وہی کرے جس کے پاس تاریخی تنازعات اور علوم کا اس قدر ذخیرہ موجود ہو کہ وہ عوامی اصلاح کے پیشِ نظر ممکنہ و کافی مواد لکھ سکے۔