بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

2:157

اُولٰٓٮِٕكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٌ‌ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ

یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے خصوصی نوازشیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت پر ثابت قدم ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے صلوات ہیں اور رحمت ہے ‘ اور یہی لوگ ہدایت پر ثابت قدم ہیں۔۔ (البقرہ : ١٥٧)

صلوۃ کا معنی اور غیر انبیاء پر صلوۃ بھیجنے کی شرعی حیثیت :

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

اکثر اہل لغت نے کہا : کہ صلوۃ کا معنی دعا ہے اور تبریک اور تمجید ہے ‘ جب اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر صلوہ پڑھے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں پر صلوۃ پڑھیں تو اس کا معنی ان کو پاک اور صاف کرنا ہے اور جب فرشتے صلوۃ پڑھیں تو اس کا معنی دعا اور استغفار ہے۔ (المفردات ص ٢٨٥‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ آلوسی نے نقل کیا ہے کہ صلوۃ کا معنی تعریف اور ثناء کرنا اور تعظیم کرنا ہے۔ (روح المعانی ج ٢ ص ٢٣‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

یعنی اللہ تعالیٰ مصیبت پر صبر کرنے والوں کی تعرف کرتا ہے یا ان کے باطن کو پاک اور صاف کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مسلمانوں پر صلوۃ بھیجنا ان کے باطن کو صاف کرنے کے معنی میں ہے ‘ اور امام مالک ‘ امام شافعی اور امام ابوحنفیہ (رح) کے نزدیک امت کے لیے غیر نبی پر مستقل صلوۃ بھیجنا جائز نہیں ہے ‘ یعنی ” اللھم صل علی ابی بکر “ کہنا جائز نہیں ہے اور سلام بھیجنا جائز ہے ‘ ” السلام علی ابی بکر “ کہنا صحح ہے۔ علامہ خفاجی حنفی نے اس کو بھی مکروہ تنزیہی کہا ہے۔ (نسیم الریاض ج ٣ ص ٥١٠) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : انبیاء کے علاوہ اور کسی پر صلوۃ نہ بھیجی جائے۔ (مصنف عبدالرزاق ج ٢ ص ٢١٦) علامہ نووی نے کہا ہے کہ عرف میں صلوۃ کا لفظ انبیاء کے ساتھ خاص ہوچکا ہے ‘ اس لیے غیر نبی پر صلوۃ نہیں بھیجی جائے گی۔ اس مسئلہ کو ہم نے (شرح صحیح مسلم “ ج ٢ ص ١٠٧٨ میں بہت تفصیل سے لکھا ہے۔

مروجہ ماتم کی شرعی حیثیت :

اس آیت میں مصیبت کے آنے پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کسی چیز کا امر اس کی ضد کی حرمت کو مستلزم ہوتا ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت پر ماتم کرنا حرام ہے۔

شیخ کافی کلینی روایت کرتے ہیں :

ابوعبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مصیبت کے وقت مسلمان کا اپنے ہاتھ کو اپنے زانوپر مارنا اس کے اجر کو ضائع کردیتا ہے۔ (الفروع من الکافی ج ٣ ص ٢٢٣‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ ‘ تہران ‘ ١٣٩١ ھ)

حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا : صبر بہ قدر مصیبت نازل کیا جاتا ہے ‘ جس شخص نے مصیبت کے وقت اپنا ہاتھ اپنے زانو پر مارا اس کا عمل ضائع کردیا جاتا ہے۔ (نہج البلاغہ میں ص ١٢٣٩‘ مطبوعہ انتشارات زرین ‘ ایران)

ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں کہ امام حسین نے میدان کربلا میں جانے سے پہلے اپنی بہن حضرت زینب کو یہ وصیت کی :

اے میری معزز بہن ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ جب میں اہل جفا کی تلوار سے عالم بقا میں رحلت کر جاؤں تو گریبان چاک نہ کرنا ‘ چہرے پر خراشیں نہ ڈالنا اور واویلا نہ کرنا۔ (جلاء العیون ج ٢ ص ٥٥٣ (فارسی) مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ‘ ایران)

” شرح صحیح مسلم “ جلد اول (طبع خامس) میں ہم نے مروجہ ماتم کے حرام ہونے پر بہت دلائل پیش کیے ہیں اور اہل تشیع کے تمام شبہات کا ازالہ کیا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 157