بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَالۡفُلۡكِ الَّتِىۡ تَجۡرِىۡ فِى الۡبَحۡرِ بِمَا يَنۡفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَبَثَّ فِيۡهَا مِنۡ کُلِّ دَآ بَّةٍ وَّتَصۡرِيۡفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَيۡنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ

2:164

بیشک آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے ‘ رات اور دن کے بدل کرنے آنے اور ان کشتیوں میں جو لوگوں کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے سمندر میں رواں دواں ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے نازل کیا ‘ پھر اس سے مردہ زمین کو زندہ کیا اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے اور ہواؤں کے پھیرنے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان اللہ کے تابع ہیں ‘ ضروران (سب) میں عقل والوں کے لیے (اللہ کی معرفت کی) نشانیاں ہیں

اللہ تعالیٰ کے وجود ‘ اس کی وحدت اور اس کے علم پر دلائل :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ تمہارا معبود واحد ہے ‘ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق اور واحد ہونے پر دلائل قائم کیے ہیں ‘ یہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدت پر دلائل بھی ہیں اور انسان کے حق میں نعمتیں بھی ہیں۔

آسمان کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی یہ نشانی ہے کہ وہ بغیر ستونوں کے قائم ہے ‘ نہ اس کے اوپر کوئی ایسی چیز ہے جس سے وہ لٹکا ہوا ہو اور عام عادت کے خلاف بغیر ستونوں کے آسمانوں کو قائم رکھنا بغیر کسی زبردست قادر اور خالق کے ممکن نہیں ہے۔

زمین میں سمندر اور دریا ہیں ‘ معدنیات ہیں ‘ جنگلات ہیں ‘ باغات اور فصلیں ہیں اور ان سے سب میں اللہ تعالیٰ کے وجود پر نشانیاں ہیں ‘ سمندروں کی روانی اور زمین کی پیداوار کا ہمیشہ ایک جہت اور ایک نظم پر قائم رہنا یہ بتاتا ہے کہ ان سب کا بنانے والا ایک ہے ‘ کیونکہ کبھی سیب کے درخت سے انگور پیدا نہیں ہوتا اور نہ کبھی سمندر کے مدوجزر کا نظام بدلتا ہے۔

دن اور رات میں نشانیاں ہیں ‘ دن کو روشنی اور رات کو اندھیرے کا سبب بنایا ‘ پھر دن اور رات میں کمی اور بیشی کا نظام ایک بہت بڑی حکمت پر مبنی ہے۔ ہمیشہ جون اور جولائی میں دن بڑے اور راتیں چھوٹی ہوتی ہیں اور نومبر ‘ دسمبر میں راتیں بڑی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں ‘ اس نظام میں کبھی فرق نہیں آتا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ اس نظام کا خالق بھی واحد ہے۔

سمندروں پر رواں دواں کشتیوں میں نشانیاں ہیں جو محض اللہ کی قدرت سے پانی پر قائم رہتی ہیں اور لوگوں کو اور ان کے سازوسامان کو لے کر ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف منتقل ہوتی ہیں ‘ ہمیشہ لکڑی اور پلاسٹک کی چیزیں سطح آب پر قائم رہتی ہیں اور تیرتی ہیں اور لوہے اور پیتل کی چیزیں پانی میں ڈوب جاتی ہیں ‘ ان تمام چیزوں کا واحد طبعی شعور یہ بتاتا ہے کہ ان کا بنانے والا بھی واحد ہے۔

بارش میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر نشانیاں ہیں کہ کس طرح بخارات سے حاصل شدہ پانی فضا میں جمع ہوتا ہے اور کس طرح منتشر ہوتا ہے اور اس جہان کی بقاء میں وہ کیا رول ادا کرتا ہے اور اس سے سبزیوں اور پھلوں کی کس طرح روئیدگی ہوتی ہے اور اس نظام کی وحدت بھی مخفی نہیں ہے۔ زمین میں اللہ تعالیٰ نے جو حیوانات اور حشرات الارض پیدا کیے ہیں ان میں عجیب و غریب حکمتیں اور فوائد ہیں ‘ کچھ جانور انسان کی خوراک کے لیے حلال کردیئے اور کچھ جانور اس کے امتحان کے لیے حرام کردیئے ‘ کچھ اس کی سواری کے کام آتے ہیں ‘ کچھ جانوروں کو عبرت کے لیے پیدا کیا ‘ اور کتنے ہی جانور ایسے ہیں جن کو پیدا کرنے کی حکمت سے ہماری عقل عاجز ہے ‘ پھر ان تمام جانوروں کو عبرت کے لیے پیدا کیا ‘ اور کتنے ہی جانور ایسے ہیں جن کو پیدا کرنے کی حکمت سے ہماری عقل عاجز ہے پھر ان تمام جانوروں کی پیدائش ‘ نشو و نما اور ان کی موت کا نظام واحد ہے ‘ متعدد نہیں ہے تو ان کے پیدا کرنے والے متعدد کیسے ہوسکتے ہیں۔ ہواؤں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر بہت نشانیاں ہیں ‘ بعض ہوائیں بانجھ ہوتی ہیں ‘ بعض ہوائیں ثمر آور ہوتی ہیں ‘ بعض ہوائیں سرد ہوتی ہیں ‘ بعض گرم ہوتی ہیں ‘ بعض ہوائیں فصلوں کو اجاڑ دیتی ہیں اور ہلاکت کا سبب ہوتی ہیں ہوا کے ذریعہ انسان سانس لیتا ہے ‘ ہوا کے لیے عربی میں ریح اور ریاح دونوں لفظ آتے ہیں ‘ ریح کا لفظ زیادہ تر ہلاکت اور تباہی والی ہواؤں کے لیے آتا ہے اور ریاح کا لفظ خوشگوار اور رحمت والی ہواؤں کے لیے آتا ہے ‘ امام ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ریح اللہ کی رحمت سے ہے جو رحمت لاتی ہے ‘ اور عذاب کو لاتی ہے جب تم ریح (آندھی) کو دیکھو تو اس کو برا نہ کہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو ‘ اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ صبا۔ ١ (مشرق سے مغرب کی طرف چلنے والی ہوا کو صبا اور مغرب سے مشرق کی طرف چلنے والی ہوا کو دبور کہتے ہیں۔ منہ) سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد کو دبور سے ہلاک کیا گیا۔

انسان کو زندہ رہنے کے لیے خوراک ‘ پانی اور ہوا کی ضرورت ہے ‘ خوراک کے بغیر وہ چند دن زندہ رہ سکتا ہے اس لیے خوراک حاصل کرنے کے لیے اسے روزی حاصل کرنے اور مشقت کرنے کا مکلف کردیا ‘ پانی کی اس سے زیادہ شدید ضرورت ہے تو اس کا حصول اس کے لیے بہت سہل اور ارزاں کردیا ‘ اور ہوا کے بغیر وہ چند منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا تو اس کا حصول بالکل عام کردیا ‘ ہر شخص کو ہر جگہ اور ہر وقت بغیر کسی محنت اور معاوضہ کے ہوا میسر ہے ‘ کیا یہ عجیب و غریب حکمت نہیں ہے بادلوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر نشانیاں ہیں ‘ کس طرح بادل بنتے ہیں ‘ کس طرح وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں اور بغیر کسی ظاہری سبب کے کسی طرح فضا میں معلق ہیں ‘ بادلوں کے گرجنے سے کس قدر ہیبت ناک اور ہولناک آواز پیدا ہوتی ہے۔ آسمان سے بارش ہونے کا بھی ہمیشہ سے ایک طریقہ ہے ‘ اس میں کبھی تبدیلی نہیں ہوئی ‘ کیا اس سے یہ پتا نہیں ‘ چلتا کہ اس نظام کا خالق بھی واحد ہے ‘ اس میں کوئی تعدد نہیں ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ ان تمام مظاہر قدرت میں غور وفکر اور تدبر کرے کہ یہ تمام چیزیں متغیر اور حادث ہیں اور ان کا حدوث اس بات کا متقاضی ہے کہ ان کا کوئی بنانے والا ہونا چاہیے اور چونکہ ان تمام چیزوں کے نظام عمل میں انتشار اور اختلاف نہیں ہے بلکہ ہم آہنگی اور وحدانیت ہے اس لیے ان کا بنانے والا بھی واحد ہی ہونا چاہیے پھر ان تمام چیزوں میں جو بیشمار حکمتیں اور فوائد ہیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بنانے والا انتہائی علیم اور حکیم ہے اور یہ ساری کائنات کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے ‘ اس کا نظم اور ربط اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل صحیح منصوبہ بندی سے وجود میں آئی ہے ‘ اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہے اور وہ واحد ہے اور علیم اور حکیم ہے۔ (آیت) ” والحمد للہ رب العلمین “۔

ہم نے عام تعلیم یافتہ لوگوں کے سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یہ دلیل ذکر کی ہے اور بالخصوص علماء اور فقہاء کی ضیافت طبع کے لیے متکلمین کے طریقہ پر اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلیل کی تقریر اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا ہے اگر ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کوئی اور معبود بھی اللہ تعالیٰ کا شریک ہے تو اس کو بھی ان مقدورات پر قادر ماننا پڑے گا ‘ اب سوال یہ ہے کہ ان مقدورات کو پیدا کرنے میں دونوں کا ارادہ متفق ہے یا نہیں ‘ اگر دونوں متفق ہیں تو ایک شئے کو پیدا کرنے کے لیے دو مستقل علتوں کا ہونا لازم آئے گا اور یہ باطل ہے ‘ کیونکہ معلول علت مستقلہ کے غیر سے مستغنی ہوتا ہے ورنہ وہ علت مستقلہ نہیں ہوگی اور اگر ایک معلول کی دو علت مستقلہ ہوں تو معلوم ان میں سے ہر ایک کا محتاج بھی ہوگا اور ہر ایک سے مستغنی بھی ہوگا اور یہ باطل ہے ‘ اور اگر یہ فرض کیا جائے کہ ان دو علتوں میں سے صرف ایک تاثیر کرسکتی ہے دوسری تاثیر نہیں کرسکتی تو یہ ترجیح بلامرجح بھی ہے اور دوسرے کا عجز بھی ہے اور عجز الوہیت کے منافی ہے اور اگر ان مقدورات کو پیدا کرنے میں دونوں کا ارادہ متفق نہیں ہے بلکہ ایک پیدا کرنا چاہتا ہے اور دوسرا نہیں چاہتا تو یا تو دونوں کا ارادہ پورا ہوگا ‘ پھر لازم آئے گا کہ وہ چیز بیک وقت ہو اور نہ ہو اور یہ اجتماع نقیطین کو مسلتزم ہے یا کسی کا ارادہ پورا نہیں ہوگا اور یہ ارتفاع نقیضین کو مستلزم ہے اور یہ دونوں باطل ہیں اور یا ایک کا ارادہ پورا ہوگا اور دوسرے کا ارادہ پورا نہیں ہوگا تو جس کا ارادہ پورا نہیں ہوگا وہ مجبور ہوگا اور مجبور خدا نہیں ہوسکتا ‘ اس سے واضح ہوگیا کہ خدا ایک ہی ہے دوسرا خدا نہیں ہوسکتا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 164