باب الوسوسۃ

وسوسہ (برے خیالات )کا باب ۱؎

الفصل الأول

پہلی فصل

۱؎ وسوسہ کے لغوی معنی ہیں نرم آواز۔اصطلاح میں برے خیالات،فاسد فکر کو وسوسہ کہتے ہیں اور اچھے خیالات کو الہام۔وسوسہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے،الہام رب کی طرف سے۔حق یہ ہے کہ غیر نبی کا الہام شرعی حجت نہیں کیونکہ شبہ ہے کہ وہ شیطانی وسوسہ ہو۔(از مرقات واشعۃ اللمعات)

حدیث نمبر :61

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یقینًا اﷲ تعالٰی نے میری امت سے ان کے دلی خطرات میں درگزر فرمادی ۱؎ جب تک کہ اس پر کام یا کلام نہ کرلیں ۲؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی بُرے خیالات پر پکڑ نہیں یہ اس امت کی خصوصیّت ہے۔پچھلی اُمتوں میں اس پر بھی پکڑ تھی۔خیال رہے کہ بُرے خیالات اور ہیں،بُرا ارادہ کچھ اور،بُرے ارادے پر پکڑ ہے حتّی کہ ارادۂ کفر،کفر ہے۔شیخ عبد الحق فرماتےہیں کہ جو بُرا خیال دل میں بے اختیار اچانک آجاتا ہے اسے ہاجس کہتے ہیں یہ آنی فانی ہوتا ہے۔آیا اور گیا یہ پچھلی امتوں پر بھی معاف تھا ہم کو بھی معاف۔لیکن جو دل میں باقی رہ جائے وہ ہم پر معاف ہے اُن پر معاف نہ تھا اور اگر اس کے ساتھ دل میں لذت اور خوشی پیدا ہواسے ھمّ کہا جاتا ہے۔اس پر بھی پکڑ نہیں اور اگر اس کے ساتھ کر گزرنے کا ارادہ بھی ہو تو وہ عزم ہے اس کی پکڑ ہے۔خیال رہے کہ ارادۂ گناہ اگرچہ گناہ ہے مگر اس پر حد نہیں۔ارادۂ زنا گناہ ہے،مگر زنا نہیں۔

۲؎ یعنی قولی گناہ میں کلام کا اعتبار ہے اور فعلی میں کام کا۔