حدیث نمبر :63

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتاہے ۱؎ تو اس سے کہتا ہے کہ فلاں چیز کس نے پیدا کی فلاں کس نے؟یہاں تک کہ کہتا ہے تمہارے رب کوکس نے پیدا کیا۲؎ جب اس حد کو پہنچے تو اعوذ باﷲ پڑھ لو اور اس سے باز رہو۳؎ (بخاری،مسلم)

شرح

۱؎ یا تو خود ا بلیس کیونکہ وہ تمام دنیا پر نظر رکھتا ہے اور سب میں چکّرلگاتا رہتا ہے۔یا قرین جو ہر ایک انسان کا الگ الگ شیطان ہے اور ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے یا بُرا انسان جو ایسی باتیں کرکے لوگوں کو بہکائے۔

۲؎ حالانکہ پیدا وہ چیز کی ہے جو ناپید بھی ہوسکے،رب تعالٰی واجب الوجود ہے اُسے کون پیدا کرے،عرضیات کی انتہا ذاتی پر ہے،تمام تارے سورج سے روشن ہیں،مگر سورج کسی سے روشن نہیں۔

۳؎ یعنی اس کا جواب سوچنے کی کوشش بھی مت کرو ورنہ شیطان سوال در سوال کرے گا۔” اَعُوذُ ” پڑھ کر اسے بھگا دو ہر سوال کا جواب نہیں دیا جاتا۔ربّ نے شیطان کے سجدہ نہ کرنے پر اس کے دلائل کا جواب نہ دیابلکہ فرمایا:”فَاخرُج منہا “۔خیال رہے کہ”اَعُوْذُ باﷲ”دفع شیطان کے لئے اکسیر ہے