بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ

2:162

وہ اس (لعنت) میں ہمیشہ (گرفتار) رہیں گے ‘ ان سے عذاب کم کیا جائے گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان سے نہ عذاب کم کیا جائے گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔۔ (البقرہ : ١٦٢)

کفار کے عذاب میں تخفیف نہ ہونے پر دلائل اور ابولہب وغیرہ کے عذاب میں تخفیف کے جوابات :

نیک اعمال کے مقبول ہونے کی شرط ایمان ہے ‘ ایمان کے بغیر نیکیاں اکارت ہوجاتی ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” من عمل صالحا من ذکر اوانثی وھو مؤمن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ ولنجزینھم اجرھم باحسن ماکانوا یعملون “۔۔ (النحل : ٩٧)

ترجمہ : مرد یا عورت جس نے کوئی نیک عمل کیا بہ شرطی کہ وہ مومن ہو تو ہم ضرور اس کو پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے ‘ اور ان کے اچھے کاموں کا ان کو ضرور اجر دیں گے۔

(آیت) ” وقدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ھبآء منثورا “۔۔ (الفرقان : ٢٣)

ترجمہ : اور انہوں نے جو بھی (نیک) کام کیے ہم ان کی طرف قصد فرمائیں گے ‘ پھر ہم انہیں باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرات بنادیں گے۔

(آیت) ” ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ “۔ (المائدہ : ٥)

ترجمہ : اور جس نے ایمان لانے سے انکار کیا تو بیشک اس کا عمل ضائع ہوگیا :

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا تھا ‘ اور مسکین کو کھانا کھلاتا تھا ‘ آیا اس کو یہ عمل نفع دے گا ؟ آپ نے فرمایا : یہ عمل اس کو نفع نہیں دے گا کیونکہ اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا : اے اللہ قیامت کے دن میری خطاؤں کو بخش دینا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١١٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

قرآن مجید کی ان آیات اور اس حدیث صحیح سے یہ ثابت ہے کہ کفار کی نیکیاں ضائع ہوجائیں گی ‘ ان پر اجر ملے گا نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی ‘ لیکن اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ” صحیح بخاری “ میں ہے کہ پیر کے دن ابولہب کے عذاب میں تخفیف کی جاتی ہے کیونکہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی خوشی میں اپنی باندی ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔ ١ (امام محمد اسماعیل بخاری (رح) متوفی ٢٥٦ ھ صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٦٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اور ” صحیح مسلم “ میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوطالب کو آگ سے کھینچ کر نکال لیا اور صرف اس کے ٹخنوں تک آگ رہ گئی کیونکہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کرتے تھے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ١١٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ نووی لکھتے ہیں کہ حفاظ بیہقی نے ” کتاب البعث النشور “ میں کہا ہے کہ کفر کی وجہ سے جو عذاب ہوگا اس میں تخفیف نہیں ہوگی اور باقی جرائم پر جو عذاب ہوگا اس میں نیکیوں کی وجہ سے تخفیف ہوجائے گی۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١١٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

لیکن اس جواب پر یہ اعتراض ہے کہ پھر تو کافر کی نیکیاں ضائع نہ ہوئیں ‘ حالانکہ قرآن مجید میں یہ تصریح ہے کہ اس کی نیکیاں ضائع ہوجائیں گی ‘ اس لیے صحیح جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت اور آپ کی وجاہت کی خصوصیت کی وجہ سے ابولہب اور ابوطالب اس عام قاعدہ سے مستثنی ہیں ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ کفار کے عذاب میں تخفیف نہ کرنا اللہ تعالیٰ کا عدل ہے اور ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کردینا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ تخفیف نہ کرنے کا تعلق مدت سے ہے یعنی عذاب کی غیر متناہی مدت میں کمی نہیں ہوگی اور جن کے عذاب میں تخفیف کی ہے ان کا تعلق عذاب کی کیفیت سے ہے یعنی عذاب کی شدت میں کمی کردی جائے گی ‘ چوتھا جواب یہ ہے کہ تخفیف نہ کرنے کا تعلق عذاب آخرت سے ہے اور تخفیف کرنے کا تعلق عذاب برزخ سے ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 162