حدیث نمبر :64

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے رہیں گےیہاں تک کہ کہا جاوے گا کہ یہ مخلوق تو اﷲ نے پیداکی تو اﷲ کوکس نے پیدا کیا ۱؎ تو جو ان میں سے کچھ پائے وہ کہے میں اﷲ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۲؎ (بخار ی،مسلم)

شرح

۱؎ جیسا کہ آج خدا کے منکر دہریئے کہتے ہیں۔قربان جاؤں ا س عالم غیوب رسول کے جنہوں نے قیامت تک ہونے والے واقعات کی خبر دے دی۔مجھ سے کراچی میں بعینہ یہ سوال ایک شخص نے کیا تھا میرے منہ سے نکلا”صَدَقَ رَسُولُ اﷲ”۔

۲؎ یعنی بلا دلیل عقلی اس کی ذات وصفات کو مان لیا،اس حدیث کی بنا پر بعض علماء علم کلام پڑھنا اور پڑھانا ناپسند کرتے ہیں۔مگر بعض علماء نے حالاتِ زمانہ دیکھتے ہوئے اسے سیکھااور سکھایا مگر شبہات ڈالنے کے لیے نہیں بلکہ شبہات نکالنے کے لیے دونوں اﷲ کو پیارے ہیں۔خیال رہے کہ مسئول تو کافر نہ ہوگا مگر سائل اگر شبہ کی بنا پر یہ پوچھتا ہے تو کافرہے اوراگر جواب معلوم کرنے کےلیے پوچھتاہے تو نہیں۔