سورة فاتحہ کے فضائل :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوسعید بن معلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ‘ (دوران نماز) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا ‘ میں حاضر نہ ہوا ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا ‘ آپ نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : (آیت) ” استجیبوا للہ وللرسول اذا دعا کم “۔ (الانفال : ٢٤) اللہ اور رسول کے بلانے پر (فورا) حاضر ہوجاؤ “۔ پھر فرمایا : سنو ! میں تم کو مسجد سے باہر نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے عظیم سورت کی تعلیم دوں گا ‘ پھر میرا ہاتھ پکڑ لیا ‘ جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تھا : میں تم کو قرآن کی سب سے عظیم سورت کی تعلیم دوں گا ‘ آپ نے فرمایا : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ یہ سبع مثانی ہے اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٤٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت ‘ سورت فاتحہ ہے ‘ اور اس کا نام ” السبع المثانی “ بھی ہے اور یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر نماز کے دوران بلائیں ‘ تب بھی آنا واجب ہے ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہونے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔

نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر ہیں تھے ‘ ہم نے ایک جگہ قیام کیا ‘ ایک لڑکی نے آکر کہا کہ قبیلہ کے سردار کو ایک بچھو نے ڈس لیا ہے اور ہمارے لوگ حاضر نہیں ہیں ‘ کیا تم میں سے کوئی شخص دم کرسکتا ہے ؟ ہم میں سے ایک شخص اس کے ساتھ گیا جس کو اس سے پہلے ہم دم کرنے کی تہمت نہیں لگاتے تھے ‘ اس نے اس شخص پر دم کیا جس سے وہ تندرست ہوگیا ‘ اور اس سردار نے اس کو تیس بکریاں دینے کا حکم دیا ‘ اور ہم کو دودھ پلایا ‘ جب وہ واپس آیا تو ہم نے اس سے پوچھا : کیا تم پہلے دم کرتے تھے ؟ اس نے کہا : نہیں ‘ میں نے تو صرف ام الکتاب ( سورة فاتحہ) پڑھ کر دم کیا ہے ‘ ہم نے کہا : اب اس کے متعلق کوئی بحث نہ کرو ‘ حتی کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق پوچھ لیں ‘ ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق پوچھا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کیا معلوم کہ یہ دم ہے ‘ (ان بکریوں کو) تقسیم کرو ‘ اور ان میں سے میرا حصہ بھی نکالو۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٤٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ پڑھ شخص پر دم کرنا جائز ہے ‘ اس لیے سورت کو ” سورة الرقیہ “ اور ” سورة الشفاء “ بھی کہتے ہیں ‘ اور اس حدیث میں یہ تصریح بھی ہے کہ اس سورت کو ” ام الکتاب “ بھی کہتے ہیں ‘ اور یہ کہ قرآن پڑھ کر دم کرنے کی اجرت لینا جائز ہے اور اس قرآن مجید اور کتب دینیہ پر اجرت لینے کا بھی جواز ہے ‘ اور اس میں مصحف کو قیمۃ فروخت کرنے اور مصحف کی کتابت پر اجرت لینے کا بھی جواز ہے اور یہ کہ استاد کی تعلیم سے تلمیذ کو جو آمدنی ہو اس میں استاذکا بھی حصہ ہوتا ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ اب کسی بیمارکو سورة فاتحہ پڑھ کر دم کیا جائے اور وہ شفاء نہ پائے تو اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دم کرنے والے میں روحانیت کی کمی ہے ‘ سورة فاتحہ کے شفاء ہونے میں کوئی کمی نہیں ہے۔

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابی بن کعب (رض) کے پاس تشریف لے گئے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابی ! اور وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ‘ حضرت ابی (رض) نے مڑ کر دیکھا اور حاضر نہیں ہوئے ‘ حضرت ابی (رض) نے جلدی جلدی نماز پڑھی ‘ پھر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کہا : ” اسلام علیک یا رسول اللہ ! “ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” وعلیک “ اے ابی ! جب میں نے جو میری طرف وحی فرمائی ہے کیا تمہیں اس میں یہ حکم نہیں ملا ‘ (آیت) ” استجیبوا للہ وللرسول اذا دعا کم لما یحییکم “۔ (الانفال : ٢٤) جب اللہ اور رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندہ کر دے گی تو (فورا) حاضر ہوجاؤ۔ “ حضرت ابی نے کہا : کہوں نہیں ؟ اور میں انشاء اللہ دوبارہ ایسا نہیں کروں گا ‘ آپ نے فرمایا : کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ میں تم کو ایسی سورت کی تعلیم دوں ‘ جس کی مثل تورات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں ‘ نہ زبور میں نہ قرآن میں ؟ میں نے کہا : جی ! یا رسول اللہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نماز میں کس طرح پڑھتے ہو ؟ تو انہوں نے ام القرآن ( سورة فاتحہ) پڑھی ‘ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! اس کی مثل تورات میں نازل ہوئی ہے نہ انجیل میں ‘ نہ زبور میں نہ فرقان میں ‘ یہ ” السبع من المثانی “ (دودوبار پڑھی جانے والی سات آیتیں) ہے اور وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے ‘ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ص ٤٠٨‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی )

اس حدیث کو امام بغوی نے بھی اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ نیز وہ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں :

” السبع من المثانی “ میں ” من “ زائدہ ہے ‘ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے جس کی سات آیتیں ہیں ‘ اور اس کو مثانی اس لیے کہتے ہیں کہ ہر نماز میں سورة فاتحہ کو دو بار پڑھا جاتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ مثانی استثناء سے ماخوذ ہے ‘ کیونکہ اس سورت کے ساتھ یہ امت مستثنی ہے، اس امت سے پہلی امتوں پر یہ سورت نازل نہیں کی گئی، ایک قول یہ ہے کہ یہ ثنا سے ماخوذ ہے ‘ کیونکہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ مثانی سے مراد قرآن مجید ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے :

(آیت) ” اللہ نزل احسن الحدیث کتبا متشابھا مثانی “۔ (الزمر : ٢٣) اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا ‘ ایسی کتاب جس کی آیتیں آپس میں متشابہ ہیں بار بار دہرائی ہوئی ہیں۔ تمام قرآن کو مثانی اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں قصص اور امثال کو دہرایا گیا ہے اس تقدیر پر ” السبع من المثانی “ کا معنی ہے : قرآن کریم کی سات آیتیں اور ایک قول یہ ہے کہ مثانی سے مراد قرآن مجید کی وہ سورتیں ہیں جن میں سو سے کم آیتیں ہوں۔

اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے سے نماز باطل نہیں ہوتی ‘ کیونکہ تم ” السلام علیک ایھا النبی “ کہہ کر نماز میں حضور سے خطاب کرتے ہو ‘ جب کہ کسی اور کے ساتھ نماز میں خطاب کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے۔ (شرح السنۃ ج ٣ ص ١٥۔ ١٤)

امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میرے اور میرے بندے کے درمیان صلوۃ (سورۃ فاتحہ) کو آدھا آدھا تقسیم کردیا گیا ہے ‘ اور میرے بندہ کے لیے وہ چیز ہے جس کا وہ سوال کرے ‘ اور جب بندہ کہتا ہے ‘(آیت) ” الحمد للہ رب العالمین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بندہ نے میری حمد کی ‘ اور جب وہ کہتا ہے :” الرحمن الرحیم “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندہ نے میری ثناء کی ‘ اور جب وہ کہتا ہے، (آیت) ”۔ مالک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘ میرے بندہ نے میری تعظیم کی، اور ایک بار فرمایا، میرے بندہ نے (خود) کو میرے سپرد کردیا ‘ اور جب وہ کہتا ہے (آیت) ”۔ ایاک نعبد وایاک نستعین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یہ میرے اور میرے بندہ کے درمیان ہے ‘ اور میرے بندہ کے لیے وہ ہے جس کا وہ سوال کرے، اور جب وہ کہتا ہے : (آیت) ”۔ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین “۔ تو اللہ تعالیٰ فرمایا ہے، یہ میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندہ کے لیے وہ چیز ہے جس کا وہ سوال کرے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٧٠۔ ١٦٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث میں سورة فاتحہ کا ذکر ہے اور اس کے شروع میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کا ذکر نہیں ہے ‘ اس سے علماء احناف اور مالکیہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سورة فاتحہ کا جز نہیں ہے اور یہ ان کی بہت قوی دلیل ہے ‘ فقہاء شافعیہ نے اس کے جواب میں جو تاویلات کی ہیں وہ بہت ضعیف ہیں ‘ ہم نے ” شرح صحح مسلم “ جلد اول میں ان کا ذکر کرکے ان کا رد کیا ہے۔

امام نسائی (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس وقت جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے اوپر کی جانب سے ایک چرچراہٹ کی آواز سنی ‘ حضرت جبرائیل نے کہا : یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے اور آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ اس دروازہ سے ایک فرشتہ نازل ہوا ‘ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا : یہ فرشتہ جو زمین کی طرف نازل ہوا ہے یہ آج سے پہلے کبھی نازل نہیں ہوا تھا ‘ اس فرشتہ نے آکر سلام کیا اور کہا : آپ کو دو نوروں کی بشارت ہو جو آپ دیئے گئے ہیں اور آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے (ایک نور) فاتحۃ الکتاب ہے اور (دوسرا) سورة بقرہ کی آخری آیتیں ہیں ‘ ان میں سے جس حرف کو بھی آپ پڑھیں گے وہ آپکو دے دیا جائے گا۔ (سنن نسائی ج ٥ ص ١٣۔ ١٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام دارمی (رح) روایت کرتے ہیں :

عبدالملک بن عمیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاتحۃ الکتاب سے ہر بیماری کی شفاء ہے۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ٣٢٠‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان )

حافظ نور الدین الہیثمی (رح) بیان کرتے ہیں :

حضرت ابو زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مدینہ کے کسی راستہ میں جارہا تھا ‘ آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو تہجد کی نماز میں ام القرآن ( سورة فاتحہ) ُ پڑھ رہا تھا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر اس سورت کو سنتے رہے حتی کہ اس نے وہ سورت ختم کرلی، آپ نے فرمایا : قرآن میں اس کی مثل (اور کوئی سورت) نہیں ہے ‘ امام طبرانی (رح) نے اس حدیث کو ” معجم اوسط “ میں روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٦ ص ٣١٠‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس دن فاتحۃ الکتاب ( سورة فاتحہ) نازل ہوئی اس دن ابلیس بہت رویا تھا اور یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی تھی اس حدیث کو امام طبرانی (رح) نے ” معجم اوسط “ میں روایت کیا ہے اور اسکی سند صحیح ہے (مجمع الزوائد ج ٦ ص ٣١١‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

اقتباس  از سورہ فاتحہ تبیان القرآن حضرت علامہ مولانا غلام رسول سعیدی