*محرم و صفر میں بیاہ شادی نہ کرنا اور سوگ منانا*

ماہ محرم میں کتنی رسوم و بدعات و خرافات آج کل مسلمانوں میں رائج ہوگئ ہیں ان کا شمار کرنا بھی مشکل ےِ

انہیں میں سے ایک یہ بھی ےِ کہ یہ مہینہ سوگ اور غمی کا مہینہ ےِ اس ماہ میں بیاہ شادی نہ کی جائیں حالانکہ اسلام میں کسی بھی میت کا تین دن سے زیادہ غم منانا ناجائز ےِ اور ان ایام میں بیاہ شادی کو بُرا سمجھنا گناہ ےِ نکاح سال کے کسی بھی دن میں منع نہیں ےِ خواہ محرم ہو یا صفر یا اور کوئ مہینہ یا دن

بریلی کے تاج دار اعلی حضرت سرکار رضی اللہ تعالیٰ سے پوچھا گیا

اول بعض اہلسنت و جماعت عشرہ محرم میں نہ تو دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں کہتے ہیں بعد دفن تعزیہ روٹی پکائ جاےُ گی

دوم دس دن میں کپڑے نہیں اُتارتے

سوئم ماہ محرم میں بیاہ شادی نہیں کرتے

چہارم ان ایام میں سواےُ امام حس و امام حیسن رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے کسی اور کی نیاز و فاتحہ نہیں دلاتے ہیں یہ جائز ے یا ناجائز ؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ےِ اور چھوتھی بات جہالت ہر مہینے میں ہر تاریخ میں ہر ولی کی نیاز اور ہر مسلمان کی فاتحہ ہوسکتی ہیں

دراصل محرم میں غم منانا سوگ کرنا فرقہ ملعونہ رافضیوں اور شیعوں کا کام ےِ اور خوشی منانا مردود خارجیوں کا شیوہ اور نیاز و فاتحہ دلانا نفل پڑھنا روزے رکھنا مسلمانوں کا کام ےِ

فالحمداللہ علی ذالک

خلیفہ داماد تاج الشریعہ فقیر محمد ندیم اختر صدیقی سبطینی شارق میاں بنارس