بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ تَبَرَّاَ الَّذِيۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡا وَرَاَوُا الۡعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتۡ بِهِمُ الۡاَسۡبَابُ

جن لوگوں کی (دنیا میں) پیروی کی گئی تھی جب وہ (آخرت میں) پیروی کرنے والوں سے بری الذمہ ہوجائیں گے اور عذاب کو دیکھ لیں گے اور ان کے تمام وسائل منقطع ہوجائیں گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن (لوگوں) کی (دنیا میں) پیروی کی گئی تھی۔ (البقرہ : ١٦٦)

گمراہ کرنے والے متبوعین کا اپنے تابعین سے قیامت کے دن بری ہونا :

قتادہ ‘ عطاء اور ربیع نے کہا ہے کہ جن رائیسوں اور سرداروں کے حکم سے دنیا میں مشرکین نے کفر کیا تھا جب وہ دونوں آخرت میں عذاب کو دیکھ لیں گے تو اپنے متبعین کے کفر سے بری ہوجائیں گے ‘ سدی نے کہا ہے کہ گمراہ کرنے والے شیاطین انسانوں سے بری ہوجائیں گے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ ہر گمراہ کرنے والا متبوع اپنے تابع سے بری ہوجائے گا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کے اسباب منقطع ہوجائیں گے۔۔ (البقرہ : ١٦٦)

سبب کے معنی ہیں : وہ رسی جس سے کسی چیز کو باندھ کر کھینچتے ہیں ‘ پھر اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے کہ جس سے کسی چیز کو کھینچا جائے ‘ یہاں اسباب سے کیا مراد ہے ؟ اس میں مختلف اقوال ہیں : مجاہد نے کہا : اس سے مراد ہے : دنیا میں جن کے ساتھ کافر مل جل کر رہتے تھے ‘ ابن جریج نے کہا : جن رشتہ داروں کے ساتھ وہ دنیا میں شفقت کرتے تھے ‘ سدی نے کہا : جن اعمال کو وہ نیکی سمجھ کر لازما کرتے تھے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : ایک دوسرے ساتھ دینے کا جو وہ عہد و پیمان کرتے تھے اور حلف اٹھاتے تھے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں جن لوگوں اور جن چیزوں کو وہ نجات کا سبب سمجھتے تھے ‘ آخرت میں وہ سب ان سے منقطع ہوجائیں گی۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 166